ظلمت سے نور تک کا تاریخی سفر: انقلاب اسلامی ایران سالگرہ پر خاص مضمون

مجتبیٰ علی شجاعی

ایران کی تاریخ ہزاروں سالہ شہنشاہیت پر محیط ہے۔ایک ایسی طویل داستان جس میں سنہرے ابواب بھی ہیں اور زوال کے سیاہ اوراق بھی۔ اس سرزمین نے ہخامنشیوں کی شوکت دیکھی، ساسانیوں کی طاقت کا مشاہدہ کیا، مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال کو برداشت کیا، اور صدیوں تک دربار، تاج، تخت اور شاہی جاہ و جلال کو اپنی تقدیر سمجھا۔ مگر اسی تاریخ میں عوام کی بے بسی، طبقاتی ناہمواری، سیاسی جبر اور فکری گھٹن کی صدائیں بھی گونجتی رہیں۔ شہنشاہیت کی یہ طویل روایت بظاہر نظم و ضبط اور شان و شوکت کی علامت تھی، لیکن اپنے باطن میں عوامی شرکت، اخلاقی اقدار اور حقیقی آزادی سے خالی تھی۔
بیسویں صدی میں جب دنیا تیزی سے بدل رہی تھی، ایران میں پہلوی حکومت نے قدیم شہنشاہی مزاج کو جدید لباس پہنا کر برقرار رکھا۔یہ دور بظاہر ترقی، جدیدیت اور مغربی طرزِ زندگی کی نمائش کا زمانہ تھا، مگر اس ظاہری چمک دمک کے پیچھے ایک ایسا نظام کارفرما تھا جو عوام سے کٹا ہوا، اسلامی تشخص سے بیگانہ اور اخلاقی بنیادوں سے محروم تھا۔ شاہی دربار کی عیاشیاں، مغرب زدگی کی اندھی تقلید، اسلامی اقدار کو پس پشت ڈالنا، اور معاشرے میں فحاشی و بداخلاقی کو فروغ دینا اس دور کی پہچان بن گیا تھا۔ دولت اور اختیار چند مخصوص حلقوں تک محدود تھے جبکہ عام ایرانی شہری معاشی محرومی، سیاسی جبر اور سماجی ناانصافی کا شکار تھا۔
پہلوی نظام نے اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے بدنام زمانہ خفیہ ادارہ ’’ساواک‘‘قائم کیا۔ ساواک کا نام سنتے ہی خوف کی فضا قائم ہو جاتی تھی۔ اختلاف رائے جرم تھا، سوال اٹھانا بغاوت شمار ہوتا تھا، اور حق بات کہنا قید و بند کی سزا کا سبب بنتا تھا۔ علماء، دانشور، طلبہ، اساتذہ اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا، اذیت گاہوں میں ڈالا جاتا، اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ ایرانی تاریخ کے یہ سیاہ ابواب آج بھی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے گھٹن زدہ ماحول میں ایران کے روشن فکر طبقے نے بیداری کی سانس لی۔ اس بیداری کی قیادت علمائے کرام نے سنبھالی، اور اس تحریک کی روح رواں حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینیؒ تھے۔ امام خمینیؒ نے نہ صرف شاہی استبداد کے خلاف آواز بلند کی بلکہ اسلامی فکر کو سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کر کے عوام کے سامنے ایک متبادل نظام پیش کیا۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ دین محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو سیاست، معیشت، معاشرت اور اخلاق سب پر محیط ہے۔
امام خمینیؒ کی تقاریر، تحریریں اور پیغامات عوام کے دلوں میں اترتے چلے گئے۔ پہلوی حکومت نے ان کی آواز دبانے کے لیے ہر حربہ آزمایا۔ انہیں گرفتار کیا گیا، نظر بند کیا گیا، اور بالآخر جلاوطنی پر مجبور کیا گیا۔ ترکی، عراق اور پھر فرانس میں طویل جلاوطنی کے باوجود ان کی آواز نہ رکی، نہ مدھم ہوئی۔ جلاوطنی کے ایام میں بھی انہوں نے اپنی فکر اور پیغام کے ذریعے انقلاب کی چنگاری کو شعلہ بنائے رکھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ایک جلاوطن عالم دین کس طرح ایک قوم کے دلوں کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
ایران کے طول و عرض میں عوامی بیداری پھیلنے لگی۔ مساجد، مدارس، یونیورسٹیاں اور بازار ہر جگہ انقلاب کی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔ علماء کے خطبات، طلبہ کی تحریکیں، خواتین کی شرکت، اور عام شہریوں کا شعور یہ سب مل کر ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گئے۔ بالآخر 1979ء میں وہ لمحہ آیا جب انقلابِ اسلامی کا سورج طلوع ہوا۔ شاہی نظام زمین بوس ہوا اور ایران کی تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔اور سرزمین ایران پر حکومت الہی قائم ہوئی۔
یہ انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی نہ تھا بلکہ فکر، شعور اور اجتماعی سمت کی تبدیلی تھی۔ اس نے عوام کو خود اعتمادی دی، انہیں اپنی شناخت سے روشناس کرایا، اور یہ احساس دلایا کہ وہ اپنی تقدیر کے خود معمار بن سکتے ہیں۔ انقلاب نے ایرانی معاشرے میں ایک نئی روح پھونک دی خود انحصاری کی روح، مزاحمت کی روح، اور اصولی قیادت پر اعتماد کی روح۔
انقلابِ اسلامی کی برکتوں نے ایران کو ایک نئی جہت عطا کی۔ تعلیمی میدان میں نمایاں ترقی ہوئی، سائنسی تحقیق کو فروغ ملا، دفاعی خود کفالت حاصل کی گئی، صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی۔ پابندیوں، جنگوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود ایران نے اپنے قدم جمائے رکھے اور ترقی کا سفر جاری رکھا۔ ایران نے یہ ثابت کیا کہ اگر قوم کے اندر شعور اور قیادت میں استقامت ہو تو بیرونی دباؤ راستہ نہیں روک سکتا۔
تاہم اس انقلاب کے خلاف عالمی سازشوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، سفارتی دباؤ بڑھایا گیا، میڈیا کے ذریعے منفی پروپیگنڈا کیا گیا، اور داخلی خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مگر ہر بار یہ سازشیں ایرانی عوام کے شعور اور قیادت کی بصیرت کے سامنے ناکام ثابت ہوئیں۔رہبرِ انقلاب اسلامی کی غیر متزلزل استقامت نے اس سفر کو تسلسل بخشا۔ حکمت، صبر، تدبر اور اصولی موقف نے ایران کو مشکل ترین حالات میں بھی سنبھالے رکھا۔ یہ قیادت اس بات کی علامت ہے کہ انقلاب محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
آج جب انقلابِ اسلامی ایران اپنی کامیابی کے ۴۷ برس مکمل کر رہا ہے تو یہ محض ایک سالگرہ نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ایک قوم جب شعور، ایمان اور اصولی قیادت کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو صدیوں پرانا استبدادی نظام بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران تاریخ کے صفحات میں ایک درخشاں مثال کے طور پر زندہ ہے ایک ایسی مثال جو بتاتی ہے کہ حقیقی طاقت عوام کے شعور، اخلاقی بنیادوں اور ثابت قدم قیادت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
یہ سالگرہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انقلاب کوئی ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کا تسلسل اور مستقبل کی امید ہے۔ یہ پیغام دیتی ہے کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، جب عوام بیدار ہو جائیں تو تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران اسی بیداری، اسی شعور اور اسی استقامت کی لازوال علامت ہے۔اس عظیم دن کی مناسبت پر ہم امت مسلمہ کو بالعموم م،ملت غیور ایران کو بالخصوص مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان شہدا کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس انقلاب کے خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

ایران انقلاب 1979 کا مختصر مگر جامع بنیادی تاریخی مراحل

1978
* جنوری:ایران میں شاہ کے خلاف عوامی احتجاجات شروع ہوتے ہیں، خصوصاً نوجوانوں اور مذہبی کارکنوں کی قیادت میں۔
* اگست-دسمبر:احتجاجات شدت پکڑتے ہیں، سیکڑوں افراد حکومت کے ہاتھوں ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں۔
* 8 ستمبر:تہران میں مارشل لا نافذ کیا جاتا ہے۔
* جمعہ 8 ستمبر / بلیک فرائیڈے:فورسز نے خونریز کارروائی کی جو انقلاب کا نکتۂ عروج بن گئی۔
1979
* 16 جنوری:شاہِ ایران، محمد رضا پہلوی، ملک چھوڑ دیتے ہیں اور تبعید چلے جاتے ہیں۔
* 1 فروری:آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران واپس آتے ہیں، لاکھوں افراد ان کا استقبال کرتے ہیں۔
* 11 فروری:ایران کی مسلح افواج غیر جانبدار ہونے کا اعلان کرتی ہیں، شاہی حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہی دن انقلاب کی رسمی کامیابی کا دن سمجھا جاتا ہے۔
* 31-30مارچ:عوامی ریفرنڈم میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کی منظوری دی جاتی ہے۔
* 1 اپریل:باضابطہ طور پر ایران کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا جاتا ہے۔
بعد از انقلاب اہم واقعہ
* 4 نومبر 1979:امریکی سفارتخانے پر قبضہ، امریکی عملے کو یرغمال بنالیا جاتا ہے ۔جس سے امریکہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیتا ہے۔
یہ ٹائم لائن انقلاب کے ابتدائی احتجاجات سے لے کر شاہ کے زوال اور نئے سیاسی نظام کے قیام تک کے کلیدی مراحل پر مبنی ہے۔
زززؕ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

خواتین کے T20 ورلڈ کپ میں بھارت کی پاکستان پر بڑی فتح

جنگ نیوز بھارت نے خواتین کے T20 ورلڈ کپ کے...

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

تازہ ترین خبریں

خواتین کے T20 ورلڈ کپ میں بھارت کی پاکستان پر بڑی فتح

جنگ نیوز بھارت نے خواتین کے T20 ورلڈ کپ کے...

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

ظلمت سے نور تک کا تاریخی سفر: انقلاب اسلامی ایران سالگرہ پر خاص مضمون

مجتبیٰ علی شجاعی

ایران کی تاریخ ہزاروں سالہ شہنشاہیت پر محیط ہے۔ایک ایسی طویل داستان جس میں سنہرے ابواب بھی ہیں اور زوال کے سیاہ اوراق بھی۔ اس سرزمین نے ہخامنشیوں کی شوکت دیکھی، ساسانیوں کی طاقت کا مشاہدہ کیا، مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال کو برداشت کیا، اور صدیوں تک دربار، تاج، تخت اور شاہی جاہ و جلال کو اپنی تقدیر سمجھا۔ مگر اسی تاریخ میں عوام کی بے بسی، طبقاتی ناہمواری، سیاسی جبر اور فکری گھٹن کی صدائیں بھی گونجتی رہیں۔ شہنشاہیت کی یہ طویل روایت بظاہر نظم و ضبط اور شان و شوکت کی علامت تھی، لیکن اپنے باطن میں عوامی شرکت، اخلاقی اقدار اور حقیقی آزادی سے خالی تھی۔
بیسویں صدی میں جب دنیا تیزی سے بدل رہی تھی، ایران میں پہلوی حکومت نے قدیم شہنشاہی مزاج کو جدید لباس پہنا کر برقرار رکھا۔یہ دور بظاہر ترقی، جدیدیت اور مغربی طرزِ زندگی کی نمائش کا زمانہ تھا، مگر اس ظاہری چمک دمک کے پیچھے ایک ایسا نظام کارفرما تھا جو عوام سے کٹا ہوا، اسلامی تشخص سے بیگانہ اور اخلاقی بنیادوں سے محروم تھا۔ شاہی دربار کی عیاشیاں، مغرب زدگی کی اندھی تقلید، اسلامی اقدار کو پس پشت ڈالنا، اور معاشرے میں فحاشی و بداخلاقی کو فروغ دینا اس دور کی پہچان بن گیا تھا۔ دولت اور اختیار چند مخصوص حلقوں تک محدود تھے جبکہ عام ایرانی شہری معاشی محرومی، سیاسی جبر اور سماجی ناانصافی کا شکار تھا۔
پہلوی نظام نے اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے بدنام زمانہ خفیہ ادارہ ’’ساواک‘‘قائم کیا۔ ساواک کا نام سنتے ہی خوف کی فضا قائم ہو جاتی تھی۔ اختلاف رائے جرم تھا، سوال اٹھانا بغاوت شمار ہوتا تھا، اور حق بات کہنا قید و بند کی سزا کا سبب بنتا تھا۔ علماء، دانشور، طلبہ، اساتذہ اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا، اذیت گاہوں میں ڈالا جاتا، اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ ایرانی تاریخ کے یہ سیاہ ابواب آج بھی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے گھٹن زدہ ماحول میں ایران کے روشن فکر طبقے نے بیداری کی سانس لی۔ اس بیداری کی قیادت علمائے کرام نے سنبھالی، اور اس تحریک کی روح رواں حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینیؒ تھے۔ امام خمینیؒ نے نہ صرف شاہی استبداد کے خلاف آواز بلند کی بلکہ اسلامی فکر کو سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کر کے عوام کے سامنے ایک متبادل نظام پیش کیا۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ دین محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو سیاست، معیشت، معاشرت اور اخلاق سب پر محیط ہے۔
امام خمینیؒ کی تقاریر، تحریریں اور پیغامات عوام کے دلوں میں اترتے چلے گئے۔ پہلوی حکومت نے ان کی آواز دبانے کے لیے ہر حربہ آزمایا۔ انہیں گرفتار کیا گیا، نظر بند کیا گیا، اور بالآخر جلاوطنی پر مجبور کیا گیا۔ ترکی، عراق اور پھر فرانس میں طویل جلاوطنی کے باوجود ان کی آواز نہ رکی، نہ مدھم ہوئی۔ جلاوطنی کے ایام میں بھی انہوں نے اپنی فکر اور پیغام کے ذریعے انقلاب کی چنگاری کو شعلہ بنائے رکھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ایک جلاوطن عالم دین کس طرح ایک قوم کے دلوں کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
ایران کے طول و عرض میں عوامی بیداری پھیلنے لگی۔ مساجد، مدارس، یونیورسٹیاں اور بازار ہر جگہ انقلاب کی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔ علماء کے خطبات، طلبہ کی تحریکیں، خواتین کی شرکت، اور عام شہریوں کا شعور یہ سب مل کر ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گئے۔ بالآخر 1979ء میں وہ لمحہ آیا جب انقلابِ اسلامی کا سورج طلوع ہوا۔ شاہی نظام زمین بوس ہوا اور ایران کی تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔اور سرزمین ایران پر حکومت الہی قائم ہوئی۔
یہ انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی نہ تھا بلکہ فکر، شعور اور اجتماعی سمت کی تبدیلی تھی۔ اس نے عوام کو خود اعتمادی دی، انہیں اپنی شناخت سے روشناس کرایا، اور یہ احساس دلایا کہ وہ اپنی تقدیر کے خود معمار بن سکتے ہیں۔ انقلاب نے ایرانی معاشرے میں ایک نئی روح پھونک دی خود انحصاری کی روح، مزاحمت کی روح، اور اصولی قیادت پر اعتماد کی روح۔
انقلابِ اسلامی کی برکتوں نے ایران کو ایک نئی جہت عطا کی۔ تعلیمی میدان میں نمایاں ترقی ہوئی، سائنسی تحقیق کو فروغ ملا، دفاعی خود کفالت حاصل کی گئی، صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی۔ پابندیوں، جنگوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود ایران نے اپنے قدم جمائے رکھے اور ترقی کا سفر جاری رکھا۔ ایران نے یہ ثابت کیا کہ اگر قوم کے اندر شعور اور قیادت میں استقامت ہو تو بیرونی دباؤ راستہ نہیں روک سکتا۔
تاہم اس انقلاب کے خلاف عالمی سازشوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، سفارتی دباؤ بڑھایا گیا، میڈیا کے ذریعے منفی پروپیگنڈا کیا گیا، اور داخلی خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مگر ہر بار یہ سازشیں ایرانی عوام کے شعور اور قیادت کی بصیرت کے سامنے ناکام ثابت ہوئیں۔رہبرِ انقلاب اسلامی کی غیر متزلزل استقامت نے اس سفر کو تسلسل بخشا۔ حکمت، صبر، تدبر اور اصولی موقف نے ایران کو مشکل ترین حالات میں بھی سنبھالے رکھا۔ یہ قیادت اس بات کی علامت ہے کہ انقلاب محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
آج جب انقلابِ اسلامی ایران اپنی کامیابی کے ۴۷ برس مکمل کر رہا ہے تو یہ محض ایک سالگرہ نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ایک قوم جب شعور، ایمان اور اصولی قیادت کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو صدیوں پرانا استبدادی نظام بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران تاریخ کے صفحات میں ایک درخشاں مثال کے طور پر زندہ ہے ایک ایسی مثال جو بتاتی ہے کہ حقیقی طاقت عوام کے شعور، اخلاقی بنیادوں اور ثابت قدم قیادت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
یہ سالگرہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انقلاب کوئی ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کا تسلسل اور مستقبل کی امید ہے۔ یہ پیغام دیتی ہے کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، جب عوام بیدار ہو جائیں تو تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران اسی بیداری، اسی شعور اور اسی استقامت کی لازوال علامت ہے۔اس عظیم دن کی مناسبت پر ہم امت مسلمہ کو بالعموم م،ملت غیور ایران کو بالخصوص مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان شہدا کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس انقلاب کے خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

ایران انقلاب 1979 کا مختصر مگر جامع بنیادی تاریخی مراحل

1978
* جنوری:ایران میں شاہ کے خلاف عوامی احتجاجات شروع ہوتے ہیں، خصوصاً نوجوانوں اور مذہبی کارکنوں کی قیادت میں۔
* اگست-دسمبر:احتجاجات شدت پکڑتے ہیں، سیکڑوں افراد حکومت کے ہاتھوں ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں۔
* 8 ستمبر:تہران میں مارشل لا نافذ کیا جاتا ہے۔
* جمعہ 8 ستمبر / بلیک فرائیڈے:فورسز نے خونریز کارروائی کی جو انقلاب کا نکتۂ عروج بن گئی۔
1979
* 16 جنوری:شاہِ ایران، محمد رضا پہلوی، ملک چھوڑ دیتے ہیں اور تبعید چلے جاتے ہیں۔
* 1 فروری:آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران واپس آتے ہیں، لاکھوں افراد ان کا استقبال کرتے ہیں۔
* 11 فروری:ایران کی مسلح افواج غیر جانبدار ہونے کا اعلان کرتی ہیں، شاہی حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہی دن انقلاب کی رسمی کامیابی کا دن سمجھا جاتا ہے۔
* 31-30مارچ:عوامی ریفرنڈم میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کی منظوری دی جاتی ہے۔
* 1 اپریل:باضابطہ طور پر ایران کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا جاتا ہے۔
بعد از انقلاب اہم واقعہ
* 4 نومبر 1979:امریکی سفارتخانے پر قبضہ، امریکی عملے کو یرغمال بنالیا جاتا ہے ۔جس سے امریکہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیتا ہے۔
یہ ٹائم لائن انقلاب کے ابتدائی احتجاجات سے لے کر شاہ کے زوال اور نئے سیاسی نظام کے قیام تک کے کلیدی مراحل پر مبنی ہے۔
زززؕ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں