جنگ نیوز ڈیسک
واشنگٹن/امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کا ان کے نوبل امن انعام سے نوازنے پر شکریہ ادا کیا اور اسے “باہمی احترام کا ایک شاندار اقدام” قرار دیا۔
ماچادو نے اوول آفس، واشنگٹن ڈی سی میں ایک ملاقات کے دوران اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر کو پیش کیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یہ قدم وینزویلا کی سابق قیادت نکولس مادورو کے بعد ملک کے سیاسی مستقبل پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
ماریا کورینا ماچادو نے کہا:
“میں نے نوبل امن انعام وہ کام انجام دینے پر پیش کیا ہے جو انہوں نے کیا۔ یہ ایک شاندار اقدام ہے۔ صدر ٹرمپ نے سچ کہا۔”
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا:“میں اس بات سے متاثر ہوا کہ وہ کتنی واضح تھیں، وینزویلا میں کیا ہو رہا ہے، نکولس مادورو کتنا بدعنوان ہے، اور وینزویلا کے عوام کتنی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔”
کیا نوبل امن انعام منتقل کیا جا سکتا ہے؟
ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ اپنے دوسرے دورِ صدارت میں کئی جنگوں کو حل کرنے پر نوبل امن انعام کے مستحق ہیں۔ تاہم، نوبل امن انعام کے سیکریٹری الفریڈ نوبل پیس سینٹر کے مطابق، “ایک بار نوبل انعام کا اعلان ہو جائے تو اسے نہ تو واپس لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ تمغہ کسی کے پاس ہو سکتا ہے، مگر نوبل امن انعام یافتہ کا خطاب منتقل نہیں ہو سکتا۔”


