ایران کے خلاف جاری جنگ تیزی سے دوسری عالمی جنگ کے بعد کے سب سے اہم اور دور رس اثرات رکھنے والے تنازعات میں تبدیل ہو چکی ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے مربوط حملوں نے نہ صرف اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا بلکہ اعلیٰ ایرانی قیادت کے خاتمے کا دعویٰ بھی سامنے آیا۔ اس کے بعد میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ پھیلتا گیا، جس نے وسیع پیمانے پر تباہی کو جنم دیا۔ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت میں خلل نے عالمی تیل منڈیوں کو شدید اتار چڑھاؤ سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ دنیا بھر کی حکومتیں بڑھتی ہوئی تشویش کے ساتھ اس صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہیں۔ بظاہر جنگ ایک نئے اور غیر متوقع مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مذاکرات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں اور ساتھ ہی ممکنہ فوجی توسیع، حتیٰ کہ امریکی زمینی افواج کی تعیناتی کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔
تاہم، اس جنگ کو صرف عسکری قوت کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ جڑا ہوا بیانیہ کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔ مغربی دنیا ایران کو عالمی نظام کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے، جبکہ امریکہ اپنی عسکری کارروائیوں کو قانونی، دفاعی اور استحکام پیدا کرنے والا اقدام پیش کرتا ہے۔ یہ تضاد محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ عالمی سیاست کی بنیادوں میں پیوست ایک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ آخر یہ بیانیہ اتنی وسیع قبولیت کیسے حاصل کر لیتا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ عالمی میڈیا، سفارتی اثر و رسوخ اور طاقت کے مراکز پر مغربی کنٹرول ہے۔ بین الاقوامی ادارے، جنہیں غیر جانبدار ہونا چاہیے، اکثر بڑی طاقتوں کے مفادات کے زیر اثر نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً، ایک ہی عمل کو مختلف زاویوں سے پیش کیا جاتا ہے۔ جب طاقتور ملک حملہ کرے تو اسے "پیشگی دفاع” کہا جاتا ہے، اور جب کمزور ملک ردعمل دے تو اسے "جارحیت” کا نام دیا جاتا ہے۔یہ دوہرا معیار صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ عالمی نظام کا ایک مستقل رویہ بن چکا ہے۔ ماضی کی کئی جنگیں اور مداخلتیں اس کی گواہ ہیں، جہاں قانونی اور اخلاقی اصول طاقت کے تابع ہو کر رہ گئے۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف عالمی انصاف کے تصور کو کمزور کیا ہے بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک میں عدم تحفظ کے احساس کو بھی بڑھایا ہے۔


