زکوٰۃدین اسلام کی ایک بنیاد ی عبادت ہے

ابو نصر فاروق
تقویٰ کی ضرورت:
قرآن کے شروع میں ہی لکھا ہو اہے کہ :’’یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘(البقرہ: ۲/ ۳ ) یعنی تقویٰ جس کے بغیر قرآن سے ہدایت نہیں مل سکتی ہے ۔
تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی وہ چیزیں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ خرچ کروگے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا۔‘‘ (آل عمران:۹۲)اس آیت سے یہ بات واضح کی گئی کہ انسان اپنا محبوب مال خرچ کئے بغیر نیک بن ہی نہیں سکتا ہے۔یعنی اس کے دل میں یا تو اللہ کی محبت ہوگی یا مال کی محبت۔اگر مال کی محبت ہے تو اللہ کی محبت نہیں ہوگی۔ اللہ کی محبت نہیں ہو گی تو وہ نیک تو کیا مسلمان بھی نہیں بن پائے گا۔’’حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اے آدم کے بیٹے خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا ۔ (یعنی تیرے رزق میں برکت دی جائے گی) (بخاری و مسلم)
حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا  صدقہ اللہ کے غصہ کو بجھا دیتا ہے اور دردناک موت سے بچاتا ہے۔(ترمذی)
زکوٰۃ فرض صدقہ ہے:
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے حکم سے قرآن بھرا پڑا ہے۔لیکن ایک جگہ اس صدقہ کو فرض قرار دیا گیا ہے جسے زکوٰۃ کہتے ہیں۔’’یہ صدقات تو در اصل فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور ان کے لئے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں، اور راہ خدا میں ،اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لئے ہیں۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔‘‘(توبہ: ۶۰) سورہ توبہ کی یہ وہ آیت ہے جس کے نزول کے بعد مسلمانوں پر زکوٰۃ بھی فرض ہو گئی۔اور اس کے بعد نماز کی بیشتر آیتوں کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم بھی دیا جانے لگا۔نماز اور زکوٰۃ دونوں کا حکم بار بار دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح نماز ایک شخص کے مسلمان ہونے کے لئے لازمی شرط ہے اُسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی بھی اہل ایمان کہلانے کے لئے ضروری فرض ہے۔کوئی شخص نماز تو پڑھتا ہو مگر زکوٰۃ نہ دیتا ہو تو وہ مسلمان نہیں بن سکتا۔آج کل چونکہ ہر شخص آزاد ہے، کوئی شریعت کی پابندی کرانے والا نہیں اس لئے ہر شخص خود کو مسلمان کہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مسلمان صرف وہ ہے جو شریعت کے احکام کی پابندی کرتا ہے۔شریعت کے احکام کی ابتدا نماز اور زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ جب کسی عمارت کی بنیاد ہی غائب ہوتوپھر اُس کے استحکام کی کیا بات کی جاسکتی ہے۔کیا پتا وہ کس وقت دھڑام سے زمین پر آ جائے۔
زکوٰۃ نہیں دینے والوں کا حشر:
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اُن کے بارے میںقرآن کہتا ہے : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ان اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اُنہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔دردناک سزا کی خوش خبری دے دو اُن کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اُنہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے اور چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے اُن لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔ (توبہ:۳۴/۳۵)نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:جس شخص کو اللہ نے مال دیا اور پھر اُس نے اُس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے روز اُس کا یہی مال ایک ایسے گنجے اژدہے کی صورت میں اُس کے سامنے آئے گا، جس کی آنکھوںکے اورپر دو سیاہ (خوفناک) دھبے ہوں گے۔ پھر وہ اُسے اپنے دونوں جبڑوں سے پکڑے گا اور اُس سے کہے گا میں ہوں تیرا خزانہ ، میں ہوں تیرا مال۔اس کے بعدرسول اللہ ﷺنے یہ آیت تلاوت کی:ولا یحسبن الذین یبخلون……یوم القیامۃ۔’’ جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں، وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی اُن کے لئے اچھی ہے، نہیں یہ اُن کے حق میں نہایت بری ہے۔ جو کچھ وہ کنجوسی سے جمع کر رہے ہیں، وہ قیامت کے روز اُن کے گلے کا طوق بن جائے گا۔‘‘ (بخاری ومسلم)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺکی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکرؓ کے کندھوں پر خلافت کا بارپڑا اور عرب کے کچھ لوگوں نے اسلام سے روگردانی کی تو (حضرت ابوبکرؓ نے اُن سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا،اس پر) حضرت عمرؓنے اُن سے کہا: آپ ان لوگوں سے جنگ کیسے کر سکتے ہیں؟   حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: نبیﷺا فرمان ہے :مجھے حکم دیا گیا ہے میں اُس وقت تک لوگوں سے جنگ جاری رکھوں جب تک وہ یہ شہادت نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ۔ جس شخص نے یہ شہادت دے دی اُس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان بچالی، الا یہ کہ اسلام کا حق اُس کا خون چاہتا ہو اور اُس کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہوگا؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:اللہ کی قسم میں اُن لوگوں سے ضرور جنگ کروں گا جنہوںنے نماز اور زکوٰۃ کے درمیان تفریق کر دی، حالانکہ زکوٰۃ اللہ کا حق ہے۔اللہ کی قسم اگر اُن لوگوں نے مجھ سے اونٹ کی ایک رسی بھی جسے وہ رسول اللہﷺکو دیا کرتے تھے روکی تو میں اُن سے جنگ کروں گا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا:اس کے بعد جلد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اللہ نے جنگ کے لئے حضرت ابوبکرؓ کا سینہ کھول دیا ہے اور میں سمجھ گیا کہ وہ حق بجانب ہیں۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، احمد، نسائی، ابن ماجہ)
قرآن کی وہ آیت جس سے حضرت ابوبکر ؓ نے زکوٰۃنہیں دینے والوں کے خلاف جنگ کا ارادہ کیا تھا وہ یہ ہے: ’’پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑواور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لئے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (توبہ: ۵ )
زکوٰۃ کب اور کن چیزوں پر فرض ہو تی ہے  ؟
کسی مال پر زکوٰۃ فرض ہونے کی دو شرطیں ہیں:ایک یہ کہ وہ مال نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اور دوسرے یہ کہ اس پ ایک ہجری سال گزر چکا ہو۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہﷺنے فرمایا:کسی مال پر اس وقت تک کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک اُس پر ایک سال نہ گزر چکا ہو۔‘‘(ابوداؤد)
فصل:زمین کی پیداوار پر ایک سال گزرنے کی شرط نہیں ہے۔فصل کی زکوٰۃ جسے عشر کہتے ہیں فصل کے کاٹنے اور صاف کرنے کے وقت ادا ہوگی۔
چاندی:چاندی کا نصاب ۵ اوقیہ یعنی ساڑھے باون تولہ ہوتا ہے۔حضرت جابر ؓ کہتے ہیں:’’رسول اللہﷺنے فرمایا:۵ اوقیہ سے کم چاندی پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ (مسلم)
سونا :سونے کا نصاب ۲۰ مثقال یعنی ساڑھے سات تولہ ہوتا ہے۔حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ :رسول اللہﷺنے فرمایا:تم پر سونے میں اُس وقت تک کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک وہ بیس دینار(۲۰ مثقال) نہ ہو جائے۔ اگر تمہارے پاس ۲۰ دینار سونا ہو اوراُس پر ایک سال گزر چکا ہو تو اُس پر نصف دینار (چالیسواں حصہ) زکوٰۃ ادا کرو۔ (ابوداؤد)
نقد روپیہ:ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر کسی کے پاس نقد روپیہ ہواور وہ اُس کے پاس ایک سال تک بچت کی شکل میں رہ گیا ہوتو اُس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
سامان تجارت:تاجر جس چیز کی تجارت کر رہا ہے اُس پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ کپڑے، برتن،استعمال کے سامان اور جواہرات پر زکوٰۃ نہیں ہے لیکن جو شخص ان چیزوں کی تجارت کر رہا ہے اُس کو اُن پر زکوٰۃ نکالنی ہوگی…اس کا طریقہ یہ ہے کہ رمضان شروع ہوتے ہی سامان تجارت جتنا بھی ہو اُس کا حساب لگا کر اُس کی مالیت نکال لینی چاہئے۔اس کے علاوہ بازار میں جتنے لوگوں کے یہاں بقایہ ہے اُس کو بھی اُس میں شامل کر لینا چاہئے۔پھر جن لوگوں کا تاجر پر قرض یا بقایہ ہے اُس کو اُس میں سے گھٹا دینا چاہئے۔ اب جو مالیت بچی اُس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔مکان،مکان کا قیمتی سامان، سواری، کام کے اوزار، مشینیں، دکان میں لگا ہوافرنیچراور استعمال کی چیزوں پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ۔
قابل غوربات:…آج کل لوگ اپنے پاس نقد روپیہ کی جگہ زمین اور مکان رکھتے ہیں ۔اُن کی یہ جائیداد اُن کی ضرورت سے زیادہ ہے اور بچت ہے۔بچت کی شکل میں جو چیز بھی رکھی گئی ہے وہ کنز(خزانہ ) ہے اور کنز پر زکوٰۃ فرض ہے۔عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زمین مکان پر تو زکوٰۃ ہے نہیں اس لئے اُن کی زکوٰۃ نہیں دینی ہے۔ یہ شدید غلط فہمی ہے۔ رہنے والے مکان پر زکوٰۃ نہیں ہے، لیکن بچت والے زمین مکان پر زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔زکوٰۃ نہیں اداکرنے کی جو آفت ہے وہ پچھلے صفحات میں بتائی جا چکی ہے۔ جو شخص مال کی محبت کے سبب زکوٰۃ میں لاکھوں روپے زکوٰۃ نہیںنکالنا چاہتے وہ سمجھ لیںکہ اللہ تعالیٰ اُن سے ناراض ہوا تو دیکھتے دیکھتے وہ بھکاری بن جائیں گے اور اُن کا سارا مال بھسم ہو جائے گا۔
زکوٰۃ کس کو دینی ہے  ؟
قرآن کے مطابق زکوٰۃ ان آٹھ طرح کے لوگوں کو دی جائے گی:
(فقیر)ـفقیر سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی معیشت کے لئے دوسرے کی مدد کا محتاج ہو یہ لفظ تمام حاجت مندوں مثلاًیتیم بیوہ بیروزگار شخص کے لئے عام ہے۔(مسکین)مسکین وہ شخص ہے جو عام حاجت مند کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہو، لیکن اُس کی غیرت ہاتھ پھیلانے میں آڑے آتی ہے اور لوگ اُس کو محتاج نہیں سمجھتے۔(عاملین)وہ لوگ جو صدقات کی وصولی، اُس کی حفاظت ،اُس کے حساب کتاب اور اُس کی تقسیم کے کام میں لگے ہوں، چاہے وہ محتاج ہوں یا نہ ہوں۔(تالیف قلب)جو لوگ نئے مسلمان بنے ہوں اُن کی مدد کے لئے۔(غلام)پرانے زمانے میں غلاموں کو زکوٰۃ کی رقم سے خرید کر آزاد کر دیاجاتا تھا۔ اب یہ چیز باقی نہیںرہی۔اس مد کا استعمال قیدیوں پر کیاجاسکتا ہے۔(مقروض)ایسے لوگ جو اپنے مال سے پوراقرض ادا کردیں تواُ ن کے پاس اُن کی ضرورت سے کم مال رہ جائے اُ ن کو زکوٰۃ دی جائے گی۔آفی سبیل اللہ)دین اسلام کی سربلندی اور کامیابی کے لئے جو کوشش بھی کی جارہی ہو اُس میں زکوٰۃ کے مال سے مدد کی جائے گی۔(مسافر)مسافر(جو سفر میںلٹ گیا ہو) اس مد سے امداد پائے گا چاہے وہ اپنے گھر کا رئیس ہی کیوں نہ ہو۔
یہ آٹھ طرح کے ضرورت مند لوگ ہیں جن کو زکوٰۃ دینی ہے۔ اس حکم پر غور کیجئے تو اندازہ ہوگا کہ زکوٰۃ آدمی کو دینے کا حکم ہے کسی ادارے یا تنظیم کو نہیں۔ زکوٰۃ کی رقم مسجد، مدرسے، قبرستان یا کسی بھی عمارت کے لئے نہیں دی جائے گی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر صدقہ فرض کیاہے جواُن کے مالداروں سے لیا جائے گا اور اُسے اُن کے ضرورت مندوں کو لوٹایا جائے گا۔ (بخاری،مسلم)
ژۃظضظۃژ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

زکوٰۃدین اسلام کی ایک بنیاد ی عبادت ہے

ابو نصر فاروق
تقویٰ کی ضرورت:
قرآن کے شروع میں ہی لکھا ہو اہے کہ :’’یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘(البقرہ: ۲/ ۳ ) یعنی تقویٰ جس کے بغیر قرآن سے ہدایت نہیں مل سکتی ہے ۔
تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی وہ چیزیں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ خرچ کروگے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا۔‘‘ (آل عمران:۹۲)اس آیت سے یہ بات واضح کی گئی کہ انسان اپنا محبوب مال خرچ کئے بغیر نیک بن ہی نہیں سکتا ہے۔یعنی اس کے دل میں یا تو اللہ کی محبت ہوگی یا مال کی محبت۔اگر مال کی محبت ہے تو اللہ کی محبت نہیں ہوگی۔ اللہ کی محبت نہیں ہو گی تو وہ نیک تو کیا مسلمان بھی نہیں بن پائے گا۔’’حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا اے آدم کے بیٹے خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا ۔ (یعنی تیرے رزق میں برکت دی جائے گی) (بخاری و مسلم)
حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا  صدقہ اللہ کے غصہ کو بجھا دیتا ہے اور دردناک موت سے بچاتا ہے۔(ترمذی)
زکوٰۃ فرض صدقہ ہے:
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے حکم سے قرآن بھرا پڑا ہے۔لیکن ایک جگہ اس صدقہ کو فرض قرار دیا گیا ہے جسے زکوٰۃ کہتے ہیں۔’’یہ صدقات تو در اصل فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور ان کے لئے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں، اور راہ خدا میں ،اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لئے ہیں۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔‘‘(توبہ: ۶۰) سورہ توبہ کی یہ وہ آیت ہے جس کے نزول کے بعد مسلمانوں پر زکوٰۃ بھی فرض ہو گئی۔اور اس کے بعد نماز کی بیشتر آیتوں کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم بھی دیا جانے لگا۔نماز اور زکوٰۃ دونوں کا حکم بار بار دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح نماز ایک شخص کے مسلمان ہونے کے لئے لازمی شرط ہے اُسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی بھی اہل ایمان کہلانے کے لئے ضروری فرض ہے۔کوئی شخص نماز تو پڑھتا ہو مگر زکوٰۃ نہ دیتا ہو تو وہ مسلمان نہیں بن سکتا۔آج کل چونکہ ہر شخص آزاد ہے، کوئی شریعت کی پابندی کرانے والا نہیں اس لئے ہر شخص خود کو مسلمان کہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مسلمان صرف وہ ہے جو شریعت کے احکام کی پابندی کرتا ہے۔شریعت کے احکام کی ابتدا نماز اور زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ جب کسی عمارت کی بنیاد ہی غائب ہوتوپھر اُس کے استحکام کی کیا بات کی جاسکتی ہے۔کیا پتا وہ کس وقت دھڑام سے زمین پر آ جائے۔
زکوٰۃ نہیں دینے والوں کا حشر:
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اُن کے بارے میںقرآن کہتا ہے : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ان اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اُنہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔دردناک سزا کی خوش خبری دے دو اُن کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اُنہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے اور چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے اُن لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔ (توبہ:۳۴/۳۵)نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:جس شخص کو اللہ نے مال دیا اور پھر اُس نے اُس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے روز اُس کا یہی مال ایک ایسے گنجے اژدہے کی صورت میں اُس کے سامنے آئے گا، جس کی آنکھوںکے اورپر دو سیاہ (خوفناک) دھبے ہوں گے۔ پھر وہ اُسے اپنے دونوں جبڑوں سے پکڑے گا اور اُس سے کہے گا میں ہوں تیرا خزانہ ، میں ہوں تیرا مال۔اس کے بعدرسول اللہ ﷺنے یہ آیت تلاوت کی:ولا یحسبن الذین یبخلون……یوم القیامۃ۔’’ جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں، وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی اُن کے لئے اچھی ہے، نہیں یہ اُن کے حق میں نہایت بری ہے۔ جو کچھ وہ کنجوسی سے جمع کر رہے ہیں، وہ قیامت کے روز اُن کے گلے کا طوق بن جائے گا۔‘‘ (بخاری ومسلم)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺکی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکرؓ کے کندھوں پر خلافت کا بارپڑا اور عرب کے کچھ لوگوں نے اسلام سے روگردانی کی تو (حضرت ابوبکرؓ نے اُن سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا،اس پر) حضرت عمرؓنے اُن سے کہا: آپ ان لوگوں سے جنگ کیسے کر سکتے ہیں؟   حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: نبیﷺا فرمان ہے :مجھے حکم دیا گیا ہے میں اُس وقت تک لوگوں سے جنگ جاری رکھوں جب تک وہ یہ شہادت نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ۔ جس شخص نے یہ شہادت دے دی اُس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان بچالی، الا یہ کہ اسلام کا حق اُس کا خون چاہتا ہو اور اُس کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہوگا؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:اللہ کی قسم میں اُن لوگوں سے ضرور جنگ کروں گا جنہوںنے نماز اور زکوٰۃ کے درمیان تفریق کر دی، حالانکہ زکوٰۃ اللہ کا حق ہے۔اللہ کی قسم اگر اُن لوگوں نے مجھ سے اونٹ کی ایک رسی بھی جسے وہ رسول اللہﷺکو دیا کرتے تھے روکی تو میں اُن سے جنگ کروں گا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا:اس کے بعد جلد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اللہ نے جنگ کے لئے حضرت ابوبکرؓ کا سینہ کھول دیا ہے اور میں سمجھ گیا کہ وہ حق بجانب ہیں۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، احمد، نسائی، ابن ماجہ)
قرآن کی وہ آیت جس سے حضرت ابوبکر ؓ نے زکوٰۃنہیں دینے والوں کے خلاف جنگ کا ارادہ کیا تھا وہ یہ ہے: ’’پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑواور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لئے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (توبہ: ۵ )
زکوٰۃ کب اور کن چیزوں پر فرض ہو تی ہے  ؟
کسی مال پر زکوٰۃ فرض ہونے کی دو شرطیں ہیں:ایک یہ کہ وہ مال نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اور دوسرے یہ کہ اس پ ایک ہجری سال گزر چکا ہو۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہﷺنے فرمایا:کسی مال پر اس وقت تک کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک اُس پر ایک سال نہ گزر چکا ہو۔‘‘(ابوداؤد)
فصل:زمین کی پیداوار پر ایک سال گزرنے کی شرط نہیں ہے۔فصل کی زکوٰۃ جسے عشر کہتے ہیں فصل کے کاٹنے اور صاف کرنے کے وقت ادا ہوگی۔
چاندی:چاندی کا نصاب ۵ اوقیہ یعنی ساڑھے باون تولہ ہوتا ہے۔حضرت جابر ؓ کہتے ہیں:’’رسول اللہﷺنے فرمایا:۵ اوقیہ سے کم چاندی پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ (مسلم)
سونا :سونے کا نصاب ۲۰ مثقال یعنی ساڑھے سات تولہ ہوتا ہے۔حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ :رسول اللہﷺنے فرمایا:تم پر سونے میں اُس وقت تک کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک وہ بیس دینار(۲۰ مثقال) نہ ہو جائے۔ اگر تمہارے پاس ۲۰ دینار سونا ہو اوراُس پر ایک سال گزر چکا ہو تو اُس پر نصف دینار (چالیسواں حصہ) زکوٰۃ ادا کرو۔ (ابوداؤد)
نقد روپیہ:ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر کسی کے پاس نقد روپیہ ہواور وہ اُس کے پاس ایک سال تک بچت کی شکل میں رہ گیا ہوتو اُس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
سامان تجارت:تاجر جس چیز کی تجارت کر رہا ہے اُس پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ کپڑے، برتن،استعمال کے سامان اور جواہرات پر زکوٰۃ نہیں ہے لیکن جو شخص ان چیزوں کی تجارت کر رہا ہے اُس کو اُن پر زکوٰۃ نکالنی ہوگی…اس کا طریقہ یہ ہے کہ رمضان شروع ہوتے ہی سامان تجارت جتنا بھی ہو اُس کا حساب لگا کر اُس کی مالیت نکال لینی چاہئے۔اس کے علاوہ بازار میں جتنے لوگوں کے یہاں بقایہ ہے اُس کو بھی اُس میں شامل کر لینا چاہئے۔پھر جن لوگوں کا تاجر پر قرض یا بقایہ ہے اُس کو اُس میں سے گھٹا دینا چاہئے۔ اب جو مالیت بچی اُس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔مکان،مکان کا قیمتی سامان، سواری، کام کے اوزار، مشینیں، دکان میں لگا ہوافرنیچراور استعمال کی چیزوں پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ۔
قابل غوربات:…آج کل لوگ اپنے پاس نقد روپیہ کی جگہ زمین اور مکان رکھتے ہیں ۔اُن کی یہ جائیداد اُن کی ضرورت سے زیادہ ہے اور بچت ہے۔بچت کی شکل میں جو چیز بھی رکھی گئی ہے وہ کنز(خزانہ ) ہے اور کنز پر زکوٰۃ فرض ہے۔عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زمین مکان پر تو زکوٰۃ ہے نہیں اس لئے اُن کی زکوٰۃ نہیں دینی ہے۔ یہ شدید غلط فہمی ہے۔ رہنے والے مکان پر زکوٰۃ نہیں ہے، لیکن بچت والے زمین مکان پر زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔زکوٰۃ نہیں اداکرنے کی جو آفت ہے وہ پچھلے صفحات میں بتائی جا چکی ہے۔ جو شخص مال کی محبت کے سبب زکوٰۃ میں لاکھوں روپے زکوٰۃ نہیںنکالنا چاہتے وہ سمجھ لیںکہ اللہ تعالیٰ اُن سے ناراض ہوا تو دیکھتے دیکھتے وہ بھکاری بن جائیں گے اور اُن کا سارا مال بھسم ہو جائے گا۔
زکوٰۃ کس کو دینی ہے  ؟
قرآن کے مطابق زکوٰۃ ان آٹھ طرح کے لوگوں کو دی جائے گی:
(فقیر)ـفقیر سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی معیشت کے لئے دوسرے کی مدد کا محتاج ہو یہ لفظ تمام حاجت مندوں مثلاًیتیم بیوہ بیروزگار شخص کے لئے عام ہے۔(مسکین)مسکین وہ شخص ہے جو عام حاجت مند کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہو، لیکن اُس کی غیرت ہاتھ پھیلانے میں آڑے آتی ہے اور لوگ اُس کو محتاج نہیں سمجھتے۔(عاملین)وہ لوگ جو صدقات کی وصولی، اُس کی حفاظت ،اُس کے حساب کتاب اور اُس کی تقسیم کے کام میں لگے ہوں، چاہے وہ محتاج ہوں یا نہ ہوں۔(تالیف قلب)جو لوگ نئے مسلمان بنے ہوں اُن کی مدد کے لئے۔(غلام)پرانے زمانے میں غلاموں کو زکوٰۃ کی رقم سے خرید کر آزاد کر دیاجاتا تھا۔ اب یہ چیز باقی نہیںرہی۔اس مد کا استعمال قیدیوں پر کیاجاسکتا ہے۔(مقروض)ایسے لوگ جو اپنے مال سے پوراقرض ادا کردیں تواُ ن کے پاس اُن کی ضرورت سے کم مال رہ جائے اُ ن کو زکوٰۃ دی جائے گی۔آفی سبیل اللہ)دین اسلام کی سربلندی اور کامیابی کے لئے جو کوشش بھی کی جارہی ہو اُس میں زکوٰۃ کے مال سے مدد کی جائے گی۔(مسافر)مسافر(جو سفر میںلٹ گیا ہو) اس مد سے امداد پائے گا چاہے وہ اپنے گھر کا رئیس ہی کیوں نہ ہو۔
یہ آٹھ طرح کے ضرورت مند لوگ ہیں جن کو زکوٰۃ دینی ہے۔ اس حکم پر غور کیجئے تو اندازہ ہوگا کہ زکوٰۃ آدمی کو دینے کا حکم ہے کسی ادارے یا تنظیم کو نہیں۔ زکوٰۃ کی رقم مسجد، مدرسے، قبرستان یا کسی بھی عمارت کے لئے نہیں دی جائے گی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر صدقہ فرض کیاہے جواُن کے مالداروں سے لیا جائے گا اور اُسے اُن کے ضرورت مندوں کو لوٹایا جائے گا۔ (بخاری،مسلم)
ژۃظضظۃژ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں