سہیل خان
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو اکثر صرف سفارتی زاویے سے دیکھا جاتا ہے، لیکن ان تعلقات کو سمجھنے کا زیادہ واضح طریقہ یہ ہے کہ ان کے عملی نتائج پر نظر ڈالی جائے۔ یعنی یہ تعاون کسانوں، شہروں، اسٹارٹ اپس اور سکیورٹی اداروں تک کیا حقیقی فائدہ پہنچا رہا ہے۔
آغاز زراعت سے کرتے ہیں، جہاں نتائج زمین پر واضح نظر آتے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان Indo–Israel Agriculture Project کے تحت زرعی تعاون کا ایک جامع ماڈل قائم کیا گیا ہے، جس کی بنیاد علم کی منتقلی، عملی مظاہروں اور جدید زرعی تکنیکوں کے فروغ پر رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے کا اہم حصہ Centres of Excellence (CoEs) کا ایک نیٹ ورک ہے، جو دراصل جدید زرعی نمونہ فارم ہیں جہاں اسرائیلی زرعی ٹیکنالوجی کو مقامی موسمی حالات اور مٹی کے مطابق ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے۔
بھارتی سرکاری معلومات کے مطابق ملک کی 12 ریاستوں میں 29 فعال سینٹرز آف ایکسیلینس قائم ہیں۔ ان مراکز میں سبزیوں، پھلوں، باغبانی، ڈرپ اریگیشن، گرین ہاؤس فارمنگ اور جدید بیجوں کی کاشت جیسے شعبوں میں عملی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد صرف ٹیکنالوجی متعارف کرانا نہیں بلکہ کسانوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ ان طریقوں کو اپنے کھیتوں میں آزما کر بہتر پیداوار حاصل کرسکیں۔
یہ مراکز عملی تربیتی مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہاں کسانوں کو فصلوں کے مطابق بہتر زرعی طریقہ کار، protected cultivation، جدید گرین ہاؤس نظام اور efficient irrigation جیسے طریقوں سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ جب کسان دیکھتے ہیں کہ کوئی طریقہ ان کے اپنے جیسے موسم اور زمین میں کامیابی سے کام کر رہا ہے تو اسے اپنانا آسان ہو جاتا ہے اور خطرہ بھی کم محسوس ہوتا ہے۔
شہری زندگی سے جڑا دوسرا اہم شعبہ آبی تحفظ ہے۔
بھارت کو پانی کی قلت کا سامنا صرف دیہی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ بڑے شہروں اور صنعتی علاقوں میں بھی ہے۔ اسیلئے بھارت۔اسرائیل تعاون میں پانی کے مؤثر استعمال، مائیکرو اریگیشن، گندے پانی کی ری سائیکلنگ اور سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے (desalination) جیسے شعبوں پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
یہ محض نظری باتیں نہیں بلکہ عملی منصوبے ہیں۔ مثال کے طور پر ساحلی شہروں میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کےلئے سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس پر کام کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وشاکھاپٹنم (Vizag) میں 100 ایم ایل ڈی (ملین لیٹر یومیہ) صلاحیت کا ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے جس میں اسرائیلی کمپنی IDE Technologies تکنیکی شراکت دار کے طور پر شامل ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو گندے پانی کی ری سائیکلنگ میں انتہائی ترقی یافتہ نظام رکھتے ہیں۔ اسرائیل اپنی زرعی ضروریات کےلئے تقریباً 80 سے 85 فیصد ری سائیکل شدہ پانی استعمال کرتا ہے۔ اسی تجربے سے فائدہ اٹھانے کےلئے بھارت کے مختلف شہروں میں پانی کے بہتر انتظام، صنعتی پانی کی علیحدہ فراہمی اور شہری پانی کے دباؤ کو کم کرنے جیسے ماڈلز پر غور کیا جا رہا ہے۔
تیسرا اہم ستون اختراع (Innovation) ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی شراکت داری روزگار بھی پیدا کرتی ہے۔
بھارت اور اسرائیل نے مشترکہ صنعتی تحقیق کےلئے Indo–Israel Industrial R&D and Technological Innovation Fund (I4F) قائم کیا ہے۔ یہ فنڈ بھارت کے Department of Science and Technology اور اسرائیل کی Israel Innovation Authority کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے۔
اس فنڈ کا حجم تقریباً 40 ملین ڈالر بتایا جاتا ہے اور اس کا مقصد دونوں ممالک کی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کے درمیان مشترکہ تحقیق، نئی ٹیکنالوجی کی تیاری اور اس کی تجارتی شکل میں منتقلی کو فروغ دینا ہے۔
بھارت کی جانب سے Technology Development Board (TDB) جیسے ادارے اس تعاون کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارہ مشترکہ منصوبوں کےلئے تجاویز طلب کرتا ہے، کمپنیوں کو شراکت دار تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے اور پائلٹ پروجیکٹس کی معاونت کرتا ہے تاکہ تعاون صرف کانفرنسوں اور سرکاری ملاقاتوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی منصوبوں کی صورت اختیار کرے۔
آخر میں ایک ایسا شعبہ بھی ہے جو براہ راست نہیں مگر بالواسطہ طور پر شہریوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، اور وہ ہے سکیورٹی تعاون۔
اس تعاون کے ذریعے دفاعی اور سکیورٹی اداروں کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا نتیجہ بہتر حفاظتی نظام اور مضبوط ادارہ جاتی تیاری کی صورت میں نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر Barak-8 / LR-SAM میزائل دفاعی نظام کو اکثر بھارت۔اسرائیل مشترکہ دفاعی ترقی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اسی طرح عالمی میڈیا نے حالیہ برسوں میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ دفاعی پیداوار میں بھارت اور اسرائیل کی شراکت داری مقامی صنعتی صلاحیت کو تیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مثال کے طور پر رپورٹس میں ایک ISR (Intelligence, Surveillance, Reconnaissance) ڈرون پروگرام کا ذکر کیا گیا ہے جو اسرائیلی کمپنی Elbit Systems کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے اور جسے بھارت کی دفاعی مقامی پیداوار بڑھانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہانی محض سفارتی یا نظریاتی نہیں بلکہ عملی تعاون کی ہے۔
اس تعاون کے ذریعے:
٭کسانوں کو جدید زرعی طریقوں اور آبپاشی کی ٹیکنالوجی تک رسائی ملتی ہے
٭شہروں کو پانی کے بہتر انتظام، ری سائیکلنگ اور ڈی سیلینیشن جیسے حل ملتے ہیں
٭اسٹارٹ اپس اور صنعت کو مشترکہ تحقیق اور فنڈنگ کے مواقع حاصل ہوتے ہیں
٭اور سکیورٹی اداروں کی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے
اسیلئے بھارت۔اسرائیل تعلقات کو سمجھنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انہیں شہری نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، یعنی وہ فوائد جو عام لوگ دیکھ سکتے ہیں، استعمال کر سکتے ہیں اور جن سے عملی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


