
اختر جمال عثمانی
اعلیٰ تعلیم میں مساوات کے فروغ کے لیے متعارف کرایا گیا Promotion of Equality in Higher Education Regulation–2026 بظاہر ایک سادہ تعلیمی ضابطہ ہے، مگر درحقیقت یہ ہندوستانی سماج کے صدیوں پرانے ذات پات پر مبنی طاقتور ڈھانچے کے لیے چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ اس کا مقصد یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات، جنس، مذہب یا جسمانی معذوری کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک، ہراسانی اور استحصال کو روکنا اور متاثرہ افراد کو شکایت درج کرانے اور انصاف پانے کا مؤثر، شفاف اور محفوظ نظام فراہم کرنا ہے۔ لیکن جیسے ہی اس ریگولیشن کا اعلان ہوا، خاص طور پر سَوَرن طبقے، بالخصوص برہمنوں اور راجپوتوں، کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ مختلف شہروں میں احتجاج ہوئے، سوشل میڈیا پر مہمات چلیں اور حکومت و وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے بازی تک کی گئی۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف زبر دست ا حتجاج کیا گیا۔ جے پور میں کرنی سینا، برہمن مہاسبھا، کائستھ مہاسبھا اور ویشیہ تنظیموں نے مل کر ’سَوَرن سماج سمنویہ سمیتی (S-4)‘ قائم کی تاکہ اس ضابطے کی منظم مخالفت کی جا سکے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون سَوَرنوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہے اور اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک زبردست تضاد سامنے آتا ہے۔ یہی طبقہ برسوں سے سخت قوانین، ریاستی طاقت کے بڑھتے استعمال اور پولیس و انتظامیہ کی سخت گیری کا حامی رہا ہے۔ جب CAA اور NRC قانون ج لائے گئے تھے تو یہی لوگ کہہ رہے تھے کہ ان کی مخالفت وہی کر رہے ہیں جن کے پاس کاغذات نہیں ہیں، ورنہ ڈرنے کی کیا بات ہے۔ ان کے مطابق یہ قوانین تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے خلاف ہیں، یہاں کے لوگوں کے لیے نہیں۔ کسان تحریک کے وقت بھی یہی بیانیہ تھا کہ ان قوانین کی مخالفت خالصتانی دہشت گرد اور دلال کر رہے ہیں، ورنہ حکومت کی نیت میں کوئی خرابی نہیں۔ SIR جیسے اقدامات پر بھی یہی دلیل دی گئی کہ اس کی مخالفت وہی کر رہے ہیں جنہیں اس ملک میں گھس پیٹھیے چاہئیں یا جو خود گھس پیٹھیے ہیں، اور حکومت جو کر رہی ہے وہ بالکل ٹھیک کر رہی ہے۔مگر اب جب ایک ایسا قانون آیا ہے جو تعلیمی اداروں میں طاقتور اور کمزور ، یا سماج میں اونچی ذات اور نیچی ذات سمجھے جانے والے سب لوگوں کو ایک ہی قانون کے دائرے میں لانے کی بات کرتا ہے تو اچانک انہی لوگوں کو قانون کے غلط استعمال کا خوف لاحق ہو گیا ہے۔ وہی لوگ جو کل تک کہتے تھے کہ جو بے گناہ ہوگا وہ کیوں ڈرے گا، آج کہہ رہے ہیں کہ یہ قانون سَوَرنوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جس کی طرف طنزیہ انداز میں کہا گیا تھا کہ کل تک جو کہتے تھے کہ قانون سے وہی ڈرتا ہے جس نے کچھ غلط کیا ہو، آج خود ڈر رہے ہیں کہ کہیں قانون ان کے خلاف نہ استعمال ہو جائے۔
اس کی ایک اور جھلک جیلوں کے مسئلے میں دکھائی دیتی ہے۔ ایک بار کسی نے سوال کیا تھا کہ ہندوستان کی جیلوں میں زیادہ تر پسماندہ، دلت یا مسلم سماج کے لوگ ہی کیوں پائے جاتے ہیں۔ اس پر سَوَرن سماج کے لوگ بڑی معصومیت سے جواب دیتے تھے کہ جو جرم کرے گا وہی جیل جائے گا۔ اس وقت انہیں ا س حکومت اور اس نظام پر پورا بھروسا تھا۔ مگر آج انہی لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر نئے قوانین پوری سختی سے لاگو ہو گئے تو وہ سَوَرنوں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر نظام واقعی اتنا ہی انصاف پسند ہے جتنا وہ کل تک مانتے تھے تو پھر آج یہ خوف کیوں؟یہی منافقت خواتین کے معاملے میں بھی صاف دکھائی دیتی رہی ہے۔ جو لوگ عورتوں کے بارے میں یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ریپ اور جنسی استحصال کی وجہ وہ خود ہوتی ہیں، ان کے کپڑے یا ان کا باہر نکلنا قصوروار ہوتاہے، آج وہی لوگ اپنے اوپر کسی الزام یا شکایت کے اندراج کے امکان سے خوف زدہ ہیں۔ جو اصول وہ برسوں سے کمزور طبقات، اقلیتوں اور خواتین پر لاگو کرتے آئے ہیں، وہی اصول جب خود ان پر لاگو ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے تو انہیں وہ ظالمانہ لگنے لگا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ UGC ریگولیشن کسی ایک ذات یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ ہر قسم کے امتیاز اور استحصال کے خلاف ہے۔ اس میں صاف لکھا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ کسی بھی جنس، ذات یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو، امتیازی سلوک اور ہراسانی کے خلاف شکایت درج کرا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی دلت کسی OBC کے خلاف شکایت کر سکتا ہے، کوئی سَوَرن ہندو لڑکی کسی دلت یا مسلم لڑکے کے خلاف، اور کوئی معذور فرد ان میں سے کسی کے بھی خلاف۔ اس کے باوجود سب سے زیادہ ڈر سَوَرن طبقے کو ہی کیوں لگ رہا ہے؟ اگر یہ قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے تو پھر خوف کی وجہ کیا ہے؟
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جو طبقہ اب حکومت اور نریندر مودی کے خلاف سڑکوں پر اتر آیا ہے، کل تک انہی کی ہر پالیسی کا دفاع کرتا تھا۔ جب اقلیتوں، آدیواسیوں، ST، SC اور خواتین کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو سماج سے نام نہاد گندگی دور کرنے کے نام پر جائز ٹھہرایا جا رہا تھا تو یہی لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔ اب جب قانون کا رخ ان کی طرف مڑنے کا امکان پیدا ہوا ہے تو انہیں حکومت اور نظام دونوں سے بدگمانی ہونے لگی ہے۔ تب حکومت کی طاقت اور سختی ضروری تھی، اب وہی طاقت جبر بن گئی ہے۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ جن لوگوں نے برسوں تک اقلیتوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف سخت زبان استعمال کی، انہیں گھس پیٹھیے یا سماج کی گندگی کہا، وہی لوگ آج خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ کل تک وہ کہتے تھے کہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے ٹھیک کر رہی ہے، آج وہی حکومت ان کے نزدیک آمرانہ ہو گئی ہے۔ یہ تبدیلی کسی اصولی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ اب پہلی بار قانون کے ان کے دروازے پر دستک دینے کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔
دراصل یہ پورا تنازع اس بنیادی سوال کو لے کر ہے کہ کیا قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے یا صرف کمزوروں کے لیے؟ اگر قانون سب کے لئے برابر ہے تو پھر کسی بھی طبقے کو اس بات سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کہ امتیاز کے خلاف بنایا گیا قانون اس پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔ مگر خوف کی جڑ یہی ہے کہ صدیوں سے کچھ طبقات نے جو کہ خود کو برتر سمجھتے رہے ہیں، بغیر کسی احتساب کے طاقت اور مراعات کا استعمال کرتے آ رہے ہیں، اور اب انہیں پہلی بار احساس ہو رہا ہے کہ شاید اب انہیں بھی جواب دہ ہونا پڑے گا۔اعلیٰ تعلیمی ادارے محض ڈگریاں بانٹنے کی جگہیں نہیں بلکہ وہ سماج کی فکری اور اخلاقی سمت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ اگر انہی اداروں میں دلت اور پسماندہ طلبہ کو ذلیل کیا جائے، اقلیتی طلبہ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، خواتین کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑے اور معذور طلبہ کے لیے بنیادی سہولتیں تک نہ ہوں تو پھر ہم کس منہ سے دنیا کو اپنی جمہوریت اور تہذیب پر فخر کرنے کی بات کریں گے؟ Promotion of Equality in Higher Education Regulation–2026 اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے۔یقیناً ہر قانون کی طرح اس کے غلط استعمال کا امکان بھی موجود ہے، مگر یہ دلیل ہر اس قانون کے خلاف دی جا سکتی ہے جو طاقتوروں کا احتساب کرتا ہو۔ کیا اسی دلیل کی بنیاد پر ہم انسدادِ بدعنوانی قوانین یا گھریلو تشدد کے خلاف قوانین ختم کر دیں؟ حقیقت یہ ہے کہ غلط استعمال کا خوف اکثر اصل مقصد سے توجہ ہٹانے کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔ آخر میں پھر وہی سوال ابھرتا ہے کہ کیا دل میں چور کیوں ہے۔ کیا واقعی مسئلہ قانون کا نہیں بلکہ جواب دہی کا ہے؟ کیا ہمیں واقعی سماج سے گندگی کی صفائی نہیں چاہیے یا ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ صفائی کا عمل ہمیشہ دوسروں کے گھروں تک محدود رہے ۔یہ محض ایک تعلیمی ضابطہ نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کی نیت اور سمت کا امتحان ہے۔ اگر حکومت نے اسے دباؤ میں آ کر کمزور کر دیا تو یہ صاف پیغام ہوگا کہ اس ملک میں برابری محض ایک کتابی بات ہے اور اگر حکومت نے اسے نافذ کیا اور اس پر ایمانداری سے عمل کیا تو شاید یہ پہلا قدم ہوگا اس طرف کہ ہندوستان صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں بھی سب کے لیے برابر کا ملک بن سکے۔
ززز


