سیاحت کی بحالی:خوف سے اعتماد تک

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے پیر 16 فروری 2026 کو اُن 17 سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا اعلان، جو پہلگام حملے کے بعد گزشتہ دس ماہ سے بند تھے، محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک علامتی پیش رفت ہے۔ یہ اقدام اُس نفسیاتی جمود کو توڑنے کی کوشش ہے جس نے نہ صرف معیشت بلکہ اجتماعی حوصلے کو بھی متاثر کیا تھا۔
جموں و کشمیر میں سیاحت صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ شناخت، روایت اور روزگار کا مضبوط ستون ہے۔ پہلگام سے گلمرگ اور سرینگر تک ہزاروں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ جب سیاحتی مقامات بند ہوتے ہیں تو صرف دروازے بند نہیں ہوتے بلکہ بازاروں کی رونق، مزدور کی مزدوری اور گھروں کی امیدیں بھی ماند پڑ جاتی ہیں۔
ان مقامات کی بحالی اس بات کا اعلان ہے کہ خطہ ماضی کے زخموں میں قید رہنے کے بجائے آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ معاشرے سانحات کو بھلا کر نہیں بلکہ معمولِ زندگی کو بحال کر کے صحت یاب ہوتے ہیں۔ عوامی مقامات کی دوبارہ رونق دراصل خوف پر اعتماد کی فتح ہے۔
البتہ اس پیش رفت کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ سیکورٹی کے مؤثر انتظامات، مقامی سطح پر ہم آہنگی اور شفاف حکمت عملی ناگزیر ہیں تاکہ سیاح خود کو محفوظ اور مقامی آبادی خود کو بااختیار محسوس کرے۔ پائیدار سیاحت، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی ثقافت کے احترام کو اس نئی شروعات کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
آگے بڑھنا ماضی کو فراموش کرنا نہیں بلکہ مستقبل کو یرغمال بننے سے بچانا ہے۔ آج کے لمحے کو اعتماد، تدبر اور امید کے ساتھ تھام لینا ہی ایک خوبصورت کل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اسی سمت میں ایک مثبت قدم ہے جو جموں و کشمیر کو خوف کے سایے سے نکال کر استحکام اور ترقی کی روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اس فیصلے کو مقامی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کی صورت میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ سیاحت کی بحالی ہنر مندوں، گائیڈز، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد اور چھوٹے کاروباری حلقوں کیلئے تازہ امکانات پیدا کرے گی۔ اگر حکومت اس مرحلے کو تربیت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ساتھ جوڑ دے تو یہ محض وقتی بحالی نہیں بلکہ ایک دیرپا معاشی استحکام کی بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

سیاحت کی بحالی:خوف سے اعتماد تک

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے پیر 16 فروری 2026 کو اُن 17 سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا اعلان، جو پہلگام حملے کے بعد گزشتہ دس ماہ سے بند تھے، محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک علامتی پیش رفت ہے۔ یہ اقدام اُس نفسیاتی جمود کو توڑنے کی کوشش ہے جس نے نہ صرف معیشت بلکہ اجتماعی حوصلے کو بھی متاثر کیا تھا۔
جموں و کشمیر میں سیاحت صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ شناخت، روایت اور روزگار کا مضبوط ستون ہے۔ پہلگام سے گلمرگ اور سرینگر تک ہزاروں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ جب سیاحتی مقامات بند ہوتے ہیں تو صرف دروازے بند نہیں ہوتے بلکہ بازاروں کی رونق، مزدور کی مزدوری اور گھروں کی امیدیں بھی ماند پڑ جاتی ہیں۔
ان مقامات کی بحالی اس بات کا اعلان ہے کہ خطہ ماضی کے زخموں میں قید رہنے کے بجائے آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ معاشرے سانحات کو بھلا کر نہیں بلکہ معمولِ زندگی کو بحال کر کے صحت یاب ہوتے ہیں۔ عوامی مقامات کی دوبارہ رونق دراصل خوف پر اعتماد کی فتح ہے۔
البتہ اس پیش رفت کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ سیکورٹی کے مؤثر انتظامات، مقامی سطح پر ہم آہنگی اور شفاف حکمت عملی ناگزیر ہیں تاکہ سیاح خود کو محفوظ اور مقامی آبادی خود کو بااختیار محسوس کرے۔ پائیدار سیاحت، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی ثقافت کے احترام کو اس نئی شروعات کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
آگے بڑھنا ماضی کو فراموش کرنا نہیں بلکہ مستقبل کو یرغمال بننے سے بچانا ہے۔ آج کے لمحے کو اعتماد، تدبر اور امید کے ساتھ تھام لینا ہی ایک خوبصورت کل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اسی سمت میں ایک مثبت قدم ہے جو جموں و کشمیر کو خوف کے سایے سے نکال کر استحکام اور ترقی کی روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اس فیصلے کو مقامی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کی صورت میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ سیاحت کی بحالی ہنر مندوں، گائیڈز، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد اور چھوٹے کاروباری حلقوں کیلئے تازہ امکانات پیدا کرے گی۔ اگر حکومت اس مرحلے کو تربیت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ساتھ جوڑ دے تو یہ محض وقتی بحالی نہیں بلکہ ایک دیرپا معاشی استحکام کی بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں