نشے کے خلاف فیصلہ کن جنگ؟

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے نشہ مکت بھارت ابھیان کی پیش رفت کا جائزہ لینا ایک خوش آئند اور بروقت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض جائزہ اجلاس اس بڑھتے ہوئے ناسور کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ منشیات کے خلاف ایک ہمہ گیر، منظم اور بے رحم جنگ چھیڑی جائے۔
نشہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والا زہر ہے۔ جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں، جہاں نوجوانوں کی توانائی تعمیر و ترقی کا ضامن بن سکتی ہے، وہیں منشیات کی لعنت اس توانائی کو بربادی میں بدل رہی ہے۔ کتنے ہی ہنستے کھیلتے گھر اجڑ چکے ہیں، کتنی ہی ماؤں کی آنکھیں اپنے جوان بیٹوں کے لئے ترس رہی ہیں اور کتنے ہی خواب نشے کی نذر ہو چکے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اگرچہ سخت کارروائیاں، اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور سپلائی چین کو توڑنا انتہائی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس مسئلے کی جڑوں تک پہنچنا ہوگا۔ بے روزگاری، ذہنی دباؤ، سماجی تنہائی اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال وہ عوامل ہیں جو نوجوانوں کو اس دلدل کی طرف دھکیلتے ہیں۔
تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز اور سماجی تنظیموں کو اس جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف نصیحت کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات، آگاہی مہمات اور بحالی مراکز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور بچوں کی زندگیوں میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وہ کسی بھی غلط راستے پر جانے سے پہلے ہی سنبھل جائیں۔
ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا بھی ایک دو دھاری تلوار بن چکا ہے۔ جہاں یہ آگاہی پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، وہیں بعض اوقات یہ غلط رجحانات کو فروغ بھی دیتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مثبت بیانیے کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے نشہ مکت بھارت ابھیان جیسے اقدامات یقیناً قابلِ تحسین ہیں، مگر اس جنگ کو جیتنے کے لئے ریاستی مشینری، معاشرہ اور فرد، تینوں کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ صرف پالیسی کا نہیں بلکہ اجتماعی شعور کا مسئلہ ہے۔
اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو یہ آگ مزید پھیلتی جائے گی اور آنے والی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تماشائی بننے کے بجائے عملی قدم اٹھائیں، کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

نشے کے خلاف فیصلہ کن جنگ؟

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے نشہ مکت بھارت ابھیان کی پیش رفت کا جائزہ لینا ایک خوش آئند اور بروقت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض جائزہ اجلاس اس بڑھتے ہوئے ناسور کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ منشیات کے خلاف ایک ہمہ گیر، منظم اور بے رحم جنگ چھیڑی جائے۔
نشہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والا زہر ہے۔ جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں، جہاں نوجوانوں کی توانائی تعمیر و ترقی کا ضامن بن سکتی ہے، وہیں منشیات کی لعنت اس توانائی کو بربادی میں بدل رہی ہے۔ کتنے ہی ہنستے کھیلتے گھر اجڑ چکے ہیں، کتنی ہی ماؤں کی آنکھیں اپنے جوان بیٹوں کے لئے ترس رہی ہیں اور کتنے ہی خواب نشے کی نذر ہو چکے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اگرچہ سخت کارروائیاں، اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور سپلائی چین کو توڑنا انتہائی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس مسئلے کی جڑوں تک پہنچنا ہوگا۔ بے روزگاری، ذہنی دباؤ، سماجی تنہائی اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال وہ عوامل ہیں جو نوجوانوں کو اس دلدل کی طرف دھکیلتے ہیں۔
تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز اور سماجی تنظیموں کو اس جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف نصیحت کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات، آگاہی مہمات اور بحالی مراکز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور بچوں کی زندگیوں میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وہ کسی بھی غلط راستے پر جانے سے پہلے ہی سنبھل جائیں۔
ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا بھی ایک دو دھاری تلوار بن چکا ہے۔ جہاں یہ آگاہی پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، وہیں بعض اوقات یہ غلط رجحانات کو فروغ بھی دیتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مثبت بیانیے کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے نشہ مکت بھارت ابھیان جیسے اقدامات یقیناً قابلِ تحسین ہیں، مگر اس جنگ کو جیتنے کے لئے ریاستی مشینری، معاشرہ اور فرد، تینوں کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ صرف پالیسی کا نہیں بلکہ اجتماعی شعور کا مسئلہ ہے۔
اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو یہ آگ مزید پھیلتی جائے گی اور آنے والی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تماشائی بننے کے بجائے عملی قدم اٹھائیں، کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں