امریکی سپر پاور کا جنازہ اور ایران کی استقامت

 

مجتبیٰ شجاعی

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی صرف ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت بن چکی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں تک دنیا میں ایک ایسا تصور قائم رہا کہ امریکہ ایک ناقابل شکست سپر پاور ہے جس کے فیصلے عالمی سیاست کی سمت متعین کرتے ہیں۔ لیکن حالیہ واقعات نے اس تصور کو شدید چیلنج کیا ہے۔ آج جب خطے کی صورتحال کا گہرا تجزیہ کیا جاتا ہے تو بہت سے مبصرین اس نتیجے تک پہنچ رہے ہیں کہ امریکی سپر پاور کے غرور کا جنازہ اٹھ چکا ہے اور عالمی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
اس کشمکش میں ایک طرف وہ طاقتیں ہیں جو اپنی عسکری اور اقتصادی برتری کے ذریعے دنیا پر اثر انداز ہونا چاہتی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسی ریاستیں ہیں جو اپنی خود مختاری اور سیاسی آزادی کے لیے کھڑی ہیں۔ جمہوری اسلامی ایران اس دوسری صف میں نمایاں طور پر موجود ہے۔ گزشتہ برسوں میں ایران کو اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری خطرات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس کے باوجود وہ نہ صرف اپنی بقا کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے اپنی دفاعی اور سیاسی قوت کو بھی مضبوط کیا۔
ایران کے بارے میں ایک طویل عرصے تک یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ شدید پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث وہ زیادہ دیر تک اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ کسی قوم کو صرف معاشی پابندیوں کے ذریعے شکست دینا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً اس وقت جب اس قوم کے پاس داخلی استحکام، سیاسی عزم اور طویل المدتی حکمتِ عملی موجود ہو۔ ایران نے گزشتہ دہائیوں میں اپنے دفاعی نظام، سائنسی ترقی اور داخلی وسائل پر انحصار کو اس انداز میں بڑھایا کہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے نظام کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
موجودہ جنگی ماحول میں ایران کی حکمت عملی کو سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ ایران نے براہ راست اور فوری ردعمل کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس میں صبر، تدبر اور طویل المدتی منصوبہ بندی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس سطح تک ترقی دی کہ آج اس کا میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی عالمی مباحث کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ یہ دفاعی طاقت صرف عسکری قوت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو خود انحصاری اور قومی وقار کو اہمیت دیتا ہے۔
اس تنازعے کے دوران ایک اور اہم پہلو عالمی طاقتوں کی پالیسیوں میں نظر آنے والا تضاد ہے۔ امریکہ نے طویل عرصے تک خود کو عالمی امن اور جمہوریت کا محافظ قرار دیا، مگر مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی کئی جنگوں اور مداخلتوں نے اس دعوے کو متنازع بنا دیا۔ حالیہ کشیدگی میں بھی بہت سے مبصرین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکی پالیسیوں نے خطے میں استحکام کے بجائے مزید پیچیدگی پیدا کی۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں پر خود امریکہ کے اندر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور اپوزیشن رہنماؤں نے بارہا یہ سوال اٹھایا کہ ایسی پالیسیوں کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے اور اس کا نقصان کس کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
امریکہ کے اندر اس جنگ کے حوالے سے عوامی ردعمل بھی ایک قابل توجہ پہلو رہا۔ مختلف شہروں میں مظاہرے دیکھنے کو ملے جن میں عوام نے جنگی پالیسیوں پر سوال اٹھائے اور حکومت سے وضاحت طلب کی۔ امریکی اپوزیشن کے بعض حلقوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مسلسل عسکری مداخلتیں نہ صرف عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ خود امریکی معاشرے میں بھی تقسیم پیدا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا روایتی تصور تبدیل ہو رہا ہے اور عوامی رائے اب پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
اس کشمکش کا سب سے دردناک پہلو وہ انسانی المیے ہیں جو جنگ کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔ ایران پر ہونے والے بعض جارحانہ حملوں میں معصوم شہریوں کے جانی نقصان کی خبریں بھی سامنے آئیں جنہوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ خاص طور پر معصوم اسکولی طالبات کی المناک موت جیسے واقعات نے اس جنگ کے اخلاقی پہلو کو مزید نمایاں کر دیا۔اسی طرح ایران کے سپریم لیڈر جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہردل عزیز مذہبی لیڈر،ایک فقیہ،انسانیت کے عظیم علمبراد اور دہشتگردی کے مخالف رہبر و رہنما تھے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور شہید کردیا۔ ایسے واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جدید دنیا میں بھی جنگ کے دوران انسانی جان کی قدر کیوں نظر انداز ہو جاتی ہے۔
ان تمام واقعات کے دوران عالمی اداروں کا کردار بھی بحث کا موضوع بنا۔ بہت سے مبصرین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ بھی بعض مواقع پر مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ جب کسی خطے میں انسانی جانوں کا نقصان ہو اور عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو تو توقع کی جاتی ہے کہ عالمی ادارے فوری اور مؤثر اقدام کریں گے۔ مگر ان کی خاموشی یا محدود ردعمل نے عالمی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔
اسی دوران ایران کے اندر ایک اہم سیاسی پیش رفت بھی سامنے آئی جس نے ایرانی معاشرے میں ایک نئی توانائی پیدا کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کےغیر اخلاقی و غیر قانونی دھمکی کے باوجودنئے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی تقرری کو ایران کے اندر ایک تاریخی لمحے کے طور پر دیکھا گیا۔ اس تقرری کے بعد ایران میں عوامی سطح پر ایک نیا جوش اور عزم دیکھنے کو ملا۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ قیادت کی یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کو داخلی اتحاد اور مضبوط سیاسی سمت کی ضرورت تھی۔
ایران کے سیاسی نظام میں رہبر کی حیثیت انتہائی اہم ہوتی ہے کیونکہ وہ نہ صرف سیاسی رہنمائی فراہم کرتے ہیں بلکہ قومی بیانیے اور نظریاتی سمت کو بھی متعین کرتے ہیں۔ نئے رہبر کی تقرری نے ایران کے اندر اس پیغام کو مزید مضبوط کیا کہ ملک اپنی پالیسیوں اور اصولوں پر قائم رہے گا اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس خطے کی تاریخی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھا جائے۔ یہاں ہونے والی ہر جنگ صرف عسکری طاقت کا مقابلہ نہیں بلکہ نظریات، شناخت اور علاقائی مفادات کی کشمکش بھی ہوتی ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں جس انداز سے اپنے نظریاتی بیانیے کو برقرار رکھا ہے، اس نے اس کی سیاسی طاقت کو بھی تقویت دی ہے۔
عالمی سیاست میں طاقت کا تصور بھی بدل رہا ہے۔ پہلے طاقت کو صرف عسکری قوت اور اقتصادی وسائل سے جوڑا جاتا تھا، مگر آج کے دور میں نظریاتی استحکام، سفارتی مہارت اور داخلی اتحاد بھی کسی ریاست کی طاقت کے اہم عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ ایران نے ان تینوں عناصر کو ایک حد تک متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔آج جب عالمی مبصرین اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو انہیں ایک نئی حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ امریکہ کی طویل عرصے تک قائم رہنے والی بالادستی کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں اور عالمی طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں بہت سے مبصرین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ امریکی سپر پاور کے غرور کا دور ختم ہو رہا ہے اور ایک نئی عالمی ترتیب جنم لے رہی ہے۔
اس نئی عالمی ترتیب میں ایران جیسے ممالک اپنی خود مختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوطی سے سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ عالمی سیاست کو طاقت کے یکطرفہ استعمال کے بجائے انصاف اور توازن کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے۔مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشمکش کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا، یہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔ مگر ایک بات ضرور سامنے آ چکی ہے کہ اس تنازعے نے عالمی سیاست کے کئی پرانے تصورات کو بدل دیا ہے۔ امریکہ کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید، داخلی ردعمل، عالمی اداروں کی کمزوری اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی حقیقتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔
اسی پس منظر میں ایران کی استقامت اور سیاسی حکمتِ عملی کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے شدید دباؤ کے باوجود اپنے وجود کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ عالمی سیاست میں ایک بااثر کردار کے طور پر اپنی جگہ بھی بنائی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اس کشمکش کو صرف ایک جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
آخرکار تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل حالات میں بھی ثابت قدم رہتی ہیں۔ ایران کی حالیہ تاریخ اسی استقامت اور عزم کی ایک مثال کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ یہی استقامت آج اس تصور کو چیلنج کر رہی ہے کہ دنیا میں صرف ایک ہی طاقت فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ طاقت کا توازن اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور یہی تبدیلی مستقبل کی عالمی سیاست کی سمت متعین کرے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

امریکی سپر پاور کا جنازہ اور ایران کی استقامت

 

مجتبیٰ شجاعی

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی صرف ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت بن چکی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں تک دنیا میں ایک ایسا تصور قائم رہا کہ امریکہ ایک ناقابل شکست سپر پاور ہے جس کے فیصلے عالمی سیاست کی سمت متعین کرتے ہیں۔ لیکن حالیہ واقعات نے اس تصور کو شدید چیلنج کیا ہے۔ آج جب خطے کی صورتحال کا گہرا تجزیہ کیا جاتا ہے تو بہت سے مبصرین اس نتیجے تک پہنچ رہے ہیں کہ امریکی سپر پاور کے غرور کا جنازہ اٹھ چکا ہے اور عالمی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
اس کشمکش میں ایک طرف وہ طاقتیں ہیں جو اپنی عسکری اور اقتصادی برتری کے ذریعے دنیا پر اثر انداز ہونا چاہتی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسی ریاستیں ہیں جو اپنی خود مختاری اور سیاسی آزادی کے لیے کھڑی ہیں۔ جمہوری اسلامی ایران اس دوسری صف میں نمایاں طور پر موجود ہے۔ گزشتہ برسوں میں ایران کو اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری خطرات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس کے باوجود وہ نہ صرف اپنی بقا کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے اپنی دفاعی اور سیاسی قوت کو بھی مضبوط کیا۔
ایران کے بارے میں ایک طویل عرصے تک یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ شدید پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث وہ زیادہ دیر تک اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ کسی قوم کو صرف معاشی پابندیوں کے ذریعے شکست دینا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً اس وقت جب اس قوم کے پاس داخلی استحکام، سیاسی عزم اور طویل المدتی حکمتِ عملی موجود ہو۔ ایران نے گزشتہ دہائیوں میں اپنے دفاعی نظام، سائنسی ترقی اور داخلی وسائل پر انحصار کو اس انداز میں بڑھایا کہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے نظام کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
موجودہ جنگی ماحول میں ایران کی حکمت عملی کو سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ ایران نے براہ راست اور فوری ردعمل کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس میں صبر، تدبر اور طویل المدتی منصوبہ بندی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس سطح تک ترقی دی کہ آج اس کا میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی عالمی مباحث کا اہم موضوع بن چکی ہے۔ یہ دفاعی طاقت صرف عسکری قوت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو خود انحصاری اور قومی وقار کو اہمیت دیتا ہے۔
اس تنازعے کے دوران ایک اور اہم پہلو عالمی طاقتوں کی پالیسیوں میں نظر آنے والا تضاد ہے۔ امریکہ نے طویل عرصے تک خود کو عالمی امن اور جمہوریت کا محافظ قرار دیا، مگر مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی کئی جنگوں اور مداخلتوں نے اس دعوے کو متنازع بنا دیا۔ حالیہ کشیدگی میں بھی بہت سے مبصرین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکی پالیسیوں نے خطے میں استحکام کے بجائے مزید پیچیدگی پیدا کی۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں پر خود امریکہ کے اندر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور اپوزیشن رہنماؤں نے بارہا یہ سوال اٹھایا کہ ایسی پالیسیوں کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے اور اس کا نقصان کس کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
امریکہ کے اندر اس جنگ کے حوالے سے عوامی ردعمل بھی ایک قابل توجہ پہلو رہا۔ مختلف شہروں میں مظاہرے دیکھنے کو ملے جن میں عوام نے جنگی پالیسیوں پر سوال اٹھائے اور حکومت سے وضاحت طلب کی۔ امریکی اپوزیشن کے بعض حلقوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مسلسل عسکری مداخلتیں نہ صرف عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ خود امریکی معاشرے میں بھی تقسیم پیدا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا روایتی تصور تبدیل ہو رہا ہے اور عوامی رائے اب پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
اس کشمکش کا سب سے دردناک پہلو وہ انسانی المیے ہیں جو جنگ کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔ ایران پر ہونے والے بعض جارحانہ حملوں میں معصوم شہریوں کے جانی نقصان کی خبریں بھی سامنے آئیں جنہوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ خاص طور پر معصوم اسکولی طالبات کی المناک موت جیسے واقعات نے اس جنگ کے اخلاقی پہلو کو مزید نمایاں کر دیا۔اسی طرح ایران کے سپریم لیڈر جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہردل عزیز مذہبی لیڈر،ایک فقیہ،انسانیت کے عظیم علمبراد اور دہشتگردی کے مخالف رہبر و رہنما تھے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور شہید کردیا۔ ایسے واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جدید دنیا میں بھی جنگ کے دوران انسانی جان کی قدر کیوں نظر انداز ہو جاتی ہے۔
ان تمام واقعات کے دوران عالمی اداروں کا کردار بھی بحث کا موضوع بنا۔ بہت سے مبصرین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ بھی بعض مواقع پر مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ جب کسی خطے میں انسانی جانوں کا نقصان ہو اور عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو تو توقع کی جاتی ہے کہ عالمی ادارے فوری اور مؤثر اقدام کریں گے۔ مگر ان کی خاموشی یا محدود ردعمل نے عالمی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔
اسی دوران ایران کے اندر ایک اہم سیاسی پیش رفت بھی سامنے آئی جس نے ایرانی معاشرے میں ایک نئی توانائی پیدا کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کےغیر اخلاقی و غیر قانونی دھمکی کے باوجودنئے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی تقرری کو ایران کے اندر ایک تاریخی لمحے کے طور پر دیکھا گیا۔ اس تقرری کے بعد ایران میں عوامی سطح پر ایک نیا جوش اور عزم دیکھنے کو ملا۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ قیادت کی یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کو داخلی اتحاد اور مضبوط سیاسی سمت کی ضرورت تھی۔
ایران کے سیاسی نظام میں رہبر کی حیثیت انتہائی اہم ہوتی ہے کیونکہ وہ نہ صرف سیاسی رہنمائی فراہم کرتے ہیں بلکہ قومی بیانیے اور نظریاتی سمت کو بھی متعین کرتے ہیں۔ نئے رہبر کی تقرری نے ایران کے اندر اس پیغام کو مزید مضبوط کیا کہ ملک اپنی پالیسیوں اور اصولوں پر قائم رہے گا اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس خطے کی تاریخی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھا جائے۔ یہاں ہونے والی ہر جنگ صرف عسکری طاقت کا مقابلہ نہیں بلکہ نظریات، شناخت اور علاقائی مفادات کی کشمکش بھی ہوتی ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں جس انداز سے اپنے نظریاتی بیانیے کو برقرار رکھا ہے، اس نے اس کی سیاسی طاقت کو بھی تقویت دی ہے۔
عالمی سیاست میں طاقت کا تصور بھی بدل رہا ہے۔ پہلے طاقت کو صرف عسکری قوت اور اقتصادی وسائل سے جوڑا جاتا تھا، مگر آج کے دور میں نظریاتی استحکام، سفارتی مہارت اور داخلی اتحاد بھی کسی ریاست کی طاقت کے اہم عناصر سمجھے جاتے ہیں۔ ایران نے ان تینوں عناصر کو ایک حد تک متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔آج جب عالمی مبصرین اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو انہیں ایک نئی حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ امریکہ کی طویل عرصے تک قائم رہنے والی بالادستی کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں اور عالمی طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں بہت سے مبصرین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ امریکی سپر پاور کے غرور کا دور ختم ہو رہا ہے اور ایک نئی عالمی ترتیب جنم لے رہی ہے۔
اس نئی عالمی ترتیب میں ایران جیسے ممالک اپنی خود مختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوطی سے سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ عالمی سیاست کو طاقت کے یکطرفہ استعمال کے بجائے انصاف اور توازن کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے۔مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشمکش کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا، یہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔ مگر ایک بات ضرور سامنے آ چکی ہے کہ اس تنازعے نے عالمی سیاست کے کئی پرانے تصورات کو بدل دیا ہے۔ امریکہ کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید، داخلی ردعمل، عالمی اداروں کی کمزوری اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی حقیقتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔
اسی پس منظر میں ایران کی استقامت اور سیاسی حکمتِ عملی کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے شدید دباؤ کے باوجود اپنے وجود کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ عالمی سیاست میں ایک بااثر کردار کے طور پر اپنی جگہ بھی بنائی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اس کشمکش کو صرف ایک جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
آخرکار تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل حالات میں بھی ثابت قدم رہتی ہیں۔ ایران کی حالیہ تاریخ اسی استقامت اور عزم کی ایک مثال کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ یہی استقامت آج اس تصور کو چیلنج کر رہی ہے کہ دنیا میں صرف ایک ہی طاقت فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ طاقت کا توازن اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور یہی تبدیلی مستقبل کی عالمی سیاست کی سمت متعین کرے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں