ڈیجیٹل عہد میں سچ اور فریب کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی جانے والی تصاویر نے سوشل میڈیا کو اس حد تک بھر دیا ہے کہ عام صارف کے لئے حقیقت اور ساختہ منظر میں امتیاز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومتِ ہند کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ ترمیمی قواعد 2026 کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو نمایاں طور پر لیبل کرنے کی شرط ایک اہم پیش رفت ہے۔
ابتدائی مسودے کے مقابلے میں یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ حکومت نے اعتدال کا راستہ اختیار کیا۔ نہ تو لیبل کے لئے کوئی مخصوص سائز لازم قرار دیا گیا اور نہ ہی ہر اس تخلیق کو اس دائرے میں شامل کیا گیا جو حقیقت کا تاثر دینے کی کوشش نہ کرے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ریاست ضابطہ سازی تو چاہتی ہے، مگر ٹیکنالوجی کے ارتقا کو بلاوجہ جکڑنا نہیں چاہتی۔ جب بھارت اے آئی امپیکٹ سمٹ کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ ضابطہ صرف اتنا ہو جتنا ضروری ہو، تو یہ توازن قابلِ توجہ ہے۔
تاہم مسئلہ صرف لیبل لگانے تک محدود نہیں۔ قواعد میں پلیٹ فارمز پر مصنوعی مواد کی پیشگی شناخت کی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سنتھیٹک میڈیا کی تخلیق کی ٹیکنالوجی مسلسل ترقی کر رہی ہے، جبکہ اس کی شناخت کے طریقے اسی رفتار سے چیلنج ہو رہے ہیں۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ان خامیوں کو ختم کرنے میں صرف ہو رہی ہے جن پر موجودہ شناختی نظام انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کو وقتاً فوقتاً ان قواعد کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ ضابطہ عملی حقیقتوں سے ہم آہنگ رہے، ورنہ قانون محض کاغذی شق بن کر رہ جائے گا۔
اسی تناظر میں جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے تحت میڈیا مانیٹرنگ سیل کے قیام کا اعلان بھی اہمیت رکھتا ہے۔ حقیقی وقت میں جعلی اور گمراہ کن خبروں کی نگرانی اور فوری تردید کا نظام اس امر کا اعتراف ہے کہ اطلاعاتی جنگ اب سرحدوں کے بجائے اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہے۔ اگر یہ سیل پیشہ ورانہ دیانت، غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ کام کرے تو یہ نہ صرف افواہوں کے سیلاب کو روک سکتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مستحکم کر سکتا ہے۔
مگر یہاں بھی توازن کی ضرورت ہے۔ نگرانی کا مقصد اظہارِ رائے کو محدود کرنا نہیں بلکہ دانستہ فریب کو بے نقاب کرنا ہونا چاہیے۔ ایک جمہوری معاشرے میں ریاست کی ذمہ داری سچ کی حفاظت ہے، رائے کی تحدید نہیں۔ اگر ہر اختلافی آواز کو مشکوک قرار دیا جائے تو یہ نظام اپنی اخلاقی بنیاد کھو دے گا۔
مصنوعی ذہانت اور ریاستی ذمہ داری
مصنوعی ذہانت اور ریاستی ذمہ داری
ڈیجیٹل عہد میں سچ اور فریب کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی جانے والی تصاویر نے سوشل میڈیا کو اس حد تک بھر دیا ہے کہ عام صارف کے لئے حقیقت اور ساختہ منظر میں امتیاز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومتِ ہند کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ ترمیمی قواعد 2026 کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو نمایاں طور پر لیبل کرنے کی شرط ایک اہم پیش رفت ہے۔
ابتدائی مسودے کے مقابلے میں یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ حکومت نے اعتدال کا راستہ اختیار کیا۔ نہ تو لیبل کے لئے کوئی مخصوص سائز لازم قرار دیا گیا اور نہ ہی ہر اس تخلیق کو اس دائرے میں شامل کیا گیا جو حقیقت کا تاثر دینے کی کوشش نہ کرے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ریاست ضابطہ سازی تو چاہتی ہے، مگر ٹیکنالوجی کے ارتقا کو بلاوجہ جکڑنا نہیں چاہتی۔ جب بھارت اے آئی امپیکٹ سمٹ کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ ضابطہ صرف اتنا ہو جتنا ضروری ہو، تو یہ توازن قابلِ توجہ ہے۔
تاہم مسئلہ صرف لیبل لگانے تک محدود نہیں۔ قواعد میں پلیٹ فارمز پر مصنوعی مواد کی پیشگی شناخت کی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سنتھیٹک میڈیا کی تخلیق کی ٹیکنالوجی مسلسل ترقی کر رہی ہے، جبکہ اس کی شناخت کے طریقے اسی رفتار سے چیلنج ہو رہے ہیں۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ان خامیوں کو ختم کرنے میں صرف ہو رہی ہے جن پر موجودہ شناختی نظام انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کو وقتاً فوقتاً ان قواعد کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ ضابطہ عملی حقیقتوں سے ہم آہنگ رہے، ورنہ قانون محض کاغذی شق بن کر رہ جائے گا۔
اسی تناظر میں جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے تحت میڈیا مانیٹرنگ سیل کے قیام کا اعلان بھی اہمیت رکھتا ہے۔ حقیقی وقت میں جعلی اور گمراہ کن خبروں کی نگرانی اور فوری تردید کا نظام اس امر کا اعتراف ہے کہ اطلاعاتی جنگ اب سرحدوں کے بجائے اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہے۔ اگر یہ سیل پیشہ ورانہ دیانت، غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ کام کرے تو یہ نہ صرف افواہوں کے سیلاب کو روک سکتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مستحکم کر سکتا ہے۔
مگر یہاں بھی توازن کی ضرورت ہے۔ نگرانی کا مقصد اظہارِ رائے کو محدود کرنا نہیں بلکہ دانستہ فریب کو بے نقاب کرنا ہونا چاہیے۔ ایک جمہوری معاشرے میں ریاست کی ذمہ داری سچ کی حفاظت ہے، رائے کی تحدید نہیں۔ اگر ہر اختلافی آواز کو مشکوک قرار دیا جائے تو یہ نظام اپنی اخلاقی بنیاد کھو دے گا۔


