مرکز کی جانب سے تقریباً ایک سال قبل صدر راج کے نفاذ کے بعد بالآخر منی پور کو ایک منتخب وزیر اعلیٰ مل گیا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ جمہوری عمل کی بحالی کی ایک امید افزا علامت ہے، جو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ بحرانوں اور تعطل کے باوجود جمہوریت میں خود کو سنبھالنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
صدر راج آئینی طور پر ایک عارضی انتظام ہے، جس کا مقصد غیر معمولی حالات میں نظامِ حکومت کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ تاہم یہ کبھی بھی عوام کے منتخب نمائندوں کی جگہ مستقل متبادل نہیں بن سکتا۔ اسی لیے منی پور میں منتخب حکومت کا قیام معمول کی طرف واپسی، جوابدہی اور سیاسی استحکام کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
نئے وزیر اعلیٰ کی تقرری اپنے ساتھ امید بھی لاتی ہے اور ذمہ داری بھی۔ امید اس لئے کہ عوام کی آواز ایک بار پھر ایک جوابدہ قیادت کے ذریعے اظہار پا سکے گی، اور ذمہ داری اس لیے کہ منی پور اب بھی سماجی کشیدگی، امن و امان کے مسائل اور مختلف طبقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ نئی قیادت کو تنگ نظری اور جماعتی مفادات سے بلند ہو کر مفاہمت، شمولیتی طرزِ حکمرانی اور اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔
یہ پیش رفت بھارتی جمہوریت کی داخلی قوت کی بھی عکاس ہے۔ طویل سیاسی غیر یقینی کے باوجود آئینی راستے بند نہیں ہوتے اور اصلاح و تجدید کی گنجائش برقرار رہتی ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی مسلسل بحالی کا عمل ہے۔ منی پور میں یہ سیاسی موڑ اسی حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔
اب جبکہ منی پور ایک نئے باب کا آغاز کر رہا ہے، توقع یہی ہے کہ منتخب حکومت امن، مکالمے اور ترقی کو اپنی پالیسی کا مرکز بنائے گی، اور حکمرانی میں حساسیت، انصاف اور تمام طبقات کی امنگوں کو مقدم رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی واپسی بلاشبہ ایک نیک شگون ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس موقع کو زخموں کے مداوا، اعتماد کی بحالی اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔


