سہیل خان
آج کی دنیا تیزی سے ایسے جغرافیائی و سیاسی خیموں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے جہاں ممالک کو کسی نہ کسی طاقت کے ساتھ کھڑا ہونے کا دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ تاہم بھارت نے اس ماحول میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے جسے اس کی خارجہ پالیسی کی زبان میں اسٹریٹجک خودمختاری کہا جاتا ہے۔ اس تصور کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی عالمی دباؤ یا نظریاتی وابستگی کے بجائے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر آزادانہ فیصلے کیے جائیں۔
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو اکثر عالمی سیاست کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، گویا یہ تعلق کسی خاص سیاسی صف بندی کا حصہ ہے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متوازن ہے۔ بھارت نے اسرائیل کو 1950 میں تسلیم کر لیا تھا، لیکن مکمل سفارتی تعلقات 1992 میں قائم ہوئے۔ اس بظاہر طویل وقفے کو اگر تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ ہچکچاہٹ نہیں بلکہ ایک محتاط سفارتی حکمت عملی تھی۔ بھارت نے ہمیشہ مغربی ایشیا کے حوالے سے اپنی پالیسی کو توازن، حساسیت اور زمینی حقائق کے مطابق ترتیب دیا۔
وقت کے ساتھ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعاون کے کئی نئے شعبے سامنے آئے۔ دفاعی تعاون، زرعی تحقیق، پانی کے انتظام اور جدید ٹیکنالوجی میں دونوں ممالک نے قریبی شراکت داری قائم کی ہے۔ اسرائیل کی تیار کردہ دفاعی ٹیکنالوجی، خصوصاً میزائل دفاعی نظام اور بغیر پائلٹ طیارے، بھارت کی دفاعی صلاحیتوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح زرعی شعبے میں اسرائیلی ڈرپ اریگیشن اور پانی کے مؤثر استعمال کی ٹیکنالوجی نے بھارتی کسانوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔
لیکن اس تعاون کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بھارت نے عرب دنیا سے اپنے تعلقات کمزور کر دیے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ بھارت کے اقتصادی اور توانائی کے تعلقات نہایت گہرے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارت گزشتہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے اور سعودی عرب بھارت کے اہم ترین توانائی فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ بھارت کی خام تیل کی بڑی مقدار مغربی ایشیا سے آتی ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں بھارتی شہری کام کرتے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر اپنے وطن بھیجتے ہیں۔
یہ تمام حقائق ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں کہ بھارت کسی ایک بلاک کی سیاست کا حصہ نہیں بن سکتا۔ اس کی معیشت، توانائی کی ضروریات اور بیرون ملک مقیم شہریوں کے مفادات اسے ایک متوازن اور کثیر جہتی خارجہ پالیسی اپنانے پر مجبور کرتے ہیں۔
اسی اسٹریٹجک خودمختاری کے تحت بھارت اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون جاری رکھتا ہے، جبکہ عرب ممالک کے ساتھ تجارت، توانائی اور انسانی روابط کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ دوسری طرف فلسطین کے مسئلے پر بھی بھارت نے اپنی روایتی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارت مسلسل دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی کو بھی جاری رکھتا ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ نظریاتی نہیں بلکہ مفاداتی اور مسئلہ وار بنیادوں پر استوار ہے۔ بھارتی قیادت بارہا اس بات پر زور دے چکی ہے کہ بھارت اتحادوں کی سیاست کے بجائے شراکت داری کی پالیسی کو ترجیح دیتا ہے۔ اتحاد اکثر پابندیوں اور وابستگیوں کا تقاضا کرتے ہیں، جبکہ شراکت داری باہمی مفاد اور لچکدار تعاون پر مبنی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت بیک وقت مختلف عالمی اور علاقائی پلیٹ فارمز پر سرگرم نظر آتا ہے۔ وہ اسرائیل کے ساتھ زرعی ٹیکنالوجی اور دفاعی تحقیق میں تعاون کرتا ہے، خلیجی ممالک کے ساتھ توانائی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دیتا ہے، اور کثیر فریقی اقتصادی گروپوں میں بھی شرکت کرتا ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد کسی ایک فریق کے ساتھ صف بندی نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔
درحقیقت بھارت کی یہی صلاحیت کہ وہ مختلف اور بعض اوقات ایک دوسرے کے حریف جغرافیائی حلقوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے، اس کی سفارتی ساکھ کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ علاقائی بحرانوں کے دوران بھارت نے ہمیشہ کشیدگی میں کمی، عام شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد پر زور دیا ہے۔
اسٹریٹجک خودمختاری دراصل غیر جانبداری یا لاتعلقی کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک واضح حکمت عملی ہے جس کے تحت ایک ملک اپنی ترجیحات اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔ ایک کثیر القطبی دنیا میں خودمختاری کا مطلب یہی ہے کہ ریاستیں اپنے فیصلے خود کریں، نہ کہ کسی بیرونی دباؤ یا عالمی صف بندی کے تحت۔
اس پس منظر میں دیکھا جائے تو اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات اس کی مغربی ایشیا پالیسی سے کوئی انحراف نہیں بلکہ اسی متوازن حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔ جہاں مفادات مشترک ہوں وہاں تعاون کیا جائے، انسانی اصولوں کی مسلسل حمایت کی جائے، اور ہر حال میں فیصلہ سازی کی خودمختاری برقرار رکھی جائے۔
یہی دراصل عملی طور پر اسٹریٹجک خودمختاری کی حقیقی تصویر ہے۔
زز


