درگاہ حضرت بل کی تزئین و مرمت پر وقف بورڈ کاMLA کو مدلل اور پُراثر جواب

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر: وادی میں حالیہ دنوں سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث کا باعث بننے والے معاملے پر جموں و کشمیر وقف بورڈ نے درگاہ حضرت بل کی تزئین و مرمت سے متعلق ایم ایل اے تنویر صادق کے بیانات کا نہایت سنجیدہ، مدلل اور متوازن جواب جاری کیا ہے۔ بورڈ نے واضح کیا کہ عقیدے سے جڑے معاملات کو سیاسی کشمکش کا میدان بنانے کے بجائے انہیں وقار، ذمہ داری اور اجتماعی احترام کے دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔

اپنے سرکاری بیان میں وقف بورڈ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ درگاہ حضرت بل کی سب سے بڑی امانت اور روحانی مرکز متبرک موئے مقدس ہے، جو لاکھوں مسلمانوں کے ایمان اور عقیدت کا محور ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ درگاہ کے حوالے سے اٹھایا جانے والا ہر قدم گہری مذہبی حساسیت، جوابدہی اور اس مقدس مقام سے وابستہ جذبات کے مکمل ادراک کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔

مرکزی ہال میں پرانے فانوس کی تبدیلی اور نئے فانوسوں کی تنصیب کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے بورڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ عمارت کی ساختی مضبوطی، حفاظتی تقاضوں اور جمالیاتی ہم آہنگی کو سامنے رکھ کر کیا گیا۔ نئے فانوس پر قرآنی آیات کندہ ہیں اور اسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ درگاہ کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے روحانی فضا کو مزید پرنور اور باوقار بنائے۔

وقف بورڈ نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ کسی تاریخی یا جذباتی اہمیت کی حامل شے کو ضائع کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق پرانا فانوس اور دیگر ہٹایا گیا سازوسامان ضابطہ کار کے مطابق محفوظ کر لیا گیا ہے اور کسی ورثے کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

منتخب نمائندوں کے سوال اٹھانے کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہوئے بورڈ نے اپیل کی کہ مذہبی اداروں سے متعلق معاملات میں غیر ضروری سنسنی یا سیاسی رنگ آمیزی سے گریز کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ درگاہ حضرت بل محض ایک عمارت نہیں بلکہ امت کے عقیدے کی علامت ہے، لہٰذا اس کے بارے میں گفتگو اتحاد، احترام اور اجتماعی ذمہ داری کی عکاس ہونی چاہیے۔

بورڈ کے مطابق تزئین و مرمت کے یہ اقدامات زائرین کے لیے بہتر سہولیات، مضبوط حفاظتی انتظامات اور زیادہ پُرسکون عبادتی ماحول فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ابتدائی عوامی ردِعمل حوصلہ افزا رہا ہے اور متعدد زائرین نے نئے انتظامات کو باوقار اور روحانی فضا کے مطابق قرار دیا ہے۔

براہ راست محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے وقف بورڈ نے امید ظاہر کی کہ ایسے حساس معاملات کو سیاسی اختلاف کا موضوع نہیں بنایا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ عقیدہ لوگوں کو جوڑتا ہے، اسے تقسیم اور تنازع سے بالاتر رہنا چاہیے۔ ہمارا واحد مقصد درگاہ اور اس کے زائرین کی خدمت اخلاص، شفافیت اور امانت داری کے ساتھ انجام دینا ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر وقف بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متبرک موئے مقدس کی حرمت کے تحفظ اور درگاہ حضرت بل کی روحانی وراثت کی حفاظت کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے، اور روایت کے احترام کے ساتھ موجودہ اور آنے والی نسلوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری کے اقدامات جاری رکھے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

درگاہ حضرت بل کی تزئین و مرمت پر وقف بورڈ کاMLA کو مدلل اور پُراثر جواب

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر: وادی میں حالیہ دنوں سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث کا باعث بننے والے معاملے پر جموں و کشمیر وقف بورڈ نے درگاہ حضرت بل کی تزئین و مرمت سے متعلق ایم ایل اے تنویر صادق کے بیانات کا نہایت سنجیدہ، مدلل اور متوازن جواب جاری کیا ہے۔ بورڈ نے واضح کیا کہ عقیدے سے جڑے معاملات کو سیاسی کشمکش کا میدان بنانے کے بجائے انہیں وقار، ذمہ داری اور اجتماعی احترام کے دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔

اپنے سرکاری بیان میں وقف بورڈ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ درگاہ حضرت بل کی سب سے بڑی امانت اور روحانی مرکز متبرک موئے مقدس ہے، جو لاکھوں مسلمانوں کے ایمان اور عقیدت کا محور ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ درگاہ کے حوالے سے اٹھایا جانے والا ہر قدم گہری مذہبی حساسیت، جوابدہی اور اس مقدس مقام سے وابستہ جذبات کے مکمل ادراک کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔

مرکزی ہال میں پرانے فانوس کی تبدیلی اور نئے فانوسوں کی تنصیب کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے بورڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ عمارت کی ساختی مضبوطی، حفاظتی تقاضوں اور جمالیاتی ہم آہنگی کو سامنے رکھ کر کیا گیا۔ نئے فانوس پر قرآنی آیات کندہ ہیں اور اسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ درگاہ کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے روحانی فضا کو مزید پرنور اور باوقار بنائے۔

وقف بورڈ نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ کسی تاریخی یا جذباتی اہمیت کی حامل شے کو ضائع کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق پرانا فانوس اور دیگر ہٹایا گیا سازوسامان ضابطہ کار کے مطابق محفوظ کر لیا گیا ہے اور کسی ورثے کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

منتخب نمائندوں کے سوال اٹھانے کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہوئے بورڈ نے اپیل کی کہ مذہبی اداروں سے متعلق معاملات میں غیر ضروری سنسنی یا سیاسی رنگ آمیزی سے گریز کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ درگاہ حضرت بل محض ایک عمارت نہیں بلکہ امت کے عقیدے کی علامت ہے، لہٰذا اس کے بارے میں گفتگو اتحاد، احترام اور اجتماعی ذمہ داری کی عکاس ہونی چاہیے۔

بورڈ کے مطابق تزئین و مرمت کے یہ اقدامات زائرین کے لیے بہتر سہولیات، مضبوط حفاظتی انتظامات اور زیادہ پُرسکون عبادتی ماحول فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ابتدائی عوامی ردِعمل حوصلہ افزا رہا ہے اور متعدد زائرین نے نئے انتظامات کو باوقار اور روحانی فضا کے مطابق قرار دیا ہے۔

براہ راست محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے وقف بورڈ نے امید ظاہر کی کہ ایسے حساس معاملات کو سیاسی اختلاف کا موضوع نہیں بنایا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ عقیدہ لوگوں کو جوڑتا ہے، اسے تقسیم اور تنازع سے بالاتر رہنا چاہیے۔ ہمارا واحد مقصد درگاہ اور اس کے زائرین کی خدمت اخلاص، شفافیت اور امانت داری کے ساتھ انجام دینا ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر وقف بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متبرک موئے مقدس کی حرمت کے تحفظ اور درگاہ حضرت بل کی روحانی وراثت کی حفاظت کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے، اور روایت کے احترام کے ساتھ موجودہ اور آنے والی نسلوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری کے اقدامات جاری رکھے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں