مسعود محبوب خان
رَمَضانُ المبارک جب اپنے مخصوص سکوت، لطیف نورانیت اور باطنی وقار کے ساتھ وارد ہوتا ہے تو وہ انسان کو ہجومِ دنیا سے نکال کر خلوتِ دل کی طرف بلاتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو انسان کو کم بولنے، زیادہ سننے، کم دیکھنے اور زیادہ محسوس کرنے کی تربیت دیتا ہے؛ ایک ایسی تربیت جس میں الفاظ کی کمی اور معنی کی کثرت مقصود ہوتی ہے۔ رمضان انسان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ظاہری شور سے فاصلے پر جا کر اپنے اندر کی آواز سنے اور اپنے وجود کے ساتھ ایک سنجیدہ مکالمہ کرے۔ مگر ڈیجیٹل دور کا المیہ یہ ہے کہ جہاں انسان بظاہر ہر لمحہ جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، وہیں حقیقت میں وہ پہلے سے کہیں زیادہ تنہا ہو چکا ہے۔ یہ تنہائی جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہے، اور اس کا گہرا اظہار رمضان میں اس وقت ہوتا ہے جب سحر و افطار جیسے نورانی لمحات بھی اسکرینوں کی مصنوعی روشنی میں مدھم پڑنے لگتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا نے انسان کو رابطے کی بے شمار سہولتیں عطا کی ہیں، فاصلے سمیٹ دیے ہیں، آواز اور تصویر کو لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے خلوت کی معنویت بھی آہستہ آہستہ سلب کر لی ہے۔ رمضان، جو خود سے مکالمے، ضمیر کی بیداری اور خدا سے قرب کا مہینہ تھا، اب نوٹیفکیشنز کی آوازوں، اسٹیٹس کی دوڑ اور مسلسل اپڈیٹس کے ہجوم میں بکھر کر رہ گیا ہے۔ توجہ جو عبادت کی روح ہے مختلف اسکرینوں کے درمیان تقسیم ہو جاتی ہے، اور یکسوئی جو رمضان کا بنیادی حاصل ہے ناپید ہونے لگتی ہے۔
سحر کی خاموشی جو کبھی دعا، استغفار اور تلاوت کا وقت ہوا کرتی تھی اب اکثر بے مقصد اسکرولنگ اور پیغامات کے فوری جواب میں صرف ہو جاتی ہے۔ وہ لمحے جو دل کو بیدار کرنے کے لیے تھے انگلیوں کی بے قراری کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح افطار کے وہ لمحات جو شکر، سکوت اور عاجزی کا تقاضا کرتے تھے اسکرین پر قید تصاویر اور اسٹیٹس میں تقسیم ہو کر اپنی گہرائی کھو دیتے ہیں۔ انسان افطار تو کرتا ہے مگر دل حاضر نہیں ہوتا؛ وہ لمحہ جو روح کو سیراب کرنے آیا تھا محض ایک منظر بن کر رہ جاتا ہے۔
یوں ڈیجیٹل دور میں رمضان کی تنہائی ایک نئے تضاد کو جنم دیتی ہے: انسان بیک وقت سب کے ساتھ ہوتا ہے مگر اپنے ربّ اور اپنے باطن سے دور۔ یہ تنہائی یاد دلاتی ہے کہ اصل رابطہ نیٹ ورک سے نہیں نیت سے قائم ہوتا ہے، اور اصل خلوت موبائل بند کرنے سے نہیں دل کو حاضر کرنے سے نصیب ہوتی ہے۔ اگر رمضان کے ان لمحوں میں انسان اسکرین سے نظریں ہٹا کر دل کی طرف متوجہ ہو جائے تو یہی تنہائی قرب میں بدل سکتی ہے اور رمضان وہی بن سکتا ہے جو وہ ہونا چاہتا ہے: خود سے، خدا سے اور حقیقت سے ملاقات کا مہینہ۔
انسان کی روح فطری طور پر ارتکاز کی طالب ہوتی ہے اور یہ ارتکاز خلوت کے بغیر میسر نہیں آتا۔ عبادت کی تاثیر اسی لمحے جنم لیتی ہے جب انسان بیرونی انتشار سے الگ ہو کر پوری توجہ کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہو۔ روزہ اسی مقصد کی تربیت ہے۔ یہ انسان کو خواہشات کے نظم و ضبط کے ساتھ توجہ کے نظم و ضبط کا شعور بھی دیتا ہے، یعنی دل کو کئی سمتوں میں بکھرنے کے بجائے ایک مرکز پر ٹھہرنا چاہیے۔ مگر ڈیجیٹل مصروفیت اس یکسوئی کو قائم نہیں رہنے دیتی۔ توجہ ہر لحظہ منقسم رہتی ہے: ایک طرف تلاوت کے الفاظ ہیں، دوسری طرف موبائل کی گھنٹی؛ ایک جانب دعا کے آنسو ہیں، دوسری جانب اسکرین کی چمک۔ اس تقسیم میں عبادت کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور رمضان کی تربیت ادھوری رہ جاتی ہے۔
ڈیجیٹل دور کی تنہائی ایک گمبھیر تضاد ہے۔ انسان بظاہر ہزاروں دوستوں اور گروپس میں گھرا ہوا ہے مگر دل کی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ رمضان میں یہ کیفیت اس وقت اور گہری ہو جاتی ہے جب عبادت بھی نمائشی صورت اختیار کر لے۔ تلاوت کی تصاویر اور افطار کے اسٹیٹس بظاہر دینداری کا اظہار ہوتے ہیں مگر ان کی کثرت میں عبادت کی خاموش لذت کھو جاتی ہے۔ وہ سکوت جو عبادت کو گہرائی بخشتا ہے نمائشی شور میں دب جاتا ہے۔
وہ لمحہ جو انسان کو اپنے ربّ کے قریب لے جانے کے لیے تھا دوسروں کی نگاہوں میں آنے کی خواہش کی نذر ہو جاتا ہے۔ عبادت ایک باطنی تجربہ ہونے کے بجائے ایک ظاہری منظر میں ڈھلنے لگتی ہے۔ رمضان سکھاتا ہے کہ اصل قرب دکھانے میں نہیں چھپانے میں ہے، اور تاثیر اعلان میں نہیں اخلاص میں ہے۔ اگر انسان اس مہینے میں اسکرین سے نظریں ہٹا کر دل کو حاضر کر لے تو ڈیجیٹل دور کی یہ تنہائی نعمت میں بدل سکتی ہے، ایسی خلوت میں جو روح کو مجتمع اور توجہ کو یکجا کر دے۔
ڈیجیٹل دور میں رمضان کی تنہائی کا ایک اہم پہلو اجتماعی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے اور ایک ہی دسترخوان کے گرد بیٹھے لوگ بظاہر قریب ہوتے ہیں مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے کٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر فرد اپنی اسکرین میں محو اور اپنی دنیا میں گم ہوتا ہے۔ افطار کے دسترخوان پر جہاں کبھی دن بھر کے تجربات اور شکر کے کلمات ہوتے تھے وہاں اب خاموش انگلیاں اسکرین پر دوڑتی نظر آتی ہیں۔ یوں رمضان جو رشتوں کو جوڑنے اور دلوں کو قریب لانے کا مہینہ تھا لاشعوری طور پر فاصلے بڑھانے کا سبب بننے لگتا ہے۔ یہ تنہائی جسمانی نہیں بلکہ جذباتی اور روحانی ہوتی ہے۔
یہ منظرنامہ مایوس کن ضرور ہے مگر اس میں انتخاب کا سوال پوشیدہ ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع نہ خیر ہیں نہ شر؛ اصل مسئلہ نیت اور استعمال کا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی اگر قرآن تک رسائی، علم کی ترسیل اور نیک پیغام کے فروغ کا ذریعہ بن جائے تو یہی تنہائی قربت میں بدل سکتی ہے۔ مگر اس تبدیلی کے لیے شعوری ضبط درکار ہے، وہی ضبط جس کی تربیت رمضان اپنے روزوں اور صبر کے ذریعے دیتا ہے۔ جب اسکرین کا استعمال عبادت کے تابع ہو جائے اور عبادت اسکرین کے تابع نہ رہے تب ڈیجیٹل دور میں بھی رمضان کی روح زندہ رہ سکتی ہے۔
درحقیقت رمضان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی طور پر جڑے رہنے کے لیے کچھ دیر منقطع ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس مہینے کی اصل خلوت موبائل بند کرنے میں نہیں بلکہ دل کو حاضر کرنے میں ہے، نظر جھکانے میں ہے اور توجہ کو منتشر ہونے سے بچانے میں ہے۔ اگر ہم سحر اور افطار کو اسکرین سے آزاد کر کے دعا، شکر اور باہمی قربت کے لیے وقف کر دیں تو ممکن ہے کہ اسی بظاہر تنہائی میں ہمیں وہ قرب نصیب ہو جائے جس کی تلاش میں ہم سارا سال مصروف رہتے ہیں۔
سوال یہی ہے کہ رمضان میں ہم کس سے جڑے رہنا چاہتے ہیں، اسکرین سے یا اپنے ربّ سے؟ ڈیجیٹل دور میں رمضان کی تنہائی دراصل اسی سوال کا نام ہے، اور اسی کے جواب میں اس مقدّس مہینے کی اصل معنویت اور مقصد پوشیدہ ہے۔
زز


