خورشید ریشی
شاٹھ گنڈ پائین ماور
آج لاکھوں طلبہ و طالبات کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہونگی اور بہت سارے تناؤ کا شکار ہونگیں، کیونکہ آج وادی کشمیر میں دسویں اور بارویں جماعت کے امتحانی نتائج کا اعلان ہونے جا رہا ہے،ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے مگر زندگی امتحان لیتی ہے یہ سب ہم جانتے ہیں طالب علموں کے لیے یہ دن یہ لمحہ بہت ہی اہم ہوتا ہے والدین اور رشتہ داروں کی نظریں ان کے نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ان میں سے کچھ والدین اس دن کو عام دنوں کی طرح اپنے بچوں سے پیش اتے ہیں اور اپنے بچوں کا حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں اور انہیں صرف اس بات کا انتظار ہوتا ہے کہ کب وہ اپنے بچوں کی کامیابی کی خبر سن لیں وہ بچوں کی کارکردگی کو نمبرات کے حساب سے نہیں تولتے بلکہ وہ آزاد ذہن اور خوشگوار ماحول میں بچوں کی کامیابی پر دل سے اپنے بچوں کی کامیابی پر جشن مناتے ہیں جبکہ رشتہ داروں میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں صرف بچوں کی کامیابی چاہیے تاکہ مہینوں پہلے جو انہوں نے مبارکبادی کے لئے منصوبہ بنایا ہے وہ اس کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوں۔جبکہ دوسری طرف کچھ والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اپنے بچوں کے نتائج سے زیادہ دوسرں کے بچوں کے نتائج کی فکر ہوتی ہے کہ کس کے بچے نے کتنے نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کی تاکہ وہ اپنے بچوں کی کارکردگی کا موازنہ ان سے کر سکیں اور یہاں سے ہی تناؤ اور کشمکش کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور بچے کی زندگی کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اجیرن بنا دی جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشی کے پل ماتم میں تبدیل ہو جاتے ہیں کیونکہ والدین بچوں کی کامیابی کو انکی سطح پر نہیں بلکہ اپنے اسٹیٹس کے حساب سے دیکھتے ہیں اور ایسا کرنے سے بچے ایسے اقدام اٹھاتے ہیں جس سے بعد میں والدین کو پچھتاوا ہوتا ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ
بارویں جماعت کے امتحانات طالبِ علم کی تعلیمی زندگی میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ امتحانات نہ صرف طالب علم کی تعلیمی محنت کا آئینہ ہوتے ہیں بلکہ اس کے مستقبل کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ راستے کا تعین بھی کرتے ہیں۔ ان امتحانی نتائج کے پیچھے جہاں طلبہ کی محنت شامل ہوتی ہے، وہیں والدین کا کردار بھی نہایت اہم اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔
دسویں جماعت کے امتحانات طلبہ کے لیے تعلیمی سفر کا پہلا بڑا امتحان ہوتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں طالب علم اپنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور رجحانات کو پہچاننا شروع کرتا ہے۔ جبکہ بارویں جماعت کے امتحانات زندگی کے ایک نئے موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں، کیونکہ انہی نتائج کی بنیاد پر طالب علم اعلیٰ تعلیم، پیشہ یا کسی مخصوص شعبے کا انتخاب کرتا ہے۔ اس لیے ان دونوں جماعتوں کے نتائج کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
اکثر والدین امتحانی نتائج کو کامیابی یا ناکامی کا حتمی معیار سمجھ لیتے ہیں، جو کہ ایک غلط تصور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امتحانی نتائج طالب علم کی مجموعی صلاحیتوں کا مکمل عکس نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک مخصوص وقت میں کی گئی تعلیمی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ نتائج کو سمجھ داری سے دیکھیں اور بچوں کو نمبروں کے بوجھ تلے دبانے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
والدین کا مثبت رویہ طالب علم کی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر نتائج اچھے ہوں تو شکر گزاری اور اعتدال، اور اگر توقعات کے مطابق نہ ہوں تو صبر، حوصلہ اور رہنمائی ضروری ہے۔ تنقید، موازنہ اور ڈانٹ ڈپٹ بچوں میں خوف، مایوسی اور ذہنی دباؤ پیدا کر سکتی ہے، جو ان کی آئندہ کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔
امتحانات سے قبل والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے لیے ایک سازگار تعلیمی ماحول فراہم کریں۔ مطالعے کے لیے مناسب وقت، سکون اور سہولت مہیا کرنا، بچوں کی روزمرہ ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کے مسائل کو سننا والدین کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی دلچسپی اور صلاحیت کو سمجھ کر انہیں درست رہنمائی فراہم کریں۔
نتائج کے بعد بھی والدین کا کردار ختم نہیں ہوتا بلکہ یہی وقت سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ چاہے نتائج جیسے بھی ہوں، والدین کو بچوں کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ دسویں کے بعد مضمون یا اسٹریم کا انتخاب ہو یا بارویں کے بعد اعلیٰ تعلیم اور کیریئر کا فیصلہ، ہر مرحلے پر والدین کی مشاورت اور حمایت نہایت ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دسویں اور بارویں جماعت کے امتحانی نتائج زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نیا آغاز ہوتے ہیں۔ اگر والدین سمجھ داری، محبت اور رہنمائی کا مظاہرہ کریں تو ہر طالب علم اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ والدین اور طلبہ کا باہمی اعتماد ہی ایک روشن اور کامیاب مستقبل کی بنیاد ہے۔یہ چیزیں تب ہی ممکن ہیں جب ہم اپنے بچوں کے امتحانی نتائج کو دل سے قبول کر لیں اور انکی کارکردگی کو نمبرات سے نہ تولیں اور انکی کامیابی کو انکی آنے والی زندگی کے لئے استعمال کریں اور ان کی حوصلہ شکنی کے بجائے انکی حوصلہ افزائی کریں تاکہ یہ اپنے تعلیمی سفر میں مزید محنت اور شدت کے ساتھ آگے بڑھیں اور اصل میں یہ نتائج ان والدین کے لئے امتحان ہیں جن کے بچے ایک یا دو مضامین میں پیچھے رہ جائینگے اور یہ بچے نتائج کے بعد کس تکلیف سے گزر رہے ہونگیں یہ وہی جانتے ہیں لہذا کیا والدین کو انکی تکلیف میں اضافہ کرنا چاہیے یا انہیں اس تکلیف سے نکالنے کی کوشش، کیا انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت ہے یا پیار محبت اور حوصلہ بڑھانے کی، پریشانی کے اس ماحول میں ان بچوں سے پیار محبت سے پیش آنے کی ضرورت ہے اور والدین جہاں انکی کامیابی پر انکے ساتھ خوشیاں مناتے تو مشکل وقت میں بھی ان بچوں کا ساتھ نہ چھوڑیں اور انہیں کسی دوسرے فرد کی ڈانٹ ڈپٹ سے بھی دور رکھیں تاکہ یہ بچے کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے ان کو دوبارہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کا موقع نہ ملے اور والدین کو اپنے کئے پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔بحیثیت والدین ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کامیابی اور ناکامی زندگی کے دو پہلو ہیں،جہاں ناکامی مطلوبہ نتائج نہ ملنے کا نام ہے اور کامیابی ان نتائج کا حصول ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ ناکامی سے سیکھ کر مثبت رویے اور مسلسل محنت سے ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے کیونکہ ناکامی خود ایک استاد ہے جو انسان کو عاجزی، حقیقت کا شعور اور مضبوطی سکھاتی ہے اور کامیاب لوگ ناکامی کو اپنی تربیت کا حصہ بنا کر اگے بڑھتے ہیں۔
ززز


