جموں کشمیر کی کرکٹ ٹیم 6 دہائیوں کے بعد رانجی ٹرافی کے فائنل میں پہنچی

خورشید ریشی
سرینگر/ جنگ نیوز/کل چھیاسٹھ سال کے لمبے عرصے کے بعد جموں کشمیر کی کرکٹ ٹیم نے رانجی ٹرافی کے فائنل میں جگہ بنا کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ سیمی فائنل میں بنگال کی ٹیم کو شکست دے کر یہ کارنامہ انجام دیا میچ میں کپتان پارس ڈوگرا،عبدالصمد وینشاج شرما کی بلے بازی، عاقب نبی کی آلراونڈ کارکردگی اور یوزویندر سنگھ چارک اور سنیل کمار کی گیند بازی سے یہ ممکن ہوا۔
ٹیم کی کامیابی پر جموں و کشمیر کے ہر خطے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہر ایک نے مبارکبادی کے پیغامات ٹیم کے نام بھیجے۔لیفٹیننٹ گورنر شری منہوج سنہا کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ، سابقہ کھلاڑیوں اور لاکھوں شائقین کرکٹ نے ٹیم کو مبارکباد پیش کی کیونکہ یہ کامیابی صرف ایک میچ کی جیت نہیں بلکہ برسوں کی محنت، صبر اور لگن کا ثمر ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری مبارکبادی کے پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ فتح پورے خطے کے لیے باعثِ فخر بن چکی ہے۔
یہ کارنامہ دراصل ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ جموں کشمیر کی کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی نے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ بلے بازوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، گیند بازوں نے حریف ٹیموں کو دباؤ میں رکھا اور فیلڈرز نے اپنی پھرتی سے میچ کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کوچنگ اسٹاف اور مینجمنٹ کی حکمتِ عملی بھی اس کامیابی میں برابر کی شریک ہے۔
اس جیت کے اثرات محض ایک ٹرافی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے جموں کشمیر میں لوکل کرکٹ کو نئی زندگی ملے گی۔ مقامی کھلاڑیوں میں ایک امید کی کرن جاگ اٹھی ہے۔ نوجوان اب پہلے سے زیادہ محنت کریں گے اور ریاستی ٹیم کا حصہ بننے کے خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش کریں گے۔ کرکٹ اکیڈمیوں اور مقامی ٹورنامنٹس میں شرکت کا جذبہ مزید بڑھے گا، جس سے یہاں کے ٹیلنٹ کو قومی سطح پر متعارف ہونے کا موقع ملے گا۔
خصوصاً نوجوان فاسٹ بولر عاقب نبی اور دیگر باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر قومی سلیکٹرز کی توجہ حاصل کریں۔ ہمارے ملک میں انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ محنت کرنے والوں کو ضرور ان کی محنت کا صلہ ملے گا اور وہ ایک دن قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے نظر آئیں گے۔
جموں کشمیر کے کرکٹ شائقین کی اب یہی خواہش ہے کہ وہ اپنے مقامی ہیروز کو قومی ٹیم کی جرسی میں دیکھیں۔ یہ کامیابی اس بات کا پیغام ہے کہ اگر مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو یہاں کا ٹیلنٹ کسی سے کم نہیں۔
بلاشبہ، رنجی ٹرافی کے فائنل تک رسائی جموں کشمیر کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ یہ جیت کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف، مینجمنٹ اور پوری ریاست کے عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں مزید فتوحات کی بنیاد ثابت ہوگی اور جموں کشمیر کا پرچم قومی کرکٹ کے افق پر مزید بلند ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

جموں کشمیر کی کرکٹ ٹیم 6 دہائیوں کے بعد رانجی ٹرافی کے فائنل میں پہنچی

خورشید ریشی
سرینگر/ جنگ نیوز/کل چھیاسٹھ سال کے لمبے عرصے کے بعد جموں کشمیر کی کرکٹ ٹیم نے رانجی ٹرافی کے فائنل میں جگہ بنا کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ سیمی فائنل میں بنگال کی ٹیم کو شکست دے کر یہ کارنامہ انجام دیا میچ میں کپتان پارس ڈوگرا،عبدالصمد وینشاج شرما کی بلے بازی، عاقب نبی کی آلراونڈ کارکردگی اور یوزویندر سنگھ چارک اور سنیل کمار کی گیند بازی سے یہ ممکن ہوا۔
ٹیم کی کامیابی پر جموں و کشمیر کے ہر خطے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہر ایک نے مبارکبادی کے پیغامات ٹیم کے نام بھیجے۔لیفٹیننٹ گورنر شری منہوج سنہا کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ، سابقہ کھلاڑیوں اور لاکھوں شائقین کرکٹ نے ٹیم کو مبارکباد پیش کی کیونکہ یہ کامیابی صرف ایک میچ کی جیت نہیں بلکہ برسوں کی محنت، صبر اور لگن کا ثمر ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری مبارکبادی کے پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ فتح پورے خطے کے لیے باعثِ فخر بن چکی ہے۔
یہ کارنامہ دراصل ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ جموں کشمیر کی کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی نے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ بلے بازوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، گیند بازوں نے حریف ٹیموں کو دباؤ میں رکھا اور فیلڈرز نے اپنی پھرتی سے میچ کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کوچنگ اسٹاف اور مینجمنٹ کی حکمتِ عملی بھی اس کامیابی میں برابر کی شریک ہے۔
اس جیت کے اثرات محض ایک ٹرافی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے جموں کشمیر میں لوکل کرکٹ کو نئی زندگی ملے گی۔ مقامی کھلاڑیوں میں ایک امید کی کرن جاگ اٹھی ہے۔ نوجوان اب پہلے سے زیادہ محنت کریں گے اور ریاستی ٹیم کا حصہ بننے کے خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش کریں گے۔ کرکٹ اکیڈمیوں اور مقامی ٹورنامنٹس میں شرکت کا جذبہ مزید بڑھے گا، جس سے یہاں کے ٹیلنٹ کو قومی سطح پر متعارف ہونے کا موقع ملے گا۔
خصوصاً نوجوان فاسٹ بولر عاقب نبی اور دیگر باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر قومی سلیکٹرز کی توجہ حاصل کریں۔ ہمارے ملک میں انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ محنت کرنے والوں کو ضرور ان کی محنت کا صلہ ملے گا اور وہ ایک دن قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے نظر آئیں گے۔
جموں کشمیر کے کرکٹ شائقین کی اب یہی خواہش ہے کہ وہ اپنے مقامی ہیروز کو قومی ٹیم کی جرسی میں دیکھیں۔ یہ کامیابی اس بات کا پیغام ہے کہ اگر مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو یہاں کا ٹیلنٹ کسی سے کم نہیں۔
بلاشبہ، رنجی ٹرافی کے فائنل تک رسائی جموں کشمیر کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ یہ جیت کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف، مینجمنٹ اور پوری ریاست کے عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں مزید فتوحات کی بنیاد ثابت ہوگی اور جموں کشمیر کا پرچم قومی کرکٹ کے افق پر مزید بلند ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں