
قیصر محمود عراقی
رمضان کے آنے سے چند دن قبل ہی حفاظِ کرام بڑی مستعدی سے محراب سنانے کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ پہلے سے ہی جگہوں کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں اور اس کے لیے دور دراز کے سفر بھی کرتے ہیں۔ افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ اس مقدس عمل کو بعض حفاظ نے دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ بہت سے علاقوں میں تو قرآنِ پاک سنانے پر باقاعدہ اجرت طے ہوتی ہے اور بہت سی جگہوں پر طے تو نہیں ہوتی، لیکن دینے والے جانتے ہیں کہ امامِ تراویح کو رقم دینی ہے اور لینے والا بھی اس امید میں رہتا ہے کہ رقم ملے گی، اس لیے کہ یہاں دینے کا دستور ہے۔ بعض جگہوں پر لاکھ سے بھی اوپر رقم ہو جاتی ہے اور رقم اس لیے زیادہ اٹھائی جاتی ہے کیونکہ نمازِ تراویح میں لوگوں کا جمِ غفیر ہوتا ہے۔ سال بھر جو لوگ نماز نہیں پڑھتے سوائے جمعہ اور عیدین کے، وہ بھی ایک کا ستر گنا ثواب پانے کی غرض سے اللہ کی عبادت کرنے آ جاتے ہیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ برصغیر کے علما کرام رمضان سے قبل رمضان کے مہینے کی ایسی ایسی فضیلت بیان کرتے ہیں کہ لوگ صرف اسی ایک مہینے کی عبادت کو ہی اپنی نجات کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں۔ جس کی وجہ سے رمضان میں مسجدوں میں اس قدر بھیڑ ہوتی ہے کہ مستقل نمازیوں کو پہلی صف میں جگہ نہیں مل پاتی۔ آخر رمضان کے مہینے میں اس قدر نمازیوں کی بھیڑ کون لگواتا ہے؟ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے ذمہ دار ہمارے علما کرام ہیں، کیونکہ وہ اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کہ جتنی بھیڑ ہوگی اتنا ہی چندہ اٹھے گا اور جتنا زیادہ چندہ اٹھے گا وہ سب مفاد پرست مولوی کی جیب میں اور کچھ پیسہ کمانے والے حفاظ کے پاس جائے گا۔
میں حقیقت بیان کر رہا ہوں کہ جس دن رمضان کا چاند نظر آنے والا تھا، مغرب تک ہندوستان کی تمام مساجد میں وہی گنے چنے پنج وقتی نمازی تھے۔ جیسے ہی چاند کی خبر ملی، عشاء میں ہندوستان کی تمام مساجد کھچا کھچ بھر گئیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مسلمانوں کے یہاں فرض کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہی۔ لوگ سنت اور نوافل کو اہمیت دیتے ہیں اور اسی کو اپنی نجات کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں، جبکہ فرض نماز کی پکڑ ہے اور میدانِ حشر میں سب سے پہلے اسی کے بارے میں سوال ہوگا۔ لیکن فرض نماز کو لوگوں نے طاق پر رکھ دیا ہے اور سنت و نفل کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ عشاء کی فرض نماز چھوٹ جائے تو کوئی بات نہیں، لیکن تراویح کی نماز نہیں چھوٹنی چاہیے۔ واہ رے مسلمان! جسے ادا کرنے کے لیے سر کے بل آنا چاہیے اسے ہی فراموش کیے بیٹھے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ لوگ نماز پڑھتے ہیں پھر بھی ان کی زندگی نہیں سدھرتی اور ان کے اخلاق پاکیزہ نہیں ہوتے۔ وہ ایک مضبوط خدائی فوج نہیں بنتے۔ وہ دنیا میں تباہ حال اور نکبت زدہ ہیں، کفار ان پر غالب ہیں اور ان کی نماز انہیں برائیوں اور بے حیائیوں سے نہیں روکتی۔ اول تو یہ نماز پڑھتے ہی نہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو اس طریقے سے نہیں پڑھتے جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بتایا ہے۔ یہ نماز کو نماز کی طرح نہیں پڑھتے، خشوع و خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے اور نہ ہی اسے آپ ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ بلکہ اسے ایک رسم سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ اسی لیے دن بدن طرح طرح کی گمراہیاں، لغویات، بدعات اور خرافات میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔
یہاں تک کہ برصغیر کے مسلمانوں میں رمضان کے معمولات میں آخری عشرے کے بجائے پہلے عشرے کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ پہلے عشرے میں تراویح کا عمل تین رات، پانچ رات، دس رات یا پندرہ رات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ بہت کم مساجد ایسی ملیں گی جہاں بیس رات سے زیادہ تراویح ہوتی ہو۔ تین، پانچ، دس یا پندرہ راتوں میں تراویح پڑھانے والے حفاظ کی قراءت اتنی تیز ہوتی ہے کہ قرآن ناقابلِ فہم اور ناقابلِ سماعت ہو جاتا ہے۔ اس طرح امام سمیت تمام نمازی قرآن کی بے ادبی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
حفاظ کرام اور علما کرام نے مال بٹورنے کے چکر میں اور اپنی آسانی کی خاطر قیام اللیل کو ختمِ قرآن سے جوڑ دیا ہے۔ اس لیے لوگ تراویح کو اہم ماننے کے بجائے قرآن کے ختم کو اہم مانتے ہیں، جبکہ تراویح کے ساتھ قرآن کا ختم ہونا ضروری نہیں ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قرآن کے ختم ہوتے ہی تراویح بھی ختم ہو جاتی ہے اور بیشتر نمازی بھی اسی کے ساتھ رخصت ہو جاتے ہیں۔ آخری عشرے میں مسجدیں سنسان اور بازار آباد ہو جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ جس مسجد میں تین دن میں قرآن ختم ہو وہاں تین دن رونق، اس کے بعد ویرانی۔ جہاں پانچ دن میں ختم قرآن ہو وہاں پانچ دن رونق، اس کے بعد مسجد سنسان۔ جہاں دس دن میں ختم قرآن ہو وہاں دس دن تک لوگوں کا ہجوم، اس کے بعد لوگ غائب ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح برصغیر کی اکثر مساجد میں یہی سلسلہ جاری ہے۔ لوگ عبادت کی نیت سے مسجد میں نہیں آتے بلکہ ایک رسم ادا کرنے کے لیے آتے ہیں۔ تین دن، پانچ دن، دس دن یا پندرہ دن میں رسم پوری ہوئی اور پھر گیارہ مہینے کی چھٹی۔ حالانکہ معلوم ہونا چاہیے کہ رمضان عبادتوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں روزہ ہے، زکوٰۃ ہے، تراویح ہے، اعتکاف ہے اور شبِ قدر کی عبادت ہے۔ یہ سب تین یا پانچ دن کے لیے نہیں بلکہ پورے مہینے کے لیے ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس میں عام نمازیوں کی اتنی غلطی نہیں جتنی ہمارے بعض علما کی ہے، جو ادھوری بات بتا کر مسجدوں میں بھیڑ جمع کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نذرانہ حاصل ہو سکے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ ستر گنا اجر اسی کو ملے گا جو سال بھر اللہ کی عبادت کرتا رہا ہو اور اس کے احکام پر عمل کرتا رہا ہو۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سورۂ مزمل میں فرماتا ہے کہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا کہ جو شخص رک رک کر قرآن پڑھتا ہے اسے زیادہ اجر ملتا ہے۔ لیکن رمضان میں بعض جگہ قرآن اس قدر تیزی سے پڑھا جاتا ہے کہ سوائے “یعلمون تعلمون” کے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔
رمضان میں قرآن کے ایک ختم کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کو اس طرح پڑھا جائے کہ سننے والوں کے دلوں پر اثر ہو۔ مگر آج حال یہ ہے کہ مقتدی تو عربی نہ جاننے کی وجہ سے مفہوم نہیں سمجھتے، اور بعض علما بھی حیران رہ جاتے ہیں کہ کیا پڑھا جا رہا ہے۔
بات تلخ ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج کئی جگہ تراویح کی نماز عبادت کے بجائے رسم بن چکی ہے۔ حفاظ کرام پیسے کے لیے پڑھتے ہیں اور بعض مقتدی حضرات وقت بچانے کے لیے پڑھتے ہیں۔ حالانکہ نماز میں جب تک خشوع و خضوع نہ ہو وہ نماز حقیقی معنوں میں نماز نہیں ہوتی۔
اسی طرح ایک اور خرابی یہ پیدا ہو گئی ہے کہ رمضان شروع ہوتے ہی کچھ لوگ تراویح کی رکعات کے مسئلے میں الجھ جاتے ہیں۔ آٹھ اور بیس رکعات پر بحث اور ایک دوسرے پر تنقید شروع ہو جاتی ہے۔ حالانکہ اصل مسئلہ رکعات کی تعداد سے زیادہ نماز کے طریقے اور اخلاص کا ہے۔
قرآن وہ مقدس کتاب ہے جو ہدایت کے لیے نازل ہوئی ہے، نہ کہ کمائی کا ذریعہ بنانے کے لیے۔ افسوس کہ بعض لوگ اسے ذریعۂ معاش بنا بیٹھے ہیں۔ کوئی مصلے پر کھڑے ہو کر قرآن پڑھ کر پیسے لے رہا ہے اور کوئی آیات کے تعویذ بنا کر بیچ رہا ہے۔
آخر میں میری علما اور حفاظ سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے قرآن مجید کی بے حرمتی نہ کریں۔ اسے اسی طرح پڑھیں جس طرح پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رزق جتنا مقدر میں ہوگا ضرور ملے گا، لیکن قرآن کو تیزی سے پڑھ کر اس کی حرمت پامال نہ کریں۔
اسی طرح امتِ مسلمہ سے بھی گزارش ہے کہ اگر آپ تراویح کو اہم سمجھتے ہیں تو اسے نماز کی طرح ادا کریں۔ پورے مہینے ادا کریں اور ایسی جگہ پڑھیں جہاں قرآن ترتیل کے ساتھ پڑھا جاتا ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی نماز قبول ہوتی ہے جو سکون، خشوع اور خضوع کے ساتھ پڑھی جائے۔


