مسلم تہذیب کے سنہری دور کی غیر معمولی خواتین

 

ڈاکٹر جی۔ایم۔پٹیل

عالمی یومِ خواتین ‘۸ مارچ’ اور رمضان المبارک کا بیک وقت ہونا خواتین کے مقام، احترام اور ان کی قربانیوں کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسلام نے خواتین کو بلند مقام دیا ہے، جبکہ رمضان تقویٰ، صبر اور حسنِ معاشرت سکھاتا ہے۔ یہ دن خواتین کے حقوق کے تحفظ اور روزے کی روحانیت کے ساتھ ان کی خدمات کو سراہنے کا متقاضی ہے۔
ہزاروں سالوں سے مسلم خواتین نے اپنے معاشروں پر اپنا نشان چھوڑا ہے، بعض اوقات تاریخ کا دھارا بدلتے ہوئے زندگی کے اہم شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ مسلم تہذیب میں مختلف عقائد اور پس منظر سے تعلق رکھنے والی غیر معمولی خواتین نے اپنی برادریوں کو آگے بڑھانے کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ ان کی متاثر کن کہانیاں، کرشماتی شخصیات اور اپنے ماحول کی نشوونما میں حصہ ڈالنے کا عزم انہیں وہ روشنی بناتا ہے جو آج کی نوجوان خواتین اور مردوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ مسلم خواتین نے اسلام کی وراثت میں بطور علماء، فقہاء، حکمران، محسن، جنگجو، کاروباری خواتین اور قانونی ماہرین کے طور پر اپنا حصہ ڈالا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کو آپ کے تمام صحابہ نے رہنمائی کی روشنی کے طور پر دیکھا۔ ان کی اہلیہ ’’خدیجہ رضی اللہ عنہا‘‘ جو ان کی معتمد اور ساتھی تھیں، ایک مالدار تاجرہ تھیں اور جب انہیں نبوت ملی تو اخلاقی اور مالی طور پر ان کی بھرپور حمایت کی۔ ’’عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا‘‘ نے ان سے علم کی وسعتیں منتقل کیں اور ایک عظیم فقیہ اور عالمہ بنیں۔ ’’ام سلمہ رضی اللہ عنہا‘‘ کی نصیحت کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حدیبیہ‘‘ کے معاہدے کے وقت قبول کیا تھا۔ حضرت عمر بن الخطاب کی بیٹی ’’حفصہ رضی اللہ عنہا‘‘ اپنے والد کی وفات کے بعد تحریری قرآن کے حوالے سے پہلی شخصیت تھیں۔
احادیث کے تحفظ میں خواتین کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ نصوص کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی دور سے احادیث کے زیادہ تر اہم مرتب کرنے والوں نے ان میں سے اکثر خواتین اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ ابن حجر نے 53 عورتوں سے مطالعہ کیا۔ سخاوی کے پاس 68 عورتوں سے اجازات تھے اور السیوطی نے 33 عورتوں سے تعلیم حاصل کی، جو اس کے شیوخ کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔
چوتھی صدی میں ہم ’’فاطمہ بنت عبدالرحمٰن‘‘ کو پاتے ہیں جنہیں ان کی عظیم تقویٰ کی وجہ سے ’’سفیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سنن کے مشہور مصنف ابو داؤد کی پوتی فاطمہ؛ امۃ الواحد، ممتاز فقیہ المحمیلی کی پوتی؛ ام الفتح امات السلام، جج ابوبکر احمد کی بیٹی؛ جمعہ بنت احمد، جن کی کلاسوں میں ہمیشہ معزز سامعین شرکت کرتے تھے۔
’’فاطمہ بنت الحسن بن علی الدقق القشیری‘‘ پانچویں اور چھٹی صدی کی ایک حدیث کی اسکالر تھیں، جو نہ صرف ان کی تقویٰ اور خطاطی میں مہارت کی وجہ سے مشہور تھیں بلکہ علمِ حدیث اور اسناد کے معیار کے لیے بھی معروف تھیں۔ اس سے بھی زیادہ ممتاز ’’کریمہ المروازیہ‘‘ تھیں، جو اپنے زمانے میں صحیح بخاری کی سب سے بہترین سند سمجھی جاتی تھیں۔ ’ہرات کے ابوذر‘، جو اس دور کے معروف علماء میں سے تھے، نے ان کے اختیار کو اس قدر اہمیت دی کہ اپنے طالب علموں کو مشورہ دیا کہ وہ ان کے سوا کسی اور کے ماتحت صحیح نہ پڑھیں۔ ان کے شاگردوں میں ’الخطیب البغدادی‘ اور ’الحمیدی‘ بھی شامل تھے۔
’’فاطمہ بنت محمد، جسے شاہدہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے مسندہ اصفہان کا قابل فخر خطاب حاصل کیا۔ اس نے ایک صوفی خانقاہ قائم کی جسے اس کے شوہر نے فیاضی سے عطا کیا۔ صحیح البخاری پر ان کے لیکچرز میں طلباء کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی تھی اور بہت سے لوگوں نے ان کے شاگرد ہونے کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا۔ ’’صحیح البخاری‘‘ پر ایک با اختیار عالمہ ’’سیت الوزرا‘‘ بھی تھیں جنہوں نے اسلامی قانون پر مہارت کے ساتھ ساتھ دمشق اور مصر میں صحیح پر لیکچر دیے۔ اسی طرح ’’ام الخیر امۃ الخالق‘‘ کو ’حجاز‘ کی آخری عظیم محدثین میں شمار کیا جاتا ہے۔
ساتویں صدی کے دمشق میں ’’ام الدرداء‘‘ نامی ایک ممتاز ’فقیہہ‘ تھیں جن کے شاگردوں میں خود اس وقت کے خلیفہ عبدالملک بن مروان بھی شامل تھے۔ وہ مسجد میں حدیث اور فقہ کی تعلیم دیتی تھیں۔ الیاس بن معاویہ، جو اس وقت کے ایک اہم عالم اور منصف تھے، انہیں اس دور کے دیگر تمام محدثین سے افضل سمجھتے تھے۔
’’عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص‘‘ ایک فقیہ اور عالمہ تھیں اور مشہور عالم ’امام مالک‘ کی استاد بھی تھیں، جو مالکی مکتبِ فقہ کے بانی ہیں۔ ’’سیدہ نفیسہ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی اور حسن بن علی بن ابو طالب کی صاحبزادی تھیں اور اسلامی فقہ کی ایک عظیم استاد تھیں، جن کے طالب علم دور دراز سے سفر کرتے تھے اور ان میں سے ایک ’’امام شافعی‘‘ بھی تھے، جو شافعی مکتب فقہ کے بانی تھے۔
’’آصفہ بنت عبداللہ‘‘ پہلی مسلم خاتون تھیں جنہیں ’’خلیفہ عمر بن الخطاب‘‘ نے مارکیٹ کی ناظم کے طور پر مقرر کیا۔ ’’عمرہ بنت عبدالرحمن‘‘ آٹھویں صدی کے عظیم علماء میں سے تھیں جو فقیہہ، مفتیہ اور محدثہ تھیں۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا‘‘ سے متعلق روایات کی ایک با اختیار عالمہ سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے شاگردوں میں مدینہ کے مشہور جج ’’ابو بکر بن حازم‘‘ بھی تھے جنہیں ’’خلیفہ عمر بن عبدالعزیز‘‘ نے احادیث کو مرتب کرنے کا حکم دیا تھا۔
’’عائشہ بنت محمد بن عبدالہادی‘‘ دمشق کی ایک عالمہ تھیں جنہوں نے بہت سے ممتاز مسلم مرد علماء کو تعلیم دی۔ انہوں نے اپنے وقت کے بڑے عالم ’’ابن حجر العسقلانی‘‘ کو بھی پڑھایا۔ ’’فاطمہ البطیحیہ‘‘ ایک بزرگ خاتون تھیں جنہوں نے مسجد نبوی میں کافی عرصے تک ’’صحیح البخاری‘‘ کی تعلیم دی۔
نویں صدی میں مراکش کے شہر فیز میں ’’فاطمہ بنت الفہریہ القریشیہ‘‘ نے دنیا کی قدیم ترین مسجد اور یونیورسٹی ’’جامعہ القرویین‘‘ کی بنیاد رکھی۔ سن 859 میں قائم کی گئی قرویین مسجد کو دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ آج بھی تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اسلامی علوم، زبانوں اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر سے طلباء یہاں داخلہ لیتے ہیں۔
قرطبہ کی فاطمہ دسویں صدی کی لائبریرین تھیں جنہوں نے 400000 کتابوں پر مشتمل 70 پبلک لائبریریوں کی نگرانی کی۔ گیارھویں صدی میں ’’بنفشہ الرومیہ‘‘ تھیں جنہوں نے بغداد میں بے گھر خواتین کے لیے اسکول، پل اور عوامی رہائش گاہیں قائم کیں۔
اس کے بعد ’’عبیدہ المدنیہ‘‘، عبدہ بنت بشر، ام عمر ثقفیہ، زینب، علی ابن عبداللہ ابن عباس کی پوتی، ’’نفیسہ بنت الحسن ابن زیاد‘‘، خدیجہ ام محمد اور عبدہ بنت عبدالرحمٰن جیسی بہت سی خواتین تھیں جنہوں نے عوامی سطح پر احادیث بیان کیں۔
’’زینب بنت سلیمان‘‘ پیدائشی طور پر شہزادی تھیں۔ آپ کے والد عباسی خاندان کے بانی السفاح کے رشتہ دار تھے اور المنصور کی خلافت کے دوران بصرہ، عمان اور بحرین کے گورنر رہے۔ ’’زینب‘‘ نے عمدہ تعلیم حاصل کی، احادیث میں مہارت حاصل کی اور اپنے وقت کی ممتاز خواتین علماء میں شمار ہوئیں۔
بارہویں صدی میں ’’شہداء بنت احمد العبری‘‘ تھیں جنہوں نے بغداد میں علمائے حدیث سے تعلیم حاصل کی اور خود ایک عظیم عالمہ اور فقیہہ بنیں اور ’’فخر خواتین‘‘ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ ’’فاطمہ بنت محمد السمرقندی‘‘ بھی ایک فقیہہ تھیں جنہوں نے اپنے مشہور شوہر کو فتوٰی جاری کرنے میں مشورہ دیا۔
انیسویں صدی میں نائجیریا کی ’’نانا اسماؤ بنت عثمان فودی‘‘ ایک شاعرہ، معلمہ اور مشیر تھیں۔
حکمرانوں کے طور پر نمایاں ہونے والی خواتین میں ’’عروہ السلیحی‘‘ شامل ہیں جو گیارہویں صدی کی یمنی حکمران تھیں اور کئی سال حکومت کرتی رہیں۔ ’’سلطانہ شجرۃ الدر‘‘ نے تیرہویں صدی میں اپنے شوہر کی وفات کے بعد مصر کی حکومت سنبھالی۔ ’’ضیفہ خاتون‘‘ حلب کی ملکہ بنیں اور چھ سال تک حکومت کی۔
نویں صدی کے خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ ’’ملکہ زبیدہ‘‘ مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے راستوں پر پانی کے وسائل اور حاجیوں کے لیے مسافر خانوں کی تعمیر کے لیے مشہور ہیں۔ مکہ مکرمہ کے مضافات میں مشہور ’’زبیدہ چشمہ‘‘ آج بھی ان کی یاد دلاتا ہے۔
ہندوستان میں ’’رضیہ سلطانہ‘‘ تیرہویں صدی میں دہلی کی واحد خاتون حکمران تھیں۔ ایک مورخ فرشتہ لکھتا ہے کہ ’’رضیہ اگرچہ ایک عورت تھیں لیکن نہایت بہادر اور دلیر تھیں۔‘‘
مضمون کے اختتام سے پہلے ڈاکٹر اکرم ندوی، جو اسلام میں ’’خواتین اسکالرز‘‘ کے چالیس جلدوں پر مشتمل مجموعہ ’’مجموعۃ المحدثات‘‘ کے مصنف ہیں، کے مطابق اسلامی تاریخ میں خواتین کا کردار بہت وسیع رہا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق تقریباً 8000 مسلم خواتین کے حالات اور علمی خدمات کا ریکارڈ موجود ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اسلامی روایات کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلامی معاشرے میں خواتین نے نہ صرف سماجی بلکہ علمی اور فکری میدانوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اگر انہیں صحیح مواقع اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے تو خواتین معاشرے کی ترقی میں مزید اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

مسلم تہذیب کے سنہری دور کی غیر معمولی خواتین

 

ڈاکٹر جی۔ایم۔پٹیل

عالمی یومِ خواتین ‘۸ مارچ’ اور رمضان المبارک کا بیک وقت ہونا خواتین کے مقام، احترام اور ان کی قربانیوں کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسلام نے خواتین کو بلند مقام دیا ہے، جبکہ رمضان تقویٰ، صبر اور حسنِ معاشرت سکھاتا ہے۔ یہ دن خواتین کے حقوق کے تحفظ اور روزے کی روحانیت کے ساتھ ان کی خدمات کو سراہنے کا متقاضی ہے۔
ہزاروں سالوں سے مسلم خواتین نے اپنے معاشروں پر اپنا نشان چھوڑا ہے، بعض اوقات تاریخ کا دھارا بدلتے ہوئے زندگی کے اہم شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ مسلم تہذیب میں مختلف عقائد اور پس منظر سے تعلق رکھنے والی غیر معمولی خواتین نے اپنی برادریوں کو آگے بڑھانے کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ ان کی متاثر کن کہانیاں، کرشماتی شخصیات اور اپنے ماحول کی نشوونما میں حصہ ڈالنے کا عزم انہیں وہ روشنی بناتا ہے جو آج کی نوجوان خواتین اور مردوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ مسلم خواتین نے اسلام کی وراثت میں بطور علماء، فقہاء، حکمران، محسن، جنگجو، کاروباری خواتین اور قانونی ماہرین کے طور پر اپنا حصہ ڈالا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کو آپ کے تمام صحابہ نے رہنمائی کی روشنی کے طور پر دیکھا۔ ان کی اہلیہ ’’خدیجہ رضی اللہ عنہا‘‘ جو ان کی معتمد اور ساتھی تھیں، ایک مالدار تاجرہ تھیں اور جب انہیں نبوت ملی تو اخلاقی اور مالی طور پر ان کی بھرپور حمایت کی۔ ’’عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا‘‘ نے ان سے علم کی وسعتیں منتقل کیں اور ایک عظیم فقیہ اور عالمہ بنیں۔ ’’ام سلمہ رضی اللہ عنہا‘‘ کی نصیحت کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حدیبیہ‘‘ کے معاہدے کے وقت قبول کیا تھا۔ حضرت عمر بن الخطاب کی بیٹی ’’حفصہ رضی اللہ عنہا‘‘ اپنے والد کی وفات کے بعد تحریری قرآن کے حوالے سے پہلی شخصیت تھیں۔
احادیث کے تحفظ میں خواتین کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ نصوص کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی دور سے احادیث کے زیادہ تر اہم مرتب کرنے والوں نے ان میں سے اکثر خواتین اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ ابن حجر نے 53 عورتوں سے مطالعہ کیا۔ سخاوی کے پاس 68 عورتوں سے اجازات تھے اور السیوطی نے 33 عورتوں سے تعلیم حاصل کی، جو اس کے شیوخ کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔
چوتھی صدی میں ہم ’’فاطمہ بنت عبدالرحمٰن‘‘ کو پاتے ہیں جنہیں ان کی عظیم تقویٰ کی وجہ سے ’’سفیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سنن کے مشہور مصنف ابو داؤد کی پوتی فاطمہ؛ امۃ الواحد، ممتاز فقیہ المحمیلی کی پوتی؛ ام الفتح امات السلام، جج ابوبکر احمد کی بیٹی؛ جمعہ بنت احمد، جن کی کلاسوں میں ہمیشہ معزز سامعین شرکت کرتے تھے۔
’’فاطمہ بنت الحسن بن علی الدقق القشیری‘‘ پانچویں اور چھٹی صدی کی ایک حدیث کی اسکالر تھیں، جو نہ صرف ان کی تقویٰ اور خطاطی میں مہارت کی وجہ سے مشہور تھیں بلکہ علمِ حدیث اور اسناد کے معیار کے لیے بھی معروف تھیں۔ اس سے بھی زیادہ ممتاز ’’کریمہ المروازیہ‘‘ تھیں، جو اپنے زمانے میں صحیح بخاری کی سب سے بہترین سند سمجھی جاتی تھیں۔ ’ہرات کے ابوذر‘، جو اس دور کے معروف علماء میں سے تھے، نے ان کے اختیار کو اس قدر اہمیت دی کہ اپنے طالب علموں کو مشورہ دیا کہ وہ ان کے سوا کسی اور کے ماتحت صحیح نہ پڑھیں۔ ان کے شاگردوں میں ’الخطیب البغدادی‘ اور ’الحمیدی‘ بھی شامل تھے۔
’’فاطمہ بنت محمد، جسے شاہدہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے مسندہ اصفہان کا قابل فخر خطاب حاصل کیا۔ اس نے ایک صوفی خانقاہ قائم کی جسے اس کے شوہر نے فیاضی سے عطا کیا۔ صحیح البخاری پر ان کے لیکچرز میں طلباء کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی تھی اور بہت سے لوگوں نے ان کے شاگرد ہونے کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا۔ ’’صحیح البخاری‘‘ پر ایک با اختیار عالمہ ’’سیت الوزرا‘‘ بھی تھیں جنہوں نے اسلامی قانون پر مہارت کے ساتھ ساتھ دمشق اور مصر میں صحیح پر لیکچر دیے۔ اسی طرح ’’ام الخیر امۃ الخالق‘‘ کو ’حجاز‘ کی آخری عظیم محدثین میں شمار کیا جاتا ہے۔
ساتویں صدی کے دمشق میں ’’ام الدرداء‘‘ نامی ایک ممتاز ’فقیہہ‘ تھیں جن کے شاگردوں میں خود اس وقت کے خلیفہ عبدالملک بن مروان بھی شامل تھے۔ وہ مسجد میں حدیث اور فقہ کی تعلیم دیتی تھیں۔ الیاس بن معاویہ، جو اس وقت کے ایک اہم عالم اور منصف تھے، انہیں اس دور کے دیگر تمام محدثین سے افضل سمجھتے تھے۔
’’عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص‘‘ ایک فقیہ اور عالمہ تھیں اور مشہور عالم ’امام مالک‘ کی استاد بھی تھیں، جو مالکی مکتبِ فقہ کے بانی ہیں۔ ’’سیدہ نفیسہ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی اور حسن بن علی بن ابو طالب کی صاحبزادی تھیں اور اسلامی فقہ کی ایک عظیم استاد تھیں، جن کے طالب علم دور دراز سے سفر کرتے تھے اور ان میں سے ایک ’’امام شافعی‘‘ بھی تھے، جو شافعی مکتب فقہ کے بانی تھے۔
’’آصفہ بنت عبداللہ‘‘ پہلی مسلم خاتون تھیں جنہیں ’’خلیفہ عمر بن الخطاب‘‘ نے مارکیٹ کی ناظم کے طور پر مقرر کیا۔ ’’عمرہ بنت عبدالرحمن‘‘ آٹھویں صدی کے عظیم علماء میں سے تھیں جو فقیہہ، مفتیہ اور محدثہ تھیں۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا‘‘ سے متعلق روایات کی ایک با اختیار عالمہ سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے شاگردوں میں مدینہ کے مشہور جج ’’ابو بکر بن حازم‘‘ بھی تھے جنہیں ’’خلیفہ عمر بن عبدالعزیز‘‘ نے احادیث کو مرتب کرنے کا حکم دیا تھا۔
’’عائشہ بنت محمد بن عبدالہادی‘‘ دمشق کی ایک عالمہ تھیں جنہوں نے بہت سے ممتاز مسلم مرد علماء کو تعلیم دی۔ انہوں نے اپنے وقت کے بڑے عالم ’’ابن حجر العسقلانی‘‘ کو بھی پڑھایا۔ ’’فاطمہ البطیحیہ‘‘ ایک بزرگ خاتون تھیں جنہوں نے مسجد نبوی میں کافی عرصے تک ’’صحیح البخاری‘‘ کی تعلیم دی۔
نویں صدی میں مراکش کے شہر فیز میں ’’فاطمہ بنت الفہریہ القریشیہ‘‘ نے دنیا کی قدیم ترین مسجد اور یونیورسٹی ’’جامعہ القرویین‘‘ کی بنیاد رکھی۔ سن 859 میں قائم کی گئی قرویین مسجد کو دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ آج بھی تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اسلامی علوم، زبانوں اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر سے طلباء یہاں داخلہ لیتے ہیں۔
قرطبہ کی فاطمہ دسویں صدی کی لائبریرین تھیں جنہوں نے 400000 کتابوں پر مشتمل 70 پبلک لائبریریوں کی نگرانی کی۔ گیارھویں صدی میں ’’بنفشہ الرومیہ‘‘ تھیں جنہوں نے بغداد میں بے گھر خواتین کے لیے اسکول، پل اور عوامی رہائش گاہیں قائم کیں۔
اس کے بعد ’’عبیدہ المدنیہ‘‘، عبدہ بنت بشر، ام عمر ثقفیہ، زینب، علی ابن عبداللہ ابن عباس کی پوتی، ’’نفیسہ بنت الحسن ابن زیاد‘‘، خدیجہ ام محمد اور عبدہ بنت عبدالرحمٰن جیسی بہت سی خواتین تھیں جنہوں نے عوامی سطح پر احادیث بیان کیں۔
’’زینب بنت سلیمان‘‘ پیدائشی طور پر شہزادی تھیں۔ آپ کے والد عباسی خاندان کے بانی السفاح کے رشتہ دار تھے اور المنصور کی خلافت کے دوران بصرہ، عمان اور بحرین کے گورنر رہے۔ ’’زینب‘‘ نے عمدہ تعلیم حاصل کی، احادیث میں مہارت حاصل کی اور اپنے وقت کی ممتاز خواتین علماء میں شمار ہوئیں۔
بارہویں صدی میں ’’شہداء بنت احمد العبری‘‘ تھیں جنہوں نے بغداد میں علمائے حدیث سے تعلیم حاصل کی اور خود ایک عظیم عالمہ اور فقیہہ بنیں اور ’’فخر خواتین‘‘ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ ’’فاطمہ بنت محمد السمرقندی‘‘ بھی ایک فقیہہ تھیں جنہوں نے اپنے مشہور شوہر کو فتوٰی جاری کرنے میں مشورہ دیا۔
انیسویں صدی میں نائجیریا کی ’’نانا اسماؤ بنت عثمان فودی‘‘ ایک شاعرہ، معلمہ اور مشیر تھیں۔
حکمرانوں کے طور پر نمایاں ہونے والی خواتین میں ’’عروہ السلیحی‘‘ شامل ہیں جو گیارہویں صدی کی یمنی حکمران تھیں اور کئی سال حکومت کرتی رہیں۔ ’’سلطانہ شجرۃ الدر‘‘ نے تیرہویں صدی میں اپنے شوہر کی وفات کے بعد مصر کی حکومت سنبھالی۔ ’’ضیفہ خاتون‘‘ حلب کی ملکہ بنیں اور چھ سال تک حکومت کی۔
نویں صدی کے خلیفہ ہارون الرشید کی اہلیہ ’’ملکہ زبیدہ‘‘ مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے راستوں پر پانی کے وسائل اور حاجیوں کے لیے مسافر خانوں کی تعمیر کے لیے مشہور ہیں۔ مکہ مکرمہ کے مضافات میں مشہور ’’زبیدہ چشمہ‘‘ آج بھی ان کی یاد دلاتا ہے۔
ہندوستان میں ’’رضیہ سلطانہ‘‘ تیرہویں صدی میں دہلی کی واحد خاتون حکمران تھیں۔ ایک مورخ فرشتہ لکھتا ہے کہ ’’رضیہ اگرچہ ایک عورت تھیں لیکن نہایت بہادر اور دلیر تھیں۔‘‘
مضمون کے اختتام سے پہلے ڈاکٹر اکرم ندوی، جو اسلام میں ’’خواتین اسکالرز‘‘ کے چالیس جلدوں پر مشتمل مجموعہ ’’مجموعۃ المحدثات‘‘ کے مصنف ہیں، کے مطابق اسلامی تاریخ میں خواتین کا کردار بہت وسیع رہا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق تقریباً 8000 مسلم خواتین کے حالات اور علمی خدمات کا ریکارڈ موجود ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اسلامی روایات کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلامی معاشرے میں خواتین نے نہ صرف سماجی بلکہ علمی اور فکری میدانوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اگر انہیں صحیح مواقع اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے تو خواتین معاشرے کی ترقی میں مزید اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں