خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے اور بیشتر عملے کے انخلاء کی اطلاعات نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اگر یہ صورتحال اسی نوعیت کی ہے جیسی بیان کی جا رہی ہے تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں علاقائی طاقت کے توازن میں سب سے بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے ان تنصیبات کو مؤثر طور پر غیر فعال کر دیا ہے، جس کے بعد خلیجی حکمران خود کو امریکی سکیورٹی چھتری کے بغیر کھڑا پا رہے ہیں۔
طویل عرصے سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت جیسے ممالک کے لیے امریکی فوجی موجودگی ایک دفاعی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ یہ اڈے نہ صرف بیرونی خطرات کے خلاف ڈھال تھے بلکہ واشنگٹن کی علاقائی برتری کی علامت بھی۔ اگر یہ نیٹ ورک واقعی کمزور یا غیر فعال ہو چکا ہے تو اس کے اثرات محض عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہوں گے۔
خصوصاً بحرین میں قائم امریکی بحری اڈے کی تباہی کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ بحرین کی داخلی سیاست پہلے ہی حساس رہی ہے، جہاں حکومت اور بعض عوامی حلقوں کے درمیان کشیدگی موجود رہی ہے۔ اگر امریکی موجودگی کمزور پڑتی ہے اور ساتھ ہی عوامی احتجاج میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
یہ دعویٰ کہ دوسری جنگ عظیم یا نوآبادیاتی دور کے بعد پہلی بار عرب دنیا میں امریکی افواج اور انٹیلی جنس کی موجودگی انتہائی محدود ہو گئی ہے، ایک بڑا تاریخی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی علاقائی موجودگی وقت کے ساتھ کم و بیش ہوتی رہی ہے، مگر مکمل یا نمایاں پسپائی کا تاثر خطے میں نئے اتحادوں اور صف بندیوں کو جنم دے سکتا ہے۔
اسی دوران بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ موساد مختلف ممالک میں بدستور سرگرم ہے۔ تاہم خفیہ سرگرمیاں کھلی فوجی موجودگی کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ اگر خلیجی ریاستیں خود کو تنہا محسوس کرتی ہیں تو وہ یا تو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گی یا نئے عالمی شراکت دار تلاش کریں گی۔
یہ مرحلہ خطے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ آیا یہ تبدیلی ایک زیادہ خود مختار علاقائی نظام کی بنیاد بنے گی یا مزید کشیدگی اور تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، اس کا انحصار آنے والے دنوں کی سفارتی اور عسکری حکمت عملی پر ہے۔ ایک بات طے ہے کہ خلیج میں طاقت کا پرانا توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
ژژژژ
امریکی فوجی اڈوں کا زوال
امریکی فوجی اڈوں کا زوال
خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے اور بیشتر عملے کے انخلاء کی اطلاعات نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اگر یہ صورتحال اسی نوعیت کی ہے جیسی بیان کی جا رہی ہے تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں علاقائی طاقت کے توازن میں سب سے بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے ان تنصیبات کو مؤثر طور پر غیر فعال کر دیا ہے، جس کے بعد خلیجی حکمران خود کو امریکی سکیورٹی چھتری کے بغیر کھڑا پا رہے ہیں۔
طویل عرصے سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت جیسے ممالک کے لیے امریکی فوجی موجودگی ایک دفاعی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ یہ اڈے نہ صرف بیرونی خطرات کے خلاف ڈھال تھے بلکہ واشنگٹن کی علاقائی برتری کی علامت بھی۔ اگر یہ نیٹ ورک واقعی کمزور یا غیر فعال ہو چکا ہے تو اس کے اثرات محض عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہوں گے۔
خصوصاً بحرین میں قائم امریکی بحری اڈے کی تباہی کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ بحرین کی داخلی سیاست پہلے ہی حساس رہی ہے، جہاں حکومت اور بعض عوامی حلقوں کے درمیان کشیدگی موجود رہی ہے۔ اگر امریکی موجودگی کمزور پڑتی ہے اور ساتھ ہی عوامی احتجاج میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
یہ دعویٰ کہ دوسری جنگ عظیم یا نوآبادیاتی دور کے بعد پہلی بار عرب دنیا میں امریکی افواج اور انٹیلی جنس کی موجودگی انتہائی محدود ہو گئی ہے، ایک بڑا تاریخی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی علاقائی موجودگی وقت کے ساتھ کم و بیش ہوتی رہی ہے، مگر مکمل یا نمایاں پسپائی کا تاثر خطے میں نئے اتحادوں اور صف بندیوں کو جنم دے سکتا ہے۔
اسی دوران بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ موساد مختلف ممالک میں بدستور سرگرم ہے۔ تاہم خفیہ سرگرمیاں کھلی فوجی موجودگی کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ اگر خلیجی ریاستیں خود کو تنہا محسوس کرتی ہیں تو وہ یا تو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گی یا نئے عالمی شراکت دار تلاش کریں گی۔
یہ مرحلہ خطے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ آیا یہ تبدیلی ایک زیادہ خود مختار علاقائی نظام کی بنیاد بنے گی یا مزید کشیدگی اور تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، اس کا انحصار آنے والے دنوں کی سفارتی اور عسکری حکمت عملی پر ہے۔ ایک بات طے ہے کہ خلیج میں طاقت کا پرانا توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
ژژژژ


