قرب قیامت سے پہلے کے حالات

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

قربِ قیامت سے پہلے کے حالات۔ احادیثِ مبارکہ میں قربِ قیامت کے زمانے کے حالات و واقعات کی جو تفصیل ملتی ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بہت خوفناک جنگ ہوگی جس میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے مقابل ہوں گے۔ احادیث میں اس کا نام الملحمة العظمیٰ اور عیسائی روایات میں Armageddon بتایا گیا ہے۔ شام، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کا علاقہ بنیادی طور پر میدانِ جنگ بنے گا، جس کی وجہ سے اس علاقے میں بہت بڑی تباہی پھیلے گی۔ اس جنگ کے کئی مراحل ہوں گے۔ مسلمانوں کو اس میں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن اللہ کی خصوصی مدد مسلمانوں کے شاملِ حال ہوگی۔ اللہ کی یہ مدد ظاہری اور مادی اسباب کی صورت میں بھی سامنے آئے گی۔ انہی اسباب میں سے ایک سبب سرزمینِ عرب میں ایک مجدد، امام مہدی کا ظہور بھی ہوگا، اور اسی زمانے میں حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی نزول ہوگا۔ تو مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام اور امام مہدی کی قیادت میں عیسائیوں اور یہودیوں کے اتحاد کا مقابلہ کریں گے۔ اس سے پہلے خراسان اور افغانستان کے علاقوں میں اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہوگی، اور اس حکومت کی طرف سے مذکورہ جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے افواج بھیجی جائیں گی۔ اس جنگ میں بالآخر مسلمان فتح یاب ہوں گے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی معجزانہ تائید ہوگی، جس سے آپ یہودیوں کو ختم کر دیں گے۔ آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں ایک خاص تاثیر ہوگی، جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نگاہ پڑتے ہی یہودی پگھلتے چلے جائیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ احادیث میں آیا ہے کہ دجال بھاگنے کی کوشش میں ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس کو مقامِ لد (Lydda، اسرائیل کا سب سے بڑا ایئر بیس) پر جا لیں گے اور قتل کر دیں گے۔ ان سب واقعات کے بعد یاجوج اور ماجوج کے سیلاب کی شکل میں ایک دفعہ پھر دنیا پر مصیبت ٹوٹ پڑے گی۔
وہ ہر ٹیلے سے دوڑتے ہوئے آئیں گے، شہروں کو روند ڈالیں گے، ہر چیز کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے۔ پھر لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر آئیں گے تو وہ اللہ سے دعا کریں گے۔ اللہ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر کے انہیں آنِ واحد میں ایک نفس کی موت کی طرح ہلاک کر دے گا۔ زمین پر ہر جگہ ان کی سڑاند اور بدبو پھیلی ہوگی۔ پھر اللہ کے حکم سے بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ان کی لاشوں کو وہاں لے جا پھینکیں گے جہاں اللہ کا حکم ہوگا۔ پھر اللہ کے حکم سے بارش برسے گی اور زمین پھر سے پاک صاف ہو جائے گی۔ زمین کو حکم ہوگا کہ پھل اگا اور برکتیں نکال۔ اس دن ایک انار پوری جماعت کو کافی ہوگا، حاملہ گائے کا دودھ ایک قبیلے کے لیے، اور بکری کا دودھ ایک خاندان کے لیے کافی ہوگا۔ لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ ایک ہوا بھیجے گا، جس سے ہر مومن مسلم فوت ہو جائے گا، اور صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، اور قیامت انہی پر قائم ہوگی۔ (قربِ قیامت سے پہلے، کتاب سے ماخوذ)

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بادل پھٹنے سے ایک خاتون جاں بحق

​سری نگر، 3 اگست: شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے...

بادل پھٹنے سے علاقے میں سنسنی اور سیلابی صورتحال

فیضان پنجابی شوپیاں، 3 اگست: جنوب مشرقی کشمیر کے ضلع...

حاملہ خاتون، شوہر اور معصوم بیٹا جاں بحق

  غزہ شہر کے مغربی علاقے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ...

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

تازہ ترین خبریں

بادل پھٹنے سے ایک خاتون جاں بحق

​سری نگر، 3 اگست: شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے...

بادل پھٹنے سے علاقے میں سنسنی اور سیلابی صورتحال

فیضان پنجابی شوپیاں، 3 اگست: جنوب مشرقی کشمیر کے ضلع...

حاملہ خاتون، شوہر اور معصوم بیٹا جاں بحق

  غزہ شہر کے مغربی علاقے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ...

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

قرب قیامت سے پہلے کے حالات

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

قربِ قیامت سے پہلے کے حالات۔ احادیثِ مبارکہ میں قربِ قیامت کے زمانے کے حالات و واقعات کی جو تفصیل ملتی ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بہت خوفناک جنگ ہوگی جس میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے مقابل ہوں گے۔ احادیث میں اس کا نام الملحمة العظمیٰ اور عیسائی روایات میں Armageddon بتایا گیا ہے۔ شام، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کا علاقہ بنیادی طور پر میدانِ جنگ بنے گا، جس کی وجہ سے اس علاقے میں بہت بڑی تباہی پھیلے گی۔ اس جنگ کے کئی مراحل ہوں گے۔ مسلمانوں کو اس میں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن اللہ کی خصوصی مدد مسلمانوں کے شاملِ حال ہوگی۔ اللہ کی یہ مدد ظاہری اور مادی اسباب کی صورت میں بھی سامنے آئے گی۔ انہی اسباب میں سے ایک سبب سرزمینِ عرب میں ایک مجدد، امام مہدی کا ظہور بھی ہوگا، اور اسی زمانے میں حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی نزول ہوگا۔ تو مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام اور امام مہدی کی قیادت میں عیسائیوں اور یہودیوں کے اتحاد کا مقابلہ کریں گے۔ اس سے پہلے خراسان اور افغانستان کے علاقوں میں اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہوگی، اور اس حکومت کی طرف سے مذکورہ جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے افواج بھیجی جائیں گی۔ اس جنگ میں بالآخر مسلمان فتح یاب ہوں گے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی معجزانہ تائید ہوگی، جس سے آپ یہودیوں کو ختم کر دیں گے۔ آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں ایک خاص تاثیر ہوگی، جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نگاہ پڑتے ہی یہودی پگھلتے چلے جائیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ احادیث میں آیا ہے کہ دجال بھاگنے کی کوشش میں ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس کو مقامِ لد (Lydda، اسرائیل کا سب سے بڑا ایئر بیس) پر جا لیں گے اور قتل کر دیں گے۔ ان سب واقعات کے بعد یاجوج اور ماجوج کے سیلاب کی شکل میں ایک دفعہ پھر دنیا پر مصیبت ٹوٹ پڑے گی۔
وہ ہر ٹیلے سے دوڑتے ہوئے آئیں گے، شہروں کو روند ڈالیں گے، ہر چیز کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے۔ پھر لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر آئیں گے تو وہ اللہ سے دعا کریں گے۔ اللہ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر کے انہیں آنِ واحد میں ایک نفس کی موت کی طرح ہلاک کر دے گا۔ زمین پر ہر جگہ ان کی سڑاند اور بدبو پھیلی ہوگی۔ پھر اللہ کے حکم سے بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ان کی لاشوں کو وہاں لے جا پھینکیں گے جہاں اللہ کا حکم ہوگا۔ پھر اللہ کے حکم سے بارش برسے گی اور زمین پھر سے پاک صاف ہو جائے گی۔ زمین کو حکم ہوگا کہ پھل اگا اور برکتیں نکال۔ اس دن ایک انار پوری جماعت کو کافی ہوگا، حاملہ گائے کا دودھ ایک قبیلے کے لیے، اور بکری کا دودھ ایک خاندان کے لیے کافی ہوگا۔ لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ ایک ہوا بھیجے گا، جس سے ہر مومن مسلم فوت ہو جائے گا، اور صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، اور قیامت انہی پر قائم ہوگی۔ (قربِ قیامت سے پہلے، کتاب سے ماخوذ)

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں