ابونصر فاروق
انسان ہدایت کا محتاج ہے۔ ہدایت کے معنی وہ سیدھا راستہ ہے، جوانسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔انسان صرف اپنے بل بوتے پر ہدایت نہیں پا سکتا ہے۔اللہ نے یہ معاملہ خاص اپنے ہاتھوں میں رکھا ہے۔ یعنی وہ جس کوچاہے گا ہدایت دے گا اور جس کو نہیں چاہے گا ہدایت نہیں دے گا۔اللہ کے یہاں جب کوئی انسان اپنی لیاقت ثابت کرتا ہے اور ہدایت کا طلب گار ہوتا ہے تب ہی اللہ اُس کو ہدایت دیتا ہے۔جو ہدایت کا طلبگار نہیں ہوتا ہے اُس کو ہدایت نہیں ملتی ہے۔نیچے کی آیات بتا رہی ہیں کہ تقویٰ کے لئے انسان کے اندر پانچ صفات ہونی چاہئیں تب ہی وہ ہدایت کا حقدار بن سکے گا۔
(۱) مال خرچ کرنے کا پہلا اصول اور حکم:یہ اللہ کی کتاب ہے۔(۱)اس میں کوئی شک نہیں۔ہدایت ہے اُن پرہیزگاروں کے لیے،(۲)جوغیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں،جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔(البقرۃ:۱تا۳)اس آیت میں ہدایت پانے کے لئے تقویٰ کی پانچ صفات میں ایک صفت دولت خرچ کرنا ہے۔قرآن کے الفاظ بتارہے ہیں کہ دولت خرچ کرنے کی نیت کو ہدایت اور تقویٰ کی شرط اس وجہ سے بتایا جارہاہے کہ انسان پیدائشی طور پر دولت کا لالچی اور چھوٹے دل والا پیدا ہوا ہے۔جب تک وہ اپنی اس کمزوری پر قابو نہیں پا لیتا ہے تقویٰ کی صفت اُس کے اندر پیدا ہوگی ہی نہیں اوروہ ہدایت کا حقدار بن ہی نہیں سکے گا۔
اے محمدﷺ ان سے کہو ،اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ضرور اُن کو روک رکھتے۔واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہو اہے۔(اسراء:۱۰۰) انسان تھڑ دلا پیدا کیا گیا ہے۔جب اُس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔ (المعارج:۱۹/۲۰)چھوٹے دل کا مالک ، اور دوسروں کی ذات پر خرچ نہیں کرنے والا جب تک اپنی دولت خرچ کرنے کا عادی نہیں بن جائے گااللہ کے نزدیک ایک ناکارہ اور بے کار آدمی رہے گا۔اس آیت میں یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ جب تم دولت مند ہوجاؤ گے تب خرچ کروگے۔نہیں تمہاری جتنی بھی آمدنی ہے ، چاہے زیادہ ہو یا کم اُس میں سے خرچ کرنے کی عادت ڈالو کہ اس کے بغیر تم ایک ناکارے انسان ہو۔
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لئے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر کو اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل ہوئی کتاب اور اُس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر،مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے،……یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں ۔ (البقرۃ:۱۷۷)اس آیت میں خرچ کرنے کے مدات بتائے جا رہے ہیں کہ کن لوگوں کی اپنے مال سے مدد کرنی ہے۔ان لوگوں کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں پر خرچ کرنا قرآن کے اس حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔جو لوگ قرآن کے ان احکام کو نہیں جانتے ہیں وہ نئے زمانے کی ضرورتوں کے پیش نظر خرچ کرنے کے اپنے طریقے نکال لیتے ہیں ،اور شریعت کے مطابق خرچ کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کی مدد کر کے تو آپ بھیک مانگنے کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔اگر یہ خیال صحیح ہے تو ایسے لوگوں کا اعتراض مدد کرنے والوں پر نہیں شریعت اسلامی پر ہے۔اور ایسا کرنا قرآن کے احکام کی نافرمانی ہے،افسوس کہ دین کا علم نہیں رکھنے والے اس نزاکت کو سمجھ ہی نہیں پاتے، اور نادانی سے گنہ گار بنتے ہیں۔ایک نیا خبط یہ پیدا ہو گیا ہے کہ زکوٰۃ سے غریبی دور کرنی ہے،جب کہ زکوٰۃ والی آیت میںآٹھ طرح کے انسان بتائے گئے ہیں۔
(۲) مال خرچ کرنے کا دوسرااصول اور حکم:اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔احسان کا طریقہ اختیار کرو ، اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔(البقرۃ:۱۹۵)
یہ ایک دوسری طرح کا خرچ ہے۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنا یعنی ہر وہ کام جس کے لئے اللہ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اُس میں دریا دلی کے ساتھ یہ سوچ کر خرچ کرنا کہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے انفاق فی سبیل اللہ کہا جائے گا۔یہ حکم قرآن میں اتنا زیادہ آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کیا اور کتنا خرچ کریں۔اے نبیﷺ ! یہ آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ؟ کہـہ دیجئے کہ تم بھلائی کے ارادے سے جو کچھ بھی خرچ کرو اپنے والدین پر ، قرابت مندوں پر ، یتیموں مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔اور تم جو بھلائی بھی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اُس کا علم ہے۔ (البقرۃ:۲۱۵)……اے نبی لوگ پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ؟ کہـہ دیجئے جو تمہـاری ضرورت سے زیادہ ہے خرچ کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں واضح کرتا ہے شاید کہ تم لوگ غور و فکر کرو۔ (البقرۃـ۲۱۹)یہاں بھی وضاحت کے ساتھ اُن لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔غریبی دور کرنے کا نام و نشان نہیں ہے۔
(۳) مال خرچ کرنے کا تیسرااصول اور حکم:تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ تعالیٰ اُسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے۔گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی اور اُسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔ (البقرۃ:۲۴۵)جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میںخرچ کرتے ہیں،اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے ،جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔وہ کھلے ہاتھ والا بھی ہے اور جاننے والا بھی(۲۶۱)جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیںاور پھر خرچ کرکے احسان نہیں جتاتے ، نہ دکھ دیتے، اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور اُن کے لئے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔(۲۶۲) ایک میٹھا بول اور ذرا سی بات پر نظر انداز کردینا اُس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھے دکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور برداشت کرنا اُس کی صفت ہے۔ (البقرۃ: ۲۶۱تا۲۶۳) اے ایمان لانے والو اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اُس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال صرف لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت پر۔اُس کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔اُس پر جب زور کی برسات ہوئی تو ساری مٹی بہہ گئی اورصاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں، اُس سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔(البقرۃ:۲۶۴) بہ خلاف اس کے جو لوگ اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے کے لئے دل کے پورے اطمینان و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ا ُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی اونچی سطح پر ایک باغ ہو۔اگر زور کی بارش ہو جائے تو دوگنا پھل لائے۔اوراگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اُس کے لئے کافی ہو جائے۔تم جو کچھ کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے۔(البقرۃ:۲۶۵)کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اُس کے پاس ہرا بھرا باغ ہو،نہروں سے سیراب، کھجور وں اور انگوروںاورہر طرح کے پھلوں سے لدا ہوا،وہ عین اُس وقت ایک بگولے کی زدمیں آ کر جھلس جائے جب کہ وہ خود بوڑھا ہو اور اُس کے بچے کم سن،ابھی کسی لائق نہ ہوں۔اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو۔(البقرۃ:۲۶۶) اے لوگو جو ایمان لائے ہو،جو مال تم نے کمائے ہیں اورجو کچھ ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے اُس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اُس کی راہ میںدینے کے لئے بری سے بری چیز چھانٹنے لگو،حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے توتم ہرگز اُسے لینا گوارا نہیں کرو گے، الا یہ کہ اُس کو قبول کرنے میںتم نظر انداز کرنے سے کام لو۔تمہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔(۲۶۷) شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے،مگر اللہ تمہیں اپنے بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ اللہ بڑا فراخ دست اوردانا ہے۔(البقرۃ:۲۶۷/۲۶۸)(اللہ)جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے،اور جسے حکمت ملی اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی،ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (البقرۃ:۲۶۹) اگر اپنے صدقات کھلم کھلا دو تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔تمہاری بہت سی برائیاں اس طرز عمل سے مٹادی جاتی ہیں۔اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ کو بہر حال اُس کی خبرہے۔(البقرۃ:۲۷۱)اے نبی ! لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔اور خیرات میںجو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے۔آخر تم اسی لئے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کرو گے، اُس کا پوراپورا اجر تمہیں دیا جائے گا۔اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔(۲۷۲)خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیںکہ اپنی ذاتی کسب معاش کے لئے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے ہیں۔اُن کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔تم اُن کے چہرے سے اُن کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔لیکن وہ ایسے لوگ نہیں ہیں جو لوگوںکے پیچھے پڑ کرکچھ مانگیں۔ اُن کی مدد میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ سے چھپا نہیں رہے گا۔ (۲۷۳)جو لوگ اپنے مال رات دن کھلے اورچھپے خر چ کرتے ہیں اُن کا اجراُن کے رب کے پاس ہے اور اُن کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔ (البقرۃ:۲۷۲تا۲۷۴)کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض تاکہ اللہ اُسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اُس کے لئے بہترین اجر ہے۔(۱۱)مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، اُن کو یقینا کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور اُن کے لئے بہترین اجر ہے۔(الحدید:۱۱،۱۸)اللہ سے ڈرتے رہو اور سنو اور اطاعت کرو اور اپنے مال خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہے۔جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں۔(۱۶)اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تمہارے قصوروں کو معاف کردے گا، اللہ بڑا قدردان اور برد اشت کرنے والا ہے۔ )تغابن: ۱۶/ ۱۷)
(۴) مال خرچ کرنے کاچوتھااصول اور حکم:اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر اُنہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ اور اُن کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعا اُن کے لئے وجہ تسکین ہوگی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔( توبہ:۱۰۳)
(۵) مال خرچ کرنے کاپانچوںااصول اور حکم:یہ صدقات تو در اصل فقیروںاور مسکینوں کے لئے ہیں اور اُن لوگوں کے لئے جو صدقات کے کام پر مامور ہیں اور اُن کے لئے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو، نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لئے ہیں،ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے-(التوبہ:۶۰)
(۶) مال خرچ کرنے کاچھٹاااصول اور حکم:اے آدم کے بیٹو! ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ ہو،اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (اعراف: ۳۱) اوررشتہ داروں کا حق دواور مسکین اور مسافرکواُس کا حق۔فضول خرچی نہ کرو۔ (۲۶)فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ (۲۷)اگراُن (حاجت مندوں رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں)سے کترانا ہو اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہوتلاش کر رہے ہو، تو اُنہیں نرم جواب دے دو۔(۲۸) نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اورنہ اُسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔ (۲۹) تیرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔وہ اپنے بندوںکے حال سے باخبر ہے اور دیکھ رہا ہے۔ (بنی اسرائیل: ۲۶تا۳۰) کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہے اور ہم نے اُس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو، ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے۔(۲۲)(یہ سب کچھ اس لئے ہے) تا کہ تم دل شکستہ نہ ہواور جوکچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اُس پر پھول نہ جاؤ۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جواپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں۔(۲۳)جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے پراکساتے ہیں۔اب اگر کوئی منہ موڑتا ہے تو اللہ بے نیاذ اور نمایاں صفات ہے۔(الحدید:۲۲تا۲۴)اے لوگو جو ایمان لائے ہو جو کچھ مال و متاع ہم نے تم کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم اصل میں وہی ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں۔(البقرہ:۲۵۴)
(۷) مال خرچ کرنے کاساتواںاصول اور حکم:اے نبیﷺ ان سے کہو میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو اور اُس سے معافی چاہو۔(۶)تباہی ہے اُن مشرکوں کے لئے،جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں۔(حم السجدہ:۶/۷)پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور اُنہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں اُن خبر لینے کے لئے بیٹھو۔ (۴)پھر اگر وہ توبہ کرلیںاور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو اُنہیں چھوڑ دو۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔(التوبہ:۴/۵)
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام احکامات میں ضرورت مند، محتاج، معذور، مجبور،بیوہ ، یتیم، مقروض، مسافر اور مسکین کی مدد کرنے کے لئے کہا جارہا ہے۔اُن کو تجارت کے لئے آمادہ کرنے اور اس شرط کے ساتھ رقم دینے کی بات کہیں نہیں کی جارہی ہے۔جو لوگ پسماندہ لوگوں کو تجارت کے لئے مدد کرنے کی بات کرتے ہیں، وہ اللہ کے حکم میں اپنے خیال سے ایک نئی بات کا اضافہ کرتے ہیں اور صرف نافرمانی اور بغاوت ہی نہیں ناشکری اور کفر کے حقدار بھی بنتے ہیں۔
کسی بھی ملک یا مقام پر اسلامی قانون کے مطابق ایک ہی بیت المال بنے گا اور پوری مسلم آبادی کی زکوٰۃ اور صدقات اُسی بیت المال میں جمع کی جائے گی۔ایسا نہیں ہوگا کہ سینکڑوں اور ہزاروں انجمنیں اور ادارے بن جائیں اور سب اپنے اپنے مالیاتی فنڈ کو بیت المال کا نام دے کر عوام کو گمراہ کرنے لگیں۔بیت المال قائم کرنے کے لیے شرعی اور اسلامی حکومت کا ہونا بھی ضروری ہے،جہاں ہر اہل ایمان سے بزور طاقت زکوٰۃ وصول کی جائے گی اور انکار کرنے والے کو قتل کر دیا جائے گا، کیونکہ سرکاری بیت المال میں زکوٰۃ نہیں جمع کرکے وہ ایمان سے محروم ہو ںگے اور اسلام سے ہی خارج ہو جائیں گے۔کیا ہمارے ملک میں اس وقت ایسی صورت حال ہے ؟


