سالہا سال خشک سردی کے باعث جموں و کشمیر میں آبی بحران کا خدشہ

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ جموں کشمیر میں رواں موسم سرما کے دوران بارش اور برفباری میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے ساتھ ہی خطے میں مسلسل ساتویں سال بھی سردی کا موسم معمول سے کم بارش کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ ماہرین نے آنے والے مہینوں میں آبی قلت کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک285 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں صرف100ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو 65 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ فروری میں صورتحال مزید سنگین رہی جہاں تقریباً 89 فیصد کمی درج کی گئی۔
ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق کشمیر اور جموں دونوں ڈویژنز میں وسیع پیمانے پر کمی ریکارڈ ہوئی۔ سرینگر میں 64 فیصد، شوپیاں میں 82 فیصد اور کولگام میں 80 فیصد کمی رہی، جبکہ جموں خطے میں کشتواڑ میں 90 فیصد تک کمی نوٹ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق بالائی علاقوں میں برفباری دریاؤں اور چشموں کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے، جو زیر زمین پانی کی بحالی اور زرعی سرگرمیوں کیلئے بنیادی ذریعہ ہے۔ مسلسل خشک سردیوں کے باعث برف کے ذخائر اور آئندہ مہینوں میں پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مغربی ہواؤں کے نظام میں تبدیلی کو اس رجحان کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

سالہا سال خشک سردی کے باعث جموں و کشمیر میں آبی بحران کا خدشہ

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ جموں کشمیر میں رواں موسم سرما کے دوران بارش اور برفباری میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے ساتھ ہی خطے میں مسلسل ساتویں سال بھی سردی کا موسم معمول سے کم بارش کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ ماہرین نے آنے والے مہینوں میں آبی قلت کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک285 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں صرف100ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو 65 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ فروری میں صورتحال مزید سنگین رہی جہاں تقریباً 89 فیصد کمی درج کی گئی۔
ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق کشمیر اور جموں دونوں ڈویژنز میں وسیع پیمانے پر کمی ریکارڈ ہوئی۔ سرینگر میں 64 فیصد، شوپیاں میں 82 فیصد اور کولگام میں 80 فیصد کمی رہی، جبکہ جموں خطے میں کشتواڑ میں 90 فیصد تک کمی نوٹ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق بالائی علاقوں میں برفباری دریاؤں اور چشموں کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے، جو زیر زمین پانی کی بحالی اور زرعی سرگرمیوں کیلئے بنیادی ذریعہ ہے۔ مسلسل خشک سردیوں کے باعث برف کے ذخائر اور آئندہ مہینوں میں پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مغربی ہواؤں کے نظام میں تبدیلی کو اس رجحان کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں