بہترین زکوٰۃ وہ ہے جو لینے والے کو دینے والا بنا دے

 

 

مجید عارف

امتِ مسلمہ اس وقت جن بڑے مسائل سے دوچار ہے، ان میں غربت، بے روزگاری، معاشی پسماندگی اور خود انحصاری کا فقدان سرفہرست ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امت کے پاس زکوٰۃ جیسا مضبوط معاشی نظام موجود ہونے کے باوجود غربت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ تو ادا کی جا رہی ہے، مگر اس کے صحیح مصرف اور حقیقی مقصد کا شعور عام نہیں ہو سکا۔
اسلام میں زکوٰۃ صرف چند پیسے دینے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی اور سماجی نظام ہے۔ یہ مال کی پاکیزگی، دل کی صفائی اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض انفرادی عبادت نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔
زکوٰۃ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ کم ہو، محتاج خود دار بنے اور معاشرہ معاشی طور پر مضبوط ہو۔ اگر زکوٰۃ صحیح طریقے سے ادا نہ کی جائے تو دولت چند ہاتھوں تک محدود رہ جاتی ہے، غربت بڑھتی ہے اور معاشرے میں حسد اور نفرت جنم لینے لگتی ہے۔
قرآنِ کریم نے زکوٰۃ کے مستحقین واضح طور پر بیان کیے ہیں، جن میں غریب، محتاج، مقروض اور ضرورت مند افراد شامل ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ضرورت مند کو محض وقتی امداد دے کر ذمہ داری پوری کر لی جائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ مستحق کو ایسا سہارا دیا جائے جس سے وہ مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔
بدقسمتی سے آج زکوٰۃ کی ادائیگی کا عام طریقہ یہ بن چکا ہے کہ سال میں ایک مرتبہ تھوڑی تھوڑی رقم یا راشن تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مستحق چند دن کے لیے سنبھل جاتا ہے، پھر دوبارہ محتاج ہو جاتا ہے اور اگلے سال پھر اسی زکوٰۃ کا منتظر رہتا ہے۔ اس طرح غربت ختم ہونے کے بجائے ایک دائمی دائرے میں گھومتی رہتی ہے۔
اسلام ہمیں اس سے بہتر راستہ دکھاتا ہے۔ زکوٰۃ کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اسے اس طرح استعمال کیا جائے کہ لینے والے کو دوبارہ سوال کی ضرورت نہ پڑے۔ اگر زکوٰۃ کو سرمایہ بنا کر کسی مستحق کو کاروبار یا ذریعۂ روزگار فراہم کیا جائے تو وہ شخص نہ صرف خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں زکوٰۃ دینے والوں میں بھی شامل ہو سکتا ہے۔
اسلام مستحق کی عزتِ نفس کو بھی بڑی اہمیت دیتا ہے۔ جو شخص محنت کرنا چاہتا ہو اور سوال سے بچنا چاہتا ہو، اسے روزگار فراہم کرنا دراصل اس کی عزت کی حفاظت ہے۔ اس سے اس کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے ایک فعال رکن بن جاتا ہے۔
اسی طرح اگر ایک خاندان کے پانچ یا دس افراد اپنی زکوٰۃ الگ الگ تقسیم کرنے کے بجائے باہم جمع کر کے کسی ایک مستحق پر خرچ کریں تو ایک پورا غریب خاندان خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔ کل وہی خاندان معاشرے میں دینے والوں کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔
اگر زکوٰۃ کو منصوبہ بندی کے ساتھ خرچ کیا جائے، خود کفالت کو مقصد بنایا جائے اور وقتی امداد کے بجائے مستقل ذریعۂ معاش فراہم کیا جائے تو اس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ غربت کم ہو سکتی ہے، بے روزگاری میں کمی آ سکتی ہے اور امت معاشی طور پر مضبوط ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر چھوٹے پیمانے کے کاروبار یا ہنر کے ذریعے مستحقین کو کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ آٹا چکی، مصالحہ پیسنے والی مشین، پاپ کارن بنانے کی مشین، مہندی کون بنانے کا یونٹ، سلائی مشین، زیراکس مشین، موبائل ریپیئرنگ کی دکان، سبزی یا دودھ کا چھوٹا کاروبار، اسکرین پرنٹنگ جیسے متعدد کام ایسے ہیں جو کم سرمائے سے شروع کیے جا سکتے ہیں اور کسی خاندان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج چھوٹے درجے کی بہت سی مشینیں اور کاروباری وسائل تیس ہزار روپے کے اندر بھی دستیاب ہیں۔ اگر زکوٰۃ کو اس طرح سوچ سمجھ کر استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان کو خود کفیل بنا سکتی ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اے ایمان والو! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اس میں سے بہتر حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔”
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا محض رسم ادا کرنا نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ عمل ہے۔
یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ مسلمان ہر سال زکوٰۃ کی مد میں کھربوں روپے نکالتے ہیں، مگر اس کے باوجود غربت کا خاتمہ نہیں ہو پاتا۔ اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ سوچ اور طریقۂ کار کی کمی ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زکوٰۃ کو محض خیرات یا وقتی مدد نہ سمجھیں بلکہ اسے غربت کے خاتمے کا ایک مؤثر اسلامی نظام تصور کریں۔ جب زکوٰۃ کو روزگار اور خود کفالت کے ساتھ جوڑا جائے گا تو لینے والا ہاتھ آہستہ آہستہ دینے والا بن جائے گا۔
یاد رکھنا چاہیے کہ بہترین زکوٰۃ وہ ہے جو کسی کو چند دن سہارا دینے کے بجائے اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا کر دے۔
اگر ہم اپنی سوچ بدل لیں اور زکوٰۃ کو منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کریں تو یقیناً معاشرہ بھی بدل سکتا ہے اور امتِ مسلمہ معاشی خود داری کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

بہترین زکوٰۃ وہ ہے جو لینے والے کو دینے والا بنا دے

 

 

مجید عارف

امتِ مسلمہ اس وقت جن بڑے مسائل سے دوچار ہے، ان میں غربت، بے روزگاری، معاشی پسماندگی اور خود انحصاری کا فقدان سرفہرست ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امت کے پاس زکوٰۃ جیسا مضبوط معاشی نظام موجود ہونے کے باوجود غربت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ تو ادا کی جا رہی ہے، مگر اس کے صحیح مصرف اور حقیقی مقصد کا شعور عام نہیں ہو سکا۔
اسلام میں زکوٰۃ صرف چند پیسے دینے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی اور سماجی نظام ہے۔ یہ مال کی پاکیزگی، دل کی صفائی اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض انفرادی عبادت نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔
زکوٰۃ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ کم ہو، محتاج خود دار بنے اور معاشرہ معاشی طور پر مضبوط ہو۔ اگر زکوٰۃ صحیح طریقے سے ادا نہ کی جائے تو دولت چند ہاتھوں تک محدود رہ جاتی ہے، غربت بڑھتی ہے اور معاشرے میں حسد اور نفرت جنم لینے لگتی ہے۔
قرآنِ کریم نے زکوٰۃ کے مستحقین واضح طور پر بیان کیے ہیں، جن میں غریب، محتاج، مقروض اور ضرورت مند افراد شامل ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ضرورت مند کو محض وقتی امداد دے کر ذمہ داری پوری کر لی جائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ مستحق کو ایسا سہارا دیا جائے جس سے وہ مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔
بدقسمتی سے آج زکوٰۃ کی ادائیگی کا عام طریقہ یہ بن چکا ہے کہ سال میں ایک مرتبہ تھوڑی تھوڑی رقم یا راشن تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مستحق چند دن کے لیے سنبھل جاتا ہے، پھر دوبارہ محتاج ہو جاتا ہے اور اگلے سال پھر اسی زکوٰۃ کا منتظر رہتا ہے۔ اس طرح غربت ختم ہونے کے بجائے ایک دائمی دائرے میں گھومتی رہتی ہے۔
اسلام ہمیں اس سے بہتر راستہ دکھاتا ہے۔ زکوٰۃ کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اسے اس طرح استعمال کیا جائے کہ لینے والے کو دوبارہ سوال کی ضرورت نہ پڑے۔ اگر زکوٰۃ کو سرمایہ بنا کر کسی مستحق کو کاروبار یا ذریعۂ روزگار فراہم کیا جائے تو وہ شخص نہ صرف خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں زکوٰۃ دینے والوں میں بھی شامل ہو سکتا ہے۔
اسلام مستحق کی عزتِ نفس کو بھی بڑی اہمیت دیتا ہے۔ جو شخص محنت کرنا چاہتا ہو اور سوال سے بچنا چاہتا ہو، اسے روزگار فراہم کرنا دراصل اس کی عزت کی حفاظت ہے۔ اس سے اس کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے ایک فعال رکن بن جاتا ہے۔
اسی طرح اگر ایک خاندان کے پانچ یا دس افراد اپنی زکوٰۃ الگ الگ تقسیم کرنے کے بجائے باہم جمع کر کے کسی ایک مستحق پر خرچ کریں تو ایک پورا غریب خاندان خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔ کل وہی خاندان معاشرے میں دینے والوں کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔
اگر زکوٰۃ کو منصوبہ بندی کے ساتھ خرچ کیا جائے، خود کفالت کو مقصد بنایا جائے اور وقتی امداد کے بجائے مستقل ذریعۂ معاش فراہم کیا جائے تو اس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ غربت کم ہو سکتی ہے، بے روزگاری میں کمی آ سکتی ہے اور امت معاشی طور پر مضبوط ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر چھوٹے پیمانے کے کاروبار یا ہنر کے ذریعے مستحقین کو کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ آٹا چکی، مصالحہ پیسنے والی مشین، پاپ کارن بنانے کی مشین، مہندی کون بنانے کا یونٹ، سلائی مشین، زیراکس مشین، موبائل ریپیئرنگ کی دکان، سبزی یا دودھ کا چھوٹا کاروبار، اسکرین پرنٹنگ جیسے متعدد کام ایسے ہیں جو کم سرمائے سے شروع کیے جا سکتے ہیں اور کسی خاندان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج چھوٹے درجے کی بہت سی مشینیں اور کاروباری وسائل تیس ہزار روپے کے اندر بھی دستیاب ہیں۔ اگر زکوٰۃ کو اس طرح سوچ سمجھ کر استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان کو خود کفیل بنا سکتی ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اے ایمان والو! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اس میں سے بہتر حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔”
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا محض رسم ادا کرنا نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ عمل ہے۔
یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ مسلمان ہر سال زکوٰۃ کی مد میں کھربوں روپے نکالتے ہیں، مگر اس کے باوجود غربت کا خاتمہ نہیں ہو پاتا۔ اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ سوچ اور طریقۂ کار کی کمی ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زکوٰۃ کو محض خیرات یا وقتی مدد نہ سمجھیں بلکہ اسے غربت کے خاتمے کا ایک مؤثر اسلامی نظام تصور کریں۔ جب زکوٰۃ کو روزگار اور خود کفالت کے ساتھ جوڑا جائے گا تو لینے والا ہاتھ آہستہ آہستہ دینے والا بن جائے گا۔
یاد رکھنا چاہیے کہ بہترین زکوٰۃ وہ ہے جو کسی کو چند دن سہارا دینے کے بجائے اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا کر دے۔
اگر ہم اپنی سوچ بدل لیں اور زکوٰۃ کو منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کریں تو یقیناً معاشرہ بھی بدل سکتا ہے اور امتِ مسلمہ معاشی خود داری کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں