یومیہ اجرتی ملازمین کی مستقلی!

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے یہ اعلان کہ یومیہ اجرتی ملازمین کی مستقلی کا عمل اسی سال شروع کیا جائے گا، ایک طویل انتظار کے بعد امید کی نئی کرن لے کر آیا ہے۔ ہزاروں خاندان برسوں سے غیر یقینی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ معاملہ صرف ملازمت کا نہیں بلکہ وقار، تحفظ اور انصاف کا سوال ہے۔
یومیہ اجرتی ملازمین کا مسئلہ آج کا پیدا کردہ نہیں۔ کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔ ریاست کی حیثیت بدلی اور اسے یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا، مگر ان ملازمین کی حالت میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ ہم اکثر سڑکوں پر انہیں اپنے حق کے لئے احتجاج کرتے دیکھتے ہیں۔ وہ مستقل ملازمت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی خدمات وہ برسوں سے انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ غیر معمولی نہیں بلکہ فطری ہے۔متعدد ملازمین نے اپنی عمر کا قیمتی حصہ سرکاری محکموں میں کام کرتے ہوئے گزار دیا، مگر انہیں نہ ملازمت کا تحفظ ملا، نہ سماجی مراعات اور نہ ہی پنشن کی سہولت۔ بہت سے خاندان انہی محدود اور غیر یقینی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو مزید طول دینا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ انتظامی اعتبار سے مناسب۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس مسئلے پر حکومت ہند اور مقامی حکومت باہمی مشاورت سے واضح اور حتمی فیصلہ کریں۔ مالی بوجھ، سروس قوانین اور آئینی تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان امور کو تاخیر کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
ساتھ ہی یہ امر بھی یقینی بنایا جائے کہ مستقلی کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ ہو۔ کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت، اقربا پروری یا جانبداری اس عمل کی ساکھ کو متاثر کرے گی۔ معیار واضح ہوں، سروس ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ ہو اور پورا عمل سیاسی دباؤ سے پاک رکھا جائے۔ انصاف صرف کیا ہی نہ جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ یہ قدم اگر دیانتداری سے اٹھایا گیا تو یہ عوامی اعتماد کی بحالی کی سمت ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ حکومت کے وعدے محض الفاظ نہیں بلکہ ذمہ داریاں ہیں۔ یومیہ اجرتی ملازمین کے لئے یہ سال ایک اور وعدے کا سال نہیں بلکہ عملی انصاف کا سال ہونا چاہیے۔ یہی حکومت کے عزم اور سنجیدگی کا اصل امتحان ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

یومیہ اجرتی ملازمین کی مستقلی!

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے یہ اعلان کہ یومیہ اجرتی ملازمین کی مستقلی کا عمل اسی سال شروع کیا جائے گا، ایک طویل انتظار کے بعد امید کی نئی کرن لے کر آیا ہے۔ ہزاروں خاندان برسوں سے غیر یقینی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ معاملہ صرف ملازمت کا نہیں بلکہ وقار، تحفظ اور انصاف کا سوال ہے۔
یومیہ اجرتی ملازمین کا مسئلہ آج کا پیدا کردہ نہیں۔ کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔ ریاست کی حیثیت بدلی اور اسے یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا، مگر ان ملازمین کی حالت میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ ہم اکثر سڑکوں پر انہیں اپنے حق کے لئے احتجاج کرتے دیکھتے ہیں۔ وہ مستقل ملازمت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی خدمات وہ برسوں سے انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ غیر معمولی نہیں بلکہ فطری ہے۔متعدد ملازمین نے اپنی عمر کا قیمتی حصہ سرکاری محکموں میں کام کرتے ہوئے گزار دیا، مگر انہیں نہ ملازمت کا تحفظ ملا، نہ سماجی مراعات اور نہ ہی پنشن کی سہولت۔ بہت سے خاندان انہی محدود اور غیر یقینی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو مزید طول دینا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ انتظامی اعتبار سے مناسب۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس مسئلے پر حکومت ہند اور مقامی حکومت باہمی مشاورت سے واضح اور حتمی فیصلہ کریں۔ مالی بوجھ، سروس قوانین اور آئینی تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان امور کو تاخیر کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
ساتھ ہی یہ امر بھی یقینی بنایا جائے کہ مستقلی کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ ہو۔ کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت، اقربا پروری یا جانبداری اس عمل کی ساکھ کو متاثر کرے گی۔ معیار واضح ہوں، سروس ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ ہو اور پورا عمل سیاسی دباؤ سے پاک رکھا جائے۔ انصاف صرف کیا ہی نہ جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ یہ قدم اگر دیانتداری سے اٹھایا گیا تو یہ عوامی اعتماد کی بحالی کی سمت ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ حکومت کے وعدے محض الفاظ نہیں بلکہ ذمہ داریاں ہیں۔ یومیہ اجرتی ملازمین کے لئے یہ سال ایک اور وعدے کا سال نہیں بلکہ عملی انصاف کا سال ہونا چاہیے۔ یہی حکومت کے عزم اور سنجیدگی کا اصل امتحان ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں