
سراج نقوی
ایران کے مقابلے میں مسلسل ہزیمت کے شکار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سنکی تو پہلے ہی سے ہیں لیکن اب ان کے دماغی خلل میں کچھ زیادہ ہی اضافہ ہو گیا ہے۔ٹرمپ کے اس بیان کو دماغی خلل نہ کہا جائے تو کیا کہیں کہ انھوں نے گرین لینڈ معاملے پر جاری تنازعہ کونوبیل امن ایوارڈ سے جوڑ دیاہے۔ ناروے کے وزیر اعظم کو بھیجے گئے اپنے ایک پیغام میں صدر ٹرمپ فرماتے ہیں کہ،’’یہ دیکھتے ہوئے کہ آپ کے ملک نے مجھے آٹھ سے زیادہ جنگیں رکوانے کے لیے ’نوبیل امن انعام‘نہیں دینے کا فیصلہ کیا ،اب میں خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کے لیے مجبور نہیں مانتا۔‘‘اپنے اس پیغام میں ٹرمپ نے گرین لینڈ معاملے کا بھی ذکر کیا ۔یہ جزیرہ فی الحال ڈنمارک کا ایک نیم خود مختار علاقہ ہے۔اس تنازعہ کے سبب ناٹو ممالک اور امریکہ کے درمیان بھی تکرار بڑھ گئی ہے۔اس لیے کہ ڈنمارک ناٹو کا رکن ہے ،اور اگر امریکہ ونزویلا جیسی کوئی کارروائی ڈنمارک کے خلاف بھی کرنے کی سمت قدم بڑھاتا ہے تو ناٹو ممالک کو ڈنمارک کا ساتھ دینا پڑیگا۔ظاہر ہے یہ صورتحال امریکہ اور یوروپی ممالک میں بھی ایک نئے ٹکرائو کا سبب بن سکتی ہے۔اس لیے کہ نہ صرف ڈنمارک گرین لینڈ جزیرے کو امریکہ کو سونپنے پر رضامند نہیں ہے بلکہ خود گرین لینڈ کے عوام بھی ٹرمپ کی اس جزیرے پر کسی بھی شکل میں قبضہ کرنے کی کوششوں کے خلاف ہیں۔وہاں بڑی تعداد میں ہوئے مظاہرے میں عوام یہ صاف کہہ چکے ہیں کہ،’’گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔‘‘
اب ذرا گرین لینڈ پر دعوے کے تعلق سے ٹرمپ کے دلائل ملاحظہ فرمائیں۔ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ ضروری ہے۔ ‘ اس دلیل کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو کل ٹرمپ کہینگے کہ امریکہ کے آس پاس کے کئی دیگر ممالک پر قبضہ بھی اس سلامتی کے لیے ضروری ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ جس ملک کی تاریخ کا بڑا حصہ ہی دنیا کے بیشتر چھوٹے ممالک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے بھرا ہو اسے اب اپنی توسیع پسندی کے جنون کی تسکین کے لیے گرین لینڈ،کناڈا یا وینزویلا جیسے ممالک پر قبضہ کرنے کی تدبیریں سوجھ رہی ہیں اور اس توسیع پسندی کو امریکہ کی سلامتی سے جوڑ کر عالمی امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ٹرمپ گرین لینڈ پر اس کے معدنیاتی ذخائر کے لیے بھی قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ کہ وہ گرین لینڈ کے عوام کو ان ذخائر پر ان کے فطری حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ فرماتے ہیں کہ ’’گرین لینڈ امریکہ کے لیے ناگزیر ہے،اس کے بغیر امریکہ کا مکمل تحفظ ممکن نہیں۔‘‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا نے امریکہ کے تحفظ کا ٹھیکا لے رکھا ہے؟ جو ملک پوری دنیا کے تحٖفظ کے لیے خطرہ ہو عالمی سلامتی اور امن کے لیے اس کا تحفظ خطرے میں پڑنا ہی ٹھیک ہے۔یہ دنیا امریکہ کی سلامتی اور تحفظ کے بغیر بھی باقی رہیگی،اور دنیا کے کسی بھی امن پسند ملک کے لیے یہ بات قطعی باعث تشویش نہیں ہو سکتی کہ گرین لینڈ یا دوسرا کوئی ملک یا خطئہ زمین کیونکہ امریکہ کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ضروری ہے،لہٰذا کسی بھی طر ح اسے ملنا چاہیے۔ جس ملک کی تھوپی ہوئی جنگوں نے دنیا کا امن و سکون غارت کر دیا اس کے تحفظ اور سلامتی سے کسے دلچسپی ہو سکتی ہے ،اور کیوں ہو؟گرین لینڈ پر امریکہ کے قبضے کی ٹرمپ کی خواہش اس قدر شدیدہے کہ وہ دھمکی بھرے انداز میں یہ تک کہہ چکے ہیں کہ ’’تمام متبادل میز پر ہیں۔‘‘یعنی ٹرمپ ڈنمارک یا گرین لینڈ کے خلاف بھی فوجی طاقت کے بل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں،اوریہ کوئی حیر ت کی بات بھی نہیں ہے،اس لیے کہ وینزویلا کے صدر کو یرغمال بنا کر وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو چکے ہیں کہ امریکہ کی برتری اور اس کے تمام مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں ہی پوشیدہ ہے۔حالانکہ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اگست 2019میں بھی گرین لینڈ خریدنے کی کوشش کی تھی اور یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ ایک بڑی ’’رئیل اسٹیٹ ڈیل‘‘ کرنے جا رہے ہیں،لیکن ظاہر ہے معاملہ یہاں بھی طاقت کے استعمال کا ہی تھا ،البتہ اس وقت پیسے کی طاقت کے بل پر گرین لینڈ خریدنے کی کوشش تھی اور اب فوجی طاقت کے بل پر اس پر قبضہ کرنے کی کوششیں ہیں۔
جہاں تک ڈنمارک کا تعلق ہے تو ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار میں بھی وہاں کے وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے ٹرمپ کی کوششوں کو ’’مضحکہ خیز‘‘ بتاتے ہوئے صاف کہا تھا کہ ’’گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔‘‘اس کے جواب میں ٹرمپ نے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے
فریڈرکسن کو ’’بد تمیز‘‘ تک کہا اور ڈنمارک کا سرکاری دورہ تک منسوخ کر دیا تھا۔تب بھی ٹرمپ کی ان کوششوں کو ’’عجیب سوچ‘‘پر محمول کیا گیا اور آج یہ عجیب سوچ ایک مرتبہ پھر ٹرمپ کے دماغی خلل کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے ،اور یوروپ سے امریکہ کے مضبوط رشتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بننے کے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔
حالانکہ ناٹو کے اس تعلق سے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے،اور غالباً ایران سے ٹکرائو کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش بھی کی ہے کہ اس معاملے میں فوجی کارروائی نہیں کرینگے ۔ٹرمپ نے یوروپی ممالک پر زیادہ ٹیرف لگانے کی اپنی دھمکی سے بھی فی الحال پیچھے ہٹنے کا اعلان کر دیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے وہ یہ اشارہ دے چکے تھے کہ اگر امریکہ کو گرین لیند نہیں دیا گیا تو وہ فرانس،جرمنی اور ناروے جیسے ممالک پر دس سے پچیس فیصدی تک درآمداتی ٹیکس یعنی ٹیرف لگا سکتے ہیں۔ناٹو ممالک نے اسے ٹرمپ کے ذریعے کی جانے والی بلیک میلنگ سے تعبیر کیا تھا۔بہرحال جہاں تک گرین لینڈ کے تعلق سے ان کے بنیادی موقف کا تعلق ہے اس میں کسی تبدیلی کا اشارہ انھوں نے نہیں دیا ہے۔یعنی فوجی کارروائی یازیادہ ٹیرف لگانے جیسی دھمکیوں سے مصلحتاً پیچھے ہٹنے کے باوجود گرین لینڈ پر قبضے کا ان کا جنون کم نہیں ہوا ہے۔ڈنمارک کے موجودہ وزیر اعظم جوناس گار اسٹورے کو تحریر کیا گیا ان کا تازہ خط اس کا ْثبوت ہے۔یہ خط ٹرمپ کی احمقانہ فکر اور دماغی خلل کا ہی ثبوت ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ مبینہ طور پر آٹھ سے زیادہ جنگیں رکوانے کے اپنے دعوے کو نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش سے نہ جوڑتے ۔یہ بھی ٹرمپ کے دماغی خلل یا پھر ان کی بیچارگی کا ہی ثبوت ہے کہ جب وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور گزشتہ برس اکتوبر میں نوبیل امن انعام جیتنے والی ماریا کورینا مچادو نے اپنا نوبیل انعام گزشتہ ہفتے ہی ٹرمپ کو وہائٹ ہائوس جاکر سونپاتو انھوں نے اسے قبول بھی کر لیا۔ بعد میں میڈیا کے سامنے اس کی توجیح کرتے ہوئے ماچادو نے کہا کہ ،’’میں نے امریکہ کے صدر کو نوبیل امن انعام کا تمغہ پیش کیا ،جو ہماری آزادی کے لیے ان کی منفرد وابستگی اور عزم کے اعتراف کے طور پر ہے۔‘‘ ماچادو کا یہ بیان صاف کرتا ہے کہ انھوں نے ٹرمپ کو اپنا تمغہ ان کی کسی امن مساعی کے لیے نہیں سونپا ہے بلکہ وینزویلا میں بر سراقتدار صدرکی مخالفت میں سونپا ہے ۔حالانکہ وینزویلا میں کی گئی ٹرمپ کی فوجی کارروائی اور صدر کو غیر قانونی طور پر یرغمال بنانے کا معاملہ ایسا تھا کہ ماچادو کو اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود اپنے ملک کے وقار اور خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی مخالفت کرنی چاہیے تھی،لیکن اقتدار کے لالچ اور سنکی ٹرمپ کی انا کو اپنے سیاسی مفادات کے حق میں کرنے کے لیے انھوں نے اپنا باوقار نوبیل انعام انھیں سونپ کر اس ایوارڈ کی اہمیت کو بھی داغدار کر دیا۔اس کے باوجود ٹرمپ فرماتے ہیں کہ’ نوبیل امن انعام نہ ملنے کے بعد اب وہ خود کو صرف امن تک محدود رکھنے کے لیے مجبور نہیں مانتے ۔‘حالانکہ اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امن اب بھی ان کی ترجیح رہے گی۔لیکن ٹرمپ کی یہ زبان بتا رہی ہے کہ امن ان کی ترجیح بہر حال نہیں ہے اور وہ نوبیل انعام نہ ملنے جیسے ’نان ایشو‘ کے بہانے گرین لینڈ،ناروے اور یوروپی یونین سے ٹکرائو کے راستے پر جانے کی احمقانہ حکمت عملی کی سمت بڑھ رہے ہیں۔جبکہ دوسری طرف اسرائیل سے اپنے عشق کے سبب وہ ایران کو بھی گھیرنے حتیٰ کہ اس کے خلاف بھی فوجی کارروائی کرنے کے کئی غیر دانشمندانہ منصوبوں پر غور کر رہے ہیں،اور یہ سب اس حقیقت کے باوجود کر رہے ہیں کہ آج کی تاریخ میں امریکہ کے حالات اور اس کی زوال آمادہ معیشت ان سب باتوں یا حکمت عملی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔دوہرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ سب ان کے دماغی خلل کا ہی ثبوت ہے۔
زززز


