
شبیر احمد میر
دنیا کو بیماریوں۔ سیلابوں۔آندھیوںاور زلزلوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا ۔جتنا ان لوگوںنے پہنچایا جن کی زندگی میں آداب گفتگو نے کبھی جگہ ہی نہ لی ہو۔ بہت سے لوگ سلجھی سوچ کے مالک ہیں۔ مگر ان میں قوت برداشت کم ہوتی ہے ۔وہ تعاون ہی نہیںکرنا چاہتے ۔ انہیںصرف خوشیاں اور سکون لینا آتا ہے دنیا نہیں ۔جسکی وجہ سے گھر میں ہزاروں مسائل پید ہو جاتے ہیں۔ حا لانکہ اگر ایک ساتھی آداب گفتگو کے لحاظ سے کمز ور ہے تو دوسرا اس کا اعتماد اور حوصلہ بن سکتا ہے۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے خاص کر عورتوںمیں ۔زرا سی کمی یا خامی ہو تو اسے پاتال میں اتار دیتے ہیں۔ سہار ا دینا تو درکنار۔ ایسے الفاظ تیز دھار نشتر کی طرح سینے میںچبھ جاتے ہیں۔جب یہ کہا جاتا ہے ۔کہ اگر میں تمہارے منہ لگوں ۔تو یہاں اس گھر میں دن رات تماشے ہو ں گے ۔میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تمہاری ماںنے تمہیں سوائے زبان چلانے کے کچھ نہیں سکھایا ۔ ہاتھ پائوں تو تمہارے جیسے گروہی رکھے ہیں ۔گھر بسانا اور نسل بڑھانا یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ پہلے تو آداب گفتگو سیکھ لو ۔ جواب دیا جاتا ہے ۔
میںنے کون سے غلط بات کہہ دی ۔سچ ہی تو میںنے کہا ۔جب ساری بستی سو جاتی ہے۔ دوکاندار اپنی دوکانیں بند کرتے ہیں۔ تب تمہیں تمباکو خریدنا یا د آتا ہے۔ جیسے دماغ میںبھوسا اور گوبر بھر ا ہو تمہارے ۔
کسی کے لیے ایسے الفاظ بھی نکلتے ہیں۔وہ کبھی قہقہ لگا کر نہیںہنستی ہے ۔صرف مسکرایا کرتی ہے۔ اس کے آتے ہی ۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کمرے کی ہر شے ہنس رہی ہو۔ قہقہ لگا رہی ہو ۔اتنے شاداب چہرے کو اور اس کے گفتار کو جہنیں دیکھ کر قطار در قطار ہر یالی کھیتوں کا تصور ابھرنے لگے۔ کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔
خوبصورت اور حسین جذبات واحساسات انسان کی زندگی حرکت و عادات میں گھل کر اسطرح فطری کردار کو روشناس کرتے ہیں ۔کہ اسکی شائستہ جازعہ مثال بن کر احباب و اغیار کے روبرو آتا ہے اور شاید انسان اس لیے اس محسن نظر کی پیروی میں پرورش پا کر ایک معمہ بن کر دوسروں کو الجھانے کے بجاے ایک کھلی کتاب کی طرح ہر دلعزیز ہو جاتا ہے اور یقناً وہی اصلی زندگی جیتے ہیں ۔
جب ہم آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے انبار نظر آتے ہیں۔ مگر ان تمام نعمتوں میں آداب گفتگو سب سے فضیلت رکھتا ہے۔ جو بہاروں کی خوشبو بکھیر دیتاہے۔ آداب گفتگو سے آپ کے کردار کی بلندی کا اظہار ہوتا ہے اور آپ کی شخصیت کا ایک وقار اور ایک وزن قائم ہو جاتا ہے۔ اچھے اخلاق ہمیشہ آدمی کی عزت بڑھاتے ہیں اور اس کی نیک نامی میں اضافہ کرتے ہیں ۔خاص کر تھکن دور ہو جاتی ہے یہ ایک ایسے شہد کی چھتے کی طرح ہے۔ جس میںہر وقت میٹھا شہدبھر ا رہا رہتا ہے۔ دولت کی ریل پیل سے زندگی میں آسانیاں ضرور آجاتی ہیں مگر خوشی اور مسرت اطمینان و سکون دولت سے نہیں خریدے جاسکتے ۔
سورہ الفرقان میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ـ اللہ کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے جاہلانہ گفتگو کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے ہیں (یعنی وہاں سے چلے جاتے ہیں ) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنی روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے پہچانا جاتاہے۔ اس کے بات کرنے کا انداز۔ کھانے پینے اور آپس میں ملنے جلنے سے اس کی شخصیت ظاہر ہوتی ہے۔ خوش کلامی بلند اخلاق کی مظہرہے۔ لوگوں کے ساتھ دھیمے اور شریں لہجے میںبات کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ایک بد اخلاق آدمی کے لیے ایسے خیالات دل میں جنم لیتے ہیں ۔کہ کاش اس کے نظریات و خیالات یکسر بدل جاتے۔ اس کے نفرت کا وہ ننھا پودا اکھاڑ پھینکتے۔ جو اس کے غیر مہذب او انسانیت سوز رویہ کو دیکھ کر آج تناور درخت کی شکل اختیار کرتا چلا جارہاہے ۔ رسول اللہؐ نے فرمایا، سب سے وزنی چیز جو قیامت کے دن مومن کی میزان میں رکھی جائے گی وہ اس کا حسن اخلاق ہو گا۔ ایک دوسرے انسان سے باتیں کرنے میں ادب و احترام اور لطیف ومحبت کا پہلو ملحوظ رہے ۔تاکہ آپس میں خوش گوار تعلقات پیدا ہوں اور باہم محبت بڑھے ۔ سلام کرنا۔ شکریہ ادا کرنا۔ اچھا مشورہ دینا اور اچھی بات سمجھانے سے تعلقات خوش گوار ہوتے ہیں ۔سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، لوگوں سے اچھی بات کہو ۔دھیمے لہجے اور حسن انداز میں گفتگو کرتے ہوئے حکمت دانشمندی حاصل ہوتی ہے ۔ غصہ کی حالت میںحکمت کا ساتھ نہیں رہتا اور ایسے میںانسان بے تکی باتیں کر جاتا ہے ۔جس سے بعد میں شرمندگی اور پیشمانی ہوتی ہے ۔ سورہ لقمان ، حضرت لقمان ٔ اپنے بیٹے کو یوں نصیحت کرتے ہیں۔ اپنی چال میں اعتدال سے رہنا اور بولتے وقت آواز نیچی رکھنا ۔کیونکہ اونچی آواز گدھوں کی ہے۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دھیمے اور شریں کلام دوسروں پر چلانے یا بات کرنے میںجہاں بھی تکبر کا شائبہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے۔ خوش کلامی آپس میں میل ملاپ پیدا کرتی ہے اور بد کلامی پھوٹ ڈلواتی ہے ۔جو شیطان کا کام ہے۔ اس لیے اللہ کے نیک بندوں کو چائیے کہ اچھی بات اچھے لہجے میںکہیں اوربات نرمی سے کریں۔ اس میں آپس میں مہر ومحبت پید ہوتی ہے۔ اس لیے دوسروں کو برے الفاظ اور تحقیر امیز خطاب سے پکارنے۔ قرآن میں ممانعت آئی ہے۔ مسلمانوں کی شان غیر مہذبانہ باتوں سے بہت اونچی ہونی چاہیے کہ اس کی زبان سے حق وصداقت ہمدری وخیر خواہی نیکی اور بھلائی کے سوا کوئی بات نہ نکلے۔رسول اللہ ؐ نے فرمایا ، جو اللہ اور روز جزا پر یقین رکھتا ہو۔ اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے ورنہ چپ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰیؑ اور حضرت ہاروٰنؑ کو فرعون کے پاس روانہ کیا۔ تو یہ نصیحت کی اس سے نرمی سے بات کرنا۔ شاید وہ غور کرے یا ڈر جاے (سورہ ط )۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہوئی ۔کہ جس شخص کو نصیحت کی جارہی ہو اور یہ مقصد ہو۔ اس نصیحت سے وہ بدل جائے۔ جب اللہ کسی گھر کے لیے بھلائی مقرر فرماتا ہے تو گھر والوں کو میٹھی زبان بولنے سے نوازتا ہے ۔
زبان نشتر بھی ہے اور مرہم بھی۔ اس کے زریعے کسی کی تکلیف کو دور بھی کیا جاسکتا ہے اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے ۔کہتے ہیں اچھا ڈاکٹر وہ ہے۔ جو اپنی دل نواز باتوں سے مریض کا آدھا مرض دور کردے ۔ ٹوٹے ہوے دلوں کو ڈھارس بندھانے والی اور مردہ دلوں میں نئی روح پھونکنے والی ہو۔ زبان ہی انسان کو فتنوں میں مبتلا کر دیتی ہے اور زبان ہی انسان کو ہر دل عزیز بناتی ہے۔ زبان ہی کے زریعے دلوں میں انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔ خوش خلقی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دوسروں کے متعلق ایک گمان رکھیں۔ کیونکہ بعض بد گمانیاں گناہ کی حد تک پہنچ جاتی ہیں۔ بے حیائی کے کاموں سے زیادہ بے حیائی کی باتیں اور فتنہ معاشرے میں پھیلنا اور لوگوں کا اس میں دلچسپی لینا معاشرے کو مسموم کر دیتا ہے ۔ بد نامی اور برائی کی باتیں ایک منہ سے دوسرے منہ تک پہنچتی اور پھیلتی ہیں۔ اس قسم کی افواہیں ہم تک پہنچے تو ہمیں چاہیے ۔کہ ہم انہیں روک دیں اور صاف صاف کہہ دیں ۔کہ ہم سب کے لیے نیک گمان رکھتے ہیں ۔یوں افواہیں دم تو ڑ دیں گی ۔
آپ ؐ نے فرمایا اچھی بات صدقہ ہے ۔جس طرح صدقہ دے کر کسی غریب کی حاجت روائی اور دل جوئی کی جاتی ہے ۔اس طرح زبان کی مٹھا س سے کسی کے زخموں پرپھاہا رکھا جاسکتا ہے ۔اور سچے دل سے اسے مدد پہنچائی جاسکتی ہے ۔
حضرماذ بن جنبل کہتے ہیں ۔جب میں نے گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے ارکاب میں پائو ںرکھا ۔اس وقت رسول اللہؐ نے جو آخری بات کہی وہ یہ تھی ۔کہ اے محاز لوگوںکے ساتھ اچھا برتاو کرنا ۔لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا۔ جس شریف آدمی سے ملو۔ اس کا خیال رکھو ۔کہ وہ تم سے ناراض نہ ہو جائے ۔بلکہ اس کا دل خوش ہو جائے اور وہ بد دل نہ ہو جائے اور تمہار ا برتاو دیکھ کر اس کا دل چایئے کہ وہ تم سے پھر ملے اور تمہاری باتیں جی لگا کر سنے ۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خوش کلامی اور شریں گفتاری جیسی عمدہ نعمت کو پانے کے لیے آسان ترکیب کیا ہو سکتی ہے ؟ رسول اللہ ؐ کی سیر ت طیبہ سے اس بارے میں بہت ہی عمدہ سبق ملتا ہے ۔کہ چہرے پر مسکراہٹ ۔شرینی ۔خندہ پیشانی چھلک رہی ہو اور دوسرے شخص کے لیے آنکھوں میں محبت ٹپک رہی ہو وہ جذبات ہوں تو خیر خواہی اور محبت کے بغض ۔کینہ ۔حسد جیسے امراض سے بچنے کی جو تصویر قرآن میںابھرتی ہے وہ ایک وقار اور سنجیدہ شخص کی ہے۔ جو اپنے اصول وعمل سے مظبوطی سے جما ہوا ہے۔ اس میںنہ تکبر ہے نہ ہی اوچھا پن۔ لغو اور فضول باتوں سے اسے دلچسپی نہیںہے۔ سب سے نرمی اور شفقت سے پیش آتا ہے۔ گفتگو میں متانت ٹھہرائو اور ذمہ داری کا احساس اطمینا ن اور سنجیدگی ہے ۔
دنیا میں ہزاروں کا م زبان سے بنتے ہیں اور زبان سے بگڑتے ہیں۔ زبان میٹھی ہوتو آدمی فاتح بن جاتا ہے۔ وہ دلوں کو جیت لیتا ہے۔ کہا جاتا ہے ۔کہ دلوںکو جیت لینا حج اکبر کے برابر کا ثواب ہے ؛زبان بگڑ جائے تو غیر تو غیر اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ نفرتوں کی خلیج ایسی حائل ہوتی ہے کہ پائے نہ پٹتی ۔سب اس سے دور بھاگتے ہیں جس کی زبان اس کے قابو میںنہ ہو۔ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے ۔وہ بدترین ادمی ہے۔ جس کی بد زبانی اور ترش روئی کی وجہ سے لو گ اس کا ساتھ چھوڑ دیں۔ اللہ نے جھنیں اونچا مقام دیا ہے۔ انہیں خاص طور پر حکم ہے ۔کہ اپنی زبان کا خیال رکھیں۔ زبان ہی گھر والوں کے دلوں کو سکون اور راحت بخشتی ہیں اور جس کسی کی سچی محبت معلوم کرنا چاہو تو اس کے غصے میںاپنے لیے استعمال ہونے والے الفاظ اور جذبات پر غور کرو۔ فصل ہو یا نسل۔ بیج بونے سے لے کر جڑیں پکڑنے تک ان پر محنت کرنا بہت ضروری ہے ۔ زرا سی بے احتیاطی سب کچھ برباد کردتی ہے۔ اس لیے والدین کے لیے یہ ضروری ہے ۔کہ وہ آداب گفتگو کا یہ بیش بہا اصول و خزانہ بچوں میں عطا کرتے رہیں ۔جو ہوا اور روشنی کی طرح سارے انسانوں کی عام میراث ہے ۔جوا یک کا میاب اور فلاح یا فتہ زندگی کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے بچے کی اخلاقیات پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ جو کہا نیاں سینہ بہ سینہ بزرگوں کی زبان بچوں تک پہنچی ہیں ۔وہ بڑی نصیحت آموز اور پر معنی ہوتی ہیں ۔یہ تمام تر قصے کہانیاں اپنے اندر سیکھنے اور سکھانے کا ایک انمول خزانہ ضرور رکھتی ہیں ۔جس میںآداب گفتگو کا پہلو بھی ہوتاہے ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز


