
ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب کسی کو لگ جائے تو اسے اندر ہی اندر کھوکھلا بنا کر رکھ دیتی ہے۔ اگر یہی حسد آپ کے ساتھ ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ ان لوگوں سے بہتر ہیں جو آپ سے حسد کرتے ہیں۔
ہمارا ایک بیس بائیس سال پرانا شاگرد، مزاج کے اعتبار سے بیرون بین (Extrovert) لوگوں کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ ہمیشہ ٹھاٹ باٹھ کے انداز میں، ہشاش بشاش زندگی گزارتا رہا ہے۔ کبھی ہمیں کوئی مشکل پیش آئی تو اس نے دل و جان لگا کر حقِ دوستی ادا کیا۔ یوں سمجھیں کہ اگر ہمارے پاؤں میں کانٹا چبھتا تو وہ پلک جھپکتے ہی اسے نکال دیتا۔ ہماری قابض شدہ زمین اور جائیداد چھڑا کر محفوظ جگہ منتقل کر دی اور خود اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
وہ اتنا خوش نصیب اور خوش حال ہے کہ کئی خاندان اس کے ذریعے پل رہے ہیں۔ کبھی اس کے ماتھے پر ناگواری کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اگر ہم بلا خوف و خطر پاؤں پھیلا کر سوجاتے ہیں تو اسی کی بدولت۔ اللہ نے بھی شاید اسے اسی کام کے لئے چنا ہے۔ ہم بھی اللہ کی رضا پر راضی، اسے گھر کے ہر مسئلے کو حل کرنے کا مختار بنا کر گہری نیند سو رہے ہیں۔
لیکن وہ نادان، موجودہ دور کے معاشرے میں پھیلے حسد اور نظرِ بد سے بے خبر، اپنے ہی گن گاتا رہتا ہے۔ چونکہ ہم پیشے سے استاد ٹھہرے ہیں اور شاگرد کے سراپا کا جائزہ لینے میں ماہر ہیں، اس لئے بارہا اسے سمجھایا کہ دکھاوے سے پرہیز کرو۔ معاشرہ تہذیب یافتہ نہیں ہے۔ سب ذات اور فرقے میں بٹے ہوئے ہیں۔ دوسروں کی رنگ رلیاں اور عیش و عشرت دیکھ کر حسد اور نظرِ بد کی آگ میں اندر ہی اندر جل رہے ہیں، لہٰذا ان سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
لیکن وہ نادان، موجودہ زمانے کا فرد، نظرِ بد اور حسد کو دیومالائی قصہ سمجھ کر ہماری باتوں کو سنی اَن سنی کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ حسد اور نظرِ بد کے بھنور میں پھنس کر ہاتھ پاؤں مارتا اور کنارے پر آنے کی جدوجہد کرتا رہتا ہے۔
اس میں بھی اس کے لئے کئی فائدے ہیں:
(1) اس کے گناہوں کا کفارہ
(2) آئندہ پھونک پھونک کر قدم بڑھانے میں مہارت
(3) سادگی کو حد سے زیادہ ترجیح دینا
(4) اللہ اور رسول ﷺ کے قریب رہنا
(5) آئندہ ایسے افراد سے باخبر رہنا جو سامنے خوشامدی اور پیٹھ پیچھے تھالی میں چھید کرنے پر بضد ہوتے ہیں۔
قصہ مختصر، اس دوران اگر کسی کا نقصان ہوا تو وہ اس کے اپنے اہل و عیال کے ساتھ میرا بھی ہوا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے شاگرد کو حسد اور نظرِ بد کے بھنور سے نجات دے۔
کل ہی ہم خبرگیری کے لئے جب اس کے گھر داخل ہوئے تو وہ ہشاش بشاش انداز میں اپنے اہل و عیال کو اپنی باتوں سے محظوظ کر رہا تھا۔ وہ کنارے تک بھی پہنچ چکا ہے۔ اس کی رفیقۂ حیات اور اس کی اولادوں کے چہروں پر ایک مسکراہٹ دیکھی۔
ایک دل آویز مسکراہٹ
اور ایک مجبور مسکراہٹ


