وزیر اعظم نریندر مودی اور نیپال کے نئے وزیرِ اعظم بلیندرا شاہ کے درمیان ابتدائی پیغامات نے تعلقات میں گرمجوشی کا عندیہ دیا ہے، مگر یہ رشتہ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ مشترکہ ثقافت، کھلی سرحد اور گہرے عوامی روابط کے باوجود، نیپال کی بدلتی سیاسی حقیقت ایک نئی سوچ کا تقاضا کرتی ہے۔
35 سالہ شاہ کا اقتدار میں آنا روایتی سیاسی ڈھانچے سے انحراف ہے۔ وہ نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جس نےپی کے شرما کی حکومت کو ہٹایا۔ یہ قیادت ماضی کی خارجہ پالیسی روایات کی پابند نہیں، بلکہ زیادہ خودمختار اور قوم پرستانہ رجحانات رکھتی ہے۔
بھارت کے لئے ضروری ہے کہ وہ مفروضوں کے بجائے حقیقت پسندی اپنائے۔ ماضی میں آئینی تنازعات، سرحدی رکاوٹیں اور دیگر اختلافات نے تعلقات کو متاثر کیا ہے، جس کا اثر خاص طور پر نوجوان نیپالیوں پر پڑا ہے۔
اس کے باوجود دونوں ممالک کا باہمی انحصار واضح ہے۔ نیپال تجارت، توانائی اور راہداری کے لئے بھارت پر انحصار کرتا ہے، جبکہ مغربی ایشا کے بحران جیسے حالات میں اسے مزید تعاون درکار ہوگا۔
مزید برآں، نیپال کی معیشت بڑی حد تک بیرونِ ملک مقیم محنت کشوں کی ترسیلات اور سیاحت پر منحصر ہے، جس سے اس کی معاشی نزاکت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایسے میں بھارت اگر توانائی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجارتی سہولتوں میں وسعت لاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اسی طرح سفارتی سطح پر بھی بروقت اور مثبت اقدامات ناگزیر ہیں۔ ماضی کی تاخیر اور سرد مہری سے سیکھتے ہوئے نئی دہلی کو چاہیے کہ فوری رابطہ بڑھائے، اعتماد بحال کرے اور نیپال کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے تعلقات کو ایک متوازن اور پائیدار سمت میں آگے بڑھائے۔
محتاط حکمت عملی لازم و ملزوم
محتاط حکمت عملی لازم و ملزوم
وزیر اعظم نریندر مودی اور نیپال کے نئے وزیرِ اعظم بلیندرا شاہ کے درمیان ابتدائی پیغامات نے تعلقات میں گرمجوشی کا عندیہ دیا ہے، مگر یہ رشتہ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ مشترکہ ثقافت، کھلی سرحد اور گہرے عوامی روابط کے باوجود، نیپال کی بدلتی سیاسی حقیقت ایک نئی سوچ کا تقاضا کرتی ہے۔
35 سالہ شاہ کا اقتدار میں آنا روایتی سیاسی ڈھانچے سے انحراف ہے۔ وہ نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جس نےپی کے شرما کی حکومت کو ہٹایا۔ یہ قیادت ماضی کی خارجہ پالیسی روایات کی پابند نہیں، بلکہ زیادہ خودمختار اور قوم پرستانہ رجحانات رکھتی ہے۔
بھارت کے لئے ضروری ہے کہ وہ مفروضوں کے بجائے حقیقت پسندی اپنائے۔ ماضی میں آئینی تنازعات، سرحدی رکاوٹیں اور دیگر اختلافات نے تعلقات کو متاثر کیا ہے، جس کا اثر خاص طور پر نوجوان نیپالیوں پر پڑا ہے۔
اس کے باوجود دونوں ممالک کا باہمی انحصار واضح ہے۔ نیپال تجارت، توانائی اور راہداری کے لئے بھارت پر انحصار کرتا ہے، جبکہ مغربی ایشا کے بحران جیسے حالات میں اسے مزید تعاون درکار ہوگا۔
مزید برآں، نیپال کی معیشت بڑی حد تک بیرونِ ملک مقیم محنت کشوں کی ترسیلات اور سیاحت پر منحصر ہے، جس سے اس کی معاشی نزاکت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایسے میں بھارت اگر توانائی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجارتی سہولتوں میں وسعت لاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اسی طرح سفارتی سطح پر بھی بروقت اور مثبت اقدامات ناگزیر ہیں۔ ماضی کی تاخیر اور سرد مہری سے سیکھتے ہوئے نئی دہلی کو چاہیے کہ فوری رابطہ بڑھائے، اعتماد بحال کرے اور نیپال کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے تعلقات کو ایک متوازن اور پائیدار سمت میں آگے بڑھائے۔


