جب پوری دنیا کی نظریں ہندوستان پر مرکوز تھیں اور ملک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں اپنی کامیابیوں کا مظاہرہ کر رہا تھا، اسی لمحے ایک افسوسناک واقعہ نے اس فخر کے موقع پر داغ لگا دیا۔ حالیہ اے آئی سمٹ کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہندوستان ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں ایک مضبوط اور بااعتماد قوت بن چکا ہے۔ مگر یوتھ کانگریس کے احتجاج اور اس کے بعد ہونے والی پولیس کارروائی نے توجہ کا رخ بدل دیا۔
ایسے عالمی مواقع صرف تقریبات نہیں ہوتے بلکہ قومی وقار اور سنجیدگی کا اظہار ہوتے ہیں۔ جب عالمی سرمایہ کار، ماہرین اور پالیسی ساز ہندوستان کی طرف دیکھ رہے ہوں تو داخلی سیاسی ہنگامہ آرائی ایک منفی تاثر پیدا کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کی شبیہ متاثر ہوتی ہے بلکہ اس پیغام کی شدت بھی کم ہو جاتی ہے جو ہم دنیا کو دینا چاہتے ہیں۔
احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن ہر حق کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔ قومی سطح کے اہم مواقع کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنا دانشمندی نہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اس کا اظہار ایسے انداز میں ہونا چاہیے جو ملک کے وقار کو مجروح نہ کرے۔
اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، چاہے ان کے پیچھے کوئی بااثر یا خاندانی سیاسی شخصیت ہی کیوں نہ ہو۔ قانون سب کے لئے برابر ہے، اور یہی ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔ کسی کو بھی سیاسی وابستگی یا خاندانی اثر و رسوخ کی بنیاد پر استثنا نہیں ملنا چاہیے۔
ہندوستان آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں سیاسی بلوغت اور قومی اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم عالمی سطح پر قیادت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اندرونی نظم و ضبط اور ذمہ داری کا بھی مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اے آئی سمٹ کو صرف قومی کامیابی کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے یہ ایک غیر ضروری تنازعے کی وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ آئندہ ایسے مواقع پر تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ دنیا دیکھ رہی ہے اور ہندوستان کو اپنی سمت واضح رکھنی ہوگی۔
AIسمٹ میں کانگریس کا احتجاج
AIسمٹ میں کانگریس کا احتجاج
جب پوری دنیا کی نظریں ہندوستان پر مرکوز تھیں اور ملک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں اپنی کامیابیوں کا مظاہرہ کر رہا تھا، اسی لمحے ایک افسوسناک واقعہ نے اس فخر کے موقع پر داغ لگا دیا۔ حالیہ اے آئی سمٹ کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہندوستان ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں ایک مضبوط اور بااعتماد قوت بن چکا ہے۔ مگر یوتھ کانگریس کے احتجاج اور اس کے بعد ہونے والی پولیس کارروائی نے توجہ کا رخ بدل دیا۔
ایسے عالمی مواقع صرف تقریبات نہیں ہوتے بلکہ قومی وقار اور سنجیدگی کا اظہار ہوتے ہیں۔ جب عالمی سرمایہ کار، ماہرین اور پالیسی ساز ہندوستان کی طرف دیکھ رہے ہوں تو داخلی سیاسی ہنگامہ آرائی ایک منفی تاثر پیدا کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کی شبیہ متاثر ہوتی ہے بلکہ اس پیغام کی شدت بھی کم ہو جاتی ہے جو ہم دنیا کو دینا چاہتے ہیں۔
احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن ہر حق کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔ قومی سطح کے اہم مواقع کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنا دانشمندی نہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اس کا اظہار ایسے انداز میں ہونا چاہیے جو ملک کے وقار کو مجروح نہ کرے۔
اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، چاہے ان کے پیچھے کوئی بااثر یا خاندانی سیاسی شخصیت ہی کیوں نہ ہو۔ قانون سب کے لئے برابر ہے، اور یہی ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔ کسی کو بھی سیاسی وابستگی یا خاندانی اثر و رسوخ کی بنیاد پر استثنا نہیں ملنا چاہیے۔
ہندوستان آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں سیاسی بلوغت اور قومی اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم عالمی سطح پر قیادت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اندرونی نظم و ضبط اور ذمہ داری کا بھی مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اے آئی سمٹ کو صرف قومی کامیابی کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے یہ ایک غیر ضروری تنازعے کی وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ آئندہ ایسے مواقع پر تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ دنیا دیکھ رہی ہے اور ہندوستان کو اپنی سمت واضح رکھنی ہوگی۔


