انتخاب: افسانچہ

ہلال بخاری
ہردوشورہ کنزر
میں نے دیکھا کہ مرنے کے بعد میں جنت میں ہوں۔
اپنے اعمال کے بل پر نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں۔
وقت وہاں ٹھہرا ہوا بھی تھا اور بہتا ہوا بھی ایسا طویل کہ جسے شمار میں نہ لایا جا سکے۔ نہ دن کا احساس، نہ رات کی تھکن؛ بس ایک دائمی سکون، جو روح میں اترتا چلا جائے۔
پھر ایک دن،  اگر اسے دن کہا جا سکتا ہے، ندا آئی۔
اللہ تعالیٰ نے جنتیوں سے فرمایا:
“میں پھر اسی طرح ایک دنیا قائم کرنا چاہتا ہوں جیسے پہلے کی تھی۔ تم میں سے جو چاہے، اسے زمین جیسے ایک سیارے پر بھیج دیا جائے گا۔ پہلی زندگی کی یادداشت مٹا دی جائے گی۔ پھر جو راہِ مستقیم پا کر واپس آئے گا، اس کے درجات پہلے سے بھی زیادہ بلند ہوں گے۔”
یہ اعلان گویا سکون کی سطح پر پھینکا گیا ایک پتھر تھا۔
کچھ چہرے حیرت سے جم گئے، کچھ پر پریشانی کی لکیر دوڑ گئی، اور کچھ آنکھوں میں ایک عجب سی چمک تھی جیسے مہم جوئی انہیں پکار رہی ہو۔
بہادر دل فوراً آمادہ ہو گئے۔
مگر میرے جیسے کمزور دل تذبذب میں گرفتار ہو گئے۔
میرے باطن میں ایک پرانی صدا گونج اٹھی:
کیا میں نے زمین پر زندگی گزارتے ہوئے یہ نہیں کہا تھا؟
“کاش مجھ پر یہ آزمائش نہ آئی ہوتی۔ کاش جب مجھ سے پوچھا گیا تھا تو میں انکار کر دیتا!”
میں نے وہاں کی تنہائیوں، محرومیوں، ناکامیوں اور خوف کی راتوں کو یاد کیا۔ وہ لمحات جب یقین ڈگمگایا، جب دل نے شکوہ کیا، جب سجدے بوجھ لگے اور آنکھوں کے آنسو بے معنی محسوس ہوئے۔
اور اب… پھر وہی امتحان؟
جب میری مرضی پوچھی گئی، تو میرا دل لرز اٹھا۔
ایک لمحے کو چاہا کہ خاموش رہوں۔ جنت کے ابدی سکون میں پناہ لے لوں۔
لیکن نہ جانے کیوں شاید محبت کے کسی مخفی جذبے سے،
شاید درجات کی حرص سے،
یا شاید اس پراسرار کشش سے جو آزمائش میں پنہاں ہوتی ہے میں نے دوبارہ “ہاں” کہہ دی۔
اور پھر… مجھے ایک زمین جیسے سیارے پر بیج دیا گیا۔
پھر وہی اندھیرا اور خاموشی۔
پھر سانس کی پہلی جنبش۔
میں دوبارہ امتحان میں تھا۔
اور جب میں جاگا تو میرے ذہن میں صرف ایک سوال گونج رہا تھا:
کیا یہ زندگی جو میں ابھی جی رہا ہوں، پہلی بار کی ہے؟
یا دوسری بار کی؟
یا شاید… میں پھر بھی نہیں جاگا؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

انتخاب: افسانچہ

ہلال بخاری
ہردوشورہ کنزر
میں نے دیکھا کہ مرنے کے بعد میں جنت میں ہوں۔
اپنے اعمال کے بل پر نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں۔
وقت وہاں ٹھہرا ہوا بھی تھا اور بہتا ہوا بھی ایسا طویل کہ جسے شمار میں نہ لایا جا سکے۔ نہ دن کا احساس، نہ رات کی تھکن؛ بس ایک دائمی سکون، جو روح میں اترتا چلا جائے۔
پھر ایک دن،  اگر اسے دن کہا جا سکتا ہے، ندا آئی۔
اللہ تعالیٰ نے جنتیوں سے فرمایا:
“میں پھر اسی طرح ایک دنیا قائم کرنا چاہتا ہوں جیسے پہلے کی تھی۔ تم میں سے جو چاہے، اسے زمین جیسے ایک سیارے پر بھیج دیا جائے گا۔ پہلی زندگی کی یادداشت مٹا دی جائے گی۔ پھر جو راہِ مستقیم پا کر واپس آئے گا، اس کے درجات پہلے سے بھی زیادہ بلند ہوں گے۔”
یہ اعلان گویا سکون کی سطح پر پھینکا گیا ایک پتھر تھا۔
کچھ چہرے حیرت سے جم گئے، کچھ پر پریشانی کی لکیر دوڑ گئی، اور کچھ آنکھوں میں ایک عجب سی چمک تھی جیسے مہم جوئی انہیں پکار رہی ہو۔
بہادر دل فوراً آمادہ ہو گئے۔
مگر میرے جیسے کمزور دل تذبذب میں گرفتار ہو گئے۔
میرے باطن میں ایک پرانی صدا گونج اٹھی:
کیا میں نے زمین پر زندگی گزارتے ہوئے یہ نہیں کہا تھا؟
“کاش مجھ پر یہ آزمائش نہ آئی ہوتی۔ کاش جب مجھ سے پوچھا گیا تھا تو میں انکار کر دیتا!”
میں نے وہاں کی تنہائیوں، محرومیوں، ناکامیوں اور خوف کی راتوں کو یاد کیا۔ وہ لمحات جب یقین ڈگمگایا، جب دل نے شکوہ کیا، جب سجدے بوجھ لگے اور آنکھوں کے آنسو بے معنی محسوس ہوئے۔
اور اب… پھر وہی امتحان؟
جب میری مرضی پوچھی گئی، تو میرا دل لرز اٹھا۔
ایک لمحے کو چاہا کہ خاموش رہوں۔ جنت کے ابدی سکون میں پناہ لے لوں۔
لیکن نہ جانے کیوں شاید محبت کے کسی مخفی جذبے سے،
شاید درجات کی حرص سے،
یا شاید اس پراسرار کشش سے جو آزمائش میں پنہاں ہوتی ہے میں نے دوبارہ “ہاں” کہہ دی۔
اور پھر… مجھے ایک زمین جیسے سیارے پر بیج دیا گیا۔
پھر وہی اندھیرا اور خاموشی۔
پھر سانس کی پہلی جنبش۔
میں دوبارہ امتحان میں تھا۔
اور جب میں جاگا تو میرے ذہن میں صرف ایک سوال گونج رہا تھا:
کیا یہ زندگی جو میں ابھی جی رہا ہوں، پہلی بار کی ہے؟
یا دوسری بار کی؟
یا شاید… میں پھر بھی نہیں جاگا؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں