مغربی ایشیا میں جاری بحران نے ایک بار پھر بھارت کی توانائی کی سلامتی، پالیسی تیاری اور بحرانی حالات میں حکومتی حکمتِ عملی کو نمایاں کر دیا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً نوّے فیصد درآمد کرتا ہے، اس لئے عالمی سپلائی چین میں کسی بھی خلل کا براہِ راست اثر اس کی معیشت پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے جہاں سے گزرنے والی سپلائی میں رکاوٹ قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور معاشی دباؤ کو جنم دے سکتی ہے۔
حکومت نے حالیہ برسوں میں درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کے لئے ایتھنول اور بایو فیول جیسے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات قابلِ تحسین ہیں اور طویل مدت میں توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ چھ سے آٹھ فیصد سالانہ شرح سے بڑھتی ہوئی معیشت کی توانائی کی ضروریات اتنی بڑی ہیں کہ ایتھنول یا بایو فیول جیسے اقدامات فی الحال محدود ہی اثر ڈال سکتے ہیں۔
اسی لئے ضروری ہے کہ تیل کی درآمد سے متعلق پالیسی زیادہ طویل المدت اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ حالیہ بحران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ روس سے حاصل ہونے والا تیل بھارت کے لئے کس قدر اہم رہا ہے، خصوصاً اس وقت جب رعایتی قیمتوں پر ملنے والے روسی تیل نے عالمی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دی۔ ماضی میں بھارت نے امریکی دباؤ کے تحت ایران اور وینزویلا سے بھی تیل کی درآمد کم کر دی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب خود امریکہ عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لئے بھارت کو روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ یہ صورتِ حال عالمی سیاست کی غیر یقینی فطرت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر پالیسی فیصلے فوری دباؤ کے تحت کیے جائیں تو نہ صرف طویل مدتی شراکت داری متاثر ہو سکتی ہے بلکہ توانائی کی سلامتی بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔
موجودہ حالات بھارت کے لئے ایک واضح پیغام رکھتے ہیں۔ توانائی کی پالیسی کو بیرونی دباؤ سے زیادہ قومی مفاد، سپلائی کے تنوع اور طویل مدتی استحکام کی بنیاد پر ترتیب دینا ہوگا۔ متبادل توانائی کے فروغ، اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ اور متوازن خارجہ پالیسی ہی مستقبل میں توانائی کی حقیقی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہے۔
توانائی کی سلامتی اور پالیسی کی آزمائش
توانائی کی سلامتی اور پالیسی کی آزمائش
مغربی ایشیا میں جاری بحران نے ایک بار پھر بھارت کی توانائی کی سلامتی، پالیسی تیاری اور بحرانی حالات میں حکومتی حکمتِ عملی کو نمایاں کر دیا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً نوّے فیصد درآمد کرتا ہے، اس لئے عالمی سپلائی چین میں کسی بھی خلل کا براہِ راست اثر اس کی معیشت پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے جہاں سے گزرنے والی سپلائی میں رکاوٹ قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور معاشی دباؤ کو جنم دے سکتی ہے۔
حکومت نے حالیہ برسوں میں درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کے لئے ایتھنول اور بایو فیول جیسے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات قابلِ تحسین ہیں اور طویل مدت میں توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ چھ سے آٹھ فیصد سالانہ شرح سے بڑھتی ہوئی معیشت کی توانائی کی ضروریات اتنی بڑی ہیں کہ ایتھنول یا بایو فیول جیسے اقدامات فی الحال محدود ہی اثر ڈال سکتے ہیں۔
اسی لئے ضروری ہے کہ تیل کی درآمد سے متعلق پالیسی زیادہ طویل المدت اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ حالیہ بحران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ روس سے حاصل ہونے والا تیل بھارت کے لئے کس قدر اہم رہا ہے، خصوصاً اس وقت جب رعایتی قیمتوں پر ملنے والے روسی تیل نے عالمی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دی۔ ماضی میں بھارت نے امریکی دباؤ کے تحت ایران اور وینزویلا سے بھی تیل کی درآمد کم کر دی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب خود امریکہ عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لئے بھارت کو روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ یہ صورتِ حال عالمی سیاست کی غیر یقینی فطرت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر پالیسی فیصلے فوری دباؤ کے تحت کیے جائیں تو نہ صرف طویل مدتی شراکت داری متاثر ہو سکتی ہے بلکہ توانائی کی سلامتی بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔
موجودہ حالات بھارت کے لئے ایک واضح پیغام رکھتے ہیں۔ توانائی کی پالیسی کو بیرونی دباؤ سے زیادہ قومی مفاد، سپلائی کے تنوع اور طویل مدتی استحکام کی بنیاد پر ترتیب دینا ہوگا۔ متبادل توانائی کے فروغ، اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ اور متوازن خارجہ پالیسی ہی مستقبل میں توانائی کی حقیقی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہے۔


