ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
سری نگر
مکی اور مدنی آیات میں ایک نمایاں فرق اسلوب کلام کا ھے ۔مکہ میں جو حالات تھےاور جو معاشرہ بالفعل موجود تھا اس معاشرے میں مسلمانوں کی جو حیثیت تھی تاریخی لحاظ سے وہ بالکل متعین ہے ایسے حالات میں جو قرآن کریم اترا ہے اسے ضروری اس سے مختلف ہونا چاہئے جو مدینہ میں اترا کیونکہ وہاں کے حالات اور معاشرہ اور اس کے اندر مسلمانوں کی حیثیت بالکل جداگانہ تھی لہذا اسلوب کلام کے لحاظ سے بھی مکی اور مدنی آیات کا تعین کیا جاسکتا ہے
(1) مکی اور مدنی آیات معلوم کرنے کے دو طریقے ہیں 1۔سماعی 2۔۔قیاسی۔۔۔۔۔۔۔مکی سورتوں کی بعض امارات و علامات تو یقینی ہیں اور ایسی ہیں کہ وہ کلی طور پر یا استثنائی طور پر مکی آیات اور سورتوں پر منطبق ہوتی ہیں مثلا-۔۔1)۔ وہ سورتیں جن میں سجدہ تلاوت ہے وہ مکی ہیں بعض مستشرقین نے کہا ہے کہ جن سورتوں میں لفظ (رحمان) آیا ہے وہ مدنی ہے لیکن یہ درست اس لئے نہیں ہے کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ سورہ الرحمن مکی ہی لہذا اس سے یہ قول سقیم ہوجاتا ہے لیکن امام جلال الدین سیوطی اس کے مکی ہونے کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔
2) جن سورتوں میں (کلا) کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ مکی ہیں کیونکہ یہ لفظ (کلا) قرآن کے آخری پندرہ پاروں میں استعمال ہوا ہے (کلا) چونکہ روکنے اور زجر و توبیخ کے لئے آتا ہے اور مقصد متکلم کے کلام کی نفی کرنا ہوتا ہے اس لئے یہ مکی سورتوں میں کثرت سے استعمال ہوا ہے کیونکہ قریش نہایت سرکش اور منکر تھے اور ان کے لئے تہدید آمیز کلام ہی مناسب تھا
(3)جن سورتوں کا آغاز حروف تہجی سے ہوتا ہے مثلا ا ل م ۔ا ل م را۔ایسی سورتیں سوائے سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران کے تمام کے تمام مکی ہیں ۔البتہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورہ رعد مدنی ہے لیکن راجح قول یہی کہ وہ مکی ہے کیونکہ اس کا اسلوب بیان اور مضامین بتارہے ہیں کہ وہ مکی سورت ہے۔
(4)جن سورتوں میں آدم و ابلیس کا قصہ آیا ہے سورہ البقرہ کے سوائے سب مکی ہیں
(5) جن سورتوں میں انبیائےسابقین علیہ سلام اور امم سابقہ کے حالات ہیں سورہ البقرہ کے سوا تمام مکی ہیں
(6)جن سورتوں میں (یا ایہاالناس) ہے ۔لیکن ان میں (یا ایہاالذین آمنو) نہیں ہے وہ مکی ہیں البتہ سورہ حج اس سے مستثنی ہے کیونکہ اس کے آخر میں (یاایہاالذین آمنو ) ہےاور اس کا نزول ہجرت سفر کے دوران ہوا ہے
(7)مفصلات تمام کی تمام مکہ میں نازل ہوئی ہیں ۔طبرانی نے حضرت ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ مفصلات مکہ
نازل ہوئیں ۔کئی سال تک ہم وہاں رہے اور انہیں پڑھتے رہے اور ان کے علاوہ کوئی چیز نازل نہ ہوئی (مفصلات کا معنی جو قرآن دعوت کے ابتدائی مرحلے کے مناسبت سے چھوٹے چھوٹے بولوں پر مشتمل ہوتا ہے
(8)مکی دور میں آیات چھوٹی مختصر اور ہم آہنگ آواز پر مشتمل ہیں انداز بیان نہایت پر زور ہے
(9)مکی دور کی آیات میں دعوت کا محور اسلامی نظریہ حیات یعنی اصول ایمان آخرت پر ایمان اور جنت و دوزخ کا ذکر بکثرت ہے اخلاقی تطہیر پر زور دیا گیا۔
(10) مسلمانوں پر زور دیا گیا
ہے کہ وہ اپنے کردار کو بلند کریں اور سچائی کے راستے میں اگر انہیں مشکلات پیش آتی ہیں تو انہیں انگیز کریں
(11)مشرکین کے انکار باطلہ کی تردید اور نفی
(12)مکی سورتوں میں قسم زیادہ استعمال ہوئی ہے جیسا کہ عرب کا اسلوب بیان ہوتا تھا مدنی آیات میں قسم کا استعمال کم ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مکی قرآن میں سارا خطاب مشرکین سے ہے یعنی عرب کے وہ لوگ جو مکہ میں اور اس کے اردگرد آباد تھے ۔وہاں کوئی یہودی یا کوئی نصرانی نہیں تھا سب کے سب مشرکین عرب تھے اس لئے پورے مکی قرآن میں انہی سے ردوقدح ہے گفتگو ہے بحث و نزاع ہے ان کے اعتراضات کے جواب میں اور ان پر اتمام حجت کیا گیا۔اگر چہ اہل کتاب کا تذکرہ حوالہ کے طور پر موجود ہے ۔حضرت موسئ اور حضرت عیسئ کا ذکر موجود ہے لیکن بنی اسرائیل سے یہودیوں سے یا نصارئ سے کوئی خطاب نہیں ہوا۔۔ان سے خطاب مدینہ میں آکر شروع ہوا کیونکہ وہاں یہودی آباد تھے ۔مدینہ میں یہود کے تین مظبوط قبیلے موجود تھے ۔1۔بنو قینقاع ۔2۔بنو نضیر۔3۔بنو قریظ۔۔


