خطے کی نازک صورت حال

تاریخ کے طویل سفر میں بعض واقعات محض حادثات نہیں ہوتے بلکہ وقت کے دھارے کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھی اسی نوعیت کا ایک اہم مرحلہ محسوس ہوتی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے پورے خطے کو بے یقینی اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دباؤ کی پالیسی نے اس بحران کو ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی تصادم کا پیش خیمہ بنا دیا۔
یہ بحران محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد ایران کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔ عالمی سیاست میں اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ کسی ریاست کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے پہلے اس کے اندر عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے۔ لیبیا، شام اور عراق کی مثالیں اس حکمت عملی کی یاد دلاتی ہیں۔
اسی تناظر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی خبردار کیا تھا کہ افغانستان دوبارہ شدت پسند گروہوں کا مرکز بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو، جن میں داعش خراسان کے عناصر بھی شامل ہیں، وہاں جمع ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے یہ خدشہ پیدا کیا کہ افغانستان ایک بار پھر بڑی طاقتوں کے درمیان ایک نئے “گریٹ گیم” کا میدان بن سکتا ہے۔
چند رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ شام اور عراق کے جنگی محاذوں سے بچ جانے والے جنگجوؤں کو افغانستان منتقل کیا گیا تاکہ وہاں سے ایران میں بدامنی پھیلائی جا سکے۔ اگر ایسا ہوتا تو ایران کے مختلف علاقوں میں بیک وقت شورش پیدا ہو سکتی تھی، جس سے ریاستی اداروں پر شدید دباؤ پڑ جاتا۔
اگر پورے منظرنامے کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک واقعہ بھی پورے خطے کو بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ عالمی سیاست میں صرف طاقت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی۔ دانشمندی، بروقت فیصلہ اور تحمل بھی تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ بسا اوقات ایک ریاست کا بروقت اقدام پورے خطے کو بڑے بحران سے بچا سکتا ہے۔
موجودہ حالات یہی سبق دیتے ہیں کہ عالمی سیاست کے پیچیدہ شطرنج میں کامیابی اسی کے حصے میں آتی ہے جو طاقت کے ساتھ بصیرت اور دور اندیشی سے قدم اٹھائے۔ تاریخ کے بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جن کی اصل اہمیت آنے والی نسلیں ہی پوری طرح سمجھ پاتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

چیتے کا معصوم بچی پر حملہ

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گاؤں دراگڑ...

پتھر کے بجائے خواب اٹھانے والے پلوامہ کے اویس کی کامیابی کا سفر

عرش مخدومی پلوامہ ، کشمیر   گزشتہ تین دہائیوں کے دوران...

سونا لازمی نہیں، آسان نکاح ہی سنت ہے

    مفتی قاضی توفیق عمر اسلام نے نکاح کو عبادت، عفت...

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو

ابرا ہیم آتش   آج ملک میں خصوصا مسلمان بہت...

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

تازہ ترین خبریں

چیتے کا معصوم بچی پر حملہ

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گاؤں دراگڑ...

پتھر کے بجائے خواب اٹھانے والے پلوامہ کے اویس کی کامیابی کا سفر

عرش مخدومی پلوامہ ، کشمیر   گزشتہ تین دہائیوں کے دوران...

سونا لازمی نہیں، آسان نکاح ہی سنت ہے

    مفتی قاضی توفیق عمر اسلام نے نکاح کو عبادت، عفت...

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو

ابرا ہیم آتش   آج ملک میں خصوصا مسلمان بہت...

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

خطے کی نازک صورت حال

تاریخ کے طویل سفر میں بعض واقعات محض حادثات نہیں ہوتے بلکہ وقت کے دھارے کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھی اسی نوعیت کا ایک اہم مرحلہ محسوس ہوتی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے پورے خطے کو بے یقینی اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دباؤ کی پالیسی نے اس بحران کو ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی تصادم کا پیش خیمہ بنا دیا۔
یہ بحران محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد ایران کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔ عالمی سیاست میں اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ کسی ریاست کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے پہلے اس کے اندر عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے۔ لیبیا، شام اور عراق کی مثالیں اس حکمت عملی کی یاد دلاتی ہیں۔
اسی تناظر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی خبردار کیا تھا کہ افغانستان دوبارہ شدت پسند گروہوں کا مرکز بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو، جن میں داعش خراسان کے عناصر بھی شامل ہیں، وہاں جمع ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے یہ خدشہ پیدا کیا کہ افغانستان ایک بار پھر بڑی طاقتوں کے درمیان ایک نئے “گریٹ گیم” کا میدان بن سکتا ہے۔
چند رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ شام اور عراق کے جنگی محاذوں سے بچ جانے والے جنگجوؤں کو افغانستان منتقل کیا گیا تاکہ وہاں سے ایران میں بدامنی پھیلائی جا سکے۔ اگر ایسا ہوتا تو ایران کے مختلف علاقوں میں بیک وقت شورش پیدا ہو سکتی تھی، جس سے ریاستی اداروں پر شدید دباؤ پڑ جاتا۔
اگر پورے منظرنامے کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک واقعہ بھی پورے خطے کو بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ عالمی سیاست میں صرف طاقت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی۔ دانشمندی، بروقت فیصلہ اور تحمل بھی تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ بسا اوقات ایک ریاست کا بروقت اقدام پورے خطے کو بڑے بحران سے بچا سکتا ہے۔
موجودہ حالات یہی سبق دیتے ہیں کہ عالمی سیاست کے پیچیدہ شطرنج میں کامیابی اسی کے حصے میں آتی ہے جو طاقت کے ساتھ بصیرت اور دور اندیشی سے قدم اٹھائے۔ تاریخ کے بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جن کی اصل اہمیت آنے والی نسلیں ہی پوری طرح سمجھ پاتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں