جنگ نیوز ڈیسک
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2026 میں غزہ میں جنگ بندی کے بعد بورڈ آف پیس (بی او پی) کے قیام کا اعلان کیا۔ نومبر 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2803 کے ذریعے اس ادارے کو باضابطہ حیثیت دی، جس میں جنگ بندی، غیر فوجی اقدامات، یرغمالیوں کی واپسی اور تعمیر نو کے نکات شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ خود بورڈ کے سربراہ ہیں، جس کا مقصد غزہ میں عبوری حکمرانی، تعمیر نو، معاشی بحالی اور استحکام کے لیے اسٹریٹجک نگرانی فراہم کرنا ہے۔ مجوزہ استحکامی فورس کی قیادت امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کر رہے ہیں۔
بانی ایگزیکٹو بورڈ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جیرڈ کشنر، ٹونی بلیئر، اسٹیو وٹکوف، مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ غزہ میں زمینی امور کی نگرانی بلغاریہ کے سفارتکار نکولے ملادینوف کو سونپی گئی ہے۔
بی او پی میں شمولیت کے لیے 60 سے زائد ممالک کو دعوت دی گئی ہے جن میں کینیڈا، ترکی، ہنگری، ارجنٹینا، اردن، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔ مسودہ چارٹر کے مطابق بورڈ کا مقصد تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں استحکام اور دیرپا امن کو فروغ دینا اور مستقبل میں عالمی تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنا ہے۔
بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لئے مودی مدعو
بورڈ آف پیس کے قیام پر مختلف تنازعات اور اعتراضات
بورڈ آف پیس کے قیام کے بعد کئی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ مستقل رکنیت کے لیے تین سال بعد ایک ارب ڈالر کی شرط رکھی گئی ہے، جسے وائٹ ہاؤس نے وابستگی کی علامت قرار دیا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ فلسطینی نمائندگی شامل نہیں، جس سے ان کی آواز نظرانداز ہوتی ہے۔ بعض اسے بین الاقوامی ٹرسٹی شپ سے مشابہ قرار دے رہے ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔
اسرائیل نے بعض تقرریوں پر اعتراض کیا، جبکہ کچھ ممالک اور تجزیہ کار ترکی کے صدر اردوان اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی شمولیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔


