ہوا نہیں تو سورج سہی

حالیہ دنوں میں حکومت ہند کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا کہ جموں و کشمیر میں ونڈ انرجی یعنی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس شعبے میں کوئی قابلِ عمل منصوبہ بھی موجود نہیں۔ یہ موقف اپنی جگہ تکنیکی بنیادوں پر درست ہوسکتا ہے، کیونکہ کسی بھی خطے میں توانائی کے ذرائع کا انتخاب وہاں کے جغرافیہ، موسمی حالات اور معاشی افادیت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہوا سے توانائی ممکن نہیں، تو پھر متبادل راستہ کیا ہے؟
جموں و کشمیر جیسے خطے میں جہاں پہاڑی ڈھانچہ، کھلے میدانوں کی کمی اور ہوا کی رفتار کا غیر مستقل مزاج ہونا ایک حقیقت ہے، وہاں ونڈ انرجی کی محدودیت حیران کن نہیں۔ تاہم اس حقیقت کو بنیاد بنا کر توانائی کے بحران یا انحصار کو جوں کا توں چھوڑ دینا کسی صورت دانشمندانہ حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پالیسی کی سمت کو واضح طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔
اس تناظر میں شمسی توانائی ایک نہایت موزوں اور مستقبل بین متبادل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں سال کے کئی مہینوں تک مناسب دھوپ دستیاب رہتی ہے، خاص طور پر جموں خطہ اور کشمیر وادی کے کئی میدانی علاقے اس حوالے سے خاصی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سولر انرجی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ اس کی تنصیب بھی نسبتاً آسان اور تیز رفتار ہوتی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سمت میں جامع اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔ بڑے سولر پاور پلانٹس کے ساتھ ساتھ گھریلو سطح پر سولر پینلز کی حوصلہ افزائی، سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن، اور دیہی علاقوں میں مائیکرو گرڈ سسٹمز جیسے اقدامات توانائی کے منظرنامے کو یکسر بدل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی نوجوانوں کو اس شعبے میں تربیت دے کر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ توانائی کی پالیسی صرف پیداوار تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے نظام کو بھی جدید بنایا جائے۔ بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی، سمارٹ گرڈز، اور توانائی کے مؤثر استعمال کی حکمت عملی اس تبدیلی کو پائیدار بنا سکتی ہے۔
جموں و کشمیر کو ایک ایسے ماڈل خطے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جہاں صاف، سستی اور قابلِ تجدید توانائی نہ صرف مقامی ضروریات کو پورا کرے بلکہ مستقبل میں دیگر علاقوں کے لئے بھی مثال بنے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مرکز اپنی ترجیحات کو حقیقت پسندانہ انداز میں ترتیب دے اور جہاں ایک دروازہ بند ہو، وہاں دوسرے کو پوری سنجیدگی سے کھولا جائے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ "ناممکن” پر بحث ختم ہو اور "ممکن” پر عمل شروع ہو۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

ہوا نہیں تو سورج سہی

حالیہ دنوں میں حکومت ہند کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا کہ جموں و کشمیر میں ونڈ انرجی یعنی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس شعبے میں کوئی قابلِ عمل منصوبہ بھی موجود نہیں۔ یہ موقف اپنی جگہ تکنیکی بنیادوں پر درست ہوسکتا ہے، کیونکہ کسی بھی خطے میں توانائی کے ذرائع کا انتخاب وہاں کے جغرافیہ، موسمی حالات اور معاشی افادیت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہوا سے توانائی ممکن نہیں، تو پھر متبادل راستہ کیا ہے؟
جموں و کشمیر جیسے خطے میں جہاں پہاڑی ڈھانچہ، کھلے میدانوں کی کمی اور ہوا کی رفتار کا غیر مستقل مزاج ہونا ایک حقیقت ہے، وہاں ونڈ انرجی کی محدودیت حیران کن نہیں۔ تاہم اس حقیقت کو بنیاد بنا کر توانائی کے بحران یا انحصار کو جوں کا توں چھوڑ دینا کسی صورت دانشمندانہ حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پالیسی کی سمت کو واضح طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔
اس تناظر میں شمسی توانائی ایک نہایت موزوں اور مستقبل بین متبادل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں سال کے کئی مہینوں تک مناسب دھوپ دستیاب رہتی ہے، خاص طور پر جموں خطہ اور کشمیر وادی کے کئی میدانی علاقے اس حوالے سے خاصی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سولر انرجی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ اس کی تنصیب بھی نسبتاً آسان اور تیز رفتار ہوتی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سمت میں جامع اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔ بڑے سولر پاور پلانٹس کے ساتھ ساتھ گھریلو سطح پر سولر پینلز کی حوصلہ افزائی، سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن، اور دیہی علاقوں میں مائیکرو گرڈ سسٹمز جیسے اقدامات توانائی کے منظرنامے کو یکسر بدل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی نوجوانوں کو اس شعبے میں تربیت دے کر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ توانائی کی پالیسی صرف پیداوار تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے نظام کو بھی جدید بنایا جائے۔ بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی، سمارٹ گرڈز، اور توانائی کے مؤثر استعمال کی حکمت عملی اس تبدیلی کو پائیدار بنا سکتی ہے۔
جموں و کشمیر کو ایک ایسے ماڈل خطے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جہاں صاف، سستی اور قابلِ تجدید توانائی نہ صرف مقامی ضروریات کو پورا کرے بلکہ مستقبل میں دیگر علاقوں کے لئے بھی مثال بنے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مرکز اپنی ترجیحات کو حقیقت پسندانہ انداز میں ترتیب دے اور جہاں ایک دروازہ بند ہو، وہاں دوسرے کو پوری سنجیدگی سے کھولا جائے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ "ناممکن” پر بحث ختم ہو اور "ممکن” پر عمل شروع ہو۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں