خط

محمد شاکر لبانہ

ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس میں اس وقت رات کے 11 بج رہے تھے ۔میں اس وقت آپنے چھوٹے سے دفتری کمرے میں موجود تھا(میں نے اپنے فلیٹ میں عموماً ایک چھوٹا سا دفتری کمرہ بنا رکھا تھا جس میں بیٹھ کر آفس کی فائلوں کو اسٹڈی کرتا تھا تاکہ آفس میں پریزنٹیشن ،میٹنگ اور اسائنمنٹ میں مشکل پیش نہ آئے )
میرے ہاتھ میں ایک خط تھا جس پہ لکھی تحریر میرے پاؤں تلے سے زمین کیھچ لی تھی ۔میں نے بامشکل خود کو سنبھالا تھا میرے جسم میں لرزش تاری ہوگئی تھی ۔میں کرسی پر جیسے ڈھے سا گیا تھا ۔
خط میں لکھی ہوئی تحریر یہ تھی:
” فاضل دوست اشرف ،
کتنے عرصے سے تم سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے پر نہ تمہارا فون نمبر اور نہ ہی تمہارا کوئی ایڈریس حاصل ہوسکا تھا۔ ایک دن ڈنمارک کی مشہور کمپنی”مارسک ” کے اشتہار میں تمہاری تصویر اور تمہارا نام چسپاں تھا تو فوراً پاکستان ” م بی سی” کے ذریعے ڈنمارک کی کمپنی ” مارسک” رابطے کر کے تمہارا لینڈ لائن نمبر اور ایڈریس حاصل کیا۔
تمہارے لینڈ لائن نمبر سے رابطہ متوقع ممکن نہیں ہو پایا شاید تم منہمک تھے اپنے کاروبار میں ،اس لئے ڈاک کے ذریعے خط ارسال کر رہا ہوں امید آپ تک ترسیل ممکن ہو پائے گی۔
خبر تھوڑی تکلیف مکدر مزاج ہے امید ہے خود کو سنبھال پاؤ گے کہ تمہارے والد محترم کافی عرصہ سے مرض میں مبتلا تھے ۔تمہاری جدائی کا غم انہیں اندر ہی اندر جیسے گہن کی طرح چاٹ رہا تھا ان کو ایسا مرض لاحق ہوا جس کا علاج اس شہر میں ہونا ممکن نہیں تھا۔تمہاری والدہ بھی بوڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی ۔ان کے لئے مشکل تھا تمہارے والد کو ایک شہر سے دوسرے شہر لئے پھرنا کافی دقت طلب تھا ۔اخر کار بروقت علاج اور صیح خدمت کے معیاثر نہ ہونے کی وجہ سے تمہارے والد محترم اس دنیا کو خیر آباد کہہ کر چل دیے ۔یہیں صدمہ تمہاری والدہ محترمہ کے لئے صدمہ جاں گسل ثابت ہوا اور ان کے پیچھے اس دُنیا سے سدھار گئیں ۔خیر! جب تک میرا خط آپ تک پہنچے دونوں کو خاک نصیب ہوچکی ہوگی ۔اگر تمہارے دل میں تمہارے والد ین کے لئے تھوڑی سے بھی محبت بچی ہو تو ان کو سپرد خاک کرنے کے لئے فوراً چلے آنا ۔
آپ کا فاضل دوست اصغر ”
خط پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر” گجرانوالہ ” سے ارسل کیا گیا تھا ۔خط پر تاریک 11 مئ کی تھی ۔اور آج تاریک 18 مئ تھی ۔یعنی خط کو پوسٹ کیے ایک ہفتہ گزر چکا ہے ۔
ان دنوں میں شہر سے باہر” مارسک ” کمپنی کے ایک خصوصی ” ڈیل” کی وجہ سے گیا ہوا تھا ۔میری واپسی آ ج ہی ممکن ہو پائی تھی ۔
خط پڑھنے کے بعد میری دنیا تو جیسے تہہ وبالا ہو چکی تھی ۔ان آنکھوں کے سامنے ان شفیق اور مہربان چہرے گھومنے لگے تھے ۔میری آنکھوں میں ماضی کی دھندلاہٹ اترنے لگی ۔
” مما! میں یہ سبزی نہیں کھاؤں گا ”
"پاپا !مجھے نئی سائیکل چاہیے ”
میرے ضدی پن سے میرے ماں باپ واقف تھے ۔انہوں نے مجھے کبھی کسی چیز کے لئے نہیں ٹوکا ہمیشہ سے میرے منہ سے نکلی ہوئی بات کو پورا کرتے ۔
میں کھانے کی ٹیبل پر کسی بادشاہ کے تخت کی طرح بیٹھتا اور میری ماں میرے لئے کھانا ایسے لگتی جیسے وہ شاہی کنیز ہو۔
” مما جلدی سے کھانہ لگا دو مجھے کوچنگ کے لئے دیر ہو رہی ہے” اچھا بیٹا ! آرام سے کھانا کھاؤ ،جلدی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ” ماں کی ممتا بھری آواز کانوں میں منتقل ہوتی۔
پاپا کو میں ہمیشہ اپنے مشوروں کو مانتے ہوئے دیکھا میری بات کا کبھی غصہ نہیں کیا ۔ہمیشہ مسکرا دیتے تھے۔جوان اولاد کی قدر کرنا جانتے تھے وہ ۔میری تعلیم کے لئے انہوں نے دن رات محنت کی ۔اچھے سے اچھے سکول ،کالج میں داخلہ دلوایا ۔
پر میرے اندر جیسے ایک خود غرضی کا بیج پنپ رہا تھا ۔مجھے ان کے دکھ تکلیف کا کبھی احساس ہی نہ ہوا۔ان کا میرے لئے کچھ کرنا اپنا حق سمجھتا تھا ۔میں نے ہمیشہ ان سے اپنی بات منوائی ۔انہوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کر کے مجھے تعلیم دلوائی ۔
میری بی- ایس مکمل ہوتے ہی مجھے اے گریڈ کی وجہ سے بیرون ملک ڈنمارک کے بڑے کالج میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے کا سکالرشپ ملا تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کی بڑی کمپنی” مارسک ” میں ملازمت اختیار کرنے کا موقع ملا۔میری آنکھوں میں ڈنمارک جیسے ملک میں رہائش اختیار کرنا جیسا ایک سپنا جیسا لگ رہا ۔میں خود کو خوش نصیب سمجھنے لگا۔حلانکہ کے مجھے پاکستان کی کافی ساری کمپنیوں میں جاب کرنے کی آفر ہوئی تھی ۔لیکن میں نے سب آفرز کو ٹھکرا دیا تھا ۔ماں باپ نے مجھے بہت سمجھایا کہ بیرون ملک جانے سے بہتر ہے ادھر ہی نوکری کرلو۔پر میں ان کی سننے والا کہاں تھا۔میرے اندر خود غرضی کا جو بیج پنپ رہا تھا وہ اب ایک ننھے پودے میں تبدیل ہو چکا تھا ۔ماں باپ کو میری ضد کے سامنے ہار ماننی ہی پڑی۔
ماں کی اداس آنکھیں جو مجھے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔باپ کے وہ لرزتے ہاتھ جو ایئر پورٹ پر مجھے الوداع کہہ رہے تھے۔
اب وہ مجھے بے تحاشا یاد آ رہے تھے ۔
شروع کے کچھ سالوں میں میرا رابطہ ماں باپ سے رہا تھا موبائل فون کے ذریعے سے ۔لیکن جب میں ملازمت اختیار کی کمپنی میں تو دن رات محنت کی اور پیچھے مڑکر بھی نہیں دیکھا ۔دن رات کی محنت اور میری لگن نے مجھے کمیابی عطا کی اور میں بہت جلد مینجر کے پوسٹ پہ آگیا ۔
پھر میری زندگی میں جویریہ داخل ہوئی ۔جویریہ بھی اسی کمپنی میں سی- ای -او کی سکریٹری کے عہدے پر فائز تھی۔میری کمیابی نے اسے میری طرف ملتفت کیا۔
مجھے بھی جویریہ پسند آئی تھی ۔کچھ ہی مہینوں میں ہم ایک دوسرے کے ہوگے۔پھر ہماری زندگی میں ایک ننھی سی جان کا اضافہ ہوا۔ہم دونوں نے بیٹے کا نام اشر رکھا۔
سال یوں ہی گزر گئے ۔میں گھر کا رابطہ نمبر بھی بھول چکا تھا ۔اور نہ ہی کبھی ضرورت پڑی کال کرنے کی ۔
آج ملنے والے اس خط کو پڑھ کر ماضی میں دھندلائے چہروں کو واپس ذہن میں اجاگر کر دیا تھا ۔وہ شفیق و مہربان چہرے جن کا میں متع حیات تھا۔دل سے ایک ہوق سی اٹھی ۔کس کو سناؤں حال دل یہاں سبھی تو مصروف یہاں ۔
” مجھے مت جگانا اشرف! میری کل صبح 6 بجے میٹنگ ہے ۔اس لئے میں جلدی سونے جا رہی ہوں” جویریہ یہ بول کر اپنے کمرے کی طرف چل دی تھی ۔اس نے میرا جواب بھی سننا گوارا نہیں کیا تھا ۔اس کے لئے جیسے اس کی نوکری اہم تھی ۔
جبکہ اشر ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔وہ دس سال کا ہوچکا تھا ۔رات دیر تک گھر آنا اس کا معمول بن گیا تھا ۔شہر کے اوباش قسم کے لڑکے اس کے دوست تھے ۔ہماری نصیحتوں پر کبھی کان نہیں دھرتا تھا ۔کبھی میرے اندر بھی ایسی ہی خودغرضی تھی ۔شاید ! مجھ سے یہ اس میں بھی منتقل ہوئی ہے۔مکافات کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن وہ اس طرح سے میرے سامنے آئے گا سوچا نہیں تھا۔
صبح پانچ بجے جویریہ نے ٹیبل پر کھانا لگا دیا تھا اور خود تیار ہو کر ناشتہ کرنے بیٹھی تھی ۔میں رات بھر سو نہیں سکا تھا۔انکھیں سرخ تھی۔جویریہ نے میری طرف کوئی دھیان نہیں دیا ۔” میرے ماں باپ اب اس دنیا میں نہیں رہے” میں با مشکل یہ لفظ ادا کیے تھے ۔اواز گلے میں رند گئی تھی ۔جویریہ ایک پل کے لئے ٹھٹھکی تھی لیکن وہ دوبارا ناشتے میں منہمک ہوگئی تھی ۔
” میں آج پاکستان واپس جارہا ہوں” میں نے اپنا فیصلہ سنایا ۔”
میری بات سن کر جویریہ بولی :” اشرف پلیز میں چھٹی کرنے سے بلکل بھی متمین نہیں ہوں اور اشر کو ساتھ لے جانے کی سوچنا بھی مت جانتے ہونا کتنے مہنگے سکول میں ایڈمیشن دلوا رکھا ہے اس کو ” جویریہ یہ بول کر کرسی سے اٹھ کر آفس کے لئے گھر سے نکل گئی ۔اس نے ایک لفظ بھی مجھ سے اظہار تعزیت نہیں کیا تھا ۔بس اپنا فیصلہ سنا کر وہاں سے چلی گئی ۔
میں نے پاکستان جانے کے لئے ان لائن ٹیکٹ بک کرائی ۔تقریبا 6 گھنٹے کے ہوائی سفر سے ہو کر دوپہر تک میں پاکستان کے ائیرپورٹ پر اتر چکا تھا ۔اپنے شہر گجرانوالہ جانے کے لئے ٹیکسی کروائی اور اس میں سوار ہوگیا۔
2 گھنٹے کی مسافت کے بعد میں گجرانوالہ پہنچ گیا ۔یہاں پہنچ کر دیکھا تو کچھ بھی نہیں بدلا تھا سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا 15 سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا ہاں کچھ آبادی میں اضافہ ضرور ہوا تھا ۔
راستے میں دوست اصغر کا گھر پڑتا تھا ۔پہلے اس سے ملا ۔اس نے میرے گلے لگ کر ڈھیر سارے گلے شکوے کیے ۔ میری آنکھوں میں آنسوں رواں ہوگئے تھے ۔اس نے بتایا کہ تمہیں آنے میں دیر ہوچکی ہے تمہارے ماں باپ کو سپرد خاک کردیا گیا ہے شہر کے نزدیکی قبرستان میں ۔
میں نے اس سے اپنے گھر کی چابی لی اور گھر کی طرف چل دیا ۔میں نے سوچا پہلے گھر سے ہو کر پھر قبرستان کی راہ لوں گا ۔
گھر کے دروازے کو جیسے ہی کھولا ۔ایک ہوا کا جھونکا سا محسوس ہوا تھا جیسے کوئی مجھ سے زور سے گلے لگ گیا ہو۔گھر میں قدم رکھا تو ماضی سے یادوں کی یلغار نکلی ۔
گر کے مقفل دریچے جیسے بول رہے ہوں
گھر آجا ویے پردیسی، تیری یاد وچ اکھیاں ترسن
کمرے کا دروازا کھولا تو ایک مخصوص قسم کی خوشبو میری سانسوں سے ٹکرائی یہ خوشبو میری ماں باپ کے وجود سے اٹھتی تھی ہمیشہ ۔یہ انہیں کا کمرہ تھا۔
ساتھ پڑی ٹیبل پر میری نظر پڑی جہاں بہت سارے خط پڑے ہوئے تھے ۔ان خطوں سے اٹھتی خوشبو بتا رہی تھی کہ یہ خط میرے ماں باپ کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے ہیں ۔
ایک خط کو اٹھا کر دیکھا جس پر تاریک 1 مئ کی تھی ۔یعنی خط اسی مہینے کا تھا ۔
میں خط کو کھول کر دیکھا خط پر تحریر جیسے کانپتے ہاتھوں سے لکھی گئی ہو،
میں پڑھنے لگا ، لکھا تھا:
” پیارے اشرف! کبھی میرا یہ خط پتہ نہیں تم تک پہنچے گا بھی یا نہیں جیسے پہلے کے خط تمہارا پتہ نہ ملنے پر واپس لوٹ آئے ۔
اس بار امید ہے یہ خط تم پہنچ جائے گا
اگر تمہیں میرا خط ملے تو فوراً چلے آنا بہت عرصہ ہوگیا ہے تمہارا چہرہ دیکھے ہوئے ۔اب تو ان بوڑھی آنکھوں میں تمہارا عکس دھندلاتا جارہا ہے ۔ایک بار تو اپنا چہرہ دیکھا جاؤ اب ان سانسوں کا بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے نہ جانے کب ساتھ چھوڑ جائیں ۔کیا تمہیں ہماری یاد نہیں آتی ؟ کیا دل نہیں کرتا ہم سے ملنے کا؟ کس جرم کی سزا دے رہے ہو ہمیں ؟ …
میں اتنا ہی پڑھ سکا تھا میری آنکھیں بھر گئی تھی ان سے آنسو گر کر خط کی تحریر کو بھیگو رہے تھے ،میری ٹانگوں میں اب جان نہیں بچی تھی میرا دم گھٹنے لگا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے دل پہ بوجھ بڑھنے لگا ہو۔ جیسے کوئی بھاری پتھر رکھ دیا گیا ہو سینے پر۔
میری آنکھوں کے سامنے جیسے یہ کمرہ گھومنے لگا ہو ۔اس کے بعد میری آنکھوں کے سامنے گہرا تاریک اندھیرا چھانے لگا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

PDP کے سیاسی تجربے نے جموں و کشمیرسب کچھ چھین لیا/ رمضان

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور رکنِ...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

PDP کے سیاسی تجربے نے جموں و کشمیرسب کچھ چھین لیا/ رمضان

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور رکنِ...

خط

محمد شاکر لبانہ

ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس میں اس وقت رات کے 11 بج رہے تھے ۔میں اس وقت آپنے چھوٹے سے دفتری کمرے میں موجود تھا(میں نے اپنے فلیٹ میں عموماً ایک چھوٹا سا دفتری کمرہ بنا رکھا تھا جس میں بیٹھ کر آفس کی فائلوں کو اسٹڈی کرتا تھا تاکہ آفس میں پریزنٹیشن ،میٹنگ اور اسائنمنٹ میں مشکل پیش نہ آئے )
میرے ہاتھ میں ایک خط تھا جس پہ لکھی تحریر میرے پاؤں تلے سے زمین کیھچ لی تھی ۔میں نے بامشکل خود کو سنبھالا تھا میرے جسم میں لرزش تاری ہوگئی تھی ۔میں کرسی پر جیسے ڈھے سا گیا تھا ۔
خط میں لکھی ہوئی تحریر یہ تھی:
” فاضل دوست اشرف ،
کتنے عرصے سے تم سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے پر نہ تمہارا فون نمبر اور نہ ہی تمہارا کوئی ایڈریس حاصل ہوسکا تھا۔ ایک دن ڈنمارک کی مشہور کمپنی”مارسک ” کے اشتہار میں تمہاری تصویر اور تمہارا نام چسپاں تھا تو فوراً پاکستان ” م بی سی” کے ذریعے ڈنمارک کی کمپنی ” مارسک” رابطے کر کے تمہارا لینڈ لائن نمبر اور ایڈریس حاصل کیا۔
تمہارے لینڈ لائن نمبر سے رابطہ متوقع ممکن نہیں ہو پایا شاید تم منہمک تھے اپنے کاروبار میں ،اس لئے ڈاک کے ذریعے خط ارسال کر رہا ہوں امید آپ تک ترسیل ممکن ہو پائے گی۔
خبر تھوڑی تکلیف مکدر مزاج ہے امید ہے خود کو سنبھال پاؤ گے کہ تمہارے والد محترم کافی عرصہ سے مرض میں مبتلا تھے ۔تمہاری جدائی کا غم انہیں اندر ہی اندر جیسے گہن کی طرح چاٹ رہا تھا ان کو ایسا مرض لاحق ہوا جس کا علاج اس شہر میں ہونا ممکن نہیں تھا۔تمہاری والدہ بھی بوڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی ۔ان کے لئے مشکل تھا تمہارے والد کو ایک شہر سے دوسرے شہر لئے پھرنا کافی دقت طلب تھا ۔اخر کار بروقت علاج اور صیح خدمت کے معیاثر نہ ہونے کی وجہ سے تمہارے والد محترم اس دنیا کو خیر آباد کہہ کر چل دیے ۔یہیں صدمہ تمہاری والدہ محترمہ کے لئے صدمہ جاں گسل ثابت ہوا اور ان کے پیچھے اس دُنیا سے سدھار گئیں ۔خیر! جب تک میرا خط آپ تک پہنچے دونوں کو خاک نصیب ہوچکی ہوگی ۔اگر تمہارے دل میں تمہارے والد ین کے لئے تھوڑی سے بھی محبت بچی ہو تو ان کو سپرد خاک کرنے کے لئے فوراً چلے آنا ۔
آپ کا فاضل دوست اصغر ”
خط پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر” گجرانوالہ ” سے ارسل کیا گیا تھا ۔خط پر تاریک 11 مئ کی تھی ۔اور آج تاریک 18 مئ تھی ۔یعنی خط کو پوسٹ کیے ایک ہفتہ گزر چکا ہے ۔
ان دنوں میں شہر سے باہر” مارسک ” کمپنی کے ایک خصوصی ” ڈیل” کی وجہ سے گیا ہوا تھا ۔میری واپسی آ ج ہی ممکن ہو پائی تھی ۔
خط پڑھنے کے بعد میری دنیا تو جیسے تہہ وبالا ہو چکی تھی ۔ان آنکھوں کے سامنے ان شفیق اور مہربان چہرے گھومنے لگے تھے ۔میری آنکھوں میں ماضی کی دھندلاہٹ اترنے لگی ۔
” مما! میں یہ سبزی نہیں کھاؤں گا ”
"پاپا !مجھے نئی سائیکل چاہیے ”
میرے ضدی پن سے میرے ماں باپ واقف تھے ۔انہوں نے مجھے کبھی کسی چیز کے لئے نہیں ٹوکا ہمیشہ سے میرے منہ سے نکلی ہوئی بات کو پورا کرتے ۔
میں کھانے کی ٹیبل پر کسی بادشاہ کے تخت کی طرح بیٹھتا اور میری ماں میرے لئے کھانا ایسے لگتی جیسے وہ شاہی کنیز ہو۔
” مما جلدی سے کھانہ لگا دو مجھے کوچنگ کے لئے دیر ہو رہی ہے” اچھا بیٹا ! آرام سے کھانا کھاؤ ،جلدی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ” ماں کی ممتا بھری آواز کانوں میں منتقل ہوتی۔
پاپا کو میں ہمیشہ اپنے مشوروں کو مانتے ہوئے دیکھا میری بات کا کبھی غصہ نہیں کیا ۔ہمیشہ مسکرا دیتے تھے۔جوان اولاد کی قدر کرنا جانتے تھے وہ ۔میری تعلیم کے لئے انہوں نے دن رات محنت کی ۔اچھے سے اچھے سکول ،کالج میں داخلہ دلوایا ۔
پر میرے اندر جیسے ایک خود غرضی کا بیج پنپ رہا تھا ۔مجھے ان کے دکھ تکلیف کا کبھی احساس ہی نہ ہوا۔ان کا میرے لئے کچھ کرنا اپنا حق سمجھتا تھا ۔میں نے ہمیشہ ان سے اپنی بات منوائی ۔انہوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کر کے مجھے تعلیم دلوائی ۔
میری بی- ایس مکمل ہوتے ہی مجھے اے گریڈ کی وجہ سے بیرون ملک ڈنمارک کے بڑے کالج میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے کا سکالرشپ ملا تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کی بڑی کمپنی” مارسک ” میں ملازمت اختیار کرنے کا موقع ملا۔میری آنکھوں میں ڈنمارک جیسے ملک میں رہائش اختیار کرنا جیسا ایک سپنا جیسا لگ رہا ۔میں خود کو خوش نصیب سمجھنے لگا۔حلانکہ کے مجھے پاکستان کی کافی ساری کمپنیوں میں جاب کرنے کی آفر ہوئی تھی ۔لیکن میں نے سب آفرز کو ٹھکرا دیا تھا ۔ماں باپ نے مجھے بہت سمجھایا کہ بیرون ملک جانے سے بہتر ہے ادھر ہی نوکری کرلو۔پر میں ان کی سننے والا کہاں تھا۔میرے اندر خود غرضی کا جو بیج پنپ رہا تھا وہ اب ایک ننھے پودے میں تبدیل ہو چکا تھا ۔ماں باپ کو میری ضد کے سامنے ہار ماننی ہی پڑی۔
ماں کی اداس آنکھیں جو مجھے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔باپ کے وہ لرزتے ہاتھ جو ایئر پورٹ پر مجھے الوداع کہہ رہے تھے۔
اب وہ مجھے بے تحاشا یاد آ رہے تھے ۔
شروع کے کچھ سالوں میں میرا رابطہ ماں باپ سے رہا تھا موبائل فون کے ذریعے سے ۔لیکن جب میں ملازمت اختیار کی کمپنی میں تو دن رات محنت کی اور پیچھے مڑکر بھی نہیں دیکھا ۔دن رات کی محنت اور میری لگن نے مجھے کمیابی عطا کی اور میں بہت جلد مینجر کے پوسٹ پہ آگیا ۔
پھر میری زندگی میں جویریہ داخل ہوئی ۔جویریہ بھی اسی کمپنی میں سی- ای -او کی سکریٹری کے عہدے پر فائز تھی۔میری کمیابی نے اسے میری طرف ملتفت کیا۔
مجھے بھی جویریہ پسند آئی تھی ۔کچھ ہی مہینوں میں ہم ایک دوسرے کے ہوگے۔پھر ہماری زندگی میں ایک ننھی سی جان کا اضافہ ہوا۔ہم دونوں نے بیٹے کا نام اشر رکھا۔
سال یوں ہی گزر گئے ۔میں گھر کا رابطہ نمبر بھی بھول چکا تھا ۔اور نہ ہی کبھی ضرورت پڑی کال کرنے کی ۔
آج ملنے والے اس خط کو پڑھ کر ماضی میں دھندلائے چہروں کو واپس ذہن میں اجاگر کر دیا تھا ۔وہ شفیق و مہربان چہرے جن کا میں متع حیات تھا۔دل سے ایک ہوق سی اٹھی ۔کس کو سناؤں حال دل یہاں سبھی تو مصروف یہاں ۔
” مجھے مت جگانا اشرف! میری کل صبح 6 بجے میٹنگ ہے ۔اس لئے میں جلدی سونے جا رہی ہوں” جویریہ یہ بول کر اپنے کمرے کی طرف چل دی تھی ۔اس نے میرا جواب بھی سننا گوارا نہیں کیا تھا ۔اس کے لئے جیسے اس کی نوکری اہم تھی ۔
جبکہ اشر ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔وہ دس سال کا ہوچکا تھا ۔رات دیر تک گھر آنا اس کا معمول بن گیا تھا ۔شہر کے اوباش قسم کے لڑکے اس کے دوست تھے ۔ہماری نصیحتوں پر کبھی کان نہیں دھرتا تھا ۔کبھی میرے اندر بھی ایسی ہی خودغرضی تھی ۔شاید ! مجھ سے یہ اس میں بھی منتقل ہوئی ہے۔مکافات کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن وہ اس طرح سے میرے سامنے آئے گا سوچا نہیں تھا۔
صبح پانچ بجے جویریہ نے ٹیبل پر کھانا لگا دیا تھا اور خود تیار ہو کر ناشتہ کرنے بیٹھی تھی ۔میں رات بھر سو نہیں سکا تھا۔انکھیں سرخ تھی۔جویریہ نے میری طرف کوئی دھیان نہیں دیا ۔” میرے ماں باپ اب اس دنیا میں نہیں رہے” میں با مشکل یہ لفظ ادا کیے تھے ۔اواز گلے میں رند گئی تھی ۔جویریہ ایک پل کے لئے ٹھٹھکی تھی لیکن وہ دوبارا ناشتے میں منہمک ہوگئی تھی ۔
” میں آج پاکستان واپس جارہا ہوں” میں نے اپنا فیصلہ سنایا ۔”
میری بات سن کر جویریہ بولی :” اشرف پلیز میں چھٹی کرنے سے بلکل بھی متمین نہیں ہوں اور اشر کو ساتھ لے جانے کی سوچنا بھی مت جانتے ہونا کتنے مہنگے سکول میں ایڈمیشن دلوا رکھا ہے اس کو ” جویریہ یہ بول کر کرسی سے اٹھ کر آفس کے لئے گھر سے نکل گئی ۔اس نے ایک لفظ بھی مجھ سے اظہار تعزیت نہیں کیا تھا ۔بس اپنا فیصلہ سنا کر وہاں سے چلی گئی ۔
میں نے پاکستان جانے کے لئے ان لائن ٹیکٹ بک کرائی ۔تقریبا 6 گھنٹے کے ہوائی سفر سے ہو کر دوپہر تک میں پاکستان کے ائیرپورٹ پر اتر چکا تھا ۔اپنے شہر گجرانوالہ جانے کے لئے ٹیکسی کروائی اور اس میں سوار ہوگیا۔
2 گھنٹے کی مسافت کے بعد میں گجرانوالہ پہنچ گیا ۔یہاں پہنچ کر دیکھا تو کچھ بھی نہیں بدلا تھا سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا 15 سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا ہاں کچھ آبادی میں اضافہ ضرور ہوا تھا ۔
راستے میں دوست اصغر کا گھر پڑتا تھا ۔پہلے اس سے ملا ۔اس نے میرے گلے لگ کر ڈھیر سارے گلے شکوے کیے ۔ میری آنکھوں میں آنسوں رواں ہوگئے تھے ۔اس نے بتایا کہ تمہیں آنے میں دیر ہوچکی ہے تمہارے ماں باپ کو سپرد خاک کردیا گیا ہے شہر کے نزدیکی قبرستان میں ۔
میں نے اس سے اپنے گھر کی چابی لی اور گھر کی طرف چل دیا ۔میں نے سوچا پہلے گھر سے ہو کر پھر قبرستان کی راہ لوں گا ۔
گھر کے دروازے کو جیسے ہی کھولا ۔ایک ہوا کا جھونکا سا محسوس ہوا تھا جیسے کوئی مجھ سے زور سے گلے لگ گیا ہو۔گھر میں قدم رکھا تو ماضی سے یادوں کی یلغار نکلی ۔
گر کے مقفل دریچے جیسے بول رہے ہوں
گھر آجا ویے پردیسی، تیری یاد وچ اکھیاں ترسن
کمرے کا دروازا کھولا تو ایک مخصوص قسم کی خوشبو میری سانسوں سے ٹکرائی یہ خوشبو میری ماں باپ کے وجود سے اٹھتی تھی ہمیشہ ۔یہ انہیں کا کمرہ تھا۔
ساتھ پڑی ٹیبل پر میری نظر پڑی جہاں بہت سارے خط پڑے ہوئے تھے ۔ان خطوں سے اٹھتی خوشبو بتا رہی تھی کہ یہ خط میرے ماں باپ کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے ہیں ۔
ایک خط کو اٹھا کر دیکھا جس پر تاریک 1 مئ کی تھی ۔یعنی خط اسی مہینے کا تھا ۔
میں خط کو کھول کر دیکھا خط پر تحریر جیسے کانپتے ہاتھوں سے لکھی گئی ہو،
میں پڑھنے لگا ، لکھا تھا:
” پیارے اشرف! کبھی میرا یہ خط پتہ نہیں تم تک پہنچے گا بھی یا نہیں جیسے پہلے کے خط تمہارا پتہ نہ ملنے پر واپس لوٹ آئے ۔
اس بار امید ہے یہ خط تم پہنچ جائے گا
اگر تمہیں میرا خط ملے تو فوراً چلے آنا بہت عرصہ ہوگیا ہے تمہارا چہرہ دیکھے ہوئے ۔اب تو ان بوڑھی آنکھوں میں تمہارا عکس دھندلاتا جارہا ہے ۔ایک بار تو اپنا چہرہ دیکھا جاؤ اب ان سانسوں کا بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے نہ جانے کب ساتھ چھوڑ جائیں ۔کیا تمہیں ہماری یاد نہیں آتی ؟ کیا دل نہیں کرتا ہم سے ملنے کا؟ کس جرم کی سزا دے رہے ہو ہمیں ؟ …
میں اتنا ہی پڑھ سکا تھا میری آنکھیں بھر گئی تھی ان سے آنسو گر کر خط کی تحریر کو بھیگو رہے تھے ،میری ٹانگوں میں اب جان نہیں بچی تھی میرا دم گھٹنے لگا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے دل پہ بوجھ بڑھنے لگا ہو۔ جیسے کوئی بھاری پتھر رکھ دیا گیا ہو سینے پر۔
میری آنکھوں کے سامنے جیسے یہ کمرہ گھومنے لگا ہو ۔اس کے بعد میری آنکھوں کے سامنے گہرا تاریک اندھیرا چھانے لگا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون