ہندوستان کی تزویراتی خاموشی

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی پر ہندوستان کا محتاط اور نپا تلا ردِعمل کسی اخلاقی تذبذب کا نہیں بلکہ ایک واضح تزویراتی سوچ کا عکاس ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی بیانیہ شدید تقسیم کا شکار ہے، نئی دہلی نے جذبات کے بجائے مفادات کی بنیاد پر اپنی راہ متعین کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی روابط اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان کے معاشی اور تزویراتی مفادات اب اسی خطے سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ توانائی کی ضروریات، تجارتی راستے، خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی باشندے اور دفاعی تعاون، یہ سب عوامل بھارت کو ایک مخصوص سمت میں جھکنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ایک طرح کی تائید قرار دیا، خاص طور پر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے تناظر میں۔ تاہم اسی جماعت کے سینئر رہنما ششی تھرور نے اس خاموشی کو کمزوری کے بجائے حکمت عملی قرار دیا۔ انہوں نے جواہر لال نہرو کی غیر وابستہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے کثیر قطبی عالمی نظام میں ہندوستان بیک وقت مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، چاہے وہ آپس میں برسرِ پیکار ہی کیوں نہ ہوں۔

تاہم اس سفارتی توازن کے پیچھے ایک نہایت اہم اور فوری تشویش پوشیدہ ہے، اور وہ ہے آبنائے ہرمز کا مسئلہ۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ہندوستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس آبی راستے پر کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر یہاں بحران پیدا ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی میں خلل اور معیشت پر شدید دباؤ ناگزیر ہوگا۔

اگر ایران اس گزرگاہ کو بند کرنے یا عسکری طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے، لیکن ہندوستان کے لئے یہ صورتحال خاص طور پر نازک ہوگی۔ ایک طرف اس کے تزویراتی شراکت دار، بشمول امریکہ اور خلیجی ممالک، اس سے تعاون کی توقع کریں گے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ کھلی محاذ آرائی مستقبل کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہندوستان کی موجودہ "خاموشی”ایک تزویراتی حکمت عملی بن جاتی ہے۔ کھل کر کسی ایک فریق کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے نئی دہلی اپنے لئے سفارتی گنجائش برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ اگر ہرمز کا بحران شدت اختیار کرے تو وہ ثالثی یا متوازن کردار ادا کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں موجود لاکھوں بھارتی شہریوں کے مفادات کا تحفظ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

تاہم یہ توازن ہمیشہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر آبنائے ہرمز واقعی ایک بڑے تصادم کا مرکز بن جاتی ہے تو ہندوستان کو واضح مؤقف اختیار کرنا پڑے گا۔ توانائی کی سلامتی کسی بھی ملک کے لئے ایک ناقابلِ سمجھوتہ حقیقت ہے۔

مختصراًہندوستان کا موجودہ رویہ کسی جنگ میں فریق بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی کوشش ہے۔ لیکن جیسے جیسے بحران ہرمز جیسے حساس مقامات کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے یہ خاموشی زیادہ دیر برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

آج کے لئے خاموشی ایک حکمت عملی ہے، مگر کل یہ فیصلہ کن مؤقف میں بدل سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

ہندوستان کی تزویراتی خاموشی

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی پر ہندوستان کا محتاط اور نپا تلا ردِعمل کسی اخلاقی تذبذب کا نہیں بلکہ ایک واضح تزویراتی سوچ کا عکاس ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی بیانیہ شدید تقسیم کا شکار ہے، نئی دہلی نے جذبات کے بجائے مفادات کی بنیاد پر اپنی راہ متعین کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی روابط اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان کے معاشی اور تزویراتی مفادات اب اسی خطے سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ توانائی کی ضروریات، تجارتی راستے، خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی باشندے اور دفاعی تعاون، یہ سب عوامل بھارت کو ایک مخصوص سمت میں جھکنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ایک طرح کی تائید قرار دیا، خاص طور پر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے تناظر میں۔ تاہم اسی جماعت کے سینئر رہنما ششی تھرور نے اس خاموشی کو کمزوری کے بجائے حکمت عملی قرار دیا۔ انہوں نے جواہر لال نہرو کی غیر وابستہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے کثیر قطبی عالمی نظام میں ہندوستان بیک وقت مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، چاہے وہ آپس میں برسرِ پیکار ہی کیوں نہ ہوں۔

تاہم اس سفارتی توازن کے پیچھے ایک نہایت اہم اور فوری تشویش پوشیدہ ہے، اور وہ ہے آبنائے ہرمز کا مسئلہ۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ہندوستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس آبی راستے پر کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر یہاں بحران پیدا ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی میں خلل اور معیشت پر شدید دباؤ ناگزیر ہوگا۔

اگر ایران اس گزرگاہ کو بند کرنے یا عسکری طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے، لیکن ہندوستان کے لئے یہ صورتحال خاص طور پر نازک ہوگی۔ ایک طرف اس کے تزویراتی شراکت دار، بشمول امریکہ اور خلیجی ممالک، اس سے تعاون کی توقع کریں گے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ کھلی محاذ آرائی مستقبل کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہندوستان کی موجودہ "خاموشی”ایک تزویراتی حکمت عملی بن جاتی ہے۔ کھل کر کسی ایک فریق کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے نئی دہلی اپنے لئے سفارتی گنجائش برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ اگر ہرمز کا بحران شدت اختیار کرے تو وہ ثالثی یا متوازن کردار ادا کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں موجود لاکھوں بھارتی شہریوں کے مفادات کا تحفظ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

تاہم یہ توازن ہمیشہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر آبنائے ہرمز واقعی ایک بڑے تصادم کا مرکز بن جاتی ہے تو ہندوستان کو واضح مؤقف اختیار کرنا پڑے گا۔ توانائی کی سلامتی کسی بھی ملک کے لئے ایک ناقابلِ سمجھوتہ حقیقت ہے۔

مختصراًہندوستان کا موجودہ رویہ کسی جنگ میں فریق بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی کوشش ہے۔ لیکن جیسے جیسے بحران ہرمز جیسے حساس مقامات کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے یہ خاموشی زیادہ دیر برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

آج کے لئے خاموشی ایک حکمت عملی ہے، مگر کل یہ فیصلہ کن مؤقف میں بدل سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں