نائب صدر جمہوریہ نے کشمیر یونیورسٹی کی 21 ویں تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کیا

جنگ نیوز ڈیسک

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے سری نگر میں کشمیر یونیورسٹی کی 21 ویں کنووکیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ نائب صدر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کا یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی اصل پہچان ان کے گریجویٹس کے کردار اور خدمات سے ہوتی ہے۔ 1948 میں قائم کشمیر یونیورسٹی کی تعلیمی میراث، این اے اے سی اے++ گریڈ، این آئی آر ایف میں 34 ویں رینک، 7,700 سے زائد تحقیقی اشاعتوں اور نیشنل ہمالین آئس کور لیبارٹری جیسے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہوں نے اسے عالمی سطح پر ابھرتا ہوا ادارہ قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ وزیر تعلیم اور وائس چانسلر دونوں خواتین ہیں جبکہ گولڈ میڈلسٹ میں بھی اکثریت طالبات کی ہے، جسے انہوں نے خواتین بااختیار بنانے کی علامت قرار دیا۔
طلبہ کو بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے، نئی مہارتیں سیکھنے اور اختراع کو اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے وکست بھارت2047 کے وژن میں کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں خطے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، جیسے سری نگر ایئرپورٹ کی توسیع اور چیناب ریل برج، کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے قومی یکجہتی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی نصیحت کی۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا:
“یہ نہ میرا کشمیر ہے، نہ تمہارا کشمیر ہے — یہ ہم سب کا کشمیر ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

نائب صدر جمہوریہ نے کشمیر یونیورسٹی کی 21 ویں تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کیا

جنگ نیوز ڈیسک

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے سری نگر میں کشمیر یونیورسٹی کی 21 ویں کنووکیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ نائب صدر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کا یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی اصل پہچان ان کے گریجویٹس کے کردار اور خدمات سے ہوتی ہے۔ 1948 میں قائم کشمیر یونیورسٹی کی تعلیمی میراث، این اے اے سی اے++ گریڈ، این آئی آر ایف میں 34 ویں رینک، 7,700 سے زائد تحقیقی اشاعتوں اور نیشنل ہمالین آئس کور لیبارٹری جیسے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہوں نے اسے عالمی سطح پر ابھرتا ہوا ادارہ قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ وزیر تعلیم اور وائس چانسلر دونوں خواتین ہیں جبکہ گولڈ میڈلسٹ میں بھی اکثریت طالبات کی ہے، جسے انہوں نے خواتین بااختیار بنانے کی علامت قرار دیا۔
طلبہ کو بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے، نئی مہارتیں سیکھنے اور اختراع کو اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے وکست بھارت2047 کے وژن میں کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں خطے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، جیسے سری نگر ایئرپورٹ کی توسیع اور چیناب ریل برج، کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے قومی یکجہتی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی نصیحت کی۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا:
“یہ نہ میرا کشمیر ہے، نہ تمہارا کشمیر ہے — یہ ہم سب کا کشمیر ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں