کامیاب بھارت اور زیادہ مستحکم دنیا

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیین کا یہ کہنا کہ ایک کامیاب بھارت دنیا کو زیادہ مستحکم، خوشحال اور محفوظ بناتا ہے، محض سفارتی شائستگی نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی اور یورپی یونین کے درمیان ایک تاریخی تجارتی معاہدے کی تیاری جاری ہے۔ موجودہ عالمی انتشار میں یہ الفاظ سمت اور ترجیحات دونوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایک سطح پر یہ بیان بھارت کے ابھرتے ہوئے معاشی اور جغرافیائی سیاسی کردار کا اعتراف ہے۔ بھارت اب صرف ایک بڑی منڈی یا متبادل پیداواری مرکز نہیں رہا بلکہ اسے عالمی عدم استحکام کے دور میں ایک توازن قائم رکھنے والی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جنگوں، تحفظاتی پالیسیوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں سے دوچار دنیا میں یورپی یونین کے لیے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات تنوع اور طویل مدتی استحکام کی علامت ہیں۔
دوسری سطح پر اس بیان کا پیغام واشنگٹن کی جانب بھی ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پر مبنی تجارتی سوچ کے خلاف۔ ٹرمپ دور میں محصولات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے عالمی تجارتی نظام کو نقصان پہنچا۔ اس کے برعکس بھارت اور یورپی یونین کی قربت اس بات کا اظہار ہے کہ عالمی معیشت اب دھمکی آمیز پالیسیوں کے بجائے پائیدار شراکت داری کو ترجیح دے رہی ہے۔
یہ معاہدہ یورپ کی اس حکمت عملی کا بھی حصہ ہے جس کا مقصد کسی ایک طاقت پر حد سے زیادہ انحصار سے نکلنا ہے۔ وبا اور یوکرین بحران نے معاشی سلامتی کی نئی حقیقتیں آشکار کیں۔ بھارت اپنی وسیع افرادی قوت، ڈیجیٹل معیشت اور بڑھتے ہوئے صنعتی ڈھانچے کے ساتھ اس حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ معاہدہ جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی کا ذریعہ بنے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ ارسلا فان ڈیر لیین کے الفاظ بھارت کے عروج کو عالمی فائدہ قرار دیتے ہیں نہ کہ کسی کے لیے خطرہ۔ ایک خوشحال اور مربوط بھارت عالمی استحکام کو تقویت دیتا ہے اور معاشی قوم پرستی کے مقابلے میں تعاون کا تصور مضبوط کرتا ہے۔
ٹرمپ طرز کی تحفظاتی پالیسیوں کے لیے پیغام واضح ہے۔ تجارتی جنگیں وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہیں مگر دیرپا خوشحالی نہیں دے سکتیں۔ بھارت اور یورپی یونین کی شراکت داری اس بات کی مثال ہے کہ بڑی معیشتیں اب تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اپنا رہی ہیں۔
اب اصل امتحان اس معاہدے کے عملی نفاذ میں ہے۔ اگر یہ شراکت منصفانہ اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھی تو یہ غیر یقینی دور میں عالمی تجارت کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکتی ہے اور یہ ثابت کرے گی کہ خوشحالی شراکت سے جنم لیتی ہے، دباؤ سے نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

کامیاب بھارت اور زیادہ مستحکم دنیا

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیین کا یہ کہنا کہ ایک کامیاب بھارت دنیا کو زیادہ مستحکم، خوشحال اور محفوظ بناتا ہے، محض سفارتی شائستگی نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی اور یورپی یونین کے درمیان ایک تاریخی تجارتی معاہدے کی تیاری جاری ہے۔ موجودہ عالمی انتشار میں یہ الفاظ سمت اور ترجیحات دونوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایک سطح پر یہ بیان بھارت کے ابھرتے ہوئے معاشی اور جغرافیائی سیاسی کردار کا اعتراف ہے۔ بھارت اب صرف ایک بڑی منڈی یا متبادل پیداواری مرکز نہیں رہا بلکہ اسے عالمی عدم استحکام کے دور میں ایک توازن قائم رکھنے والی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جنگوں، تحفظاتی پالیسیوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں سے دوچار دنیا میں یورپی یونین کے لیے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات تنوع اور طویل مدتی استحکام کی علامت ہیں۔
دوسری سطح پر اس بیان کا پیغام واشنگٹن کی جانب بھی ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پر مبنی تجارتی سوچ کے خلاف۔ ٹرمپ دور میں محصولات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے عالمی تجارتی نظام کو نقصان پہنچا۔ اس کے برعکس بھارت اور یورپی یونین کی قربت اس بات کا اظہار ہے کہ عالمی معیشت اب دھمکی آمیز پالیسیوں کے بجائے پائیدار شراکت داری کو ترجیح دے رہی ہے۔
یہ معاہدہ یورپ کی اس حکمت عملی کا بھی حصہ ہے جس کا مقصد کسی ایک طاقت پر حد سے زیادہ انحصار سے نکلنا ہے۔ وبا اور یوکرین بحران نے معاشی سلامتی کی نئی حقیقتیں آشکار کیں۔ بھارت اپنی وسیع افرادی قوت، ڈیجیٹل معیشت اور بڑھتے ہوئے صنعتی ڈھانچے کے ساتھ اس حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ معاہدہ جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی کا ذریعہ بنے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ ارسلا فان ڈیر لیین کے الفاظ بھارت کے عروج کو عالمی فائدہ قرار دیتے ہیں نہ کہ کسی کے لیے خطرہ۔ ایک خوشحال اور مربوط بھارت عالمی استحکام کو تقویت دیتا ہے اور معاشی قوم پرستی کے مقابلے میں تعاون کا تصور مضبوط کرتا ہے۔
ٹرمپ طرز کی تحفظاتی پالیسیوں کے لیے پیغام واضح ہے۔ تجارتی جنگیں وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہیں مگر دیرپا خوشحالی نہیں دے سکتیں۔ بھارت اور یورپی یونین کی شراکت داری اس بات کی مثال ہے کہ بڑی معیشتیں اب تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اپنا رہی ہیں۔
اب اصل امتحان اس معاہدے کے عملی نفاذ میں ہے۔ اگر یہ شراکت منصفانہ اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھی تو یہ غیر یقینی دور میں عالمی تجارت کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکتی ہے اور یہ ثابت کرے گی کہ خوشحالی شراکت سے جنم لیتی ہے، دباؤ سے نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں