ساحل احمد
سرینگر
ہماری عظیم پہاڑیوں کے سائے تلے کبھی کبھار دور دراز گوشوں سے تقسیم اور مایوسی کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ کالعدم شدت پسند تنظیموں کی جانب سے تقسیم کیے جانے والے نفرت انگیز رسائل اور جعلی خبروں پر مبنی میگزین ظلم کی ایک مسخ شدہ تصویر پیش کرتے ہیں اور بے سود مزاحمت کی اپیل کرتے ہیں۔ یہ آزادی کی آوازیں نہیں بلکہ ہیرا پھیری کے اوزار ہیں، جن کا مقصد ہمارے نوجوانوں کو استعمال کرنا اور بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل ہے۔
پاکستان کی سرپرستی میں چلنے والے پروپیگنڈے پر مبنی یہ بیانیہ زمینی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ کشمیر ایک نئی بہار کی طرف گامزن ہے۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ہماری سرزمین نے تنازع سے اعتماد کی طرف، تنہائی سے انضمام کی طرف سفر کیا ہے۔ یہ مسلط کرنا نہیں بلکہ بااختیار بنانا ہے۔ آئیے افسانوں نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں دیکھیں کہ اس تبدیلی نے ہر کشمیری کو کس طرح بلند کیا ہے اور ترقی کی وہ شاہراہ ہموار کی ہے جس کا مقابلہ عسکری بیانیہ کبھی نہیں کر سکتا۔
ایک محفوظ کشمیر: ہنگامے سے سکون تک
دہائیوں تک ہماری وادیوں میں بے چینی، پتھراؤ، ہڑتالوں اور بے معنی تشدد کی صدائیں گونجتی رہیں۔ شدت پسند گروہوں نے اس افراتفری کو “جہاد” کا نام دیا، مگر اس نے ہمارے خاندانوں کو صرف درد دیا۔ آج اعداد و شمار ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ 2019 کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد کمی آئی، شہری اموات میں 81 فیصد کمی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں 48 فیصد کمی واقع ہوئی۔ مجموعی طور پر عسکریت سے متعلق اموات 2019 میں 283 سے کم ہو کر 2025 میں 92 رہ گئیں۔ مقامی نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت، جو کبھی ایک افسوسناک رجحان تھا، 2019 کے 143 سے گھٹ کر 2024 میں صرف 7 رہ گئی۔ پتھراؤ کے واقعات جو پہلے سالانہ 2000 سے زائد ہوتے تھے، اب تقریباً صفر ہیں۔
یہ امن محض ایک تصور نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ پانچ برسوں سے اسکول بلا تعطل چل رہے ہیں، جس سے ہمارے بچوں کو بغیر رکاوٹ خواب دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ 34 برس تک پابندی کا شکار رہنے والے محرم کے جلوس اب وقار کے ساتھ نکلتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ تین دہائیوں سے بند سینما گھر دوبارہ کھل چکے ہیں، جو ہماری شاموں میں خوشی اور معمول کی فضا لاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کشمیری پنڈتوں کی نوروز تقریبات 32 برس بعد لوٹ آئیں، جو شفا یابی کی علامت ہیں۔ یہ مسلط کردہ اقدامات نہیں بلکہ ہماری مشترکہ وراثت کی بحالی ہیں، جو اس خوف سے آزاد ہیں جو کبھی عسکریت نے ہم پر طاری کیا تھا۔
یہ تبدیلی کیوں آئی؟ مسلسل انسداد شورش کارروائیوں نے خطرات کو کم کیا۔ صرف 2024 میں 68 عسکریت پسند مارے گئے، جن میں 42 غیر ملکی تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 65 فیصد غیر ملکی دہشت گرد تھے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ایسے گروہ مقامی ارادے نہیں بلکہ بیرونی عناصر پر انحصار کرتے ہیں۔ کشمیری اب نقصان کے بجائے زندگی کا انتخاب کر رہے ہیں اور اس ذہن سازی کو مسترد کر رہے ہیں جو بیٹوں کو اعداد میں بدل دیتی ہے۔
معاشی بااختیاری: سرمایہ کاری اور مواقع میں اضافہ
عسکری پروپیگنڈا دعویٰ کرتا ہے کہ “قبضہ” ترقی کو روکتا ہے، مگر منسوخی کے بعد کشمیر کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئی ہیں۔ جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار 25-2024 میں19.11 فیصد اضافے کے ساتھ 65.2لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ فی کس آمدنی 54.1لاکھ روپے تک بڑھ رہی ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ حقیقی پیش رفت ہے، جو بھارت کی معیشت کے ساتھ انضمام سے ممکن ہوئی ہے۔
سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔69.1لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کی 8500 سے زائد تجاویز موصول ہوئیں، جو 6 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ 2019 کے بعد حقیقی سرمایہ کاری 10516 کروڑ روپے تک پہنچی، جو ماضی کی جمود کی کیفیت سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف 24-2023میں 3628 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آئی، جس سے 26032 روزگار پیدا ہوئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 68 فیصد زیادہ ہیں۔ بڈگام، سانبہ اور کٹھوعہ کے صنعتی پارکس سرگرمی کے مراکز بن چکے ہیں، اور 2023 میں 414 نئی صنعتیں رجسٹر ہوئیں۔
نوجوان بے روزگاری سے نکل کر کاروباری میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم روزگار پیداوار پروگرام کے تحت شرکت میں اضافہ ہوا ہے، جو چھوٹے کاروبار اور خود انحصاری کو فروغ دیتا ہے۔ ٹیکس آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2022 سے 2024 کے درمیان غیر ٹیکس آمدنی میں 25 فیصد، ایکسائز میں 39 فیصد اور جی ایس ٹی میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ ترقی کشمیریوں کے لیے اور کشمیریوں کے ذریعے ہے، عسکری استحصال سے کوسوں دور۔
سیاحت کی بحالی: ہماری جنت کی واپسی
کبھی کشمیر کی خوبصورتی خوف کے سائے میں تھی، اب وہ امید کی علامت ہے۔ 2023 میں ریکارڈ 2.11 کروڑ سیاح آئے، جو ہماری جی ڈی پی میں 7 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ جنوری سے جون 2024 تک 1.08 کروڑ سیاح آئے، جن میں 95 لاکھ ملکی اور 19570 غیر ملکی شامل تھے۔
چیلنجوں کے باوجود بحالی تیز ہے۔ گلمرگ میں ہوٹلوں کی سو فیصد بکنگ رہی اور سونمرگ جیسے مقامات بھی فروغ پائے۔ اس سیاحتی عروج نے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ ہوم اسٹے، گائیڈز اور دستکار سب مستفید ہو رہے ہیں۔ خواتین نے بھی سیاحت کے ذریعے مالی خود مختاری حاصل کی ہے۔ منسوخی کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں ڈھائی گنا اضافہ عالمی اعتماد کی علامت ہے۔ عسکری عناصر کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں ان کی غیر اہمیت کو ہی ظاہر کرتی ہیں، کیونکہ کشمیری خوشحالی کو خطرے پر ترجیح دیتے ہیں۔
سماجی بہبود: ہر گھر تک فوائد کی رسائی
2019 سے پہلے کئی مرکزی اسکیمیں یہاں تک نہیں پہنچتی تھیں، اب وہ زندگی کی ڈور بن چکی ہیں۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت99.1 لاکھ مکانات منظور ہوئے، جن میں 46000 درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے ہیں۔ آیوشمان بھارت کے تحت لاکھوں افراد کو صحت کی سہولت ملی اور پی ایم کسان کسانوں کی مدد کر رہا ہے۔ 80 سے زائد اسکیمیں، جن میں منریگا اور لڑلی بیٹی شامل ہیں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بااختیار بنا رہی ہیں۔
حاشیے پر موجود طبقات کو بھی فائدہ ہوا ہے۔ مغربی پاکستان کے مہاجرین کو حقوق اور ریزرویشن تک رسائی ملی۔ دلت، قبائلی اور او بی سی طبقات کو تعلیم اور ملازمت میں کوٹہ حاصل ہوا۔ بنیادی ڈھانچے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ دو ایمس کیمپس، بانہال سے گزرتی وندے بھارت ٹرینیں اور دریائے سندھ پر توانائی منصوبے اس کی مثال ہیں۔ یہ خواب نہیں بلکہ ہمارے دروازوں تک پہنچتی ہوئی عزت ہیں۔
جمہوریت کی نئی صبح: آوازیں مضبوط، خاموش نہیں
کبھی انتخابات خوف کی فضا میں ہوتے تھے، اب وہ عوامی شرکت کا تہوار ہیں۔ حالیہ انتخابات میں بلند ووٹنگ ٹرن آؤٹ اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ 35000 سے زائد منتخب نمائندے مقامی نظم و نسق کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ آر ٹی آئی، آر ٹی ای اور انسداد بدعنوانی قوانین کا اطلاق شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔ یہی حقیقی خود ارادیت ہے۔ کشمیری اپنا مستقبل خود تشکیل دے رہے ہیں۔
عسکری سراب کا پردہ فاش: استحصال کی حقیقت
حزب المجاہدین اور اسی نوع کے گروہ نجات دہندہ نہیں بلکہ استحصال کرنے والے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے تشدد کو رومانوی رنگ دیتے ہیں، نوجوانوں کو جھوٹے وعدوں سے ورغلاتے ہیں اور موت کو عظمت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مگر ان کا اثر کم ہو رہا ہے۔ مقامی بھرتیوں میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری اس پروپیگنڈے کو پہچان چکے ہیں۔
پاکستانی سرپرستی میں چلنے والے یہ عناصر بیرونی مفادات کے لیے ہمارے لہو کا سودا کرتے ہیں۔ ان کی “احیاء” کی صدائیں ایک مرتے ہوئے مقصد کو زندہ رکھنے کی کوشش ہیں۔ کشمیری جانتے ہیں کہ عسکریت قبریں دیتی ہے، عظمت نہیں۔ امن اسکول، روزگار اور سلامت خاندان دیتا ہے۔
نوجوانوں کے نام پیغام: وہ مستقبل چنیں جس کے آپ حق دار ہیں
کشمیری نوجوانو، آپ کی صلاحیتیں لامحدود ہیں۔ نفرت انگیز رسائل اور پرانے بیانیے آپ کو نفرت کے چکر میں نہ پھنسا دیں۔ ہنر مندی پروگرام، اسٹارٹ اپس اور سیاحتی منصوبوں سے فائدہ اٹھائیں۔ ہماری سرزمین صحت یاب ہو رہی ہے، اس کی تعمیر میں شریک ہوں۔
عسکریت فریب دیتی ہے، شمولیت امکانات دیتی ہے۔
آئیے امن، ترقی اور خوشحال کشمیر کا انتخاب کریں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس کا ثمر دیکھ سکیں۔
جے کشمیر، جے ہند۔


