مسلمانوں میں قیادت کا فقدان کیوں ہے ؟

 

غلام غوث

ہندوستان پر انگریزوں نے 150 سال حکومت کی، مگر کبھی انہوں نے اسے اپنا وطن نہیں مانا۔ وہ ہمیشہ اسے اپنا مقبوضہ علاقہ سمجھتے رہے اور صرف ان کے لیے برطانیہ ہی وطن رہا۔ ان کا مقصد ہی ہندوستان کی دولت اور معدنیات کو لوٹ کر اپنے ملک لے جانا تھا، مگر انہوں نے یہ صاف سمجھ لیا تھا کہ ملک میں امن و امان کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے وہ امن کے ساتھ حکومت کرتے رہے اور ملک کو لوٹتے رہے۔
یہ ایک دور تھا جو گزر گیا، اور عوام کی جدوجہد کی وجہ سے ملک آزاد ہوا اور انگریز چلے گئے۔ اب نہرو، سردار پٹیل اور ابوالکلام آزاد کے دورِ حکومت میں دوسرا دور شروع ہوا۔ اس میں چاروں طرف امن و امان اور خوشحالی رہی۔ عوام میں کافی حد تک اتفاق و اتحاد رہا۔
پھر 2014 میں تیسرا دور شروع ہوا جب آر ایس ایس اور بی جے پی اقتدار میں آئی۔ ان کا ایجنڈا یہ رہا کہ چونکہ ہندوستان کی اکثریت ہندو ہے، اس لیے ہندوؤں ہی کی منشا کے مطابق حکومت چلنی چاہیے۔ باقی تمام ذاتیں ان ہی کے نظریے کے ماتحت ہونی چاہئیں۔ انہوں نے ہندوؤں کو متحد کرنے کے لیے ایک دشمن مسلمانوں اور عیسائیوں کو تلاش کر لیا اور انہیں ہندوؤں کے لیے خطرہ بتانے اور ان کے خلاف ہندوؤں کو متحد کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
مگر ہندوستانی اپنی پرانی روایت کے مطابق اس سوچ کو ہوا نہیں دیے، اور ایک بہت بڑی ہندو اکثریت اس سوچ کی مخالف ہو گئی۔ اس سے آپسی ٹکراؤ بڑھ گیا اور دونوں میں اقتدار کے لیے جدوجہد شروع ہو گئی، جو اب بھی چل رہی ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ حکومت بی جے پی کی ہے، جو خود کو ہندوتوا کے علمبردار کہہ رہے ہیں، مگر وہی کہہ رہے ہیں کہ ہندو اور ہندوتوا خطرے میں ہیں۔ ایسی کوئی آواز تو اس وقت نہیں اٹھی جب مسلمان یا انگریز حکمران تھے۔ اس وقت کبھی اتنی شدت سے یہ تحریک نہیں چلی کہ ہندوتوا خطرے میں ہے، جیسی اب چل رہی ہے۔
غور اس بات پر کرنا ہے کہ کیا ایسی تحریک چلا کر وہ زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی تین چوتھائی آبادی اس حکمت کو سمجھ چکی ہے اور سب سے زیادہ اس کی مخالفت وہی کر رہے ہیں۔ یہ مخالفت کرنے والے سچے وطن پرست ہیں، جو جانتے ہیں کہ فرقہ پرستی کے سبب ہندوستان اس تیزی کے ساتھ ترقی نہیں کرے گا جس تیزی کے ساتھ اسے کرنا چاہیے۔
مسٹر راہول گاندھی، پٹنہ کے تیجسوی یادو اور مغربی بنگال کی ممتا بینرجی اسی کی مثال ہیں۔ وہ دن رات اس بات میں لگے ہیں کہ ہندوستان میں نفرت کی سیاست چلنے نہ پائے۔ عوام کی اکثریت بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے۔
بہار میں جو اسمبلی الیکشن ہوا، اس میں سیکولر گٹھ بندھن کی شکست نے دو اسباب سامنے لائے ہیں۔ ایک یہ کہ بہار کے ہندوؤں کی اکثریت اب بھی بی جے پی کی ذہنیت کے ساتھ ہے، یا الیکشن میں ووٹوں کی چوری ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جب تک الیکشن مشینوں کے ساتھ ہوں گے، تب تک مشینوں کا حکومت غلط استعمال کرے گی اور ووٹ چوری کرتی رہے گی۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کو اس وقت تک الیکشن میں حصہ نہیں لینے کا اعلان کر دینا چاہیے جب تک ہر الیکشن کاغذی بیلٹ سے نہیں ہوگا۔ ایسا سیکولر پارٹیاں کیوں نہیں کر رہی ہیں، یہ ہر کسی کی سمجھ سے باہر ہے۔
ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کا اتحاد صرف ان مدوں کو اٹھا رہا ہے جو بڑے بڑے گھپلوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں عام شہریوں کی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں بی جے پی صرف ایسے مدے الیکشن کے دوران اٹھا رہی ہے جن میں عوام کی دلچسپی ہے۔
یہ سچ ہے کہ ہندوستان کی ہر سیاسی پارٹی کسی نہ کسی فرد یا فیملی کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ خود بی جے پی آر ایس ایس کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ شاید اس طرز کو بدلنا مشکل ہے۔ اگر کوئی فرد یا فیملی پارٹی کی سرپرست نہیں ہوگی تو کون اس کے اچھے برے کا ذمہ دار ہوگا؟ کسی کو تو پارٹی کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی، ورنہ ہر کوئی اپنی من مانی کرنے لگ جائے گا اور کوئی ذمہ داری نہیں لے گا۔
اگر نہرو فیملی کانگریس پارٹی کی ذمہ داری نہیں اٹھاتی تو کون ہے جو اس کی ذمہ داری اٹھائے گا؟ اس لیے نہرو فیملی پر اعتراض کرنا ٹھیک نہیں لگتا۔ اگر آر ایس ایس بی جے پی کی ذمہ داری نہیں سنبھالتی تو کون ہے جو یہ ذمہ داری اٹھائے گا؟
مانا کہ موجودہ حکومت میں مسلمان اور عیسائی ذہنی طور پر پریشان ہیں۔ کئی دانشوروں کا مشورہ ہے کہ مسلمانوں کے لیڈروں کو چاہیے کہ وہ حکام سے ملیں اور پوچھیں کہ وہ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں اور انہیں پریشانیوں سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون ہیں مسلمانوں کے لیڈر؟ جو بھی آگے بڑھتے ہیں، ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کو کس نے مسلمانوں کا لیڈر بنایا ہے؟ خود مسلمان ہی یہ سوال شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے میں ہر کوئی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
ہم مسلمان نہ کسی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور نہ خود آگے بڑھ کر لیڈرشپ سنبھالتے ہیں۔ ہم نے ایک تجربہ یہ بھی کر کے دیکھ لیا کہ کچھ دانشوروں اور علما کو یہ کہہ کر آگے بڑھایا کہ یہ ہمارے لیڈر ہیں۔ وہ بھی چند میٹنگیں برابر آتے رہے، بعد میں وہ بھی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔
حالت ایسی ہو گئی کہ میٹنگ بلاؤ تو صرف دو یا تین آتے ہیں، باقی غائب۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لیڈرشپ کا وزن اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں، مگر لیڈرشپ کے فقدان کی چیخ و پکار برابر کرتے رہتے ہیں۔ جن کو چنا جاتا ہے وہ اپنے آپ سے نہیں اٹھتے بلکہ انہیں بار بار اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسی مجبوری ہر ریاست میں ہے۔
ایسے میں کون حکام سے بات چیت کرے گا؟ قابل لیڈر تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں حالاتِ حاضرہ کا علم ہوتا ہے۔ یہ علم اس وقت ہوگا جب وہ ہندوستانی، یورپی اور امریکی لیڈروں کی سوانحِ حیات حضور ﷺ کی سیرت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ یہ طریقہ ابوالکلام آزاد میں تھا۔ وہ ہر موضوع پر لکھنے اور خطاب کرنے کی قابلیت رکھتے تھے۔ ان کے بعد ہم نے کسی مسلمان میں یہ صلاحیت نہیں دیکھی۔
مذہبی حضرات صرف دینی کتابیں پڑھتے ہیں، جس سے وہ مسلم عوام کے قائد نہیں بن پا سکتے۔ دانشور حضرات کا بھی مطالعہ بہت کم ہو گیا ہے، اس لیے وہ بھی مسلمانوں کی قیادت نہیں کر پا رہے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اپنا وقت دینا نہیں چاہتا۔
اس لیے آج کل ان پڑھ، جاہل اور مالدار خود کو لیڈر سمجھ کر اچھل کود کر رہے ہیں۔ بہتر یہی لگ رہا ہے کہ مذہبی حضرات دین سنبھالیں اور معلومات رکھنے والے دانشور سیاست، معیشت اور سماجی ذمہ داری اٹھائیں۔
جو حضرات مسلمانوں کی لیڈرشپ کرنا چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ دنیا بھر کے لیڈروں کی سوانحِ حیات کا مطالعہ کریں اور اپنے آپ کو لیڈرشپ کے قابل بنائیں۔ اگر ہر ریاست میں چار چار افراد بھی اٹھ کھڑے ہوں تو لیڈرشپ کے فقدان کی چیخ و پکار ختم ہو جائے گی۔
یہ کہنا کہ ایسا ہونا چاہیے، ویسا ہونا چاہیے، بہت آسان ہے، مگر کسی کو یہ کہنا ہوگا کہ ایسا کیسے کرنا ہے اور راستہ کون سا ہے۔ ایسے حضرات جو مدرسے چلا رہے ہیں، وہ لیڈرشپ نہیں لے سکتے، کیونکہ وہ دن رات چندہ وصولی میں اور طلبہ کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ ہمارا تجربہ ہے۔
سیاسی پارٹیوں پر نظر ڈالیں تو وہاں صرف ان پڑھ اور نیم تعلیم یافتہ حضرات کی بھرمار ہے، جو پوسٹر تو لگا سکتے ہیں مگر قوم کی قیادت نہیں کر سکتے۔ اس لیے سیاسی پارٹیاں انہیں ہر گلی یا محلے میں صرف نام کے لیے دو دو، چار چار وائس چیئرمین یا سکریٹری کا عہدہ دے کر خوش کر دیتی ہیں، اور یہ بے وقوف بھی اسے کوئی بڑا عہدہ سمجھ کر اخباروں میں اشتہارات دے کر خوش ہو جاتے ہیں اور خود کو بڑا سمجھ لیتے ہیں۔
بڑے بڑے سیاسی عہدیدار ایسے اشتہارات نہیں دیتے جیسے یہ کم فہم لوگ دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہے اور غور کرنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیسے لیڈرشپ کو ابھارنا ہے، یا انہیں ہی لیڈرشپ سنبھالنی ہے جنہوں نے لیڈروں کو چننے کی کوشش کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

بچوں کو کھیل کھیل میں اردو سکھانے والی کتاب "الفاظ کی دنیا "

احمد حاطب صدیقی سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

بچوں کو کھیل کھیل میں اردو سکھانے والی کتاب "الفاظ کی دنیا "

احمد حاطب صدیقی سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی...

مسلمانوں میں قیادت کا فقدان کیوں ہے ؟

 

غلام غوث

ہندوستان پر انگریزوں نے 150 سال حکومت کی، مگر کبھی انہوں نے اسے اپنا وطن نہیں مانا۔ وہ ہمیشہ اسے اپنا مقبوضہ علاقہ سمجھتے رہے اور صرف ان کے لیے برطانیہ ہی وطن رہا۔ ان کا مقصد ہی ہندوستان کی دولت اور معدنیات کو لوٹ کر اپنے ملک لے جانا تھا، مگر انہوں نے یہ صاف سمجھ لیا تھا کہ ملک میں امن و امان کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے وہ امن کے ساتھ حکومت کرتے رہے اور ملک کو لوٹتے رہے۔
یہ ایک دور تھا جو گزر گیا، اور عوام کی جدوجہد کی وجہ سے ملک آزاد ہوا اور انگریز چلے گئے۔ اب نہرو، سردار پٹیل اور ابوالکلام آزاد کے دورِ حکومت میں دوسرا دور شروع ہوا۔ اس میں چاروں طرف امن و امان اور خوشحالی رہی۔ عوام میں کافی حد تک اتفاق و اتحاد رہا۔
پھر 2014 میں تیسرا دور شروع ہوا جب آر ایس ایس اور بی جے پی اقتدار میں آئی۔ ان کا ایجنڈا یہ رہا کہ چونکہ ہندوستان کی اکثریت ہندو ہے، اس لیے ہندوؤں ہی کی منشا کے مطابق حکومت چلنی چاہیے۔ باقی تمام ذاتیں ان ہی کے نظریے کے ماتحت ہونی چاہئیں۔ انہوں نے ہندوؤں کو متحد کرنے کے لیے ایک دشمن مسلمانوں اور عیسائیوں کو تلاش کر لیا اور انہیں ہندوؤں کے لیے خطرہ بتانے اور ان کے خلاف ہندوؤں کو متحد کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
مگر ہندوستانی اپنی پرانی روایت کے مطابق اس سوچ کو ہوا نہیں دیے، اور ایک بہت بڑی ہندو اکثریت اس سوچ کی مخالف ہو گئی۔ اس سے آپسی ٹکراؤ بڑھ گیا اور دونوں میں اقتدار کے لیے جدوجہد شروع ہو گئی، جو اب بھی چل رہی ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ حکومت بی جے پی کی ہے، جو خود کو ہندوتوا کے علمبردار کہہ رہے ہیں، مگر وہی کہہ رہے ہیں کہ ہندو اور ہندوتوا خطرے میں ہیں۔ ایسی کوئی آواز تو اس وقت نہیں اٹھی جب مسلمان یا انگریز حکمران تھے۔ اس وقت کبھی اتنی شدت سے یہ تحریک نہیں چلی کہ ہندوتوا خطرے میں ہے، جیسی اب چل رہی ہے۔
غور اس بات پر کرنا ہے کہ کیا ایسی تحریک چلا کر وہ زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی تین چوتھائی آبادی اس حکمت کو سمجھ چکی ہے اور سب سے زیادہ اس کی مخالفت وہی کر رہے ہیں۔ یہ مخالفت کرنے والے سچے وطن پرست ہیں، جو جانتے ہیں کہ فرقہ پرستی کے سبب ہندوستان اس تیزی کے ساتھ ترقی نہیں کرے گا جس تیزی کے ساتھ اسے کرنا چاہیے۔
مسٹر راہول گاندھی، پٹنہ کے تیجسوی یادو اور مغربی بنگال کی ممتا بینرجی اسی کی مثال ہیں۔ وہ دن رات اس بات میں لگے ہیں کہ ہندوستان میں نفرت کی سیاست چلنے نہ پائے۔ عوام کی اکثریت بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے۔
بہار میں جو اسمبلی الیکشن ہوا، اس میں سیکولر گٹھ بندھن کی شکست نے دو اسباب سامنے لائے ہیں۔ ایک یہ کہ بہار کے ہندوؤں کی اکثریت اب بھی بی جے پی کی ذہنیت کے ساتھ ہے، یا الیکشن میں ووٹوں کی چوری ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جب تک الیکشن مشینوں کے ساتھ ہوں گے، تب تک مشینوں کا حکومت غلط استعمال کرے گی اور ووٹ چوری کرتی رہے گی۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کو اس وقت تک الیکشن میں حصہ نہیں لینے کا اعلان کر دینا چاہیے جب تک ہر الیکشن کاغذی بیلٹ سے نہیں ہوگا۔ ایسا سیکولر پارٹیاں کیوں نہیں کر رہی ہیں، یہ ہر کسی کی سمجھ سے باہر ہے۔
ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کا اتحاد صرف ان مدوں کو اٹھا رہا ہے جو بڑے بڑے گھپلوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں عام شہریوں کی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں بی جے پی صرف ایسے مدے الیکشن کے دوران اٹھا رہی ہے جن میں عوام کی دلچسپی ہے۔
یہ سچ ہے کہ ہندوستان کی ہر سیاسی پارٹی کسی نہ کسی فرد یا فیملی کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ خود بی جے پی آر ایس ایس کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ شاید اس طرز کو بدلنا مشکل ہے۔ اگر کوئی فرد یا فیملی پارٹی کی سرپرست نہیں ہوگی تو کون اس کے اچھے برے کا ذمہ دار ہوگا؟ کسی کو تو پارٹی کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی، ورنہ ہر کوئی اپنی من مانی کرنے لگ جائے گا اور کوئی ذمہ داری نہیں لے گا۔
اگر نہرو فیملی کانگریس پارٹی کی ذمہ داری نہیں اٹھاتی تو کون ہے جو اس کی ذمہ داری اٹھائے گا؟ اس لیے نہرو فیملی پر اعتراض کرنا ٹھیک نہیں لگتا۔ اگر آر ایس ایس بی جے پی کی ذمہ داری نہیں سنبھالتی تو کون ہے جو یہ ذمہ داری اٹھائے گا؟
مانا کہ موجودہ حکومت میں مسلمان اور عیسائی ذہنی طور پر پریشان ہیں۔ کئی دانشوروں کا مشورہ ہے کہ مسلمانوں کے لیڈروں کو چاہیے کہ وہ حکام سے ملیں اور پوچھیں کہ وہ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں اور انہیں پریشانیوں سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون ہیں مسلمانوں کے لیڈر؟ جو بھی آگے بڑھتے ہیں، ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کو کس نے مسلمانوں کا لیڈر بنایا ہے؟ خود مسلمان ہی یہ سوال شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے میں ہر کوئی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
ہم مسلمان نہ کسی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور نہ خود آگے بڑھ کر لیڈرشپ سنبھالتے ہیں۔ ہم نے ایک تجربہ یہ بھی کر کے دیکھ لیا کہ کچھ دانشوروں اور علما کو یہ کہہ کر آگے بڑھایا کہ یہ ہمارے لیڈر ہیں۔ وہ بھی چند میٹنگیں برابر آتے رہے، بعد میں وہ بھی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔
حالت ایسی ہو گئی کہ میٹنگ بلاؤ تو صرف دو یا تین آتے ہیں، باقی غائب۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لیڈرشپ کا وزن اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں، مگر لیڈرشپ کے فقدان کی چیخ و پکار برابر کرتے رہتے ہیں۔ جن کو چنا جاتا ہے وہ اپنے آپ سے نہیں اٹھتے بلکہ انہیں بار بار اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسی مجبوری ہر ریاست میں ہے۔
ایسے میں کون حکام سے بات چیت کرے گا؟ قابل لیڈر تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں حالاتِ حاضرہ کا علم ہوتا ہے۔ یہ علم اس وقت ہوگا جب وہ ہندوستانی، یورپی اور امریکی لیڈروں کی سوانحِ حیات حضور ﷺ کی سیرت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ یہ طریقہ ابوالکلام آزاد میں تھا۔ وہ ہر موضوع پر لکھنے اور خطاب کرنے کی قابلیت رکھتے تھے۔ ان کے بعد ہم نے کسی مسلمان میں یہ صلاحیت نہیں دیکھی۔
مذہبی حضرات صرف دینی کتابیں پڑھتے ہیں، جس سے وہ مسلم عوام کے قائد نہیں بن پا سکتے۔ دانشور حضرات کا بھی مطالعہ بہت کم ہو گیا ہے، اس لیے وہ بھی مسلمانوں کی قیادت نہیں کر پا رہے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اپنا وقت دینا نہیں چاہتا۔
اس لیے آج کل ان پڑھ، جاہل اور مالدار خود کو لیڈر سمجھ کر اچھل کود کر رہے ہیں۔ بہتر یہی لگ رہا ہے کہ مذہبی حضرات دین سنبھالیں اور معلومات رکھنے والے دانشور سیاست، معیشت اور سماجی ذمہ داری اٹھائیں۔
جو حضرات مسلمانوں کی لیڈرشپ کرنا چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ دنیا بھر کے لیڈروں کی سوانحِ حیات کا مطالعہ کریں اور اپنے آپ کو لیڈرشپ کے قابل بنائیں۔ اگر ہر ریاست میں چار چار افراد بھی اٹھ کھڑے ہوں تو لیڈرشپ کے فقدان کی چیخ و پکار ختم ہو جائے گی۔
یہ کہنا کہ ایسا ہونا چاہیے، ویسا ہونا چاہیے، بہت آسان ہے، مگر کسی کو یہ کہنا ہوگا کہ ایسا کیسے کرنا ہے اور راستہ کون سا ہے۔ ایسے حضرات جو مدرسے چلا رہے ہیں، وہ لیڈرشپ نہیں لے سکتے، کیونکہ وہ دن رات چندہ وصولی میں اور طلبہ کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ ہمارا تجربہ ہے۔
سیاسی پارٹیوں پر نظر ڈالیں تو وہاں صرف ان پڑھ اور نیم تعلیم یافتہ حضرات کی بھرمار ہے، جو پوسٹر تو لگا سکتے ہیں مگر قوم کی قیادت نہیں کر سکتے۔ اس لیے سیاسی پارٹیاں انہیں ہر گلی یا محلے میں صرف نام کے لیے دو دو، چار چار وائس چیئرمین یا سکریٹری کا عہدہ دے کر خوش کر دیتی ہیں، اور یہ بے وقوف بھی اسے کوئی بڑا عہدہ سمجھ کر اخباروں میں اشتہارات دے کر خوش ہو جاتے ہیں اور خود کو بڑا سمجھ لیتے ہیں۔
بڑے بڑے سیاسی عہدیدار ایسے اشتہارات نہیں دیتے جیسے یہ کم فہم لوگ دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہے اور غور کرنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیسے لیڈرشپ کو ابھارنا ہے، یا انہیں ہی لیڈرشپ سنبھالنی ہے جنہوں نے لیڈروں کو چننے کی کوشش کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں