اسرائیل نوازی اور ایران دشمنی کی منافقانہ پالیسی

 

سراج نقوی

مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے معاملے پر مودی حکومت کے ذریعے بلائی گئی ’آل پارٹی میٹنگ‘ میںحکومت نے ایران کے تعلق سے جس منافقانہ پالیسی کا اظہار کیا اس سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی میں دوستی اور دشمنی کے پیمانے بدل دیے گئے ہیں،اور ا یران جیسے اپنے پرانے دوست اور مددگار ملک کو چھوڑ کر ہم دنیا کے سب سے بڑے سرکاری دہشت گرد اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔شائد اس کا سبب یہ ہے کہ اسرائیل کی پالیسیاںبھی اسی ظلمِ ناروا اور طاقت کے بل پر دنیا کو زیر کرنے کا عملی نمونہ ہیں کہ جن کا مظاہرہ آر ایس ایس کی نظریاتی پیروکار بی جے پی کی مودی حکومت گذشتہ ۱۱ برس سے زیادہ سے کر رہی ہے ،اور اسے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی بتا کر ملک کی مذہبی اقلیتوں کی زندگی میں زہر گھولا جا رہا ہے ،اور منظم طریقے سے ان اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔مودی حکومت اور اسرائیل کی حکومت میں ایسے بہت سے مشترکہ نکات ہیں جو یہ یقین دلانے لئے کافی ہیں کہ اسرائیل سے مودی حکومت کی بڑھتی ہوئی پیار کی پینگیں کوئی اتفاق نہیں۔بلکہ فکری سطح پر دونوں کا ایک ہونا ہے۔حالانکہ مودی حکومت سے پہلے ہندوستان ہمیشہ سے اہل فلسطین کے سیاسی حقوق اور ایک آزادو خود مختار فلسطین کے حق میں مضبوطی سے کھڑا رہاہے۔لیکن اب ہمارا یہ موقف قصہ پارینہ بن چکا ہے۔آ ج مودی کے اقتدار والا ہندوستان اسرائیل کے اس صپیونی ٹولے کے کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہونے میں فخر محسوس کر رہا ہے کہ جس سے ماضی کی حکومتوں میں سے بیشتر سفارتی تعقات رکھنے کی بھی روادار نہیںتھیں۔ خارجہ پالیسی میں یہ تبدیلی حکمرانوں کی منافقت اور ظالم و جابر طاقتوں کے لئے اس کی حمایت کا ہی ثبوت ہے۔ حکومت اسرائیل کے تعلق سے مسلسل جس طرح کے جذبات کا اظہار کر رہی ہے وہ اس شرمناک حقیقت کا اظہار ہے کہ گاندھی کے دیس پر گوڈسے اور ساورکر کے پیروکاروں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ایسے میں اگر اسرائیل کی فلسطینیوں پر مظالم کی ’پالیسی‘کو دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرینس‘پالیسی کہہ کر حکومت نے اپنے موقف کا دفاع کیا تو اس پر حیرت ہی کیا۔’آل پارٹی میٹنگ‘میں جے شنکر پرساد نے اپوزیشن پارٹیوں کے سوالوں کے جواب میں اسرائیل اور امریکہ کے تعلق سے جو کچھ کہا،اور ایران کے تعلق سے اختیار کی گئی ہماری پالیسی سے متعلق سوالوں کو جس طرح ٹالا وہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اب ہمارے سفارتکار سفارتی زبان کو بھول کر ٹپوریوں کی زبان بولنے کو ہی اپنا معیار بنا رہے ہیں۔شائد گاندھی کے ہندوستان اور ساورکر یا گوڈسے کے ہندوستان کی زبان کا یہ فرق ہی ہمارے ملک کو ایران سے دور اور اسرائیل سے قریب کرتا ہے۔
مذکورہ ’آل پارٹی میٹنگ‘میں جے شنکر پرساد نے پاکستان کو دلال ملک کہہ کر اپنی ناکام سفارتکاری سے متعلق سوال سے فرار حاصل کرنے کی جس طرح کو شش کی اس پر کئی یو ٹیوب چینل بہت کچھ کہہ چکے ہیں،اس لئے ’ٹپوری مارکہ‘ اس جملے پر مزید بحث کی گنجائش نہیں۔ میٹنگ میں اپوزیشن لیڈروں نے جب مودی کے اسرائیل دورے کے وقت اور امریکہ و اسرائیل کے ایران پر کیے گئے یکطرفہ حملے پر سوال اٹھایا ،رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کو اسرائیل کے ذریعے شہید کیے جانے پر مودی حکومت کی منافقانہ خاموشی پر سوال کیا تو اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے یکطرفہ حملے سے متعلق سوال کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔سب سے اہم بات تو یہ کہ حکومت نے اس انتہائی اہم مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث سے اس صورت میں گریز کیا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے۔ اب وزیر خارجہ کے امریکہ ،اسرائیل اور ایران کے تعلق سے پیش کیے گئے موقف پر بھی غور کر لیں،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری سفارتکاری ’غیر جانبداری‘ کے اصول کو پس پشت ڈال کر کس طرح ان طاقتوں کی چاکری اور حاشیہ برداری کی سطح پر پہنچ گئی ہے جو درحقیقت صرف ایران نہیں بلکہ عالمی امن کے لئے خطرہ ہیں،اور جن کا وجود اپنے آپ میں دہشت گردی کی علامت ہے۔ایسے میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان دہشت گردی کے تعلق سے ’زیرو ٹالرینس‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دنیا بھر میں سرکاری دہشت گردی کی سرخیل طاقتوں اسرائیل اور امریکہ کی قصیدہ خوانی صرف گوڈسے کے ہندوستان میں ہو سکتی ہے،گاندھی کا ہندوستان اس دوغلی سفارتکاری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر اسرائیل کو ہندوستان کا ایک ’اہم اسٹریٹجک پارٹنر‘ بتاتے ہیں،اورفرماتے ہیں کہ’ اسرائیل نے بھارت کی نیشنل سیکورٹی کے بحرانوں میں حمایت کی ہے۔‘ یہ انتہائی شرمناک بیان ہے۔کیا یہ مان لیا جائے کہ 143کروڑ کی آبادی والا اور ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھنے والا ملک ہندوستان اب اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ صرف 75سال قبل وجود میں آئے اسرائیل سے اپنی مبینہ اسٹریٹجک شراکت کے سبب اپنا تحفظ کر پا رہا ہے؟کیا ہم اس قدر کمزور ہو گئے ہیں کہ اپنی ’نیشنل سیکورٹی‘ کے لئے دنیا بھر میں دہشت گردی کی علامت بن چکے ملک اسرائیل کی پناہ میں جانا پڑ رہا ہے؟جے شنکر فرماتے ہیں کہ دونوں ممالک(یعنی اسرائیل اور ہندوستان)دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس کی فکری غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی مودی سرکار اور اسرائیل دونوں ہی اس غیر انسانی اصول پر عمل پیرا ہیں کہ صرف ان کے مذہب کے ماننے والوں کو ہی ان ممالک میں رہنے کا حق ہے۔اسرائیل گزشتہ 75برسوں سے کس طرح فلسطین کے بے گناہ شہریوں کو ٹارچر کرکے اپنا نظام چلا رہا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں،جو ملک ایک چھ ماہ کے معصوم فلسطینی بچّے کے پھول سے بدن کو سگریٹ سے جلا کر ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی کا ڈھول بجائے اسے جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین ہے۔درندگی کو اپنا شعار اور پالیسی بنانے والوں کو اگر ہماری حکومت اپنے لئے نمونہ عمل بنا رہی ہے تو ہم سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ایس جے شنکر پرساد کا اسرائیل کے تعلق سے دیا گیا بیان بھی دراصل ان تمام ہندوستانیوں کو شرمندہ کرنے والا ہے جو اس ملک کو ’گاندھی کا ملک‘مانتے ہیں اور فلسفہ عدم تشد د پر فخر کرتے ہیں۔بربریت اور سفاکیّت کو ’زیرو ٹالرینس‘کی پالیسی بنانا دراصل ایسا کہنے والوں کی ذہنی پستی کا ہی ثبوت ہے۔
گزشتہ برس جے شنکر پرساد نے اسرائیل کے تعلق سے کہا تھا کہ اسرائیل اور ہندوستان دہشت گردی کے تعلق سے ایک جیسا موقف رکھتے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف اورصرف مودی حکومت اور اسرائیل کا ہی اس مسئلے پر ایک جیسا موقف ہے،ورنہ جہاں تک عام ہندوستانی کی بات ہے تو اسرائیل ایران کی حالیہ جنگ میں ہندوستانی عوام نے جس بڑے پیمانے پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف اور تھوپی گئی جنگ کی جس بھرپور طریقے سے مذمت کی ہے اتنی دنیا کے کسی بھی ملک کے عوام نے نہیں کی،اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ اصل ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ایس جے شنکر یا مودی حکومت کے دیگر افراد یقینی طور پر تاریخ کے اس کوڑے دان میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں کہ جس میں فرعون،شدّاد،یزید اور ہٹلر جیسے لوگ بھی لعنت کا طوق پہنے نظر آتے ہیں۔جے شنکر یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’بھارت اور امریکہ دونوں اسرائیل کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔‘یہ بیان اپنے آپ میں حقائق سے منافقانہ چشم پوشی کی بد ترین مثال ہے۔اس لئے کہ جس امریکہ کا ذکر جے شنکر اسرائیل سے اپنے رشتوں کے لئے دلیل کے طور پر کر رہے ہیں اسی امریکہ کا موجودہ صدر ٹرمپ متعد د مرتبہ ہمارے وزیر اعظم مودی کے خلاف ایسے توہین آمیز بیانات دے چکا ہے کہ جن پر خاموش ہو جانا یا تو اس بات کا ثبوت ہے کہ جو کچھ ٹرمپ کہہ رہا ہے وہ درست ہے،یا اگر غلط ہے تو اس حکومت میں اتنا حوصلہ نہیں کہ اس کا جواب دے سکے۔جس امریکہ کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کا موجودہ صدر ٹرمپ اور تمام سابق صدور بھی ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کو زیادہ ترجیح دیتے رہے ہیں،اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرینس ‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تو پھر ہندوستان میں پاکستان کی طرف سے کی جا رہی دہشت گردی کو روکنے کے لئے امریکہ نے اب تک کوئی سخت قدم کیوں نہیں اٹھایا،اور مودی حکومت نے اب تک اس معاملے میں امریکہ پر دبائو کیوں نہیں ڈالا ؟ سب جانتے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور اسرائیل نے داعش کے لیڈر جولانی کو اپنے ’دہشت گردوں کے گودام‘سے نکال کر اس کے سر پر شام کا تاجِ حکومت رکھا ہے۔حالانکہ یہی جولانی شام کا اقتدار سنبھالنے سے کچھ روز پہلے تک امریکہ کی دہشت گردوں کی اس فہرست میں شامل تھا کہ جن کے سروں پر کروڑوں روپئے کے انعام رکھے گئے ہیں۔ایسے میں اسرائیل یا امریکہ کو دہشت گردی کے تعلق سے ’زیر ٹالرینس‘کی پالیسی پر چلنے والا ملک مان لینا یا تو بزدلی،یا لا علمی ہے یا پھر یہ کھلی ہوئی منافقت ہے۔سچ یہ ہے کہ مودی حکومت اس معاملے میںایک کھلی ہوئی منافقت کی شکار ہے ،اور آل پارٹی میٹنگ میں اسی منافقت کا مظاہرہ کیا گیا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

اسرائیل نوازی اور ایران دشمنی کی منافقانہ پالیسی

 

سراج نقوی

مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے معاملے پر مودی حکومت کے ذریعے بلائی گئی ’آل پارٹی میٹنگ‘ میںحکومت نے ایران کے تعلق سے جس منافقانہ پالیسی کا اظہار کیا اس سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی میں دوستی اور دشمنی کے پیمانے بدل دیے گئے ہیں،اور ا یران جیسے اپنے پرانے دوست اور مددگار ملک کو چھوڑ کر ہم دنیا کے سب سے بڑے سرکاری دہشت گرد اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔شائد اس کا سبب یہ ہے کہ اسرائیل کی پالیسیاںبھی اسی ظلمِ ناروا اور طاقت کے بل پر دنیا کو زیر کرنے کا عملی نمونہ ہیں کہ جن کا مظاہرہ آر ایس ایس کی نظریاتی پیروکار بی جے پی کی مودی حکومت گذشتہ ۱۱ برس سے زیادہ سے کر رہی ہے ،اور اسے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی بتا کر ملک کی مذہبی اقلیتوں کی زندگی میں زہر گھولا جا رہا ہے ،اور منظم طریقے سے ان اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔مودی حکومت اور اسرائیل کی حکومت میں ایسے بہت سے مشترکہ نکات ہیں جو یہ یقین دلانے لئے کافی ہیں کہ اسرائیل سے مودی حکومت کی بڑھتی ہوئی پیار کی پینگیں کوئی اتفاق نہیں۔بلکہ فکری سطح پر دونوں کا ایک ہونا ہے۔حالانکہ مودی حکومت سے پہلے ہندوستان ہمیشہ سے اہل فلسطین کے سیاسی حقوق اور ایک آزادو خود مختار فلسطین کے حق میں مضبوطی سے کھڑا رہاہے۔لیکن اب ہمارا یہ موقف قصہ پارینہ بن چکا ہے۔آ ج مودی کے اقتدار والا ہندوستان اسرائیل کے اس صپیونی ٹولے کے کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہونے میں فخر محسوس کر رہا ہے کہ جس سے ماضی کی حکومتوں میں سے بیشتر سفارتی تعقات رکھنے کی بھی روادار نہیںتھیں۔ خارجہ پالیسی میں یہ تبدیلی حکمرانوں کی منافقت اور ظالم و جابر طاقتوں کے لئے اس کی حمایت کا ہی ثبوت ہے۔ حکومت اسرائیل کے تعلق سے مسلسل جس طرح کے جذبات کا اظہار کر رہی ہے وہ اس شرمناک حقیقت کا اظہار ہے کہ گاندھی کے دیس پر گوڈسے اور ساورکر کے پیروکاروں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ایسے میں اگر اسرائیل کی فلسطینیوں پر مظالم کی ’پالیسی‘کو دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرینس‘پالیسی کہہ کر حکومت نے اپنے موقف کا دفاع کیا تو اس پر حیرت ہی کیا۔’آل پارٹی میٹنگ‘میں جے شنکر پرساد نے اپوزیشن پارٹیوں کے سوالوں کے جواب میں اسرائیل اور امریکہ کے تعلق سے جو کچھ کہا،اور ایران کے تعلق سے اختیار کی گئی ہماری پالیسی سے متعلق سوالوں کو جس طرح ٹالا وہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اب ہمارے سفارتکار سفارتی زبان کو بھول کر ٹپوریوں کی زبان بولنے کو ہی اپنا معیار بنا رہے ہیں۔شائد گاندھی کے ہندوستان اور ساورکر یا گوڈسے کے ہندوستان کی زبان کا یہ فرق ہی ہمارے ملک کو ایران سے دور اور اسرائیل سے قریب کرتا ہے۔
مذکورہ ’آل پارٹی میٹنگ‘میں جے شنکر پرساد نے پاکستان کو دلال ملک کہہ کر اپنی ناکام سفارتکاری سے متعلق سوال سے فرار حاصل کرنے کی جس طرح کو شش کی اس پر کئی یو ٹیوب چینل بہت کچھ کہہ چکے ہیں،اس لئے ’ٹپوری مارکہ‘ اس جملے پر مزید بحث کی گنجائش نہیں۔ میٹنگ میں اپوزیشن لیڈروں نے جب مودی کے اسرائیل دورے کے وقت اور امریکہ و اسرائیل کے ایران پر کیے گئے یکطرفہ حملے پر سوال اٹھایا ،رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کو اسرائیل کے ذریعے شہید کیے جانے پر مودی حکومت کی منافقانہ خاموشی پر سوال کیا تو اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے یکطرفہ حملے سے متعلق سوال کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔سب سے اہم بات تو یہ کہ حکومت نے اس انتہائی اہم مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث سے اس صورت میں گریز کیا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے۔ اب وزیر خارجہ کے امریکہ ،اسرائیل اور ایران کے تعلق سے پیش کیے گئے موقف پر بھی غور کر لیں،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری سفارتکاری ’غیر جانبداری‘ کے اصول کو پس پشت ڈال کر کس طرح ان طاقتوں کی چاکری اور حاشیہ برداری کی سطح پر پہنچ گئی ہے جو درحقیقت صرف ایران نہیں بلکہ عالمی امن کے لئے خطرہ ہیں،اور جن کا وجود اپنے آپ میں دہشت گردی کی علامت ہے۔ایسے میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان دہشت گردی کے تعلق سے ’زیرو ٹالرینس‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دنیا بھر میں سرکاری دہشت گردی کی سرخیل طاقتوں اسرائیل اور امریکہ کی قصیدہ خوانی صرف گوڈسے کے ہندوستان میں ہو سکتی ہے،گاندھی کا ہندوستان اس دوغلی سفارتکاری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر اسرائیل کو ہندوستان کا ایک ’اہم اسٹریٹجک پارٹنر‘ بتاتے ہیں،اورفرماتے ہیں کہ’ اسرائیل نے بھارت کی نیشنل سیکورٹی کے بحرانوں میں حمایت کی ہے۔‘ یہ انتہائی شرمناک بیان ہے۔کیا یہ مان لیا جائے کہ 143کروڑ کی آبادی والا اور ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھنے والا ملک ہندوستان اب اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ صرف 75سال قبل وجود میں آئے اسرائیل سے اپنی مبینہ اسٹریٹجک شراکت کے سبب اپنا تحفظ کر پا رہا ہے؟کیا ہم اس قدر کمزور ہو گئے ہیں کہ اپنی ’نیشنل سیکورٹی‘ کے لئے دنیا بھر میں دہشت گردی کی علامت بن چکے ملک اسرائیل کی پناہ میں جانا پڑ رہا ہے؟جے شنکر فرماتے ہیں کہ دونوں ممالک(یعنی اسرائیل اور ہندوستان)دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس کی فکری غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی مودی سرکار اور اسرائیل دونوں ہی اس غیر انسانی اصول پر عمل پیرا ہیں کہ صرف ان کے مذہب کے ماننے والوں کو ہی ان ممالک میں رہنے کا حق ہے۔اسرائیل گزشتہ 75برسوں سے کس طرح فلسطین کے بے گناہ شہریوں کو ٹارچر کرکے اپنا نظام چلا رہا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں،جو ملک ایک چھ ماہ کے معصوم فلسطینی بچّے کے پھول سے بدن کو سگریٹ سے جلا کر ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی کا ڈھول بجائے اسے جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین ہے۔درندگی کو اپنا شعار اور پالیسی بنانے والوں کو اگر ہماری حکومت اپنے لئے نمونہ عمل بنا رہی ہے تو ہم سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ایس جے شنکر پرساد کا اسرائیل کے تعلق سے دیا گیا بیان بھی دراصل ان تمام ہندوستانیوں کو شرمندہ کرنے والا ہے جو اس ملک کو ’گاندھی کا ملک‘مانتے ہیں اور فلسفہ عدم تشد د پر فخر کرتے ہیں۔بربریت اور سفاکیّت کو ’زیرو ٹالرینس‘کی پالیسی بنانا دراصل ایسا کہنے والوں کی ذہنی پستی کا ہی ثبوت ہے۔
گزشتہ برس جے شنکر پرساد نے اسرائیل کے تعلق سے کہا تھا کہ اسرائیل اور ہندوستان دہشت گردی کے تعلق سے ایک جیسا موقف رکھتے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف اورصرف مودی حکومت اور اسرائیل کا ہی اس مسئلے پر ایک جیسا موقف ہے،ورنہ جہاں تک عام ہندوستانی کی بات ہے تو اسرائیل ایران کی حالیہ جنگ میں ہندوستانی عوام نے جس بڑے پیمانے پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف اور تھوپی گئی جنگ کی جس بھرپور طریقے سے مذمت کی ہے اتنی دنیا کے کسی بھی ملک کے عوام نے نہیں کی،اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ اصل ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ایس جے شنکر یا مودی حکومت کے دیگر افراد یقینی طور پر تاریخ کے اس کوڑے دان میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں کہ جس میں فرعون،شدّاد،یزید اور ہٹلر جیسے لوگ بھی لعنت کا طوق پہنے نظر آتے ہیں۔جے شنکر یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’بھارت اور امریکہ دونوں اسرائیل کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔‘یہ بیان اپنے آپ میں حقائق سے منافقانہ چشم پوشی کی بد ترین مثال ہے۔اس لئے کہ جس امریکہ کا ذکر جے شنکر اسرائیل سے اپنے رشتوں کے لئے دلیل کے طور پر کر رہے ہیں اسی امریکہ کا موجودہ صدر ٹرمپ متعد د مرتبہ ہمارے وزیر اعظم مودی کے خلاف ایسے توہین آمیز بیانات دے چکا ہے کہ جن پر خاموش ہو جانا یا تو اس بات کا ثبوت ہے کہ جو کچھ ٹرمپ کہہ رہا ہے وہ درست ہے،یا اگر غلط ہے تو اس حکومت میں اتنا حوصلہ نہیں کہ اس کا جواب دے سکے۔جس امریکہ کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کا موجودہ صدر ٹرمپ اور تمام سابق صدور بھی ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کو زیادہ ترجیح دیتے رہے ہیں،اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرینس ‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تو پھر ہندوستان میں پاکستان کی طرف سے کی جا رہی دہشت گردی کو روکنے کے لئے امریکہ نے اب تک کوئی سخت قدم کیوں نہیں اٹھایا،اور مودی حکومت نے اب تک اس معاملے میں امریکہ پر دبائو کیوں نہیں ڈالا ؟ سب جانتے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور اسرائیل نے داعش کے لیڈر جولانی کو اپنے ’دہشت گردوں کے گودام‘سے نکال کر اس کے سر پر شام کا تاجِ حکومت رکھا ہے۔حالانکہ یہی جولانی شام کا اقتدار سنبھالنے سے کچھ روز پہلے تک امریکہ کی دہشت گردوں کی اس فہرست میں شامل تھا کہ جن کے سروں پر کروڑوں روپئے کے انعام رکھے گئے ہیں۔ایسے میں اسرائیل یا امریکہ کو دہشت گردی کے تعلق سے ’زیر ٹالرینس‘کی پالیسی پر چلنے والا ملک مان لینا یا تو بزدلی،یا لا علمی ہے یا پھر یہ کھلی ہوئی منافقت ہے۔سچ یہ ہے کہ مودی حکومت اس معاملے میںایک کھلی ہوئی منافقت کی شکار ہے ،اور آل پارٹی میٹنگ میں اسی منافقت کا مظاہرہ کیا گیا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں