عامر سہیل وانی
اسلام کی جدید سیاسی تعبیر، جسے ابوالاعلیٰ مودودی، سید قطب اور ان کے فکری وارثین نے پوری شدت سے پیش کیا، مسلم تاریخ کی اہم ترین فکری کج رویوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس منصوبے کی بنیادی خامی یہ ہے کہ اس نے اسلام جیسی اخلاقی، روحانی اور تہذیبی روایت کو جدید سیاسی نظریے کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔
نوآبادیاتی ذلت اور تاریخی زوال کے ردعمل میں مسلم وقار کی بحالی کا جو خواب دیکھا گیا، اس نے بالآخر اسلام کو اسی جدید قوت کی زبان میں مقید کر دیا جس کی مزاحمت کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔ یوں ماورائیت کو نظمِ حکومت میں، ایمان کو نظریاتی شناخت میں، اور اخلاقی گہرائی کو سیاسی دعوے میں سمو دیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اسلام روایت کی طرف واپسی نہیں بلکہ ایک خالص جدید ایجاد ہے۔ کلاسیکی اسلام نے خود کو کبھی ایک “ازم” کے طور پر پیش نہیں کیا جو دیگر نظریات سے مسابقت کرے۔ وہ ایک اخلاقی سمت، روحانی سفر اور تہذیبی مزاج تھا جو مختلف سیاسی صورتوں میں زندہ رہ سکتا تھا۔ قدیم مسلم فقہا، متکلمین اور صوفیا نے عدل، ذمہ داری، رحمت اور انسانی کمزوری پر تفصیلی گفتگو کی، مگر کسی مخصوص سیاسی ڈھانچے کو مقدس بنانے سے گریز کیا۔ جدید اسلامیت نے اسی احتیاط کو توڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اسلام دراصل ایک سیاسی نظام ہے جس کی تکمیل ریاستی اقتدار کے بغیر ممکن نہیں۔
فلسفیانہ اعتبار سے یہ طرز فکر اسی مرض کی مثال ہے جسے حنہ آرنٹ نے نظریاتی ذہنیت کی بیماری کہا۔ ان کے نزدیک نظریہ محض سیاسی عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک کلی ساخت ہے جو ایک ہی مقدمے سے پوری حقیقت کی توضیح کا دعویٰ کرتی ہے۔ جب یہ مقدمہ قبول کر لیا جائے تو اخلاقی فیصلے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ منطقی قطعیت لے لیتی ہے۔ مودودی کا تصور حاکمیت اسی نوعیت کا کلی اصول ہے۔ اس ایک تصور سے قانون، معاشرہ، ثقافت، معیشت حتیٰ کہ فرد کا ضمیر بھی ایک مخصوص سیاسی منطق کے تابع ہو جاتا ہے۔ یوں اسلام ایک زندہ اخلاقی جدوجہد نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا نظریاتی نظام بن جاتا ہے جو خدا کی حاکمیت کے ساتھ ساتھ اس کی انسانی تعبیر کے سامنے بھی سرِ تسلیم خم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
سید قطب نے اسی نظریاتی جمود کو مزید شدت دی جب انہوں نے جاہلیت کے تصور کو سیاسی ہتھیار بنا دیا۔ تاریخی طور پر جاہلیت ایک اخلاقی اور روحانی کیفیت تھی، مگر قطب نے اسے جدید معاشرے کی کلی تشخیص بنا دیا۔ پوری تہذیبیں، خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، ان کے تصورِ حاکمیت سے عدم مطابقت کی بنا پر باطل قرار پائیں۔ یہ تقسیم اسی دوئی کی یاد دلاتی ہے جس کا ذکر آرنٹ نے کیا تھا، یعنی ایک باشعور پیش رو طبقہ اور ایک گمراہ اکثریت۔ ایسی تقسیم قبول ہو جائے تو اخراج فضیلت بن جاتا ہے، جبر فرض بن جاتا ہے اور تشدد نجات کا ذریعہ قرار پاتا ہے۔ یوں اسلام کا آفاقی اخلاقی خطاب مستقل مخاصمت کی سیاست میں بدل جاتا ہے۔
ایرک فوگلین کی تنقید اس صورت حال کو مزید واضح کرتی ہے۔ ان کے مطابق جدید نظریات دراصل آخرتی نجات کو دنیاوی سیاست میں سمیٹنے کی کوشش ہیں۔ سیاسی اسلام اسی غلطی کی نمایاں مثال ہے۔ قرآن کا اخلاقی تصور، جو آخرت اور خدا کے حضور جواب دہی پر مبنی ہے، دنیاوی غلبے کے منصوبے میں ڈھل جاتا ہے۔ نجات ایک روحانی اسرار نہیں رہتی بلکہ مخصوص ریاست کے قیام سے مشروط سیاسی نتیجہ بن جاتی ہے۔ الٰہی عدالت انسانی نظم و نسق میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ یہ ایک بنیادی فکری مغالطہ ہے۔
کلاسیکی اسلام نے فطری طور پر اس لغزش سے بچنے کی کوشش کی۔ امام غزالی نے سیاسی انتشار کے دور میں بھی اقتدار کو تقدیس عطا کرنے سے انکار کیا۔ ان کے نزدیک حکومت کا مقصد انتشار سے بچاؤ تھا، نجات کی ضمانت نہیں۔ وہ بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ دین کی خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب رہنمائی کو جبر سمجھ لیا جائے اور ظاہری اطاعت کو باطنی اصلاح پر ترجیح دی جائے۔ ریاست ظلم روک سکتی ہے مگر فضیلت پیدا نہیں کر سکتی۔
ابن تیمیہ، جنہیں جدید اسلامیت اکثر اپنے حق میں پیش کرتی ہے، اس باب میں اور بھی واضح تھے۔ ان کا قول ہے کہ خدا عادل غیر مسلم ریاست کو ظالم مسلم ریاست سے زیادہ دیر تک قائم رکھ سکتا ہے۔ معیار نظریاتی خلوص نہیں بلکہ عدل ہے۔ سیاسی اسلام اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے اور رسمی حاکمیت کو حقیقی انصاف پر فوقیت دیتا ہے۔
تصوف اور فلسفے کی روایت سیاسی اسلام کے دعووں کے لیے مزید چیلنج پیش کرتی ہے۔ ابن عربی کا تصور وحدت الوجود اس دعوے کی بنیاد ہی کو ہلا دیتا ہے کہ کوئی ایک گروہ سچائی پر اجارہ داری قائم کر سکتا ہے۔ ان کے نزدیک خدا اپنی تجلیات میں لامحدود ہے اور انسان کی رسائی ہمیشہ جزوی اور اخلاقی مشقت سے مشروط ہے۔ سیاسی طاقت کے ذریعے سچائی پر قبضے کا دعویٰ روحانی ناپختگی کی علامت ہے۔ جہاں قطب نے دنیا کو حاکمیت اور جاہلیت میں تقسیم کیا، وہاں ابن عربی نے انسانیت میں بکھری ہوئی الٰہی نشانیاں دیکھیں۔
مولانا روم نے اسی وسعت کو انسانی اخلاقی شعور میں ڈھالا۔ ان کے ہاں محبت مرکز ہے اور روحانی تبدیلی مقصد۔ شناخت کو مطلق بنانا ان کے نزدیک اخلاقی سطحیت کی علامت ہے۔ سیاسی اسلام کنٹرول سے آغاز کرتا ہے اور روحانی خلا پر ختم ہوتا ہے۔
برصغیر میں شاہ ولی اللہ دہلوی ایک اہم مثال ہیں۔ وہ شریعت اور سنت کے پابند تھے، مگر قانون کو اخلاقی توازن کے نظام کے طور پر سمجھتے تھے نہ کہ سیاسی ہتھیار کے طور پر۔ انہوں نے تاریخ، ثقافتی تنوع اور اجتہادی فکر کو اسلامی روایت کا حصہ تسلیم کیا۔ ان کی فکر کا محور روحانی اصلاح اور سماجی ہم آہنگی تھا، نہ کہ یکساں سیاسی ڈھانچے کی تعمیر۔
خود قرآن بھی اسی اعتدال کی تائید کرتا ہے۔ “دین میں کوئی جبر نہیں” محض وقتی مصلحت نہیں بلکہ بنیادی اصول ہے۔ “اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا” تکثیریت کو الٰہی مشیت قرار دیتا ہے۔ قرآن عدل، رحمت، امانت اور مشاورت پر زور دیتا ہے، مگر کسی مخصوص سیاسی نظام کی تفصیل بیان نہیں کرتا۔ یہ خاموشی اس اخلاقی بصیرت کی علامت ہے جو ادارہ جاتی صورت سے زیادہ اخلاقی سمت کو اہم سمجھتی ہے۔
طلال اسد کی بشریاتی تعبیر بھی یہی بتاتی ہے کہ اسلام ایک زندہ اخلاقی روایت تھا جو تعلیم، عبادت، تعبیر اور تزکیے کے ذریعے نمو پاتا تھا۔ سیاسی اسلام اس جیتی جاگتی روایت کو جامد نظام میں بدل دیتا ہے۔ قانون تربیت کے بجائے نفاذ بن جاتا ہے، ایمان نظریاتی وفاداری میں سمٹ جاتا ہے اور امت سیاسی بلاک بن جاتی ہے۔
ہندوستان میں اس تبدیلی کے اثرات خاص طور پر گہرے رہے۔ یہاں کا اسلام صوفیانہ ورثے، مقامی زبانوں اور مشترکہ تہذیبی زندگی سے تشکیل پایا تھا۔ یہ تعارف اور باہمی شناسائی کا اسلام تھا۔ مودودی اور قطب کی فکر نے اس فطری ہم آہنگی کو متاثر کیا اور مسلمانوں کو ایک محصور نظریاتی اقلیت کے طور پر دیکھنے کی ترغیب دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرتی فاصلے بڑھے مگر حقیقی قوت حاصل نہ ہو سکی۔
عالمی سطح پر بھی سیاسی اسلام نے شدت پسند تحریکوں کو جواز، آمرانہ حکومتوں کو مذہبی پردہ اور اسلام دشمن عناصر کو تیار شدہ خاکہ فراہم کیا۔ جب اسلام کو محض سیاسی نظریہ بنا کر پیش کیا جائے تو مسلمان لازماً سیاسی شبہ کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یوں وقار کی بحالی کا خواب عالمی بدگمانی کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
آخرکار سیاسی اسلام کی ناکامی سیاسی سے پہلے مابعد الطبیعیاتی ہے۔ یہ طاقت کو سچائی سمجھ لیتا ہے، کنٹرول کو رہنمائی اور نظریے کو ایمان بنا دیتا ہے۔ کلاسیکی اسلام نے دانستہ طور پر سیاست کو کم اور اخلاقیات کو زیادہ نظریاتی بنایا۔
اسلام کو اپنی صداقت کے لیے دنیا پر حکومت کی ضرورت نہیں۔ اسے ضمیر کو روشن کرنے، کردار کو سنوارنے اور انسان کی اخلاقی جدوجہد کا ساتھی بننے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ہندوستان میں اسلامی وقار کی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب ہم نظریاتی قید سے نکل کر ایسے ایمان کو اپنائیں جو غلبے کے بغیر جینے کا حوصلہ رکھتا ہو اور وابستگی کے ساتھ وسعت بھی۔
اس مضمون کو انگریزی سے اردو میں ترجمعہ کیا گیا، نیر سری نگر جنگ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔


