اِفطار کے بعد کی چائے: جسمانی تازگی اور سماجی رابطوں کی بہترین سفیر

یوسف شمسی

رمضان المبارک صرف عبادت، صبر اور روحانی بالیدگی کا مہینہ نہیں بلکہ یہ تہذیبی روایات، گھریلو محبتوں اور سماجی قربتوں کا بھی حسین مظہر ہے۔ اس مقدس مہینے میں اِفطار کے لمحات جہاں شکر گزاری اور مسرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں، وہیں اِفطار کے بعد کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان لمحوں کو یادگار بنا دیتی ہیں۔ انہی دلکش روایتوں میں ایک روایت اِفطار کے بعد چائے نوشی کی بھی ہے، جو نہ صرف جسم کو تازگی بخشتی ہے بلکہ دلوں کو قریب اور محفلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔
رمضان المبارک میں اِفطار کے دسترخوان پر لذیذ نعمتوں کی بہار ایسی چھائی ہوتی ہے جیسے کسی شادی کی بارات آئی ہو۔ سموسے، پکوڑے، فروٹ چاٹ، دہی وڑے اور نہ جانے کیا کیا ہر شئے اپنی دلکشی سے نگاہوں کو لبھاتی نظر آتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے باوجود محفل کی اصل رونق تو وہ ہے جو مغرب کی نماز کے بعد خاموشی سے آ کر سب کے دل موہ لیتی ہے، یعنی چائے کی پیالی۔
اِفطار کے بعد کی چائے کا مزہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ دسترخوان کی ساری رنگینیاں اس کے آگے پھیکی پڑ جاتی ہیں۔ دن بھر روزہ رکھنے والا جب پہلی چُسکی لیتا ہے تو چہرے پر جو سکون اور آنکھوں میں جو چمک آتی ہے، وہ کسی شاعر کے تازہ مشاعرے یا کسی طالب علم کے غیر متوقع پاس ہونے سے کم نہیں ہوتی۔ یہ چائے چاہے ہلکی ہو یا کڑک، دودھ والی ہو یا بغیر دودھ کے، اس وقت ہر صورت میں “لاجواب” کا خطاب حاصل کر لیتی ہے۔ گویا افطار کے بعد ذائقے کی عدالت لگتی ہے اور اس عدالت کا واحد جج بھی چائے ہوتی ہے اور فیصلہ بھی اسی کے حق میں آتا ہے۔
خاص طور پر”شیر چائے” کا تو کہنا ہی کیا! رمضان میں یہ ایسے جلوہ گر ہوتی ہے جیسے کوئی موسمی مہمان جو سال بھر نظر نہ آئے مگر آتے ہی محفل لوٹ لے۔ لوگ اس کے انتظار میں ایسے بیٹھتے ہیں جیسے بچے عید کے چاند کے منتظر ہوں۔ بعض گھروں میں تو حالت یہ ہوتی ہے کہ افطار کے فوراً بعد کوئی بزرگ آواز لگاتے ہیں: "بھئی! چائے بنی کہ نہیں؟” دوسرے طرف سے آواز آتی ہے "چائے بن رہی ہے یا بارہ دری کا حقہ؟” اور باورچی خانے سے جواب آتا ہے: "ابھی دم پر ہے!” — یہ "دم” کا لفظ سنتے ہی سب کے صبر کا دم نکلنے لگتا ہے۔ بعض بے صبرے حضرات تو چولہے کے پاس جا کر خود ہی ڈھکن اٹھا کر دیکھ لیتے ہیں، گویا چائے نہیں بلکہ خزانہ پک رہا ہو۔
محلے کے چائے خانوں کا منظر بھی دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ نماز کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے کسی خفیہ معاہدے کے تحت سب نے ایک ہی وقت پر چائے پینے کا پروگرام بنایا ہو۔ کرسی خالی نہیں، میز خالی نہیں، حتیٰ کہ بعض جگہ تو لوگ کپ ہاتھ میں لیے کھڑے کھڑے ہی چائے نوشی کر رہے ہوتے ہیں، گویا یہ کوئی مشروب نہیں بلکہ قومی فریضہ ہو۔ چائے والا بھی اس وقت ایسے مصروف ہوتا ہے جیسے کسی اہم قومی اجلاس کا میزبان ہو، ایک ہاتھ سے کپ پکڑاتا ہے، دوسرے ہاتھ سے پتی ڈالتا ہے اور زبان سے مسلسل اعلان کرتا جاتا ہے: “بس آرہی ہے، صبر کریں!”
دلچسپ بات یہ ہے کہ افطار کے بعد کی چائے صرف جسمانی تازگی نہیں دیتی بلکہ سماجی رابطوں کی بھی بہترین سفیر ہوتی ہے۔ اسی بہانے لوگ گپ شپ لگاتے ہیں، سیاست پر تبصرہ کرتے ہیں، محلے کی خبریں تازہ کرتے ہیں اور کبھی کبھار کسی کی تعریف بھی کر دیتے ہیں۔ اگر چائے زیادہ اچھی بن گئی ہو تو! بعض حضرات تو چائے کے کپ کو ہاتھ میں لے کر ایسے سنجیدہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں جیسے کوئی عالمی مسئلہ حل کر رہے ہوں، حالاں کہ اصل مسئلہ تو کپ خالی ہونے کا ہوتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ رمضان کی چائے میں ایک عجیب نفسیاتی تاثیر بھی ہوتی ہے۔ عام دنوں میں اگر چائے ذرا ہلکی یا زیادہ میٹھی ہو جائے تو فوراً اعتراض شروع ہو جاتا ہے، مگر رمضان میں وہی چائے شاہی مشروب محسوس ہوتی ہے۔ شاید بھوک پیاس کے بعد ملنے والی ہر نعمت زیادہ لذیذ لگتی ہے، یا شاید اس وقت انسان کا مزاج ہی شکر گزاری کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو، فائدہ ہمیشہ چائے ہی کو ہوتا ہے۔
کچھ گھروں میں تو اِفطار کے بعد چائے کا نظام ایسا منظم ہوتا ہے جیسے کسی فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی ہو۔ ایک فرد پتی سنبھالتا ہے، دوسرا دودھ، تیسرا چینی اور چوتھا کپ۔ اگر کسی نے غلطی سے چینی زیادہ ڈال دی تو فوراً اصلاحی اجلاس طلب ہو جاتا ہے۔ لیکن آخرکار جب چائے تیار ہو کر آتی ہے تو سب اختلافات ختم ہو جاتے ہیں اور پیالی ہاتھ میں آتے ہی پورا ماحول "امن کانفرنس” میں بدل جاتا ہے۔
یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ رمضان میں اِفطار کے بعد کی چائے ایک مشروب نہیں بلکہ ایک مکمل تقریب ہے، ایک روایت ہے، ایک کیفیت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب پیالی ہاتھ میں آتے ہی تھکن رخصت، سستی فرار اور طبیعت شاداب ہو جاتی ہے۔ باقی دنوں کی چائے اپنی جگہ، مگر رمضان والی اس چائے کا جادو الگ ہی ہوتا ہے، ایسا جادو جو سال بھر یاد رہتا ہے اور اگلے رمضان تک دل کو تسلی دیتا رہتا ہے۔

نوٹ: مصنفِ محترم یوسف شمسی صاحب کا تعلق بھارت کی ریاست بہار سے ہے، اس لیے اس مضمون میں پیش کیے گئے بیانیے کو ریاستِ بہار کے مخصوص سماجی، تہذیبی اور فکری پس منظر کے تناظر میں خاص طور پر دیکھا اور سمجھا جانا چاہیے۔

ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

اِفطار کے بعد کی چائے: جسمانی تازگی اور سماجی رابطوں کی بہترین سفیر

یوسف شمسی

رمضان المبارک صرف عبادت، صبر اور روحانی بالیدگی کا مہینہ نہیں بلکہ یہ تہذیبی روایات، گھریلو محبتوں اور سماجی قربتوں کا بھی حسین مظہر ہے۔ اس مقدس مہینے میں اِفطار کے لمحات جہاں شکر گزاری اور مسرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں، وہیں اِفطار کے بعد کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان لمحوں کو یادگار بنا دیتی ہیں۔ انہی دلکش روایتوں میں ایک روایت اِفطار کے بعد چائے نوشی کی بھی ہے، جو نہ صرف جسم کو تازگی بخشتی ہے بلکہ دلوں کو قریب اور محفلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔
رمضان المبارک میں اِفطار کے دسترخوان پر لذیذ نعمتوں کی بہار ایسی چھائی ہوتی ہے جیسے کسی شادی کی بارات آئی ہو۔ سموسے، پکوڑے، فروٹ چاٹ، دہی وڑے اور نہ جانے کیا کیا ہر شئے اپنی دلکشی سے نگاہوں کو لبھاتی نظر آتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے باوجود محفل کی اصل رونق تو وہ ہے جو مغرب کی نماز کے بعد خاموشی سے آ کر سب کے دل موہ لیتی ہے، یعنی چائے کی پیالی۔
اِفطار کے بعد کی چائے کا مزہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ دسترخوان کی ساری رنگینیاں اس کے آگے پھیکی پڑ جاتی ہیں۔ دن بھر روزہ رکھنے والا جب پہلی چُسکی لیتا ہے تو چہرے پر جو سکون اور آنکھوں میں جو چمک آتی ہے، وہ کسی شاعر کے تازہ مشاعرے یا کسی طالب علم کے غیر متوقع پاس ہونے سے کم نہیں ہوتی۔ یہ چائے چاہے ہلکی ہو یا کڑک، دودھ والی ہو یا بغیر دودھ کے، اس وقت ہر صورت میں “لاجواب” کا خطاب حاصل کر لیتی ہے۔ گویا افطار کے بعد ذائقے کی عدالت لگتی ہے اور اس عدالت کا واحد جج بھی چائے ہوتی ہے اور فیصلہ بھی اسی کے حق میں آتا ہے۔
خاص طور پر”شیر چائے” کا تو کہنا ہی کیا! رمضان میں یہ ایسے جلوہ گر ہوتی ہے جیسے کوئی موسمی مہمان جو سال بھر نظر نہ آئے مگر آتے ہی محفل لوٹ لے۔ لوگ اس کے انتظار میں ایسے بیٹھتے ہیں جیسے بچے عید کے چاند کے منتظر ہوں۔ بعض گھروں میں تو حالت یہ ہوتی ہے کہ افطار کے فوراً بعد کوئی بزرگ آواز لگاتے ہیں: "بھئی! چائے بنی کہ نہیں؟” دوسرے طرف سے آواز آتی ہے "چائے بن رہی ہے یا بارہ دری کا حقہ؟” اور باورچی خانے سے جواب آتا ہے: "ابھی دم پر ہے!” — یہ "دم” کا لفظ سنتے ہی سب کے صبر کا دم نکلنے لگتا ہے۔ بعض بے صبرے حضرات تو چولہے کے پاس جا کر خود ہی ڈھکن اٹھا کر دیکھ لیتے ہیں، گویا چائے نہیں بلکہ خزانہ پک رہا ہو۔
محلے کے چائے خانوں کا منظر بھی دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ نماز کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے کسی خفیہ معاہدے کے تحت سب نے ایک ہی وقت پر چائے پینے کا پروگرام بنایا ہو۔ کرسی خالی نہیں، میز خالی نہیں، حتیٰ کہ بعض جگہ تو لوگ کپ ہاتھ میں لیے کھڑے کھڑے ہی چائے نوشی کر رہے ہوتے ہیں، گویا یہ کوئی مشروب نہیں بلکہ قومی فریضہ ہو۔ چائے والا بھی اس وقت ایسے مصروف ہوتا ہے جیسے کسی اہم قومی اجلاس کا میزبان ہو، ایک ہاتھ سے کپ پکڑاتا ہے، دوسرے ہاتھ سے پتی ڈالتا ہے اور زبان سے مسلسل اعلان کرتا جاتا ہے: “بس آرہی ہے، صبر کریں!”
دلچسپ بات یہ ہے کہ افطار کے بعد کی چائے صرف جسمانی تازگی نہیں دیتی بلکہ سماجی رابطوں کی بھی بہترین سفیر ہوتی ہے۔ اسی بہانے لوگ گپ شپ لگاتے ہیں، سیاست پر تبصرہ کرتے ہیں، محلے کی خبریں تازہ کرتے ہیں اور کبھی کبھار کسی کی تعریف بھی کر دیتے ہیں۔ اگر چائے زیادہ اچھی بن گئی ہو تو! بعض حضرات تو چائے کے کپ کو ہاتھ میں لے کر ایسے سنجیدہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں جیسے کوئی عالمی مسئلہ حل کر رہے ہوں، حالاں کہ اصل مسئلہ تو کپ خالی ہونے کا ہوتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ رمضان کی چائے میں ایک عجیب نفسیاتی تاثیر بھی ہوتی ہے۔ عام دنوں میں اگر چائے ذرا ہلکی یا زیادہ میٹھی ہو جائے تو فوراً اعتراض شروع ہو جاتا ہے، مگر رمضان میں وہی چائے شاہی مشروب محسوس ہوتی ہے۔ شاید بھوک پیاس کے بعد ملنے والی ہر نعمت زیادہ لذیذ لگتی ہے، یا شاید اس وقت انسان کا مزاج ہی شکر گزاری کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو، فائدہ ہمیشہ چائے ہی کو ہوتا ہے۔
کچھ گھروں میں تو اِفطار کے بعد چائے کا نظام ایسا منظم ہوتا ہے جیسے کسی فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی ہو۔ ایک فرد پتی سنبھالتا ہے، دوسرا دودھ، تیسرا چینی اور چوتھا کپ۔ اگر کسی نے غلطی سے چینی زیادہ ڈال دی تو فوراً اصلاحی اجلاس طلب ہو جاتا ہے۔ لیکن آخرکار جب چائے تیار ہو کر آتی ہے تو سب اختلافات ختم ہو جاتے ہیں اور پیالی ہاتھ میں آتے ہی پورا ماحول "امن کانفرنس” میں بدل جاتا ہے۔
یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ رمضان میں اِفطار کے بعد کی چائے ایک مشروب نہیں بلکہ ایک مکمل تقریب ہے، ایک روایت ہے، ایک کیفیت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب پیالی ہاتھ میں آتے ہی تھکن رخصت، سستی فرار اور طبیعت شاداب ہو جاتی ہے۔ باقی دنوں کی چائے اپنی جگہ، مگر رمضان والی اس چائے کا جادو الگ ہی ہوتا ہے، ایسا جادو جو سال بھر یاد رہتا ہے اور اگلے رمضان تک دل کو تسلی دیتا رہتا ہے۔

نوٹ: مصنفِ محترم یوسف شمسی صاحب کا تعلق بھارت کی ریاست بہار سے ہے، اس لیے اس مضمون میں پیش کیے گئے بیانیے کو ریاستِ بہار کے مخصوص سماجی، تہذیبی اور فکری پس منظر کے تناظر میں خاص طور پر دیکھا اور سمجھا جانا چاہیے۔

ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں