ٹوٹے ہوئے وعدے اور جلتا ہوا مغربی ایشیا

وائٹ ہاوس کی راہداریوں سے کیا گیا یہ وعدہ کہ امریکہ اپنی نہ ختم ہونے والی جنگوں کا خاتمہ کرے گا، آج مغربی ایشیا کی سلگتی ہوئی فضا میں بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے وقت خود کو امن کا داعی اور ماضی کی عسکری مہم جوئیوں کا ناقد قرار دیا تھا، مگر حالیہ اقدامات نے اس دعوے کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
28فروری کو اسرائیلی” وزیر اعظم” نیتن یاہوکے ساتھ مل کر ایران کے خلاف بھرپور جنگی کارروائی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت نے خطے کو ایک خطرناک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ کسی خودمختار ریاست کے سربراہ کو نشانہ بنانا بین الاقوامی نظام کے لئے غیر معمولی اور اشتعال انگیز قدم سمجھا جاتا ہے۔ اس اقدام نے سفارت کاری کے دروازے مزید تنگ اور تصادم کے راستے مزید کشادہ کر دیے ہیں۔
امریکی قیادت کا یہ طرزِ عمل اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طاقت کا استعمال خارجہ پالیسی کا اولین ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک میں فوجی کارروائیوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا واشنگٹن عالمی قوانین اور روایتی سفارتی اصولوں کی پاسداری کے لئے سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ امن کے وعدوں کی جگہ اب دھماکوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
ادھر بن یامین نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل پر بھی بین الاقوامی قانون سے انحراف کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان کے خلاف International Criminal Court میں زیرِ سماعت مقدمات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں طاقت کے بے محابا استعمال سے نہ صرف خطے کا امن بلکہ عالمی ضمیر بھی مجروح ہوتا ہے۔
ایران نے جواباً میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیلی اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ مزید تشویش ناک پہلو تہران کی جانب سے Strait of Hormuz کو بند کرنے کا اعلان ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل رسد کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ اس کی بندش عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر توانائی درآمد کرنے والے ممالک جیسے ہندوستان کے لئے یہ صورتحال مہنگائی، زرِ مبادلہ کے دباؤ اور معاشی سست روی کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ تنازع صرف دو یا تین ملکوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک ایسے خطے کی کہانی ہے جو پہلے ہی عدم استحکام، پراکسی جنگوں اور سیاسی کشیدگی کا شکار ہے۔ اگر اس آگ کو فوری طور پر نہ بجھایا گیا تو اس کے شعلے عالمی امن اور معیشت دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور بامعنی مذاکرات کے لئے کردار ادا کرے۔ طاقت کے زور پر حاصل کی گئی برتری عارضی ہو سکتی ہے، مگر اس کے نتائج دیرپا اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ اگر قیادتیں اپنے وعدوں اور عالمی ذمہ داریوں کو یاد نہ رکھیں تو تاریخ انہیں سختی سے یاد رکھتی ہے۔
آج مغربی ایشیا کی سرزمین سے اٹھتا ہوا دھواں یہی سوال کر رہا ہے کہ کیا جنگ ہی مسائل کا واحد حل ہے، یا ابھی بھی مکالمے اور مفاہمت کا راستہ باقی ہے۔
خخخ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

ٹوٹے ہوئے وعدے اور جلتا ہوا مغربی ایشیا

وائٹ ہاوس کی راہداریوں سے کیا گیا یہ وعدہ کہ امریکہ اپنی نہ ختم ہونے والی جنگوں کا خاتمہ کرے گا، آج مغربی ایشیا کی سلگتی ہوئی فضا میں بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے وقت خود کو امن کا داعی اور ماضی کی عسکری مہم جوئیوں کا ناقد قرار دیا تھا، مگر حالیہ اقدامات نے اس دعوے کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
28فروری کو اسرائیلی” وزیر اعظم” نیتن یاہوکے ساتھ مل کر ایران کے خلاف بھرپور جنگی کارروائی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت نے خطے کو ایک خطرناک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ کسی خودمختار ریاست کے سربراہ کو نشانہ بنانا بین الاقوامی نظام کے لئے غیر معمولی اور اشتعال انگیز قدم سمجھا جاتا ہے۔ اس اقدام نے سفارت کاری کے دروازے مزید تنگ اور تصادم کے راستے مزید کشادہ کر دیے ہیں۔
امریکی قیادت کا یہ طرزِ عمل اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طاقت کا استعمال خارجہ پالیسی کا اولین ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک میں فوجی کارروائیوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا واشنگٹن عالمی قوانین اور روایتی سفارتی اصولوں کی پاسداری کے لئے سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ امن کے وعدوں کی جگہ اب دھماکوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
ادھر بن یامین نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل پر بھی بین الاقوامی قانون سے انحراف کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان کے خلاف International Criminal Court میں زیرِ سماعت مقدمات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں طاقت کے بے محابا استعمال سے نہ صرف خطے کا امن بلکہ عالمی ضمیر بھی مجروح ہوتا ہے۔
ایران نے جواباً میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیلی اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ مزید تشویش ناک پہلو تہران کی جانب سے Strait of Hormuz کو بند کرنے کا اعلان ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل رسد کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ اس کی بندش عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر توانائی درآمد کرنے والے ممالک جیسے ہندوستان کے لئے یہ صورتحال مہنگائی، زرِ مبادلہ کے دباؤ اور معاشی سست روی کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ تنازع صرف دو یا تین ملکوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک ایسے خطے کی کہانی ہے جو پہلے ہی عدم استحکام، پراکسی جنگوں اور سیاسی کشیدگی کا شکار ہے۔ اگر اس آگ کو فوری طور پر نہ بجھایا گیا تو اس کے شعلے عالمی امن اور معیشت دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور بامعنی مذاکرات کے لئے کردار ادا کرے۔ طاقت کے زور پر حاصل کی گئی برتری عارضی ہو سکتی ہے، مگر اس کے نتائج دیرپا اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ اگر قیادتیں اپنے وعدوں اور عالمی ذمہ داریوں کو یاد نہ رکھیں تو تاریخ انہیں سختی سے یاد رکھتی ہے۔
آج مغربی ایشیا کی سرزمین سے اٹھتا ہوا دھواں یہی سوال کر رہا ہے کہ کیا جنگ ہی مسائل کا واحد حل ہے، یا ابھی بھی مکالمے اور مفاہمت کا راستہ باقی ہے۔
خخخ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں