اجمل شاہ
پیر پنجال کی برف پوش چوٹیوں پر بچھا ہوا سفید کفن طویل عرصے تک کشمیر کے امن اور پاکیزگی کا شاعرانہ استعارہ رہا ہے، مگر آج یہی برف ایک ایسی خباثت کو چھپائے ہوئے ہے جو پوری وادی کی روح کو نگل لینے پر تلی ہوئی ہے۔ دہائیوں سے ہم اس تنازعے کی قیمت بندوقوں کی گھن گرج اور تابوتوں کی خاموش قطار میں ناپتے آئے ہیں، مگر ہم یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہے کہ دشمن نے میدان جنگ کے اصول ہی بدل دیے ہیں۔ کلاشنکوف کی گونج کے ساتھ اب سرنج کی خاموش اور مہلک سرسراہٹ بھی شامل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے جب روایتی جنگ یا مسلح بغاوت کے ذریعے بھارتی ریاست کو چیلنج کرنے کی ناکامی کا اعتراف کیا تو اس نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جو اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ہماری رگوں میں زہر گھول کر ہمارے مستقبل کو تباہ کرنا ہے۔ اب یہ محض نظریے یا زمین کی پراکسی جنگ نہیں رہی بلکہ ایک منظم آبادیاتی حملہ ہے جس میں گولی کے بجائے ہیروئن کا پیکٹ ہتھیار ہے۔
یہ ایک عظیم المیہ ہے کہ وہ ملک جو خود کو جنوبی ایشیا میں اسلام کا قلعہ کہتا ہے، آج ایک ایسی منشیاتی وبا کا مرکزی معمار بن چکا ہے جو اس دین کی ہر بنیادی تعلیم کی نفی کرتی ہے۔ نرکو جہاد پاکستانی ڈیپ اسٹیٹ کی سب سے بڑی منافقت ہے۔ ایک طرف ان کے علما نشہ آور اشیا کی حرمت اور انسانی جسم کی تقدیس پر گرجدار خطبے دیتے ہیں، اور دوسری طرف ان کے خفیہ ادارے اور عسکری سرپرست ہیروئن اور میتھ ایمفیٹامین کی صنعتی پیمانے پر تیاری اور ترسیل میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اخلاقیات کو سہولت کے ساتھ دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ ان کے نزدیک مومن کے لیے منشیات کا استعمال حرام ہے، مگر دشمن کے نوجوانوں کو تباہ کرنے کے لیے یہی منشیات ایک جائز بلکہ مقدس جنگی ہتھیار بن جاتی ہیں۔ یہی فقہی موشگافی راولپنڈی میں بیٹھے کسی ہینڈلر کو بغیر کسی خلش کے ایک کشمیری نوجوان کو زہر دینے کی اجازت دیتی ہے، جہاں وہ نشے کے عادی کو مظلوم نہیں بلکہ محض ضمنی نقصان سمجھتا ہے۔
اس حملے کے عملی طریقہ کار نے وقت کے ساتھ خوفناک حد تک ترقی کی ہے۔ ہمیں وہ دن یاد رکھنے چاہئیں جب لائن آف کنٹرول کے پار تجارت کو امن کی علامت اور بٹے ہوئے خاندانوں اور معیشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا۔ مگر پاکستان میں دہشت گردی کے آقاؤں نے ہماری نیک نیتی کو کمزوری سمجھ کر استعمال کیا۔ جو راستے بادام اور سنگترے کے تبادلے کے لیے بنائے گئے تھے، وہ جلد ہی موت کے راستے بن گئے۔ امن کے پلوں سے گزرنے والے ٹرکوں میں خفیہ خانوں میں منشیات اور خشک میوہ جات کی بوریوں میں چھپی ہیروئن لدی ہوتی تھی۔ جب بھارتی ریاست نے درست طور پر اس تجارت کو معطل کر کے دہشت گردی کی مالی رگ کاٹنے کی کوشش کی تو دشمن نے پسپائی اختیار کرنے کے بجائے اپنے ذرائع متنوع بنا لیے۔ ٹرک کی جگہ ڈرون اور پہاڑی دروں کی جگہ سمندری راستے لے گئے۔ آج ہم پنجاب اور جموں کی بین الاقوامی سرحد پر خاموشی سے اڑتے چینی ساختہ ہیکسا کاپٹر دیکھتے ہیں جو ایک مہلک سودا گراتے ہیں۔ مقامی منڈی کے لیے اعلیٰ درجے کی منشیات اور شدت پسندوں کے لیے پستول یا چپکنے والے بم۔
یہ حکمت عملی ایک ایسے شکنجے کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کا مقصد بھارت کو چاروں طرف سے گھیرنا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں خطرہ مغربی سرحدوں سے آگے پھیل چکا ہے۔ دنیا کی نظریں اگرچہ مغرب میں گولڈن کریسنٹ پر مرکوز ہیں، مگر پاکستان نے خاموشی سے مشرق میں گولڈن ٹرائنگل کو استعمال کرتے ہوئے ایک نیا مہلک محاذ کھول دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی انتشار نے انٹر سروسز انٹیلی جنس کو عدم استحکام کا ایک نیا میدان فراہم کیا، جسے انہوں نے حیران کن سرعت سے ہتھیار بنا لیا۔ ڈھاکہ میں پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی عناصر نے گولڈن ٹرائنگل کے نیٹ ورکس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے بھارت کے مشرقی حصے کو مصنوعی منشیات اور میتھ ایمفیٹامین سے بھرنا شروع کر دیا ہے۔ اب ہم دو زہریلی راہداریوں کے درمیان پھنس چکے ہیں، جہاں مغرب کی ہیروئن اور مشرق کی یابا گولیاں ایک ہی کٹھ پتلی کے ہاتھوں میں ہیں، جو راولپنڈی میں بیٹھ کر ہماری سلامتی کے نظام کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ محض اسمگلنگ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک گھیراؤ ہے، جس میں پڑوسی ملک کے عدم استحکام کو بھارت کے شمال مشرق اور بنگال کی رگوں میں موت انڈیلنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دو ہزار انیس کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت کے بارے میں ہمیں اپنے فہم پر بھی نظر ثانی کرنی ہوگی۔ سیکورٹی حلقوں میں غیر ملکی فنڈنگ پر قابو پانے اور حوالہ نیٹ ورکس کے خاتمے پر اطمینان پایا جاتا ہے، اور یہ بات درست بھی ہے کہ پاکستان اور اس کے بیرون ملک حامیوں سے آنے والی رقوم کے روایتی راستے بند کیے گئے ہیں۔ مگر ہم اس خوفناک حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ آج دہشت گردی کی بڑی مالیات ہمارے اپنے اندر پیدا ہو رہی ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ہماری سرزمین پر ایک خود کفیل تنازع معیشت قائم کر دی ہے۔
اس کے باوجود بھارتی ریاست اور کشمیری عوام کی قوت برداشت وہ عنصر ہے جسے راولپنڈی کے منصوبہ ساز بار بار کم سمجھتے ہیں۔ آج جو کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ محض پولیس ایکشن نہیں بلکہ پورے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو توڑنے کی حکمت عملی ہیں۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے منشیات کے بڑے تاجروں کی جائیدادیں ضبط کرنا انسداد دہشت گردی کے نظریے میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ موت کی اس تجارت سے بنائے گئے محلات اور زمینیں ضبط کر کے ریاست ترغیبی ڈھانچے کی جڑ پر ضرب لگا رہی ہے۔ دہشت گردی کے کارپوریٹ پردے کو چاک کر کے اس کے سہولت کاروں کو جواب دہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ خون کے پیسے کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں۔ سعودی عرب جیسے ممالک سے بھی کلیدی کرداروں کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی قانون کا ہاتھ مزید طویل ہو چکا ہے۔
پاکستان اب کشمیر یوں کی لاشوں پر اپنی سیاست نہیں چلا رہا بلکہ وہ ایک ایسی نسل کے خوابوں پر پل رہا ہے جو سرنج کے بجائے بہتر مستقبل کی حقدار ہے۔ وادی میں ہیروئن کے نشے میں دو ہزار فیصد اضافہ محض ایک عدد نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے، جو ایک ایسے پڑوسی نے انجام دیا ہے جو ہماری خیر خواہی کا دعویٰ کرتا ہے۔ سرنج واقعی سنگین بن چکی ہے اور نشے کا عادی ایک ایسی جنگ کا نیا سپاہی ہے جس میں جیت صرف انسانی صلاحیت کی تباہی ہے۔
کشمیر کی وادیوں اور شمال مشرق کی پہاڑیوں میں لڑی جانے والی یہ جنگ دراصل انسانی امکان کے تحفظ کی جنگ ہے۔ دشمن کی حکمت عملی خوابوں کے کٹاؤ اور ایک نسل کی امنگوں کو نشے کے بوجھ تلے دبانے پر مبنی ہے۔ مگر بھارتی تہذیب کی طاقت اس اجتماعی عزم اور ادارہ جاتی بیداری میں ہے جو ایسی تخریبی سازشوں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ منشیات کے ایندھن سے بھارت کے گرد آگ کا حلقہ بنانے کی کوشش ایک ایسی ریاست کی آخری جوا بازی ہے جس کے پاس روایتی راستے ختم ہو چکے ہیں۔ تاریخ یہ گواہی دے گی کہ مستقبل زہر بیچنے والوں نے نہیں بلکہ اس قوم نے لکھا جو اپنی نوجوان نسل کو پڑوسی کی اخلاقی گمراہی کی نذر ہونے سے بچانے پر ڈٹ گئی۔ یہ خاموش محاصرہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی طاقت سے ٹوٹے گا جو جمود کے بجائے زندگی اور انحصار کے بجائے وقار کا انتخاب کرتا ہے۔
مصنف ایک ایڈووکیٹ ہیں اور ہائی کورٹ جموں و کشمیر و لداخ میں وکالت کرتے ہیں۔
ززز


