بھارتی کھیتوں کیلئے فیصلہ کن موڑ!

بھارتی زراعت کو ایک یکساں اور ہم شکل شعبہ سمجھنا ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ اس کے اندر تیز رفتار ترقی کرنے والے حصے بھی ہیں اور سست روی کا شکار شعبے بھی۔ مالی سال25-2024 سے24-2023 تک زرعی شعبے کی اوسط سالانہ شرح نمو 4.4 فیصد رہی، مگر یہ رفتار بنیادی طور پر مویشی پروری اور ماہی گیری کے باعث ممکن ہوئی۔ NITI Aayog کے رکن رمیش چند کے مطابق لائیو اسٹاک کی مجموعی قدر میں 7.2 فیصد اور ماہی گیری میں 9.8 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جبکہ فصلات کے ذیلی شعبے کی نمو محض8.2فیصد رہی۔ اسی فصلاتی شعبے کے اندر بھی باغبانی نسبتاً تیز رفتار ہے جبکہ روایتی کھیتوں کی فصلیں پیچھے رہ گئی ہیں۔
یہی داخلی تفاوت اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ قریباً طے شدہ India US bilateral trade agreement پر ردعمل یکساں کیوں نہیں۔ پولٹری، ڈیری اور آبی زراعت کے شعبوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے، کیونکہ امریکہ سے سرخ جوار اور ڈسٹلرز ڈرائیڈ گرینز جیسی فیڈ کی درآمد کم لاگت اور بہتر معیار کی خوراک فراہم کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ بھارت نے امریکی ڈیری اور پولٹری مصنوعات کو رعایت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو مقامی مویشی پال طبقے کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ دیہی معیشت میں مویشی پروری نسبتاً کم زمین اور زیادہ محنت طلب سرگرمی ہے اور چھوٹے کاشتکار گھرانوں کی آمدنی میں اس کا حصہ زیادہ ہے۔ اس لیے زرعی پالیسی کا تجزیہ کرتے وقت تمام ذیلی شعبوں اور ان سے وابستہ کسانوں کی نوعیت کو پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے۔
تاہم فصلاتی شعبہ اس تجارتی کھلاؤ سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ زرعی تکنیک اور قومی پالیسی کی کمزوریاں ہیں۔ بھارت میں مکئی اور سویا بین کی اوسط پیداوار امریکہ کے مقابلے میں ایک تہائی یا اس سے بھی کم ہے۔ اسی طرح واشنگٹن میں سیب کی فی ہیکٹر پیداوار 48 ٹن سے زیادہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں اوسط تقریباً 12 ٹن اور ہماچل پردیش میں محض 5 ٹن ہے۔ جینیاتی طور پر بہتر بیجوں کی اجازت نہ دینا، جدید باغبانی طریقوں جیسے ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ، تجدیدی کانٹ چھانٹ، ڈرپ آبپاشی اور درست غذائی نظم و نسق کو وسیع پیمانے پر فروغ نہ دینا، ان سب نے مقامی کاشتکار کو عالمی مسابقت میں کمزور رکھا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم زرعی پالیسی کو تحفظ کے خول میں بند رکھنا چاہتے ہیں یا اسے عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی زراعت کے بعض حصے پہلے ہی عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر دیگر شعبے اصلاحات کے بغیر پیچھے رہ جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسی کسان کو منڈی سے جوڑے، ٹیکنالوجی تک رسائی دے اور پیداواریت میں حقیقی اضافہ کرے، تاکہ تجارتی معاہدے خطرہ نہیں بلکہ موقع ثابت ہوں۔
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

بھارتی کھیتوں کیلئے فیصلہ کن موڑ!

بھارتی زراعت کو ایک یکساں اور ہم شکل شعبہ سمجھنا ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ اس کے اندر تیز رفتار ترقی کرنے والے حصے بھی ہیں اور سست روی کا شکار شعبے بھی۔ مالی سال25-2024 سے24-2023 تک زرعی شعبے کی اوسط سالانہ شرح نمو 4.4 فیصد رہی، مگر یہ رفتار بنیادی طور پر مویشی پروری اور ماہی گیری کے باعث ممکن ہوئی۔ NITI Aayog کے رکن رمیش چند کے مطابق لائیو اسٹاک کی مجموعی قدر میں 7.2 فیصد اور ماہی گیری میں 9.8 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جبکہ فصلات کے ذیلی شعبے کی نمو محض8.2فیصد رہی۔ اسی فصلاتی شعبے کے اندر بھی باغبانی نسبتاً تیز رفتار ہے جبکہ روایتی کھیتوں کی فصلیں پیچھے رہ گئی ہیں۔
یہی داخلی تفاوت اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ قریباً طے شدہ India US bilateral trade agreement پر ردعمل یکساں کیوں نہیں۔ پولٹری، ڈیری اور آبی زراعت کے شعبوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے، کیونکہ امریکہ سے سرخ جوار اور ڈسٹلرز ڈرائیڈ گرینز جیسی فیڈ کی درآمد کم لاگت اور بہتر معیار کی خوراک فراہم کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ بھارت نے امریکی ڈیری اور پولٹری مصنوعات کو رعایت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو مقامی مویشی پال طبقے کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ دیہی معیشت میں مویشی پروری نسبتاً کم زمین اور زیادہ محنت طلب سرگرمی ہے اور چھوٹے کاشتکار گھرانوں کی آمدنی میں اس کا حصہ زیادہ ہے۔ اس لیے زرعی پالیسی کا تجزیہ کرتے وقت تمام ذیلی شعبوں اور ان سے وابستہ کسانوں کی نوعیت کو پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے۔
تاہم فصلاتی شعبہ اس تجارتی کھلاؤ سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ زرعی تکنیک اور قومی پالیسی کی کمزوریاں ہیں۔ بھارت میں مکئی اور سویا بین کی اوسط پیداوار امریکہ کے مقابلے میں ایک تہائی یا اس سے بھی کم ہے۔ اسی طرح واشنگٹن میں سیب کی فی ہیکٹر پیداوار 48 ٹن سے زیادہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں اوسط تقریباً 12 ٹن اور ہماچل پردیش میں محض 5 ٹن ہے۔ جینیاتی طور پر بہتر بیجوں کی اجازت نہ دینا، جدید باغبانی طریقوں جیسے ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ، تجدیدی کانٹ چھانٹ، ڈرپ آبپاشی اور درست غذائی نظم و نسق کو وسیع پیمانے پر فروغ نہ دینا، ان سب نے مقامی کاشتکار کو عالمی مسابقت میں کمزور رکھا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم زرعی پالیسی کو تحفظ کے خول میں بند رکھنا چاہتے ہیں یا اسے عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی زراعت کے بعض حصے پہلے ہی عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر دیگر شعبے اصلاحات کے بغیر پیچھے رہ جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسی کسان کو منڈی سے جوڑے، ٹیکنالوجی تک رسائی دے اور پیداواریت میں حقیقی اضافہ کرے، تاکہ تجارتی معاہدے خطرہ نہیں بلکہ موقع ثابت ہوں۔
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں