اسرائیل کے قیام سے ایران پر حملے تک

 

اختر جمال عثمانی

فلسطین میں یہودی آبادی برطانوی دورِ حکومت کے آغاز میں صرف 9 فیصد تھی، لیکن برطانیہ کی سرپرستی میں یورپ سے بڑے پیمانے پر یہودیوں نے آ کر آباد ہونا شروع کیا۔ 1922ء سے 1935ء کے درمیان یہ تناسب بڑھ کر تقریباً 27 فیصد ہو گیا۔ برطانیہ کی حکومت ہونے کی وجہ فلسطینیوں کو سیاسی فیصلوں سے بھی باہر رکھا گیا۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپ میں نازی جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام (ہولوکاسٹ) نے یہودی قوم کے لیے ایک الگ وطن کے مطالبے کو مزید تقویت دی۔ اس کے نتیجے میں فلسطین کی طرف جانے والے یہودیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا، حالانکہ برطانوی حکومت نے 1939ء میں اس کو محدود کرنے کی بات کی تھی۔29 نومبر 1947ء کو اقوامِ متحدہ نے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد منظور کی۔ فلسطینی عربوں نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا کیونکہ یہ ان کی مرضی اور حقِ خودارادیت کے خلاف تھا۔ اس کے باوجود 14 مئی 1948ء کو ریاستِ اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا، جسے فوراً امریکہ اور بعد میں سوویت یونین نے تسلیم کر لیا۔
اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں اسرائیل نہ صرف کامیاب ہوا بلکہ اقوامِ متحدہ کے منصوبے سے بھی زیادہ زمین پر قبضہ کر لیا۔ فلسطینی اس سانحے کو ’’النقبہ‘‘ یعنی تباہی کہتے ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں تقریباً سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر مہاجر بن گئے۔1959ء میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ الفتح نامی تنظیم قائم کی۔ 1964ء میں مختلف فلسطینی گروہوں کو متحد کر کے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) بنائی گئی، جس کا مقصد اسرائیلی قبضے کے خلاف منظم جدوجہد کرنا تھا۔1967ء میں اسرائیل اور مصر، اردن اور شام کے درمیان چھ روزہ جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں اور سینائی پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ بعد میں کیمپ ڈیوڈ میں ہوئے سمجھوتے کے تحت سینائی مصر کو واپس کر دیا گیا، مگر باقی علاقے آج بھی تنازع کا مرکز ہیں۔1973 ء میں مصر اور شام نے اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس جنگ کے بعد امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی اور شاہ فیصل کی تیل پر ہاندیوں کی وجہ سے پہلی بار یہ احساس ابھرا کہ عسکری حل کے بجائے سفارت کاری کی ضرورت ہے۔1974ء میں یاسر عرفات نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ اور دوسرے میں بندوق لے کر آئے ہیں۔ یہ تقریر فلسطینی مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوئی۔
پہلا انتفاضہ(: عوامی مزاحمت)1987ء میں شروع ہوا، جو فلسطینی عوام کی ایک عوامی اور نسبتاً غیر مسلح بغاوت تھی۔ اس دوران بڑے پیمانے پر احتجاج، ہڑتالیں اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کیے گئے۔ اسرائیلی کارروائیوں میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق ہوئے۔1993ء میں اوسلو معاہدہ ہوا جس کے تحت فلسطینی خودمختاری کی امید پیدا ہوئی۔ یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا۔ دونوں کو امن کا نوبل پرائز ملا لیکن عملی طور پر فلسطینی ریاست قائم نہ ہو سکی۔ 1995ء میں رابن کے قتل کے بعد امن کا عمل تقریباً رک گیا۔2000ء سے 2005ء تک دوسرا انتفاضہ پہلے سے زیادہ خونریز ثابت ہوا۔ اس دوران ہزاروں فلسطینی اور اسرائیلی مارے گئے۔ باہمی اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا۔امریکہ نے اسرائیل کو بے مثال فوجی امداد دی۔ 2017ء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا، جس پر دنیا بھر میں شدید ردعمل ہوا۔ اسی طرح گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو بھی تسلیم کیا گیا۔ٹرمپ کا پیش کردہ منصوبہ ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ فلسطینیوں، عرب دنیا اور اسلامی ممالک نے مسترد کر دیا کیونکہ یہ فلسطینی حقوق کے منافی تھا اور دو ریاستی حل کو ختم کرنے کے مترادف تھا۔
یہی پس منظر تھا جس میں7 اکتوبر 2023 کے واقعات رونما ہوئے۔ غزہ ایک طویل محاصرے میں تھا، جہاں پانی، بجلی، دوائیں اور روزگار سب اسرائیلی کنٹرول میں تھے۔ اسی گھٹن زدہ ماحول میں حماس نے اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملہ کیا جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسرائیل میںکچھ عام شہری ہلاک ہوئے، جسے عالمی میڈیا نے فوری طور پر نمایاں کیا اور اسے دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا گیا۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ جدید تاریخ حولناک واقعہ ہے۔اسرائیل نے غزہ پر ایسی وحشیانہ بمباری شروع کی جو ہفتوں اور مہینوں تک جاری رہی۔ جدید ترین ہتھیار، فضائی حملے، زمینی یلغار اور مکمل ناکہ بندی کے ذریعے غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا گیا۔ تقریباََ ستر ہزار فلسطینی مرد، عورتیں اور بچے مارے گئے۔ پورے پورے خاندان صفح ہستی سے مٹ گئے۔ اسپتال، اسکول، مساجد، گرجا گھر، پناہ گاہیں، حتیٰ کہ ایمبولینسیں بھی محفوظ نہ رہیں۔ لوگ اسپتالوں میں دم توڑتے رہے کیونکہ بجلی کاٹ دی گئی تھی۔ لاشوں کو دفنانے کی جگہ نہ رہی اور ملبے کے نیچے دبی ہوئی لاشیں مہینوں بعد تک نکالی جاتی رہیں۔صحافت جو سچ کی گواہ ہوتی ہے، وہ بھی اس جنگ میں نشانہ بنی۔ بے شمار صحافی ہلاک ہوئے، اتی وی چینل خاموش کر دیے گئے تاکہ تباہی کی مکمل تصویر دنیا کے سامنے نہ آ سکے۔ اس سب کے باوجود عالمی طاقتوں کی زبان پر اسرائیل کے ’’دفاع کا حق‘‘ ہی رہا، جبکہ فلسطینیوں کے جینے کے حق پر سوالیہ نشان لگا رہا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اسی دوران عالمی سیاست میں ایک بار پھر پرانے چہرے اور پرانے منصوبے سامنے آئے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام نہاد امن منصوبہ، جسے ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ کہا گیا، دراصل فلسطینی حقوق کو ختم کرنے کا خاکہ تھا۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا، فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو دفن کرنا اور معاشی لالچ کے بدلے سیاسی غلامی کی پیشکش کرنا، یہ سب اس منصوبے کا حصہ تھا۔ فلسطینیوں، عرب دنیا اور عالمی انصاف پسند حلقوں نے اسے مسترد کر دیا۔
اسرائیل کے تحفظ کے نام پر دیگر ممالک بھی مسلسل نشانے پر رہے ۔یہی منطق عراق، لیبیا اور شام میں بھی دہرائی گئی۔ کبھی اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں کا بہانہ، کبھی آمریت کا خاتمہ اور کبھی اسرائیل کے تحفظ کا جواز پیش کر کے پورے پورے ممالک کو کھنڈر بنا دیا گیا۔ عراق میں لاکھوں افراد مارے گئے، ایک مستحکم معاشرہ فرقہ واریت اور بدامنی میں ڈوب گیا۔ لیبیا میں حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کو خانہ جنگی کے حوالے کر دیا گیا۔ شام میں طویل جنگ نے لاکھوں جانیں لیں، شہر اجڑ گئے اور کروڑوں لوگ مہاجر بن گئے۔ ان تمام تباہ کاریوں کا ایک مشترکہ پہلو تھا: اسرائیل کی سلامتی اور مغربی مفادات۔
ایران کو ہمیشہ ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یورینیم افزودگی اور میزائل پروگرام کو بہانہ بنا کر ایران پر حملے کیے گئے، اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوئی،اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد پر ایران کے سائنسدانوں کے قتل، تخریبی کارروائیوں اور اس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا الزام لگتا رہا ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے گرد دائرہ تنگ گیا اور امریکہ اور اسرائیل کی طرف ایران پر حملہ کر دیا گیا ۔ بے پناہ تباہی کے ساتھ ساتھ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر سرکاری اعلیٰ فوجی و سرکاری افسران کو شہید کر دیا گیا۔ جس کے ردعمل میں خلیجی ریاستوں بحرین، قطر،یو اے ای، سعودی عرب، وغیرہ کے سارے امریکن بیسوں سمیت اسرئیل پر ایران کے میزائیل حملے تا حال جاری ہیں۔ ایران پر حملے کا مقصد اس کو کمزور کرنا اور اس پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنا تھا جس میں اسرئیل اور امریکہ کامیاب ہوتے نہیں دکھ رہے ہیں ۔ ان شہادتوں نے ایران کو متحد کر دیا ہے۔ان تمام واقعات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ تصویر صرف فلسطین کی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی ہے، کب تک قابض کو مظلوم اور مظلوم کو دہشت گرد کہا جاتا رہے گا۔فلسطین آج بھی زندہ ہے، ملبے کے نیچے دبی ہوئی لاشوں، یتیم بچوں کی آنکھوں اور بے گھر عورتوں کی آہوں میں زندہ ہے۔ یہ مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ کیا حقوق انسانی اور آزادی کے حقدار صرف مغرب کے باشندے ہیں۔ اگر انصاف واقعی عالمی قدر ہے تو اسے طاقتور اور کمزور کے لیے برابر ہونا ہی ہوگا۔دیکھئے کب ہوتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

اسرائیل کے قیام سے ایران پر حملے تک

 

اختر جمال عثمانی

فلسطین میں یہودی آبادی برطانوی دورِ حکومت کے آغاز میں صرف 9 فیصد تھی، لیکن برطانیہ کی سرپرستی میں یورپ سے بڑے پیمانے پر یہودیوں نے آ کر آباد ہونا شروع کیا۔ 1922ء سے 1935ء کے درمیان یہ تناسب بڑھ کر تقریباً 27 فیصد ہو گیا۔ برطانیہ کی حکومت ہونے کی وجہ فلسطینیوں کو سیاسی فیصلوں سے بھی باہر رکھا گیا۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپ میں نازی جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام (ہولوکاسٹ) نے یہودی قوم کے لیے ایک الگ وطن کے مطالبے کو مزید تقویت دی۔ اس کے نتیجے میں فلسطین کی طرف جانے والے یہودیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا، حالانکہ برطانوی حکومت نے 1939ء میں اس کو محدود کرنے کی بات کی تھی۔29 نومبر 1947ء کو اقوامِ متحدہ نے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد منظور کی۔ فلسطینی عربوں نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا کیونکہ یہ ان کی مرضی اور حقِ خودارادیت کے خلاف تھا۔ اس کے باوجود 14 مئی 1948ء کو ریاستِ اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا، جسے فوراً امریکہ اور بعد میں سوویت یونین نے تسلیم کر لیا۔
اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں اسرائیل نہ صرف کامیاب ہوا بلکہ اقوامِ متحدہ کے منصوبے سے بھی زیادہ زمین پر قبضہ کر لیا۔ فلسطینی اس سانحے کو ’’النقبہ‘‘ یعنی تباہی کہتے ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں تقریباً سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر مہاجر بن گئے۔1959ء میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ الفتح نامی تنظیم قائم کی۔ 1964ء میں مختلف فلسطینی گروہوں کو متحد کر کے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) بنائی گئی، جس کا مقصد اسرائیلی قبضے کے خلاف منظم جدوجہد کرنا تھا۔1967ء میں اسرائیل اور مصر، اردن اور شام کے درمیان چھ روزہ جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں اور سینائی پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ بعد میں کیمپ ڈیوڈ میں ہوئے سمجھوتے کے تحت سینائی مصر کو واپس کر دیا گیا، مگر باقی علاقے آج بھی تنازع کا مرکز ہیں۔1973 ء میں مصر اور شام نے اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس جنگ کے بعد امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی اور شاہ فیصل کی تیل پر ہاندیوں کی وجہ سے پہلی بار یہ احساس ابھرا کہ عسکری حل کے بجائے سفارت کاری کی ضرورت ہے۔1974ء میں یاسر عرفات نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ اور دوسرے میں بندوق لے کر آئے ہیں۔ یہ تقریر فلسطینی مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوئی۔
پہلا انتفاضہ(: عوامی مزاحمت)1987ء میں شروع ہوا، جو فلسطینی عوام کی ایک عوامی اور نسبتاً غیر مسلح بغاوت تھی۔ اس دوران بڑے پیمانے پر احتجاج، ہڑتالیں اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کیے گئے۔ اسرائیلی کارروائیوں میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق ہوئے۔1993ء میں اوسلو معاہدہ ہوا جس کے تحت فلسطینی خودمختاری کی امید پیدا ہوئی۔ یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا۔ دونوں کو امن کا نوبل پرائز ملا لیکن عملی طور پر فلسطینی ریاست قائم نہ ہو سکی۔ 1995ء میں رابن کے قتل کے بعد امن کا عمل تقریباً رک گیا۔2000ء سے 2005ء تک دوسرا انتفاضہ پہلے سے زیادہ خونریز ثابت ہوا۔ اس دوران ہزاروں فلسطینی اور اسرائیلی مارے گئے۔ باہمی اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا۔امریکہ نے اسرائیل کو بے مثال فوجی امداد دی۔ 2017ء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا، جس پر دنیا بھر میں شدید ردعمل ہوا۔ اسی طرح گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو بھی تسلیم کیا گیا۔ٹرمپ کا پیش کردہ منصوبہ ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ فلسطینیوں، عرب دنیا اور اسلامی ممالک نے مسترد کر دیا کیونکہ یہ فلسطینی حقوق کے منافی تھا اور دو ریاستی حل کو ختم کرنے کے مترادف تھا۔
یہی پس منظر تھا جس میں7 اکتوبر 2023 کے واقعات رونما ہوئے۔ غزہ ایک طویل محاصرے میں تھا، جہاں پانی، بجلی، دوائیں اور روزگار سب اسرائیلی کنٹرول میں تھے۔ اسی گھٹن زدہ ماحول میں حماس نے اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملہ کیا جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسرائیل میںکچھ عام شہری ہلاک ہوئے، جسے عالمی میڈیا نے فوری طور پر نمایاں کیا اور اسے دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا گیا۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ جدید تاریخ حولناک واقعہ ہے۔اسرائیل نے غزہ پر ایسی وحشیانہ بمباری شروع کی جو ہفتوں اور مہینوں تک جاری رہی۔ جدید ترین ہتھیار، فضائی حملے، زمینی یلغار اور مکمل ناکہ بندی کے ذریعے غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا گیا۔ تقریباََ ستر ہزار فلسطینی مرد، عورتیں اور بچے مارے گئے۔ پورے پورے خاندان صفح ہستی سے مٹ گئے۔ اسپتال، اسکول، مساجد، گرجا گھر، پناہ گاہیں، حتیٰ کہ ایمبولینسیں بھی محفوظ نہ رہیں۔ لوگ اسپتالوں میں دم توڑتے رہے کیونکہ بجلی کاٹ دی گئی تھی۔ لاشوں کو دفنانے کی جگہ نہ رہی اور ملبے کے نیچے دبی ہوئی لاشیں مہینوں بعد تک نکالی جاتی رہیں۔صحافت جو سچ کی گواہ ہوتی ہے، وہ بھی اس جنگ میں نشانہ بنی۔ بے شمار صحافی ہلاک ہوئے، اتی وی چینل خاموش کر دیے گئے تاکہ تباہی کی مکمل تصویر دنیا کے سامنے نہ آ سکے۔ اس سب کے باوجود عالمی طاقتوں کی زبان پر اسرائیل کے ’’دفاع کا حق‘‘ ہی رہا، جبکہ فلسطینیوں کے جینے کے حق پر سوالیہ نشان لگا رہا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اسی دوران عالمی سیاست میں ایک بار پھر پرانے چہرے اور پرانے منصوبے سامنے آئے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام نہاد امن منصوبہ، جسے ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ کہا گیا، دراصل فلسطینی حقوق کو ختم کرنے کا خاکہ تھا۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا، فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو دفن کرنا اور معاشی لالچ کے بدلے سیاسی غلامی کی پیشکش کرنا، یہ سب اس منصوبے کا حصہ تھا۔ فلسطینیوں، عرب دنیا اور عالمی انصاف پسند حلقوں نے اسے مسترد کر دیا۔
اسرائیل کے تحفظ کے نام پر دیگر ممالک بھی مسلسل نشانے پر رہے ۔یہی منطق عراق، لیبیا اور شام میں بھی دہرائی گئی۔ کبھی اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں کا بہانہ، کبھی آمریت کا خاتمہ اور کبھی اسرائیل کے تحفظ کا جواز پیش کر کے پورے پورے ممالک کو کھنڈر بنا دیا گیا۔ عراق میں لاکھوں افراد مارے گئے، ایک مستحکم معاشرہ فرقہ واریت اور بدامنی میں ڈوب گیا۔ لیبیا میں حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کو خانہ جنگی کے حوالے کر دیا گیا۔ شام میں طویل جنگ نے لاکھوں جانیں لیں، شہر اجڑ گئے اور کروڑوں لوگ مہاجر بن گئے۔ ان تمام تباہ کاریوں کا ایک مشترکہ پہلو تھا: اسرائیل کی سلامتی اور مغربی مفادات۔
ایران کو ہمیشہ ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یورینیم افزودگی اور میزائل پروگرام کو بہانہ بنا کر ایران پر حملے کیے گئے، اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوئی،اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد پر ایران کے سائنسدانوں کے قتل، تخریبی کارروائیوں اور اس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا الزام لگتا رہا ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے گرد دائرہ تنگ گیا اور امریکہ اور اسرائیل کی طرف ایران پر حملہ کر دیا گیا ۔ بے پناہ تباہی کے ساتھ ساتھ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر سرکاری اعلیٰ فوجی و سرکاری افسران کو شہید کر دیا گیا۔ جس کے ردعمل میں خلیجی ریاستوں بحرین، قطر،یو اے ای، سعودی عرب، وغیرہ کے سارے امریکن بیسوں سمیت اسرئیل پر ایران کے میزائیل حملے تا حال جاری ہیں۔ ایران پر حملے کا مقصد اس کو کمزور کرنا اور اس پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنا تھا جس میں اسرئیل اور امریکہ کامیاب ہوتے نہیں دکھ رہے ہیں ۔ ان شہادتوں نے ایران کو متحد کر دیا ہے۔ان تمام واقعات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ تصویر صرف فلسطین کی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی ہے، کب تک قابض کو مظلوم اور مظلوم کو دہشت گرد کہا جاتا رہے گا۔فلسطین آج بھی زندہ ہے، ملبے کے نیچے دبی ہوئی لاشوں، یتیم بچوں کی آنکھوں اور بے گھر عورتوں کی آہوں میں زندہ ہے۔ یہ مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ کیا حقوق انسانی اور آزادی کے حقدار صرف مغرب کے باشندے ہیں۔ اگر انصاف واقعی عالمی قدر ہے تو اسے طاقتور اور کمزور کے لیے برابر ہونا ہی ہوگا۔دیکھئے کب ہوتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں