مساجد میں بچوں کی آوازیں نسلوں کے ایمان کی ضمانت

ذوالقرنین احمد

محترم قارئین! اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل و کرم ہے کہ ایک مرتبہ پھر ہمیں رمضان کا رحمتوں، برکتوں اور مغفرت والا مہینہ نصیب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مہینے کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے اور اسے ہماری مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ اس مہینے کی خاص عبادتوں میں نمازِ تراویح بھی شامل ہے، جس میں بچے بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جیسے ہی امام صاحب نماز شروع کرتے ہیں اور مقتدی نماز میں شامل ہوتے ہیں، بعض بچے مستی کرنے لگتے ہیں، شور مچاتے ہیں یا آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ ایسے میں مسجد کے ٹرسٹیوں میں سے کوئی بزرگ یا جذباتی شخص اٹھ کر ان بچوں پر چلانے لگتا ہے، گویا ہماری نمازوں میں خلل صرف بچوں کی آوازوں سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، ڈی جے، سیاسی جلسوں اور جشن کے شور سے بھی ماحول متاثر ہوتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں یہ منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ ایک طرف اذان ہو رہی تھی اور دوسری طرف جشن جاری تھا۔ بعض نوجوانوں نے اذان اور نماز کے وقت کا بھی لحاظ نہ رکھا۔ اگر امام صاحب ٹوک دیں تو ان سے ناراضی مول لی جاتی ہے، لیکن رمضان میں بچوں پر سختی کرنے والوں میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ باہر کے شور کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔
میں نے خود دیکھا ہے کہ بعض بچوں کو ڈانٹ کر بلکہ مار کر مسجد سے نکال دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کل سے مسجد نہ آنا۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ بے شک مسجد کا ادب ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور بچوں کی شور شرابہ بھی مناسب نہیں، مگر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو مسجد کے آداب سکھائیں اور ذمہ داران کو بھی چاہیے کہ حکمت اور شفقت سے کام لیں۔ یہ بچے ہی قوم کا مستقبل ہیں۔ انہی میں سے استاد، ڈاکٹر، ماہر نفسیات، سائنسدان، تاجر اور رہنما پیدا ہوں گے۔ اگر انہیں مسجدوں سے دور کر دیا گیا تو وہ اپنی دینی شناخت سے بے تعلق ہو سکتے ہیں۔
اگر نئی نسل مسجدوں سے کٹ گئی تو وہ صرف نام کے مسلمان رہ جائیں گے۔ ممکن ہے دنیاوی اعتبار سے اعلیٰ تعلیم اور عہدوں کے مالک ہوں، مگر دین سے وابستگی کمزور ہو جائے گی۔ مسجدوں میں نوجوان نظر نہیں آئیں گے اور اسلامی شعائر کی حفاظت مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے ضرورت ہے کہ بچوں میں مسجد سے محبت پیدا کی جائے۔
خصوصاً رمضان المبارک میں ایسے پروگرام ترتیب دیے جائیں جن سے بچے مسجد سے وابستہ ہوں۔ مسجد کے ایک حصے کو بچوں کے لیے مخصوص کیا جا سکتا ہے۔ جو بچے فجر کی نماز باجماعت ادا کریں انہیں حوصلہ افزائی کے انعامات دیے جائیں۔ جو بچے روزے رکھیں اور ان کی حفاظت کریں ان کے لیے رمضان کے آخری دن خصوصی تقریب منعقد کی جائے۔ نئے آنے والے بچوں کو کھجور، چاکلیٹ یا تعلیمی کارڈز دیے جائیں۔ نماز کے بعد مختصر تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ ان کی دلچسپی برقرار رہے۔
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کریں اور انہیں مسجدوں کا آباد کرنے والا بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ، اعتدال اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

مساجد میں بچوں کی آوازیں نسلوں کے ایمان کی ضمانت

ذوالقرنین احمد

محترم قارئین! اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل و کرم ہے کہ ایک مرتبہ پھر ہمیں رمضان کا رحمتوں، برکتوں اور مغفرت والا مہینہ نصیب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مہینے کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے اور اسے ہماری مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ اس مہینے کی خاص عبادتوں میں نمازِ تراویح بھی شامل ہے، جس میں بچے بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جیسے ہی امام صاحب نماز شروع کرتے ہیں اور مقتدی نماز میں شامل ہوتے ہیں، بعض بچے مستی کرنے لگتے ہیں، شور مچاتے ہیں یا آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ ایسے میں مسجد کے ٹرسٹیوں میں سے کوئی بزرگ یا جذباتی شخص اٹھ کر ان بچوں پر چلانے لگتا ہے، گویا ہماری نمازوں میں خلل صرف بچوں کی آوازوں سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، ڈی جے، سیاسی جلسوں اور جشن کے شور سے بھی ماحول متاثر ہوتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں یہ منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ ایک طرف اذان ہو رہی تھی اور دوسری طرف جشن جاری تھا۔ بعض نوجوانوں نے اذان اور نماز کے وقت کا بھی لحاظ نہ رکھا۔ اگر امام صاحب ٹوک دیں تو ان سے ناراضی مول لی جاتی ہے، لیکن رمضان میں بچوں پر سختی کرنے والوں میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ باہر کے شور کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔
میں نے خود دیکھا ہے کہ بعض بچوں کو ڈانٹ کر بلکہ مار کر مسجد سے نکال دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کل سے مسجد نہ آنا۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ بے شک مسجد کا ادب ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور بچوں کی شور شرابہ بھی مناسب نہیں، مگر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو مسجد کے آداب سکھائیں اور ذمہ داران کو بھی چاہیے کہ حکمت اور شفقت سے کام لیں۔ یہ بچے ہی قوم کا مستقبل ہیں۔ انہی میں سے استاد، ڈاکٹر، ماہر نفسیات، سائنسدان، تاجر اور رہنما پیدا ہوں گے۔ اگر انہیں مسجدوں سے دور کر دیا گیا تو وہ اپنی دینی شناخت سے بے تعلق ہو سکتے ہیں۔
اگر نئی نسل مسجدوں سے کٹ گئی تو وہ صرف نام کے مسلمان رہ جائیں گے۔ ممکن ہے دنیاوی اعتبار سے اعلیٰ تعلیم اور عہدوں کے مالک ہوں، مگر دین سے وابستگی کمزور ہو جائے گی۔ مسجدوں میں نوجوان نظر نہیں آئیں گے اور اسلامی شعائر کی حفاظت مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے ضرورت ہے کہ بچوں میں مسجد سے محبت پیدا کی جائے۔
خصوصاً رمضان المبارک میں ایسے پروگرام ترتیب دیے جائیں جن سے بچے مسجد سے وابستہ ہوں۔ مسجد کے ایک حصے کو بچوں کے لیے مخصوص کیا جا سکتا ہے۔ جو بچے فجر کی نماز باجماعت ادا کریں انہیں حوصلہ افزائی کے انعامات دیے جائیں۔ جو بچے روزے رکھیں اور ان کی حفاظت کریں ان کے لیے رمضان کے آخری دن خصوصی تقریب منعقد کی جائے۔ نئے آنے والے بچوں کو کھجور، چاکلیٹ یا تعلیمی کارڈز دیے جائیں۔ نماز کے بعد مختصر تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ ان کی دلچسپی برقرار رہے۔
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کریں اور انہیں مسجدوں کا آباد کرنے والا بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ، اعتدال اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں