ریاضی اولمپیاڈ کی ملکہ ترکیہ کی 10سالہ ننھی بچی

انجینئر محمود اقبال

دنیا بھر میں14 مارچ،2026 کو’’عالمی یومِ ریاضی ‘‘منایا گیا۔ اس سال کا تھیم تھا ’’ریاضی اور امید‘‘،(Maths and Hope)۔ ترکیہ کی 10سالہ ریاضی میںغیر معمولی صلاحیت رکھنے والی ننھی بچی لینا ساکا ، جس نے 153 ممالک کے شریک طلباء و حریفوںکے درمیان عالمی ’’اسٹیم‘‘ (STEM) اولمپیاڈ میں مکمل 100 نمبر حاصل کیے ہیں، جو مارچ، 2026میں منعقد ہوئے تھے۔’’اسٹیم ‘‘ کا مطلب ہے، سائینس، ٹکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھیمیٹکس(Science, Technology, Engineering & Mathematics)۔ وہ ترکیہ کی واحد نمائندہ تھیں اور تمام کیٹیگریس میں اول مقام حاصل کیا اور اپنے ملک ترکیہ کا نام دنیا بھر میں روشن کیا ہے۔لینا نے صرف 60 منٹ میں تمام 25 سوالات حل کر لئے اورطلایٔ تمغہ اپنے نام کیا۔ لِینا نے بتایا کہ اس نے اس مقابلے کو ایک عام امتحان کی طرح لیا تھا۔ جوں جوں وہ سوالات حل کرتی گئی، اس کا اعتماد بڑھتا گیا، اور نتائج کے اعلان سے پہلے ہی اسے محسوس ہو گیا تھا کہ اس نے کچھ غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے- اس تاریخی کامیابی کے بعد اس سال جولائی میں روم میں ہونے والے بین الاقوامی فائنلز میں ترکی کی نمائندگی کےلئے مدعو کی گئی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں ریاضی اور سائنس کے میدان میں مزید بڑی کامیابیاں حاصل کریں گی- لینا ساکا، بحیرہ اسود کے ترکیہ کے صوبہ طرابزون(Trabzon) اور ’یومرا‘ ضلع کے پرائمری اسکول کی چوتھی جماعت کی طالبہ ہیں ۔ جس چھوٹے سے شہر میںوہ رہتی ہیں اس کی کل آبادی تقریباً 52,000 ہے۔ان کے وا لد محمد صالح ساکا اور والدہ عائشہ ساکا ہیں۔ اس 10 سالہ ننھی پری نے بین الاقوامی ریاضی مقابلے میں شاندار کامیابی حاصل کر کے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ یہ کامیابی اس کی غیر معمولی ذہانت کو ظاہر کرتی ہے ۔ساکا نے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ’’جب میں نے عالمی چمپئن شپ جیتی تو مجھے بہت فخر محسوس ہوا۔ میں نے اسے ایک عام امتحان سمجھ کر دیا تھا۔ میں نے 60 منٹ میں 25 سوالات حل کیے۔ جب میں نے امتحان مکمل کیا تو مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میرا پیپر اچھا ہوا ہے۔‘‘لینا ساکاکی ریاضی سے دلچسپی ابتدائی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ کئی برسوں سے وہ مسلسل بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتی رہی ہیں،اور آہستہ آہستہ ایک شاندار کارکردگی کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔لینا کی نمایاں کامیابیوں میں ،گزشتہ سال نومبر2025 میں، ساکا نے ’’امریکن میتھ اولمپیاڈ ‘‘(AMO=American Math Olympiad)میں حصہ لیا تھا، جو’’ سدرن الینوائے یونیورسٹی‘‘(Southern Illionois University)اور’’ سنگاپور انٹرنیشنل میتھ کانٹسٹ سینٹر‘‘ (Singapore International Math Contest Center)کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا،او ر لینا نے ترکیہ میں پہلی اور عالمی سطح پر 310ویں پوزیشن حاصل کی جس میں 40 ممالک کے ہزاروں طلبہ شریک تھے۔اسی سال یعنی، 2026 کے آغاز میںلینا نے’’فیسو‘‘ ، ’(FISO)’فیوچر انٹیلی جنس اسٹوڈنٹ اولمپیاڈ‘‘(Future Intelligence Student Olympiad) ، میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔جس کے نتیجے میں انہیں دبئی میں ہونے والے ایک اور مقابلے میں شرکت کی دعوت ملی ہے۔
لیناکے والد کے مطابق وہ نہایت منظم اور سیکھنے کےلئے پُرعزم ہے، اور معلومات کو تیزی سے سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ اس کی مطالعہ کی عادت بھی بہت اچھی ہے۔عالمی چمپئن شپ جیتنے کے بعد، لینا کو روم، سنگاپور اور دبئی میں ہونے والے بڑے بین الاقوامی فائنلز میں ترکیہ کی نمائندگی کےلئے مدعو کیا گیا ہے۔ یہ مقابلے آنے والے جون اور جولائی 2026کے مہینوں میں ہوں گے، جو اسے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ترکیہ کے میڈیا کے مطابق تعلیمی میدان میں شاندار کارکردگی کے باوجود، لینا کے خاندان کو تینوں بین الاقوامی مقابلوں میں اس کی شرکت کے اخراجات برداشت کرنے میں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ مختلف ممالک کے سفر اور رہائش کے اخراجات ایک بڑا بوجھ بن گئے ہیں۔ لینا کی والدہ نے بتایاکہ اگرچہ لینا کی صلاحیتوں پر ان کا یقین مزید مضبوط ہوا ہے، لیکن اخراجات ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔اب یہ خاندان ایسے اداروں اور افراد سے مدد کا خواہاں ہے جو تعلیم اور سائنسی کامیابیوں کی قدر کرتے ہیں۔لینا کی کہانی ایک طرف نوجوان صلاحیتوں کی امید کو ظاہر کرتی ہے اور دوسری طرف’’ مواقع ‘‘کی دستیابی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ مناسب مدد کے ساتھ، وہ اپنے ملک کی کئی عالمی پلیٹ فارمز پر نمائندگی کر سکتی ہے اور ریاضی کے روشن ذہنوں میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔ اس کے خاندان کو امید ہے کہ انہیں مالی تعاون ضرورملے گا۔ لینا کی کامیابی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صلاحیتوں کی پرورش کےلئے صرف محنت اور لگن ہی نہیں بلکہ’’ اجتماعی تعاون‘‘ بھی ضروری ہے، تاکہ مالی حالات کسی کی قابلیت کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ لینا کے والد، محمد صالح ساکا، نے لینا کو ایک محنتی اور پابند ڈسپلن طالبہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لینا ایک ذہین بچی ہے جو اسے دی جانے والی ہر معلومات کو جلدہی سمجھ لیتی ہے۔ وہ باقاعدگی سے محنت کرتی ہے اور تسلسل برقرار رکھتی ہے۔ ’’وہ اتنی زیادہ کتابیں پڑھتی ہے کہ ہم اس کا ساتھ نہیں دے پاتے۔‘‘
لینا ساکا کی ہمت،محنت اور ریاضیت ہمارے اردو داں نوجوان طلباء و طالبات کے لئے ایک سبق آموز کہانی نہیں ہے؟اردو داں ماں باپ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کیا اقدامات اٹھا ئیں؟ضروری نہیں کہ ہر کوئی ڈاکٹر،انجینئر اور سائینٹسٹ بنے۔ دسویں جماعت تک بچوں کی تعلیم و تربیت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس دور میںبچوں میں قدرتی صلاحیتوں اجاگر ہوتی ہیں۔ اسکول کی تعلیم کے بعدبچوں کو کھیل کود کے لئے بھی وقت ملنا چاہئے۔ٹیوشن سے نجات ،نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں سے نجات جہاں ہزاروں اور لاکھوں کی فیس وصول کی جارہی ہیں اور تعلیم ’’دھندا‘‘ بنتی جارہی ہے، تاکہ والدین پر مالی بوجہ کم سے کم ہو۔سرکاری اسکول اب بہتر ہونے لگے ہیں۔دلی ماڈل اور پنجاب کے سرکاری اسکول اس کی مثال ہیں۔ووٹ کے چکر میں سیاسی جماعتیں اور حکومتیں سرکاری اسکولوں کو بہتر بنارہی ہیں۔ بچوں کے لئے روزانہ کم سے کم 8,10 گھنٹوں کی بھرپور نیند ہو،جو انکی جسمانی اور ذہنی نشونما کے لئے بہت ضروری بھی ہے۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف شعبوں کے مقابلے ہوتے رہتے ہیں۔ماں باپ اپنے بچوں کو ان میں شرکت کے ’’موقع‘‘ کو یقینی بنائیں۔رٹّا اور بٹّی مار کے پاس ہونے کو نکاریں اور یقینی بنائیں کہ بچے جو پڑھ رہے ہیں وہ ’’سمجھ‘‘ بھی رہے ہیں۔ان میں سوچ بچار اور ’’تخیل‘‘ کی عادتیں ابھرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

ریاضی اولمپیاڈ کی ملکہ ترکیہ کی 10سالہ ننھی بچی

انجینئر محمود اقبال

دنیا بھر میں14 مارچ،2026 کو’’عالمی یومِ ریاضی ‘‘منایا گیا۔ اس سال کا تھیم تھا ’’ریاضی اور امید‘‘،(Maths and Hope)۔ ترکیہ کی 10سالہ ریاضی میںغیر معمولی صلاحیت رکھنے والی ننھی بچی لینا ساکا ، جس نے 153 ممالک کے شریک طلباء و حریفوںکے درمیان عالمی ’’اسٹیم‘‘ (STEM) اولمپیاڈ میں مکمل 100 نمبر حاصل کیے ہیں، جو مارچ، 2026میں منعقد ہوئے تھے۔’’اسٹیم ‘‘ کا مطلب ہے، سائینس، ٹکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھیمیٹکس(Science, Technology, Engineering & Mathematics)۔ وہ ترکیہ کی واحد نمائندہ تھیں اور تمام کیٹیگریس میں اول مقام حاصل کیا اور اپنے ملک ترکیہ کا نام دنیا بھر میں روشن کیا ہے۔لینا نے صرف 60 منٹ میں تمام 25 سوالات حل کر لئے اورطلایٔ تمغہ اپنے نام کیا۔ لِینا نے بتایا کہ اس نے اس مقابلے کو ایک عام امتحان کی طرح لیا تھا۔ جوں جوں وہ سوالات حل کرتی گئی، اس کا اعتماد بڑھتا گیا، اور نتائج کے اعلان سے پہلے ہی اسے محسوس ہو گیا تھا کہ اس نے کچھ غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے- اس تاریخی کامیابی کے بعد اس سال جولائی میں روم میں ہونے والے بین الاقوامی فائنلز میں ترکی کی نمائندگی کےلئے مدعو کی گئی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں ریاضی اور سائنس کے میدان میں مزید بڑی کامیابیاں حاصل کریں گی- لینا ساکا، بحیرہ اسود کے ترکیہ کے صوبہ طرابزون(Trabzon) اور ’یومرا‘ ضلع کے پرائمری اسکول کی چوتھی جماعت کی طالبہ ہیں ۔ جس چھوٹے سے شہر میںوہ رہتی ہیں اس کی کل آبادی تقریباً 52,000 ہے۔ان کے وا لد محمد صالح ساکا اور والدہ عائشہ ساکا ہیں۔ اس 10 سالہ ننھی پری نے بین الاقوامی ریاضی مقابلے میں شاندار کامیابی حاصل کر کے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ یہ کامیابی اس کی غیر معمولی ذہانت کو ظاہر کرتی ہے ۔ساکا نے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ’’جب میں نے عالمی چمپئن شپ جیتی تو مجھے بہت فخر محسوس ہوا۔ میں نے اسے ایک عام امتحان سمجھ کر دیا تھا۔ میں نے 60 منٹ میں 25 سوالات حل کیے۔ جب میں نے امتحان مکمل کیا تو مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میرا پیپر اچھا ہوا ہے۔‘‘لینا ساکاکی ریاضی سے دلچسپی ابتدائی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ کئی برسوں سے وہ مسلسل بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتی رہی ہیں،اور آہستہ آہستہ ایک شاندار کارکردگی کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔لینا کی نمایاں کامیابیوں میں ،گزشتہ سال نومبر2025 میں، ساکا نے ’’امریکن میتھ اولمپیاڈ ‘‘(AMO=American Math Olympiad)میں حصہ لیا تھا، جو’’ سدرن الینوائے یونیورسٹی‘‘(Southern Illionois University)اور’’ سنگاپور انٹرنیشنل میتھ کانٹسٹ سینٹر‘‘ (Singapore International Math Contest Center)کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا،او ر لینا نے ترکیہ میں پہلی اور عالمی سطح پر 310ویں پوزیشن حاصل کی جس میں 40 ممالک کے ہزاروں طلبہ شریک تھے۔اسی سال یعنی، 2026 کے آغاز میںلینا نے’’فیسو‘‘ ، ’(FISO)’فیوچر انٹیلی جنس اسٹوڈنٹ اولمپیاڈ‘‘(Future Intelligence Student Olympiad) ، میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔جس کے نتیجے میں انہیں دبئی میں ہونے والے ایک اور مقابلے میں شرکت کی دعوت ملی ہے۔
لیناکے والد کے مطابق وہ نہایت منظم اور سیکھنے کےلئے پُرعزم ہے، اور معلومات کو تیزی سے سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ اس کی مطالعہ کی عادت بھی بہت اچھی ہے۔عالمی چمپئن شپ جیتنے کے بعد، لینا کو روم، سنگاپور اور دبئی میں ہونے والے بڑے بین الاقوامی فائنلز میں ترکیہ کی نمائندگی کےلئے مدعو کیا گیا ہے۔ یہ مقابلے آنے والے جون اور جولائی 2026کے مہینوں میں ہوں گے، جو اسے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ترکیہ کے میڈیا کے مطابق تعلیمی میدان میں شاندار کارکردگی کے باوجود، لینا کے خاندان کو تینوں بین الاقوامی مقابلوں میں اس کی شرکت کے اخراجات برداشت کرنے میں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ مختلف ممالک کے سفر اور رہائش کے اخراجات ایک بڑا بوجھ بن گئے ہیں۔ لینا کی والدہ نے بتایاکہ اگرچہ لینا کی صلاحیتوں پر ان کا یقین مزید مضبوط ہوا ہے، لیکن اخراجات ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔اب یہ خاندان ایسے اداروں اور افراد سے مدد کا خواہاں ہے جو تعلیم اور سائنسی کامیابیوں کی قدر کرتے ہیں۔لینا کی کہانی ایک طرف نوجوان صلاحیتوں کی امید کو ظاہر کرتی ہے اور دوسری طرف’’ مواقع ‘‘کی دستیابی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ مناسب مدد کے ساتھ، وہ اپنے ملک کی کئی عالمی پلیٹ فارمز پر نمائندگی کر سکتی ہے اور ریاضی کے روشن ذہنوں میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔ اس کے خاندان کو امید ہے کہ انہیں مالی تعاون ضرورملے گا۔ لینا کی کامیابی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صلاحیتوں کی پرورش کےلئے صرف محنت اور لگن ہی نہیں بلکہ’’ اجتماعی تعاون‘‘ بھی ضروری ہے، تاکہ مالی حالات کسی کی قابلیت کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ لینا کے والد، محمد صالح ساکا، نے لینا کو ایک محنتی اور پابند ڈسپلن طالبہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لینا ایک ذہین بچی ہے جو اسے دی جانے والی ہر معلومات کو جلدہی سمجھ لیتی ہے۔ وہ باقاعدگی سے محنت کرتی ہے اور تسلسل برقرار رکھتی ہے۔ ’’وہ اتنی زیادہ کتابیں پڑھتی ہے کہ ہم اس کا ساتھ نہیں دے پاتے۔‘‘
لینا ساکا کی ہمت،محنت اور ریاضیت ہمارے اردو داں نوجوان طلباء و طالبات کے لئے ایک سبق آموز کہانی نہیں ہے؟اردو داں ماں باپ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کیا اقدامات اٹھا ئیں؟ضروری نہیں کہ ہر کوئی ڈاکٹر،انجینئر اور سائینٹسٹ بنے۔ دسویں جماعت تک بچوں کی تعلیم و تربیت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس دور میںبچوں میں قدرتی صلاحیتوں اجاگر ہوتی ہیں۔ اسکول کی تعلیم کے بعدبچوں کو کھیل کود کے لئے بھی وقت ملنا چاہئے۔ٹیوشن سے نجات ،نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں سے نجات جہاں ہزاروں اور لاکھوں کی فیس وصول کی جارہی ہیں اور تعلیم ’’دھندا‘‘ بنتی جارہی ہے، تاکہ والدین پر مالی بوجہ کم سے کم ہو۔سرکاری اسکول اب بہتر ہونے لگے ہیں۔دلی ماڈل اور پنجاب کے سرکاری اسکول اس کی مثال ہیں۔ووٹ کے چکر میں سیاسی جماعتیں اور حکومتیں سرکاری اسکولوں کو بہتر بنارہی ہیں۔ بچوں کے لئے روزانہ کم سے کم 8,10 گھنٹوں کی بھرپور نیند ہو،جو انکی جسمانی اور ذہنی نشونما کے لئے بہت ضروری بھی ہے۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف شعبوں کے مقابلے ہوتے رہتے ہیں۔ماں باپ اپنے بچوں کو ان میں شرکت کے ’’موقع‘‘ کو یقینی بنائیں۔رٹّا اور بٹّی مار کے پاس ہونے کو نکاریں اور یقینی بنائیں کہ بچے جو پڑھ رہے ہیں وہ ’’سمجھ‘‘ بھی رہے ہیں۔ان میں سوچ بچار اور ’’تخیل‘‘ کی عادتیں ابھرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں